کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟

ابوعکاشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اپریل 30, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,367
    کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟ انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کو

    جواب


    انجینیئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر‘‘ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام کا گروہ، باغی گروہ تھا۔ اور وہ صرف انہیں باغی کہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے کتابچے کے پانچویں باب بعنوان ’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکومت مل جانے کے بعد بتدریج اس امت پر کیسی ملوکیت مسلط ہوئی اور اس کا بھیانک نتیجہ کیا نکلا؟‘‘ میں، ص 25 پر، صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ نالائق لوگ جانشین بنیں گے، وہ زبان سے جو کہیں گے، وہ کریں گے نہیں۔ اور جو ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، جو ان سے زبان سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور جو ان سے دل سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور اس کے بعد تو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔

    اب یہ بدیانت اور خائن لوگ کس طرح سے وہ حدیثیں جو اپنے مفہوم میں عام ہیں، کھینچ تان کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام پر چسپاں کرتے ہیں! ایک طرف انہیں رضی اللہ عنہ لکھ رہے ہیں اور صحابی مان رہے ہیں، دوسری طرف ان کی گردن اڑانے کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔ بس ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ چونکہ فلاں صحابی رسول ہے، لہذا اس کی گردن اڑانے سے پہلے بس ’’رضی اللہ عنہ‘‘ پڑھ لینا تا کہ پورے ادب اور احترام سے گردن اڑائی جا سکے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ اور یہی کام مرزا صاحب اور ان کے فالوورز کر رہے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ، شرابی، حرام خور، سود خور، بدعتی، باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگانے کے بعد بس استدعا یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب کچھ ماننے اور کہنے سے پہلے ان کے نام کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ پڑھ لیا جائے، فیا اللعجب۔

    امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بدعتی ثابت کرنے کے لیے مرزا صاحب نے صحیح بخاری کی ایک روایت کو دلیل بنایا ہے کہ جس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ عمار کی کم بختی! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا، عمار تو انہیں جنت کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ عمار کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ صحیح بخاری کی اس روایت کے بارے صحیح بات یہ ہے کہ امام بخاری نے یہ الفاظ ’’تقتله الفئة الباغية‘‘ کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، اپنی صحیح بخاری میں درج نہیں کیے تھے، یہ صحیح بخاری میں راویوں کا ادراج اور اضافہ ہے۔

    ابو مسعود الدمشقی متوفی 401ھ نے اپنی کتاب ’’اطراف الصحیحین‘‘ میں کہا ہے کہ یہ الفاظ کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، امام بخاری نے نقل نہیں کیے ہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ متوفی 458ھ اپنی کتاب دلائل النبوہ میں کہتے ہیں کہ امام بخاری نے اس روایت کو ’تقتله الفئة الباغية‘‘ کے الفاظ کے بغیر نقل کیا ہے۔ امام حمیدی رحمہ اللہ متوفی 488ھ نے اپنی کتاب ’’الجمع بین الصحیحین‘‘ میں کہا ہے کہ یہ الفاظ امام بخاری نے صحیح بخاری میں درج نہیں کیے تھے، یا اگر کیے بھی تھے تو انہیں حذف کر دیا تھا۔ ابن الاثیر الجزری متوفی 606ھ کہتے ہیں کہ میں نے صحیح بخاری کے ایک نسخے میں، وہ بھی متن میں نہیں بلکہ حواشی میں یہ الفاظ دیکھے ہیں جبکہ بقیہ نسخوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ امام مزی متوفی 742ھ اپنی کتاب تحفہ الاشراف میں اور امام ذہبی متوفی 748ھ اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری کی روایت میں نہیں ہیں۔

    تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صحیح بخاری کی روایت صرف اتنی سی ہے کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا تھا کہ عمار تو انہیں جنت کی طرف بلا رہے ہیں اور وہ عمار کو آگ کی طرف بلا رہے ہیں اور اس سے مراد مشرکین مکہ تھے۔ صحیح بخاری کے اصل نسخوں میں ’’تقتله الفئة الباغية‘‘ کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، کے الفاظ نہیں ہیں۔ صحیح بخاری کے شارح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ’’تقتله الفئة الباغية‘‘ صحیح بخاری میں ادراج یعنی اضافہ ہے اور امام بخاری نے انہیں صحیح بخاری میں درج کرنے کے بعد نکال دیا تھا۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس حدیث کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خود کہا تھا کہ انہوں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے جبکہ بقیہ روایت سنی ہے۔

    یہاں مرزا صاحب اور ان کے اندھے معتقدین دوسروں پر ’’منکرین حدیث‘‘ کا فتوی لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ بخاری مسلم کی حدیثوں کو نہیں مانتے، وہی پروپیگنڈا مہم جوئی، جس میں دلیل کی بجائے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا کام زیادہ ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی صحت پر اجماع ہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں اور ہم اس موضوع پر ’’کیا صحیحین کی صحت پر اجماع ہے؟‘‘ کے عنوان سے مستقلا لکھ چکے ہیں کہ جسے گوگل کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات پر جرح نہیں ہوئی یا جس نے جرح کی وہ منکر حدیث ہو گیا تو اس طرح تو سب سے پہلے منکر حدیث تو امام الدار قطنی ہوئے۔

    تو محدثین ہی کی جماعت کی طرف سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر جو نقد ہوئی ہے اور اس کے جو جوابات محدثین ہی کی ایک دوسری جماعت کی طرف سے دیے گئے ہیں، تو اس ساری رد وقدح سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے وہ چند ایک مقامات متعین ہوگئے ہیں کہ جن میں کچھ علل یا اوہام ہیں۔ اب بعد میں آنے والے، محدثین کی اس نقد کو نقل کریں تو اس کی تو گنجائش آج بھی ہے لیکن کسی نئی جرح یا نقد کا دروازہ کھولیں تو یہ درست منہج نہیں ہے۔ تو ہم نے تو صرف محدثین کو نقل کیا ہے، کوئی ایسی بات نہیں کی جو پہلوں نے نہ کی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ محدثین کی اس نقد سے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی کوئی مکمل روایت ضعیف نہیں ہوتی بلکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بقول ان روایات میں موجود کچھ کلمات (phrases) علل اور اوہام کی وجہ سے درجہ ثبوت کو نہیں پہنچ پاتے، بقیہ روایت صحیح ہوتی ہے۔

    یہ الفاظ یعنی ’’تقتله الفئة الباغية‘‘ صحیح بخاری کے علاوہ بھی کتب حدیث میں منقول ہیں، ان کے بارے تفصیل جاننے کے لیے اس موضوع پر ہماری تفصیلی ویڈیوز ملاحظہ فرمائیں۔ یہ تو ان الفاظ کے ثابت ہونے کی بحث ہوئی اور جہاں تک ان الفاظ کے معنی کی بات ہے تو ’’بغی‘‘ کا اصل معنی ’چاہت‘‘ ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات ’’ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ‘‘ یعنی اللہ کی رضا چاہنے کے لیے اور حدیث کے الفاظ ’’یا باغی الخیر‘‘ یعنی اے خیر کو چاہنے والے، میں یہی معنی مراد ہے۔ مرزا صاحب عربی کے اس لفظ کو اردو کے ’’باغی‘‘ کے معنی میں مراد لے رہے ہیں جبکہ عربی زبان میں ’’باغی‘‘ کا اصل معنی ’’چاہنے والا‘‘ ہے۔

    البتہ بعض اوقات اس لفظ میں ’چاہت‘‘ کے ساتھ کسی معنی کا اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ آیت مبارکہ ’’تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ‘‘ اور ’’فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى‘‘ میں وہ چاہنا ہے جو اپنے حق سے زائد ہو جبکہ ’’وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ‘‘ اور ’’وَيَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاء وَالْمُنْكَر وَالْبَغْي‘‘ میں ’’بغی‘‘ سے مراد وہ چاہنا ہے جو آپ کا حق نہ ہو۔ یہ گہرا نکتہ ہے جسے سطحی ذہن کے لیے سمجھنا ممکن نہیں اور دوسرا جذباتی مزاج کے لیے بھی۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کو اس معنی میں ’’باغی‘‘ کہا گیا ہے کہ وہ اپنا حق تو چاہ رہے ہیں یعنی قاتلین عثمان کا بدلہ لیکن اس سے زیادہ چاہ رہے ہیں جتنا ان کا بنتا ہے یعنی ان حالات میں قصاص چاہ رہے ہیں کہ جن حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وہ قصاص لینا ممکن نہ تھا۔

    تو ’’باغی‘‘ اگر ’’متاول‘‘ یعنی تاویل کرتا ہو تو غلطی، اجتہادی ہوتی ہے۔ تو ’’بغی‘‘ دو قسم کی ہے؛ اپنے حق سے زیادہ مانگنا اور دوسرا جو حق نہیں ہے، وہ مانگنا۔ پہلے میں اجتہادی خطا ہوتی ہے اور دوسرے میں خطا ہی خطا ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ’’بغی‘‘، اجتہادی تھی اور اس کے دلائل یہ ہیں کہ امیر معاویہ کا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے قتل پر راضی نہ ہونا بلکہ اس کا انکار کرنا کہ ہم نے تو کیا ہی نہیں بلکہ انہوں نے کیا ہے جو انہیں میدان جنگ میں لائے ہیں تو یہی اجتہادی خطا ہے، بھلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جواب درست ہو لیکن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا قتل عمار کا عقیدہ بھی نہیں ہے اوررضا بھی نہیں ہے۔ تو یہ تو کم از کم ثابت ہو گیا کہ اسی لیے تو تاویل کی ہے، چاہے دوسروں کے نزدیک ان کی تاویل غلط بھی ہو، یہ گہری بحث ہے جو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کی ہے۔

    دوسرا صحابہ کی ایک جماعت حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں سے کسی کی طرف سے بھی نہیں لڑی، اس حدیث کے معلوم ہونے کے بعد بھی۔ تو انہوں نے اس مسئلہ کو اجتہادی سمجھا، قطعی نہیں جیسا کہ سعد بن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ، عبد اللہ بن عمر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم بلکہ اکثر کبار صحابہ کسی طرف سے بھی نہیں لڑے۔ تو یہ ان کے لیے جواب ہوا کہ جو ’’تقتله الفئة الباغية‘‘ کو روایت کا صحیح جز سمجھتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے:’’لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ‘‘ ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ دو جماعتیں آپس میں نہ لڑیں اور ان دونوں کا دعوی ایک ہی ہو گا۔

    امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دو جماعتوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعتیں ہیں اور ان کے دعوی سے مراد ’’اسلام‘‘ ہے کہ دونوں ’’اسلام‘‘ کے نام پر لڑیں گے۔ یا پھر ان کے دعوی سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں ’’حق‘‘ پر ہونے کے دعویدار ہوں گے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ مسلمان تین گروہوں میں بٹ جائیں گے جن میں ایک خوارج ہوں گے اور مسلمانوں میں سے بقیہ دو گروہوں میں سے جو زیادہ حق پر ہو گا، وہ ان خوارج سے قتال کرے گا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے قتال کیا جبکہ حدیث کے الفاظ ہیں؛ ’’أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ‘‘ یعنی مسلمانوں کے دو گروہوں میں جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہو گا۔ یہ نہیں کہا کہ جو حق پر ہو گا بلکہ دونوں کو حق پر کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو ’’احق‘‘ یعنی زیادہ حق پر کہا ہے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گروہ ہے۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ باغی یعنی اپنا حق چاہنے والا گروہ ہے، اگرچہ احق نہیں ہے۔

    تحریر : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    962

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں