مسلم خواتین کے سر کے بال کے احکام

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مئی 1, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    738
    مسلم خواتین کے سر کے بال کے احکام

    تحریر: مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف -مسرہ-سعودی عرب

    اللہ رب العزت نے عورت کی تخلیق کرکے کائنات کا حسن دوبالا کردیا ہے ، ہے تو یہ صنف نازک مگر کائنات کی بڑی حسین چیز ہے۔جب ایک مرد نکاح کے ذریعہ عورت کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرتا ہے تو پھر اللہ کی مہربانی کے ساتھ بیوی کی رفاقت اس کے مسائل حیات کے لئے کافی ہوجاتی ہے ۔ دونوں مل کراچھا گھر، اچھاسماج اور اچھی دنیا بنالیتے ہیں ۔ نہ صرف مردوں کو عورت کی ضرورت ہے بلکہ عورتوں کی بھی مردوں کی شدید ضرورت ہےتاہم عورتوں کی بنسبت مردو ں میں اشتیاق زیادہ پایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے عورت کو حسین خلقت اور پرکشش وصف سے نوازا ہے ۔ اسلام اپنے تمام اصولوں میں پاکیزگی اختیار کرتا ہے ، عورت جو اپنے آپ میں صنف مخالف کے لئے پرکشش ہے اسے محارم کے علاوہ تمام اجنبی مردوں سے پردہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہےحتی سر کے بال بھی چھپانے کا حکم دیتا ہے ، اس کی نماز بھی ننگے سر جائز نہیں ہے ۔ عورت کا مکمل وجود پردہ ہے اس وجہ سے سر سے لیکر پیرتک دبیز کپڑے سے اپنے اعضائے بدن چھپانے کا حکم دیا گیاہے ۔زیرنظر مضمون میں عورت کے سر کے بال کے احکام بتائے جائیں گے تاکہ مسلم خواتین کو ان باتوں کی شرعی حیثیت معلوم ہوسکے ۔

    سر کے بال کی حفاظت کرنا، اس میں کنگھا کرنااورتیل لگانا:
    اولا یہاں معلوم ہونا چاہئے کہ مردوں کے لئے روزانہ کنگھا کرنا منع ہے لیکن عورتوں کے بال گھنے اورلمبے ہوتے ہیں اس لئے عورتوں کے لئے حسب ضرورت کنگھا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ شادی شدہ خواتین کو اپنے شوہر کے لئے با ل سنوارنا چاہئے، تیل ، کنگھا اور زینت کی اشیاء استعمال کرنا چاہئے۔ ہاں اتنا ضرور دھیان دے کہ بالوں کو سجانے سنوارنے اور تیل کنگھا کرنے میں زیادہ اوقات نہ ضائع کرےاور نہ ہی مال میں اسراف کرے جیساکہ بہت ساری خواتین کو دیکھا جاتا ہے کہ بال دھونے میں مبالغہ، دھوپ میں سکھانے میں مبالغہ اور اس کو سجانے سنوارنے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہیں گویا دن کا بلکہ رات کا بھی اکثر حصہ بالوں کی زینت اور حفاظت پہ صرف کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح بالوں میں خوشبو یا خوشبودار تیل لگاکر باہر نہ نکلے ، خوشبو کا استعما ل گھر تک ہی محدود رکھے ۔
    دن ورات کے کسی حصے میں روزانہ عورت بالوں میں کنگھا کرسکتی ہے حتی کہ حیض ونفاس اور جنابت کی حالت میں بھی البتہ عیدالاضحی کی مناسبت سےجو قربانی کا ارادہ رکھے وہ ان دنوں آرام سے اور نرمی کے ساتھ کنگھا کرے۔ حالت احرام میں کنگھی کرنے کی ممانعت نہیں آئی ہے لیکن چونکہ بال کاٹنا یا توڑنا احرام کی حالت میں منع ہے اس وجہ سے کنگھی نہیں کرنا چاہئے اور جسے کنگھی کرنے سے بال ٹوٹنے کا یقین ہو تو اس کو ہرحال میں کنگھی نہیں کرنا چاہئے ۔ عدت میں زینت اختیار کرنا منع ہے اس وجہ سے عورت عدت میں کنگھا نہ کرے اور نہ ہی زینت کی کوئی چیز بال میں استعمال کرے ۔

    عورتوں کے لئےبال رکھنے اور مانگ نکالنے کا طریقہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ درمیان سر میں ہوتی تھی ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں :
    كنتُ إذا أردتُ أن أَفرُقَ رأسَ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ، صدَعتُ الفرقَ من يافوخِهِ وأرسلُ ناصيتَهُ بينَ عَينيهِ(صحيح أبي داود:4189)
    ترجمہ: میں جب رسول اللہ ﷺ کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ ﷺ کے سر کے بیچوں بیچ سے نکالتی اور آپ ﷺ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکاتی یعنی پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی ۔
    مانگ کے معاملہ میں عورت ومرد دونوں برابر ہیں یعنی رسول اللہ کا اسوہ اپناتے ہوئے درمیان سر سے مانگ نکالیں ،ٹیڑھی مانگ نکالنااسوہ رسول کے خلاف اور کفار ومشرکین کی مشابہت ہے اس لئے کوئی مسلمان عورت ٹیڑھی مانگ نہ نکالے نہ دائیں جانب سے اور نہ ہی بائیں جانب سے ۔ ہاں بغیر مانگ نکالے بالوں کو دائیں یا بائیں جانب جھکالےتو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اسی طرح کندھے پر بال لٹکانےیا چوٹیاں بناکر یا بغیر چوٹیوں کے پیٹھ پر لٹکانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سر کے پیچھے بالوں کو جمع کرکے اوپری حصے پر ریبن باندھ لے اور بالوں کے نچھلے حصے کو پیٹھ پیچھے کی طرف چھوڑ دے ۔

    بالوں کی چوٹی اور وضو وغسل
    عورتوں کے لئے بالوں کی چوٹی بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، عہد رسول میں خواتین بالوں میں چیوٹیاں بنایا کرتی تھیں ، ام سلمہؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا:
    قُلتُ: يا رَسولَ اللهِ، إنِّي امْرَأَةٌ أشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي فأنْقُضُهُ لِغُسْلِ الجَنَابَةِ؟ قالَ: لَا. إنَّما يَكْفِيكِ أنْ تَحْثِي علَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ المَاءَ فَتَطْهُرِينَ(صحيح مسلم:330)
    ترجمہ:میں نے عرض کی :اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا:نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤ گی۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے چوٹی بنانےمیں کوئی حرج نہیں ہے ، عورت چوٹی کی حالت میں نماز کی ادائیگی بھی کر سکتی ہے ۔ نماز کے لئے وضو کرتے وقت چوٹی کھولنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بال کے اوپر سے مسح کرلے اور غسل جنابت میں بھی چوٹی کھولنے کی ضرورت نہیں ہےجیساکہ اسی حدیث سے واضح ہے ، غسل جنابت میں سر پہ تین لپ پانی ڈال لے یہ کافی ہے ۔ حیض اور نفاس کے غسل میں چوٹی کھولنے کے متعلق اختلاف پایا ہے بعض نے کھولنا واجب قرا ر دیا ہے ۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں دوران حج حیض سے پاک ہونے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا:انقُضي شَعرَك واغتسِلي قالَ عليٌّ في حديثِه انقُضي رأسَك(صحيح ابن ماجه:530)
    ترجمہ:اپنے بال کھول دو اور غسل کرو۔علی بن محمد کی روایت میں ہے"اپنا سر کھول دو"۔
    جنہوں نے غیرواجب کہا ہے وہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ حج کے ساتھ خاص ہے اور بعض دوسری روایات مثلا طبرانی میں صراحت کے ساتھ مذکورہے کہ حیض میں چوٹی کھولنا ہے اور جنابت میں محض سر پہ پانی بہانا ہے چوٹی نہیں کھولنا ہے ، اس روایت کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔ (السلسلة الضعيفة:937)
    اس مسئلہ میں دلائل کی روشنی میں قوی مسلک یہ ہے کہ غسل جنابت ، غسل حیض اور غسل نفاس میں چوٹی کھولنا ضروری نہیں ہے ،تین لپ پانی ڈالنا ہی کافی ہے تاہم سر پہ پانی انڈیلتے وقت اس بات کا خیال کیا جائے کہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے ۔
    یہاں ایک مسئلہ عورت کے غسل جنازہ سے متعلق بھی جان لیا جائے کہ اگر عورت کی وفات ہوجائے اور اسے غسل دیا جائے تو اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بناکر پیچھے ڈال دی جائیں ۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ایک صاحبزادی کی وفات پر ان کے غسل سے متعلق ایک حدیث بیان کرتی ہیں اس حدیث کے آخری الفاظ ہیں : فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا(صحيح البخاري: 1276)
    ترجمہ: ہم نے ان کے بال گوندھ کر تین چوٹیاں بنائیں اور انھیں پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا۔

    وضو میں عورت کے سر کا مسح
    عورت ومرد کے مسح میں کوئی فرق نہیں ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :"وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ" یعنی اپنے سروں کا مسح کرو ۔ یہ فرمان مردوعورت دونوں کو شامل ہے ۔ نبی نے ہمیں مسح کا طریقہ یہ بتلایا کہ تر ہاتھوں کو سر کے اگلے حصے پر پھیرتے ہوئے گدی تک لے جائیں اور پھر واپس آگے کی طرف لے آئیں اور شہادت کی انگلی سے کان کا اندرونی حصہ اور انگوٹھے سے بیرونی حصہ مسح کریں ۔
    عورت کو اپنا بال ننگا کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی چوٹی ہو تو کھولنے کی ضرورت ہے ۔ دوپٹے کے اندر سے بالوں پر ہاتھ پھیرلیں اور اجنبی مرد آس پاس نہ ہو تو سر ننگا ہونے اور بال بکھرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
    عورت وضو کرتے ہوئے اپنے دوپٹے پہ مسح کرسکتی ہے جب ڈھنڈک کی وجہ سے یا بغیر ڈھنڈک کے سر کو دوپٹے سے مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھی ہو کیونکہ اس کے اتارنے میں مشقت و پریشانی ہے۔ اسی طرح اگر سر پہ مہندی کا لیپ لگائی ہو تو اس پہ بھی مسح کرسکتی ہے ۔

    جوڑے بنانااور جوڑے میں نماز پڑھنا
    صحیح مسلم(2128) میں جہنمی عورتوں کی ایک صفت بتلائی گئی ہے: رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلَةِ یعنی ان کے سربختی اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہوں گے ۔ محدثین نے اس کے کئی معانی بیان کئے ہیں ان میں ایک معنی امام نووی نے قاضی کی طرف منسوب کرکے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بال اکٹھا کرکے درمیانی سر کے اوپر جمع کرلینا جو بختی اونٹ کی کوہاں کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح مسلمان عورت کے بالوں کا جوڑا بنانا جائز نہیں ہے ۔
    اگر کسی عورت نے لاعلمی میں اس حالت میں نماز پڑھ لی بشرطیکہ بال ڈھکے ہوئے تھے تو اس کی نماز صحیح ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم یہ عمل نہ نماز میں درست ہے اور نہ ہی نماز کے باہر لہذا ہمیشہ کے لئے اس عمل سے باز رہے ۔

    عورت کا اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنا کیسا ہے ؟
    عورت اپنے محرم کے سامنے جس طرح چہرہ کھول سکتی ہے اسی طرح اپنے بال بھی ظاہر کرسکتی ہے اس لئے اپنے محرموں کے سامنے کھلے سر آنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ(النور:31)
    ترجمہ: اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے ۔
    اس آیت کی روشنی میں عورت اپنے محارم کے سامنے اپنے ہاتھ ، پیر ، سر، بال اور گردن کھلا رکھ سکتی ہے ، اس لئے اپنے محارم کے سامنے کھلے سر یا کھلے بال آسکتی ہے۔
    مسلم عورت کا کافر عورت کے سامنے ننگے سر اورننگے چہرہ آنے کے سلسلے میں اختلاف ہے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا میلان اس جانب ہے کہ اگر فتنہ نہ ہوتوعورت عورت کے درمیان فرق نہیں ہے خواہ مسلمہ ہو یا کافرہ لیکن اگر فتنے کا خوف ہومثلا وہ عورت رشتہ دار مردوں کے پاس عورت کاوصف بیان کرے تواس وقت فتنہ سے بچنا ضروری ہےاوراس صورت میں دوسری عورت کے سامنےاپنے بدن کا کچھ بھی حصہ ظاہر نہیں کرے گی نہ پیر،نہ بال خواہ عورت مسلمہ ہو یا غیرمسلمہ(فتاوی المراۃص:172)

    ننگے سر یاباریک دوپٹہ میں نماز
    ہمیں پہلے اس بات کو جان لینی چاہئے کہ نماز اہم ترین عبادت ہے جو رب کے سامنے ادا کی جاتی ہے ، اس لئے نماز میں عورتوں کو چاہئے کہ ستر کا مکمل خیال کرے۔ابن ابی شیبہ کی روایت ہے جسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
    قال ابنُ عمرَ إذا صلت المرأةُ فلتصلِّ في ثيابِها كلِّها : الدرعِ والخمارِ والملحفةِ(تمام المنة:162)
    ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت نماز پڑھے تو مکمل لباس میں نماز پڑھے یعنی قمیص ، دوپٹہ اور قمیص کے اوپر چادر۔
    عورت کا یہ لباس سلف کے یہاں معروف ہے اس لئے بحالت نماز جہاں عورت کو ہاتھ ، پیر اور مکمل جسم چھپانا ہے(سوائے چہرے کے لیکن اجانب ہوں تو چہرہ بھی واجب السترہے) وہیں سر کے بالوں کو بھی دوپٹے سے اچھی طرح سے ڈھانکنا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا يقبَلُ اللَّهُ صَلاةَ حائضٍ إلَّا بخِمارٍ(صحيح أبي داود:641)
    ترجمہ:اللہ تعالی حائضہ یعنی (بالغ عورت) کی نماز دوپٹہ کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔
    اس حدیث کو امام ابوداؤد نے " المرأۃ لا تصلی بغیر خمار" کہ عورت بغیر دوپٹہ نماز نہیں پڑھے اس باب کے تحت ذکر کیا ہے
    معلوم یہ ہوا کہ نماز میں عورت کو اپنے سروں کو ڈھانپنا ہے اور لباس بھی عورت کا ایسا دبیز ہوکہ اعضا ء کی مکمل ستر پوشی ہورہی ہو ، اس لئے نماز ہو یا غیر نماز عورت کا باریک لباس لگانا جس سے اعضائے بدن کے خدوخال نمایاں ہوں جائز نہیں ہے ۔ نماز میں بھی ایسا کوئی لباس نہ لگائے جس سے ہاتھ ،قدم، پنڈلی،جسم کا کوئی حصہ یا سر کا بال نظر آرہاہو۔
    رہامسئلہ ضعیف وبیمار عورت کا تو انہیں بھی نماز میں سروں کو ایسے دوپٹے سے چھپائے گی جس سے بال نہ ظاہر ہوں ، یہی حکم نوجوان عورت، مریضہ ، ضعیفہ اور بوڑھی کا بھی ہے البتہ نماز کے باہر عورت اپنے سروں کو تنہائی میں یا اپنے محارم کے سامنے کھلا رکھ سکتی ہے ۔اگر مرض یا ضعف اس قدر شدید ہو کہ نماز میں حجاب کی مکمل پابندی کرنا ناممکن ہو اور کوئی مدد کرنے والا بھی نہ ہو تو جس قدر ہوسکے پابندی کرے ، اللہ تعالی کسی کو طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔

    عورتوں کےلئے سرمنڈوانے اور بال کٹوانے کا حکم
    مسلمان عورتوں کے لئے سر کے بال مکمل رکھنا واجب ہے اور بلاضرورت اسے مونڈوانا حرام ہے۔اس طرح عورتوں کے لئے سرکے بال بلا ضروت کٹوانا بھی جائز نہیں ہے چاہے شوہر ہی کا حکم کیوں نہ ہو،رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کے بال پورے ہوتے تھے اور چھوٹے بالوں والی عورتیں وصل سے کام لیتی تھیں تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ان پر لعنت بھیجی۔
    لعنَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ الواصلةَ والمستَوصلةَ ،والواشمةَ والمستَوشمةَ(صحيح البخاري:5940)
    ترجمہ: نبی صلی الله علیہ وسلم نے سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اورگدوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔
    تو عورتوں کے لئے بال رکھنا اور نہ کٹانا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے۔
    لہذا عورتوں کابلاضرورت سرمنڈوانا، یا بال کٹوانا جائز نہیں ہے۔ حج و عمرہ میں عورت کا انگلی کے پور کے برابر بال کٹانے کا حکم ہے، اور اگر عورت کوکسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے بال کٹانے کی ضرورت پڑجائے تو اس صورت میں جائز ہوگا۔
    نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے متعلق مسلم شریف میں ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
    وكان أزواجُ النبيِّ -صلى الله عليه وسلم- يَأخذْنَ مِن رؤوسِهنَّ حتى تكونَ كالوَفْرَةِ (صحيح مسلم:320)
    ترجمہ: بے شک نبی کریمﷺ کی بیویاں اپنے سروں کے بال کاٹ لیتی تھیں حتیٰ کہ کانوں تک لمبے ہوجاتے۔
    اس حدیث کی بناپر بعض علماء نے عورتوں کو بال کٹانے کی رخصت دی ہے حالانکہ یہ حدیث ازواج مطہرات کے ساتھ ہی خاص ہے ، انہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد ترک زینت کے طور پرایسا کیاتھا۔ اگر کوئی عورت ضرورتا کٹانا چاہے تو اس کی اجازت ہے مگر فیشن کے طورپریا مغربی تہذیب کی نقالی کی خاطر یا مردوں سے مشابہت اختیار کرنے کی غرض سے عورت کا سرکے بال کٹاناان صورتوں میں حرام ٹھہرے گا۔
    بعض غیرشادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو دیکھا جاتاہے کہ وہ سر کے اگلے حصے سے کچھ بال کاٹ کر اور اس کی لٹ بناکرچہرے پر گرالیتی ہیں ۔ اس مقدار میں بال کاٹ لینے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ہے بشرطیکہ فاحشہ کی مشابہت نہ ہو مگر غیرشادی شدہ نوجوان لڑکی کا ایسا کرنا فتنے کا باعث ہے ، ایسی لڑکیاں عموما پردہ بھی نہیں کرتیں۔ ان کے سرپرستوں کا چاہئے کہ اس قسم کا بال رکھنے سے منع کرے ، اس وقت وہ اس انداز میں کس کے لئے زینت کررہی ہے ؟۔ شادی ہوجائے اور شوہر کے واسطے کرے تو الگ بات ہے۔

    نومولود بچی کا سرمنڈوانے کا حکم
    اس مسئلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے کہ نومولود بچی کا ساتویں دن لڑکا کی طرح بال منڈایا جائے گا یا نہیں ؟ بعض حنابلہ بچیوں کے حق میں حلق (منڈانا) سے منع کرتے ہیں جبکہ امام مالک وامام شافعی کے یہاں لڑکوں کی طرح لڑکیوں کا بھی بال منڈایا جائے گا۔ منع وعدم منع اپنے اپنے انداز استدلال پر منحصر ہے۔ جو منع کرتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ احادیث میں خصوصیت کے ساتھ بچیوں کے بال منڈانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ غلام کا ذکر ہے جوکہ بچہ(مذکر) پر دلالت کرتا ہے اور بچیوں(مؤنث) کے متعلق بال منڈانے کی ممانعت وارد ہے ۔ عدم منع والے کا استدلال ہے کہ نص عام ہے اس میں جس طرح غلام (لڑکا) داخل ہے اسی طرح جاریہ(لڑکی) بھی داخل ہے۔دلائل کی روشنی میں نومولود بچی کا ساتویں دن جس طرح نام رکھنا اور عقیقہ کرنا مسنون ہے اسی طرح بال منڈانا اور اس کے برابر چاندی صدقہ کرنا بھی مسنون ہے۔ اس پہ تفصیلی مضمون "نومولود بچی کاساتویں دن بال منڈانا" کے عنوان سے میرے بلاگ میں مطالعہ کریں۔

    سفید بالوں کو اکھیڑنے کی ممانعت اوراسے بدلنے کا حکم
    اولا: یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ سفید بالوں کو اکھیڑنے سے منع کیا گیا ہے اور عورت بھی اس ممانعت میں شامل ہے ، نبی ﷺ کافرمان ہے :
    لا تنتِفوا الشَّيبَ ما من مسلِمٍ يشيبُ شيبةً في الإسلامِ إلَّا كانت لَهُ نورًا يومَ القيامةِ إلَّا كتبَ اللَّهُ لَهُ بِها حسنةً وحطَّ عنهُ بِها خطيئةً(صحيح أبي داود:4202)
    ترجمہ: سفید بال نہ اکھیڑو،اس لئے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو تو وہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو گا اور اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا۔

    ثانیا:یہ معلوم ہونا چاہئے کہ عورت ومرد کے لئے مسنون ہے کہ جب بالوں میں سفیدی ظاہر ہوجائے تو اسے کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کسی بھی رنگ سے بدل دے ۔سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا تو ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غيِّروا هذا بشيءٍ ، واجتَنِبوا السَّوادَ(صحيح مسلم:2102)
    ترجمہ: انہیں کسی رنگ سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
    بخاری شریف میں وارد ہے :إن اليهودَ والنصارى لا يصبُغون ، فخالفوهم(صحيح البخاري:3462)
    ترجمہ: بے شک یہود ونصاری اپنے بالوں کو نہیں رنگتے ہیں ،تم ان کی مخالفت کرو۔
    ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں(مردوعورت) اپنے سفید بالوں میں خضاب لگانا چاہئے اور کالے خضاب سے منع کیا گیا ہے۔

    ثالثا: یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کالےرنگ کے علاوہ کوئی بھی رنگ مثلا مہندی ، زعفرانی حتی کہ کالامکس (یعنی کالے رنگ میں دوسرا رنگ ملاکر الگ رنگ تیار کرنا) رنگ خضاب کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ، خضاب میں صرف خالص کالا رنگ منع ہے۔

    رابعا: یہ طریقہ بھی درست ہے کہ جتنے بال سفید ہوں اتنے ہی رنگے جائیں یا پھر مکمل سر ہی رنگ لیا جائے یعنی بعض حصے کو رنگنےاور بعض کو چھوڑدینے میں حرج نہیں ہے تاہم اس عمل میں فاحشہ کی نقالی سے بچنا ہے۔

    خامسا: آج کل عورتیں بالوں کے رنگنے میں غیروں کی نقالی کرتی ہیں ان میں ایک یہ رواج پاگیا ہے کہ ایک ہی وقت میں سر کے بال کو مختلف رنگوں سے رنگا جاتاہے ، دراصل یہ فیشن اور فاحشہ عورت کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ اس سے مسلم خواتین کو بچنا ہے ،ہاں اگر مختلف رنگوں کے کسی طریقہ استعمال میں فاحشہ عورت کی مشابہت نہ پائی جاتی ہو تواس طریقہ میں کوئی حرج نہیں ہے مثلا مختلف رنگوں کو ملاکر ایک رنگ تیار کرکے لگانا۔

    سادسا: بعض خواتین پوچھتی ہیں کہ ہم نے لاعلمی میں بہت ساری نمازیں کالے خضاب میں پڑھی ہیں ان نمازوں کا کیا ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خضاب اپنی جگہ ایک عمل ہے اور نمازاپنی جگہ ایک دوسراعمل ہے ۔ کالےخضاب میں پڑھی گئی نماز اپنی جگہ درست ہے اسے لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم کالا خضاب لگانے والی عورت اس گناہ سے آئندہ کے لئے سچے دل سے توبہ کرے ۔

    بالوں کو سیدھا کرنا یا گھونگھرالا بنوانا
    بسا اوقات بعض عورتوں کے بال طبعی طور پر گھونگھرالے ہوتے ہیں ایسے میں بالوں کو سیدھا کرنا ایک ضرورت ہے اس میں کوئی حرج ہی نہیں ہے البتہ بلاضرورت زینت کے مقصد سے سیدھے بال کو گھونگھرالےبنوانا شوہر کے واسطے ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن لوگوں کو مائل کرنےاور غیروں کی مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے ہو تو جائزنہیں ہے ۔

    بالوں میں بال جوڑنا یا وگ پہننا یا بالوں کی پیوندکاری کرنا
    قدرتی بالوں میں مصنوعی بال جوڑنا منع ہے بلکہ ایسا کرنے والی ملعون عورت ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :
    لَعَنَ اللَّهُ الواصِلَةَ والمُسْتَوْصِلَةَ، والواشِمَةَ والمُسْتَوْشِمَةَ(صحيح البخاري:5937)
    ترجمہ:اللہ تعالٰی نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی نیز سرمہ بھرنے والی اور بھروانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
    اس حدیث کی روشنی میں نہ قدرتی بالوں میں مصنوعی بال جوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی مصنوعی بالوں کی وگ پہن سکتے ہیں ۔اگر کسی عورت کا سر گنجا ہوجائے تو اس کے لئے بالوں کی پیوندکاری جائز ہے اورعیب چھپانے کے لئے وگ کا استعمال بھی جائز ہے ، بال ہوتے ہوئے شوقیہ وگ پہننا یا بال جوڑنا منع ہے ۔ اوراگر کسی عورت نے مجبوری میں وگ پہن رکھی ہو تو شیخ محمد بن صالح منجد نے وضو کے وقت اس پہ مسح کرنا جائز نہیں کہا ہے یعنی اسے اتارنا ہوگا۔

    ٹوٹے بالوں کو دفن کرنا
    عورتیں اکثرسوال کرتی ہیں کہ کیا بالوں کو جو زمین پر گرجائیں انہیں دفن کردینا چاہئے تاکہ لوگ انہیں غلط مقاصد کے لئے استعمال نہ کریں ؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ بالوں کو دفن کرنے سے متعلق کوئی نص موجود نہیں ہے تاہم بعض اہل علم اسے دفن کرنے کو اچھا خیال کرتے ہیں ۔اگر جادو ٹونا کا اندیشہ ہو جیساکہ آج کل اس کا بڑا رواج ہے تو پھر کسی محفوظ جگہ دفن کردینا چاہئے ۔اجنبی مردوں کی نظر نہ پڑے اس مقصد سے بھی بال زمین میں چھپایا جاسکتا ہے۔اکثرعورتیں توہمات کا شکار ہوتی ہیں اور ہربات کو جناتی اثرات سے منسوب کرتی ہیں ۔ میں ان عورتوں کو پابندی سے نماز ادا کرنے، کثرت سے استغفارپڑھنے اورطہارت واذکار پہ ہمیشگی برتنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اللہ کی توفیق سے نہ کسی انسان کا جادو آپ پر اثر کرے گا اور نہ ہی کوئی شیطان آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    دلہن کے بالوں کی سجاوٹ
    اس میں ایک مسئلہ تو ہے کہ شادی یا غیرشادی کسی موقع پر اجنبی مرد سے بالوں کی سجاوٹ اور زیبائش وآرائش کرنا حرام ہے ۔ عورتوں والے سیلون میں یا گھر پر عورت کے ذریعہ شادی کے موقع پر بالوں کو دلکش بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بچنا ان امور سے ہے جن کی ممانعت آئی ہے اور جن ممنوعہ امور کا ذکر اوپر کیا گیا ۔ شادی کے موقع پردلہن کے بالوں کی سجاوٹ کریں مگر فضول خرچی اور کافرہ وفاحشہ عورت کی مشابہت سے بچیں۔

    بیوٹی پارلر میں جاب کرنے کا شرعی حکم
    بیوٹی پارلر میں غیر شرعی امور سے بچنا بہت مشکل ہے مثلا ابرو تراشنا، سر کے بال چھوٹا کرنا،مصنوعی بال جوڑنا، بلاضرورت عورتوں کی مقامات ستر کو دیکھنامحض زیبائش کے لئے، کسی عورت کا حرام کام گانے بجانےیا شوہر کے علاوہ دوسرے اجنبی مردوں کے لئے سنگار کرنا وغیرہ ۔ ان کے علاوہ کہیں پر مردوں سے اختلاط ہے تو کسی خاتون کو اس نوکری کے لئے تنہا گھر سے باہر آمدرفت کرنی پڑتی ہے۔ ان تمام مفاسد و ناجائز کاموں سے بچ کراور شرعی حدود میں رہ کر اگر کوئی عورت بیوٹی پارلر کا جاب کرسکتی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر غیرشرعی امور سے نہیں بچ سکتی ہے تو اس صورت میں یہ جاب کرنا جائز نہیں ہوگا۔ ایک لفظ میں یہ کہیں کہ بناؤسنگار کا کام فی نفسہ جائز ہے اور اس کا پیشہ اختیار کرکے اس پہ اجرت حاصل کرنا بھی جائز ہے لیکن اس پیشے میں ناجائز کام کرنا پڑے تو وہ کمائی جائز نہیں ہے۔

    لیڈی بال کے متعلق غلط فہمیاں
    عوام میں لیڈی بال سے متعلق چند غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ، انہیں ان مقصد سے ذکر کیا جاتا ہے کہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
    ٭ عورتوں کے لمبے بال قیامت میں پردہ کا باعت بنیں گے ۔
    ٭اذان کے وقت سر پہ دوپٹہ رکھنا ضروری ہے ۔
    ٭یہ عام بات ہے کہ ٹوٹی ہوئی کنگھی سے کنگھا کرنے پر گھر میں غریبی آتی ہے ۔
    ٭عورتوں کا کھڑے کھڑے بال باندھنے سے گھر میں غریبی آتی ہے ۔
    ٭روزے کی حالت میں بالوں میں مہندی لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
    یہ سب غلط باتیں اور افواہیں ہیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,448
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں