خطبہ حرم مکی خطبہ حرم مکی ( خود اعتمادی اور غرور میں فرق) 15 مارچ 2019

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اپریل 2, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    21

    خطبہ جمعہ مسجد حرام
    خطیب : فضیلۃ الشیخ سعود بن ابراہیم الشیریم (حفظہ اللہ تعالی)
    موضوع: خود اعتمادی اور غرور میں فرق۔
    تاریخ:8 رجب 1440ھ بمطابق 15 مارچ 2019
    مترجم؛ فرہاد احمد سالم

    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں، میں شکرِ نعمت، اور اندیشۂ عقوبت رکھنے والے کی طرح اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں۔ اس لیے تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے جو آسمانوں ، زمین، اور جہانوں کا رب ہے۔ دنیا اور آخرت میں حمد و حکمرانی اسی کے لیے ہے نیز اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے ،رسول اور دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔ آپ کو رحمت للعالمین ،گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا، اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ،نیز آپ اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والے اور روشن چراغ ہیں۔
    اللہ تعالی آپ پر، آپ کی پاکیزہ آل، امہات المومنین ،صحابہ کرام، تابعین، اور انکے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں رحمت و سلامتی نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد:
    مسلمانوں! اللہ سے ڈرتے ہوئے کما حقہ تقوی اختیار کرو۔ اسلام کے مضبوط کڑے کو مضبوطی سے تھام لو، یہ اولین و آخرین کے لئے اللہ تعالی کی دائمی وصیت ہے۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ } [النساء: 131]
    اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمھیں بھی تاکیدی حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔
    اللہ کے بندو:
    اچھے یا برے ،اخلاق و سلوک انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں ۔نفس انسانی برتن کی مانند ہے، اور برتن سے وہ ہی کچھ ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ بعض لوگ غفلت میں اس قدر ڈوب چکے ،کہ وہ سمجھتے ہیں ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ دن گزر جائیں گے ، ان پر اور ان کے گرد و نواح پر کوئی اثر نہ ہو گا۔
    چنانچہ اس غفلت کے نتیجے میں دلی بغض ، چرب زبانی، اور تباہ کن غرور پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بنا پر متعدد اخلاق حسنہ اس طرح مندمل ہو جاتے ہیں جیسے کپڑے کے نقش و نگار مدھم پڑ جاتے ہیں۔
    نیز غافل انسان تواضع ، رحم ، وسعت قلبی اور نرمی جیسی عادات کو پہچاننے سے قاصر ہوتا ہے؛ اس لئے کہ وہ دنیا کا عاشق ہے، اس کے نزدیک مال و جاہ اور حسب و نسب معیار ہے۔ وہ یہ بھول چکا ہے کہ یہ سب عارضی چیزیں ہیں اور جلد ختم ہو جائیں گی، ان کی ظاہری چکا چوند بہت ہے لیکن انہیں دل قبول نہیں کرتا۔
    {فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ} [الرعد: 17]
    پھر جو جھاگ ہے سو بے کار چلا جاتا ہے اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو نفع دیتی ہے(پانی)، سو زمین میں رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔
    وہب بن منبہ نے سچی بات کہی: جب انہوں نے مکحول کو خط میں لکھا :
    اما بعد: ظاہری طور پر تم نے لوگوں میں شرف و منزلت حاصل کر لی ہے۔ اب اللہ کے نزدیک باطنی اعمال سے قدر و منزلت حاصل کرو۔ اور جان لو ان میں سے ایک منزل دوسری کو گرا دیتی ہے ۔
    بےشک یہ غرور اور خود پسندی سے تنبیہ ہے؛ چنانچہ جس کو یہ مرض لاحق ہوتا ہے اس کا دین و دنیا بگڑ جاتی ہے۔
    جی ہاں! یہ غرور ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا اور تواضع کو قتل کرتا ہے، نیز عداوت و دشمنی بھڑکاتا ہے۔
    اگر مغرور سمجھ جائے کہ وہ اپنے اسی گھر کو تباہ کر رہا ہے جسے وہ بنانے کا گمان رکھتا ہے تو وہ پلک جھپکنے کے برابر بھی غرور نہ اپنائے۔
    جو شخص اپنے نفس کے مقام و مرتبہ کو پہچان لے تو وہ اس کی اچھی قدر اور رہنمائی کرے گا، اپنے آپ کو لگام ڈال کر رکھے گا نیز اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ان کا حق دے گا۔
    غرور جس چیز میں بھی ہو اسے داغ دار کر دیتا ہے۔ اور جس انسان میں بھی پیدا ہو اسے کمزور بنا دیتا ہے۔
    اللہ کے بندو !
    اس میں تعجب کی بات نہیں کہ غرور کا ایک ہی قطرہ تواضع کے چشمے کو آلودہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور یہ بات مسلمہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
    اللہ کے بندو: انسان میں غرور اپنے بارے میں غلط اندازے سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ صحیح معیار سے عاری شخص سمجھتا ہے کہ وہ ایسی صلاحیتوں کا مالک ہے جو سرے سے اس میں نہیں ہوتیں ،یا اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں پر شکر ادا کرنے کی بجائے خود نمائی اور تکبر کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ وہ ایسی حرکتوں میں مگن ہو جاتا ہے جو ناجائز اور غلط بنیادوں پر مبنی ہوتیں ہیں۔
    جو یہ گمان کرتا ہے کہ ایسی حرکتیں خود اعتمادی ہے ! ہر گز نہیں، وہ غلطی پر ہے ؛ اس لئے کہ خود اعتمادی کی بنیاد تو جائز اور صحیح چیزوں پر ہوتی ہے ۔
    غرور اور خود اعتمادی میں تو فرق ظاہر ہے؛ کیونکہ :
    خود اعتمادی خوبیاں پائے جانے کے باعث ہوتی ہے ، جبکہ خوبیاں کم یا ختم ہو جائیں تو غرور پیدا ہوتا ہے۔
    خود اعتمادی انسان کو اعزاز اور اطمینان بخشتی ہے، جبکہ غرور میں دعوی کمال اور برتری وہمی ہوتا ہے۔
    خود اعتمادی بناوٹی نہیں ہوتی جبکہ غرور میں بناوٹ اور تکلف ہوتا ہے۔
    خود اعتمادی آدمی میں تواضع پیدا کرتی ہے جبکہ غرور اس کے برعکس ہے؛ اس لئے کہ غرور باعث تکبر ہے۔
    اللہ کے بندو :حاصل کلام یہ ہے کہ خود اعتمادی رفعت کا زینہ، جبکہ غرور زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
    کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ: خود اعتمادی اور غرور کے درمیان بال جیسا باریک فرق ہے۔
    خود اعتمادی زندہ جاوید ضرورت اور پسندیدہ ترین خوبی ہے۔
    انسان میں موجود خوبیوں پر ایسا اطمینان جس میں تواضع اور انکساری کے ساتھ یقین پایا جائے کہ جس طرح وہ کسی سے برتر ہے اسی طرح کوئی اور اس سے بھی اعلی ترین مقام رکھتا ہے؛ خود اعتمادی کہلاتا ہے۔
    اور اگر اس طرح نہ ہو بلکہ اپنی حقیقی یا نقلی خوبیوں پر اترائے اور تکبر کرے تو یہ ہی غرور ہے۔
    غرور اور خود اعتمادی میں بال جیسا فرق عیاں اس طرح ہو گا کہ خود اعتمادی کا حامل شخص خود پسندی میں مبتلا ہو جائے، اس تفریق کی عدم فہمی میں انسان غرور میں مبتلا ہو کر بد حواس ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا قوی سمجھنے لگتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہے!
    غرور اس کو اپنی حقیقت سے اندھا اور اپنے عیوب سننے سے بہرا کر دیتا ہے ؛ وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ کوئی اس کی طرف آنکھ بھی نہیں اٹھا سکتا!
    اللہ کے بندو : غرور ریت کی طرح ہے انسانی قدم اس پر چلنے کی استطاعت نہیں رکھتے؛ کیونکہ انسان ریت سے ایک قدم نکالے تو دوسرا دھنس جاتا ہے۔
    چنانچہ ایسی حالت میں مغرور کو سخت زمیں کہاں سے ملے گی جس پر وہ آسانی سے چلتا ہوا بلا تاخیر منزل مقصود تک پہنچ جائے۔
    اور حسن درجہ کی روایت جس کو امام بیہقی اور دیگر نے روایت کیا ہے:
    فَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ۔( المعجم الأوسط (6/ 47)) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں ۔ اللہ کے عطا کردہ مال و حقوق میں بخل، خواہشات نفس کی پیروی، اور آدمی کی خود پسندی۔
    اللہ کے بندو !
    غرور نقصان دہ نشے کی مانند ہے، جو خود پسندی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، اس سے بندے کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں اور وہ حقوق اللہ، ذاتی حقوق اور دوسروں کے حقوق سے غافل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی نام نہاد خوبیوں اور خود پسندی کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور تکبر میں ڈوب جاتا ہے یہاں تک کہ دوسروں کی نظر سے معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ۔ چنانچہ اس کو صرف اپنا آپ ہی نظر آتا ہے، نصیحت و رہنمائی قبول کرنے کی بجائے اپنے غرور کو عزت نفس کا نام دیتا ہے، اور دوسروں کی نصیحت و رہنمائی کو حسد اور غصہ دلانے کا نام دیتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں پر کثرت سے صفائیاں دیتا ہے۔ دوسروں کی صلاحیتوں پر شک کرتا اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کے نزدیک محبوب ترین آدمی وہ ہوتا ہے جو اس کے اقوال و آرا کی صدائے بازگشت بنے۔
    چنانچہ اس کی تمام علامات حقیر ہوتی ہیں نہ کہ پرکشش۔ اللہ کی قسم! یہ مغرور شخص کے لئے مصیبت اور کامیابی کا مقبرہ ثابت ہوتی ہیں؛ کیونکہ وہ اپنے اور دوسروں کے بارے میں دہری غلطی کرتا ہے۔ اپنے بارے میں اس طرح کہ اپنے آپ کو حقیقت سے بڑا سمجھا اور ایسا لبادہ اوڑھا جو اس کے لائق نہ تھا۔
    دوسروں کے بارے میں اس کی غلطی یہ کہ اس نے ان کو حقیقت سے کم جانا۔ اس نے لینے کے باٹ اور دینے کے اور کا عملی مظاہر کیا، یہاں تک کہ وہ اخلاقی بے اعتدالی میں مبتلا ہوگیا۔
    مغرور اپنے غرور سے اس وقت تک محفوظ نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنی طرف ، دوسروں اور دنیا کی طرف انصاف سے نہ دیکھے۔
    اپنے نفس کو انصاف سے دیکھتے ہوئے اسے معلوم ہو گا کہ وہ تو چپکتے ہوئے گارے سے پیدا ہوا ہے، اسے اپنے رنگ، مال ، نسب اور عہدے کی وجہ سے کوئی مقام حاصل نہیں۔
    دوسروں کو انصاف سے دیکھتے ہوئے اسے معلوم ہو گا کہ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے۔ اور اللہ تعالی نے لوگوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دی۔ اور کچھ لوگوں کو دوسروں پر فوقیت بھی دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی خدمات لے سکیں۔ اور ان کے درمیان مشترک معیار اللہ کا تقوی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    { إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ } [الحجرات: 13]
    اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
    امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ مَنْ اسْتَعْمَلْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ ابْنَ أَبْزَى قَالَ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى قَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ۔
    نافع بن عبدالحارث (مدینہ اور مکہ کے راستے پر ایک منزل) عسفان پر پہنچ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے،(وہ استقبال کے لئے آئے) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ انھیں مکہ کا عامل بنایا کرتے تھے، انھوں (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی، یعنی مکہ کے لوگوں پر(بطور نائب) کسے مقرر کیا؟ نافع نے جواب دیا: ابن ابزیٰ کو۔ انھوں نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟ کہنے لگے :ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا: تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا جانشین بنا ڈالا؟ تو (نافع نے) جواب دیا: و ہ اللہ عزوجل کی کتاب کو پڑھنے والا ہے اور فرائض کا عالم ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: (ہاں واقعی) تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کر دیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے۔"
    اور دنیا کو انصاف سے دیکھتے ہوئے اسے معلوم ہو گا کہ دنیا محض گزر گاہ ہے۔ انسان اس میں ہمیشہ ایک حال میں نہیں رہتا۔ اور اللہ کے ہاں اس کی قدر مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس کے پاس عیش کے چند لمحات ہیں اور بالآخر بڑھاپا اور ندامت اس کے ہاتھ آئے گی۔
    شعر:
    اے مغرور انسان : یہ کیا نادانی ہے اگر تم نے نفس کو اس سے روکا ہوتا تو وہ رک جاتا ۔
    کیا تم نے جہالت کی وجہ سے موت کو بھلا دیا اور تیرا نفس اس سے مطمئن اور تو غافل ہو گیا۔
    جس شخص نے بھی غرور کے ساتھ سعادت کو تلاش کیا تو وہ گمراہ اور خسارے کے ساتھ نا مراد لوٹا۔
    مشاہدے سے پتا چلتا ہے کہ اکثر مغرور لوگ حقیقت میں خوش نہیں ہوتے، بلکہ غرور کی وجہ سے شقاوت کے کئی گنا زیادہ گھونٹ پیتے ہیں۔ ان کے لئے غرور کھارے پانی کی طرح ہے۔ جب بھی مغرور اسے پیتا ہے اس کی پیاس بڑھ جاتی ہے، گویا کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنا علاج اس بیماری سے کرتا ہے جس میں وہ مبتلا ہے۔ تو اسے شفا کیسے ملے گی؟!
    جی ہاں ؛ اس کو غرور سے نام نہاد بڑائی کا احساس تو ہوتا ہے؛ لیکن وہ حقیقی برتری نہیں بلکہ وہ بلندیوں سے لڑھکتا ہوا پستیوں میں جا گرتا ہے۔ اس کے ابھرے ہوے سینے میں ہوا بھری ہوتی جو اسے نہ تو اونچا اڑا سکتی ہے نہ ہی پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچا سکتی ہے۔
    اللہ تعالی نے سچ فرمایا:
    { وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا (37) كُلُّ ذَلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا} [الإسراء: 37، 38]
    اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے۔ ا ن سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک (سخت) ناپسند ہے۔
    اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو قرآن مجید کی آیات اور حکمت بھری نصیحتوں سے فائدہ دے۔ میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں اور اپنے، آپ اور تمام مسلمان مرد و خواتین کے لئے اللہ تعالی سے تمام گناہوں کی استغفار کرتا ہوں۔ آپ بھی اس ہی سے توبہ و استغفار کریں بے شک میرا رب بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔


    دوسرا خطبہ:
    بے حد و حساب ،پاکیزہ اور بابرکت حمد و ثنا اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ جیسے ہمارا رب پسند فرمائے اور جس پر راضی اور خوش ہو۔
    حمد و ثنا کے بعد:
    اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے۔ جان لیجیے غرور کا مطلب قوت نہیں بالکل اسی طرح تواضع کا مطلب کمزوری نہیں۔ چنانچہ مغرور اپنی خواہشات کے سامنے کمزور اور ذلیل ہوتا ہے ۔ جبکہ متواضع شخص خواہشات ، غرور اور خود پسندی کے مقابلے میں قوی ہوتا ہے۔
    یہ بھی ذہن نشین رہے کہ غرور کی بد ترین قسم اللہ تعالی کے ساتھ کفر اور الحاد ہے، اور کم تر قسم حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔
    چنانچہ جو غرور اللہ کے ساتھ الحاد اور کفر کی طرف لے جائے، اس کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ (8) ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ } [الحج: 8، 9]
    بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن دلیل کے جھگڑتے ہیں۔(اور از راہ تکبر حق سے) اپنا پہلو موڑتے ہیں تاکہ دوسروں کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں۔
    ابن جوزی ؒ نے ذہانت میں مشہور ملحد ابن راوندی کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ایک دن اس کو شدید بھوک لگی چنانچہ وہ بھوک سے بے چین ایک پل پر بیٹھ گیا ، چنانچہ ریشم سے مزین ایک گھوڑا گزرا۔ تو اس نے کہا یہ کس کا ہے؟ بتایا گیا فلاں آدمی کاہے۔ پھر خوبصورت لونڈیاں گزریں تو اس نے پوچھا یہ کس کی ہیں؟ لوگوں نے کہا فلاں کی ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی گزرا تو اسے ابن راوندی کی پتلی حالت نظر آئی تو اس نے اس کو دو روٹیاں دیں۔ اس پر ابن راوندی نے روٹیاں پکڑیں اور پھینک دیں ۔ اور غرور و تکبر میں رب سے کہنے لگا۔ یہ چیزیں فلاں فلاں کی اور میرے لئے یہ دو روٹیاں !؟۔ اس مغرور کو اپنی ذہانت کی وجہ سے اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ اس اعتراض کی بنا پر وہ بھوک پیاس کا بالکل صحیح حقدار ہے!
    حافظ ذہبی ؒ اس طرح کے آدمی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایمان کے بغیر ذہانت پر اللہ کی لعنت اور تقوی کے ساتھ کند ذہنی پر اللہ کی رضا نازل ہو!
    جو غرور؛ انکار حق اور تحقیر تک لے جائے تو اس کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:
    الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ»
    تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا‘‘
    نوویؒ فرماتے ہیں: بَطَرُ الْحَقِّ کا مطلب، غرور اور جبر سے حق کا انکار کرنا اور چھوڑنا ہے۔ اور غَمْطُ النَّاسِ کا مطلب لوگوں کو حقیر جاننا۔
    اللہ کے بندو حاصل کلام یہ ہے کہ: غرور کی آگ کو قرآنی آیات اور نبی ﷺ کی ایسی سنت کو ذہن نشین کر کے بھجایا جا سکتا ہے جو انہیں بتلاتی ہیں کہ تمہاری حقیقت کیا ہے؟ اور تم جسمانی طور پر سب کے سب برابر ہو، تمہارا باپ آدم اور ماں حوا ہے۔
    اگر نسل انسانی میں کوئی قابل تکبر نسب ہو بھی سہی تو وہ مٹی اور پانی ہے۔ اسی طرح اللہ کے ہاں حصولِ مقام میں مال، جاہ ، نسب ، ذہانت، اور منصب کا کوئی دخل نہیں ، نیز ان کی وجہ سے تم آپس میں ایک دوسرے پر برتری بھی حاصل نہیں کر سکتے۔
    اللہ تعالی کا سچا فرمان ہے: {بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ} [المائدة: 18]
    بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک بشر ہو۔
    اللہ آپ پر رحم فرمائے :مخلوق کے بہترین انسان ،اور انسانوں میں سب سے پاکیزہ، حوض کوثر اور شفاعت والے ، محمد ﷺ بن عبداللہ پر درود و سلام بھیجو،
    اللہ تعالی نے تمہیں اس بات کا حکم دیا اور اس کا آغاز اپنی ذات سے پھر پاکیزگی کے ساتھ تسبیح بیان کرنے والے فرشتوں سے اور پھر اے مومنوں تمہیں حکم دیا۔
    اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: 56]
    اے اللہ اپنے بندے اور رسول ،روشن چہرے ، اور خندہ پیشانی کے مالک، پر درور و سلام نازل فرما،
    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، تمام صحابہ کرام ، تابعین اور احسان کے ساتھ قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہو جا، نیز ان کے ساتھ اپنی معافی ،کرم اور سخاوت کا معاملہ فرما ، یا ارحم الراحمین!
    یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔
    یا اللہ اپنے دین، کتاب ، نبی ﷺ کی سنت اور مومن بندوں کو غلبہ عطا فرما۔
    یا اللہ مسلمانوں میں مومنین کے غموں کو دور کر کے کشادگی فرما۔ پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما۔ اور مقروضوں کے قرضے اتار دے۔ ہماری اور مسلمانوں کی بیماریوں کو اپنی رحمت سے شفاء عطا فرما۔ یا ارحم الراحمین۔
    یا اللہ ہمارے دلوں کو تقوی دے، ان کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی ان کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے۔
    یا اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، اور ہمارے ائمہ ، اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔اور اس کو ہمارا ولی بنانا جو تجھ سے ڈرتا ۔ متقی اور تیری رضا کی پیروی کرنے والا ہو۔
    یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!
    سُبْحَانَ رَبِّنا رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
    پاک ہے ہمارا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں اور پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
    • مفید مفید x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    438
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    438
    خطبات میں جو اشعار کہے جاتے ہیں ہوسکے تو انکو عربی متن کے ساتھ لکھ دیا کریں جیسے شیخ شفقت الرحمن لکھتے ہیں

    جزاک اللہ خیرا

     
  4. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    21
    جی ان شاء الله ضرور
     
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,443
    جزاک اللہ خیرا!
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,357
    جزاکما اللہ خیرا. اللہ عزوجل شیخ کو سلامت رکھے. ہمیشہ موضوع کا انتخاب حسب حال ہوتا ہے . بلاثبوت جھوٹ و بہتان ،پروپیگنڈہ، تضحیک،کردارکشی جیسی قبیحا حرکات و گناہ کے بعد بھی لوگ بڑے پر اعتماد نظر آتے ہیں.ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دل و عقل غفلت میں ہوں..
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں