خواتین رمضان المبارک کیسے گزاریں؟

سعیدہ شیخ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏مئی 3, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    80
    ایک بہن سے گفتگو ہورہی تھی کہہ رہی تھی کہ رمضان سر پر ہے اور اب تک کچھ بھی تیاری نہیں ہوپائی۔ میں نے جاننا چاہا کہ ایسی کیا تیاری ہے جس کے لئے وہ اتنی فکرمند ہوئی جا رہی ہے تو وہ بولیں کہ رمضان سے پہلے اضافی برتن کی خریداری کرنی ہے۔ اس لئے کہ رمضان میں اضافی ڈشس بنانی ہوتی ہیں اورگھر کو بھی رنگ و روغن لگ جاتا تو اچھا ہوتا اور تھوڑی صاف صفائی ! مگر وقت ہی نہیں مل پارہا ہے۔ میں نے سوچا کہ کیا رمضان کی تیاری میں یہی ایک عنوان ہماری فکر اور پریشانی کا مرکز ہونا چاہئے؟ یہ دراصل ہمارے معاشرے کی خواتین کی عمومی سوچ ہیں۔ کہ ہم روزہ میں کیا بنائیں اور عید میں کیسے کپڑے بنائیں؟ اور کس طرح گھر کو سجائیں؟

    روزہ اور رمضان کا مقصد ہمارے اندر خدا ترسی اور تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے۔ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شعبان سے ہی رمضان کی تیاری کیا کرتے تھے۔ اور رمضان کی عظمت اور اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے۔ دراصل روزے کا اصل مقصد ” لعلکم تتقون” تاکہ تم تقوٰی حاصل کرو۔ تقوی اور خدا ترسی جو دین کا محاصل اور اسلام کا منتہی اور اس کی روح ہے۔ رمضان کا موسم تقوی کی آبیاری کا مہینہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ کی محبت کو دل میں بٹھایا جائے۔ اور دل کو اللہ کا مطیع وفرمانبردار بنائیں۔ تاکہ اس کے احکامات پر عمل کرنا آسان ہو جائیں۔

    جس طرح مرد اور عورت دونوں اللہ کی نظر میں برابر ہیں، ٹھیک بالکل اس طرح عبادات میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ بے شک گھر اور بچوں کی ذمے داری ہم پر فرض ہے۔ مگر ساتھ ساتھ دین کی عائد کردہ احکامات کی پابندی ضروری ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں گیں۔ روزہ ہماری روحانی اور اخلاقی تربیت کا مہینہ ہیں۔ تاکہ اس کے ذریعے اپنے اندر ایک بہترین تبدیلی لائیں۔ ایک ہدف اور مقصد تعین کر لیں اور اسی کے تحت منصوبہ بندی کریں۔ اس لئے کہ ناقص منصوبہ بندی یا منصوبہ بندی کا فقدان دراصل ہمارے عزم اور کردار کی کمی ہے۔

    تو سب سے پہلے پلاننگ کریں۔ اور اس کے مطابق عمل کریں۔ نہ کہ رمضان کو صرف گھر کی صاف صفائی اور اضافی جھاڑ پونچھ میں اپنا قیمتی وقت ضائع کردیں۔ رمضان میں وقت کی پابندی کے ساتھ اپنے کاموں کو ترتیب دیں۔ اٹھتے کے ساتھ تہجد اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔ دراصل یہی سکون کا وقت ہوتا ہے۔ اور اپنے رب سے دعا و مناجات اور قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ اور پھر سحری کی تیاری کریں جتنا ہوسکے کم سے کم اہتمام کریں۔ اور سحری سے فارغ ہو کر اذکار اور تسبیحات کریں۔ اپنی زبان اور ذہن کو اللہ کی یاد سے تر رکھیں۔ فجر کے بعد قرآن کی تلاوت کو معمول بنالیں۔ اور "إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا" کی تصویر بن جائیں۔ اسی طرح پورے دن میں نماز اور قرآن سے جڑے رہیں۔ اور قرآن میں تدبر و غور وفکر کریں۔ اور افطار میں بھی بہت زیادہ ڈشس اور تیاری میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ اپنا وقت اللہ کی عبادتوں میں صرف کریں۔ افطار سے پہلے دعا کا خاص اہتمام کریں۔

    رمضان میں ساتھ ہی ساتھ اپنے سیرت و کردار کو بہتر بنائیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کی تربیت کا مہینہ بنائیں۔ انکے سامنے ایک مسلمان روزہ دار ماں کا آئیڈیل نمونہ پیش کریں جو کسی کی غیبت نہیں کرتی ہو، جو کسی سے چلا کر بات نہیں کرتی ہو، جو بات بات پر غصہ نہیں ہوتی ہو۔ جو موبائل اور ٹی وی پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتی ہو۔ جو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتی ہوں۔ صدقات و خیرات اور قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرتی ہوں۔ ان سارے کاموں میں اپنے بچوں کو شامل کریں۔ تاکہ انہیں بھی ترغیب ملیں۔ اس لئے کہ بچوں کے سیرت و کردار کی تعمیر میں ماں اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔

    رمضان دراصل نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اس میں ہر دم اللہ کی رحمت جوش مارہی ہوتی ہے۔ تو اٹھئے کہ کل یہ نیکیوں کا موسم رہیں نہ رہیں تو نیکیوں کے اس موسم بہار کے لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کو تیار کیجئے کہ اللہ نے ہم سب کو ایک بار پھر یہ سعادت عطا فرمائی ہے کہ نیکیوں کا موسم بہار ہمارے دروازے پر دستک دینے کو ہے۔ اللہ تعالی اس میں کثرت سے اعمال صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
     
    • مفید مفید x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,429
    جزاک اللہ خیرا سس!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2
  3. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    431
    یہ فقط عورتوں کا ہی نہیں بلکہ مردوں کا بھی مسئلہ ہے ،مرد حضرات کو بھی سحری اور افطاری میں بھرپور لوازمات چاہیے ہوتے ہیں "الا ماشاءاللہ "

    کچھ لوگوں کا رمضان ہوتا ہی فقط کھانے پینے کیلئے ،اللہ سمجھ عطا فرمائے

    شادی کے بعد جب پہلا رمضان آیا تو اہلیہ کو اپنی ترتیب بتادی کہ کسی قسم کے سموسے پکوڑے یا فرائی آئٹم کے چکر میں نہی پڑنا ،فروٹ کاٹ کر رکھ دینا اسی سے افطاری کریں گے اور مغرب کے بعد کھانا اور پھر سب تراویح کیلئے مسجد ،رمضان تقوی کو اختیار کرنے اور پھر اسکو اپناتے ہوئے زندگی گزارنے کیلئے آتا ہے نہ کہ مختلف اقسام کی ڈشوں کیلئے ،

    دوبرس قبل پڑوس والی اہلیہ سے پوچھتی ہے کہ اتنی جلدی آپ کیسے سب کچھ کرلیتی ہیں اور عشاء کیلئے وقت سے پہلے مسجد بھی جارہی ہوتی ہیں بچوں کے ساتھ ؟ تو اہلیہ نے جب اسے اپنی ترتیب بتائی تو وہ ترحم و حیرانگی سے اہلیہ کو دیکھ رہی ،ترحم کہ شاید ان کے پاس اتنا خرچ کرنے کو نہیں ہوتا ہوگا ،حیرانگی بھلا یہ کیسا رمضان و افطاری کہ سموسے و پکوڑے اور کچوریاں وغیرہ نہیں ہیں

    سعودیہ کے ایام میں دوست کو ایک ہندو کولیگ پوچھتا ہے کہ سہیل بھائی ،وہ مہینہ کب آئے گا جس میں آپ لوگ بہت زیادہ کھاتے ہو ؟

    سہیل بھائی : ہیں ؟ کونسا مہینہ ؟

    ہندو کولیگ : وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ جس میں آپ لوگ بہت زیادہ کھاتے ہو

    سہیل بھائی : مجھے سمجھ نہیں آرہا تم کونسے مہینے کی بات کررہے ہو؟

    ہندو کولیگ : وہی جس میں آپ مسلمانوں کی ڈیوٹی 8 کی بجائے 6 گھنٹے ہوجاتی ہے( اب اسے نام یاد نہیں تھا اس ماہ کا)

    سہیل بھائی : اوہ تم رمضان کے مہینے کا پوچھ رہے ہو؟

    ہندو کولیگ : ہاں ہاں وہی ،رمضان

    سہیل بھائی مجھے یہ واقع سناتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے اسے جواب تو دیا لیکن شرمندگی بھی حد درجہ ہوئی کہ ایک ہندو کے ذہن میں بھی وہی بات اٹکی ہوئی ہے جو اس نے آنکھوں سے دیکھی اور ہمارا حقیقی حال بھی کچھ ایسا ہے کہ افطاری میں اتنا کھالیتے ہیں کہ سحری کے بغیر بھی رہیں تو بھوک کہیں دور دور تک نہ دکھائی دے

    اللہ تعالیٰ اس رمضان المبارک کو ہماری زندگیوں کو تقویٰ میں بدلنے اور کثرت سے اعمال صالح کرنے کی ابتداء کا مہینہ بنا دے،آمین
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں