رمضان کی فضیلت اور اہمیت

سعیدہ شیخ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏مئی 3, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. سعیدہ شیخ

    سعیدہ شیخ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    80
    يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ – (2 : 183)
    اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔

    اس سے یہ بات پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہر امت پر روزے فرض کئے تھے اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مذہب میں روزے کی کوئی نہ کوئی شکل آج بھی موجود ہے۔

    حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ؑ نے ایک مرتبہ ماہ شعبان کے آخری دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا:
    ’’اے لوگو! ایک عظیم اور مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونا چاہتا ہے، یہ وہ ماہ ہے جس میں ایک رات ، لیلتہ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے تم پر فرض کئے ہیں اور اسکی راتوں کو قیام تمہارے لئے نفل قرار دیا ہے۔جو اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے خیر کا کام یا کوئی نفل کام کرے گویا اسنے ایک فرض ادا کیا سوائے رمضان کے، جو کوئی اس ماہ میں ایک فرض ادا کرے تو وہ اسکے مثل ہے۔ جس نے 70 فرائض ادا کئے، سوائے ماہ رمضان کے۔

    رمضان کا مہینہ مغفرتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ کوئی بدنصیب ہی ہوگا جو اپنی بخشش نہ کرائے۔

    حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اورجب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کی راتوں میں قيام كيا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف كر ديےجاتے ہيں۔ (بخاری)

    ہماری زندگی بہت مختصر اور غیر یقینی ہے۔ آج ہے کل کا کچھ پتہ نہیں۔ اور ہم سب گناہ گار اور خطا کار ہیں۔ یہ نادر موقع ہے کہ ہم اپنے سابقہ گناہوں کی معافی تلافی کر سکتے ہیں۔ یہ مغفرتوں کا موسم بہار ہے۔ چاردانگ عالم میں اپنی رحمتوں کی بارش برس رہی ہیں۔ اور ہر ایک کی یہى خواہش اور تمنا ہے کہ اس کی رحمتوں کے سزاوار ہوجائے اور ساتھ ہی ساتھ مغفرتوں اور نجات کے پروانے حاصل کئے جائیں۔

    یہ ایک ایسا مہینہ جو ہمارے اندر بہت سی خوبیوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ روزہ کی ظاہری شکل یہ ہے کہ ہم بھوک پیاس سے رک جاتے ہیں۔ مگر انسان میں صبر اور ضبط نفس جیسی صفات پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہ یہ صرف ظاہری شکل نہیں ہیں بلکہ باطن میں ہمارے اندر عزم اور حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔

    جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولے اور جھوٹ پر عمل کرنے سے باز نہ رہا تو خدا کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔

    روزے کا اصل مقصد انسان میں تقوی پیدا کرنا ہے۔ اس لئے کہ تقوی بہترین زاد راہ ہے یا دوسرے الفاظ میں ضبط نفس کو پروان چڑھانا ہے۔ تاکہ باقی آئندہ مہینے بھی انسان اپنے نفس کو اللہ کا مطیع وفرمانبردار بنائیں۔ اور جن امور کا حکم ہے اس پر عمل کریں۔ یعنی غلط باتوں سے بچنا اور صحیح باتوں کے مطابق چلنا۔ یہی دین کا ماحصل اور اسلام کا منتہیٰ ہے۔ دراصل جو لوگ اپنے نفس پر قابو پاتے ہیں وہ دنیا کا ہر کام کر گزر سکتے ہیں۔

    اور آج اسے نفسیاتی شعبہ نے بھی تسلیم کر لیا کہ جب انسان اپنے نفس پر قابو پاتا ہے تو وہ ہر چیز پر قابو پا سکتا ہے۔ حال ہی میں 1960 میں والٹر میشایل امریکن سائکولیجسٹ نے Marshmallows کی مدد سے ایک مشہور تجربہ کیا جس میں 4 سالہ بچوں کے سامنے choice تھی کہ اگر صبر کیا تو بعد میں دو Marshmallows ملے گی۔ کچھ بالکل بے بس ہو گئے اور ہتھیار ڈال دیا، کچھ اپنے نفس پر قابو کیا۔ اور جن بچوں نےاپنے اوپر قابو پایا۔ ان کا ریکارڈ رکھا گیا اور پتہ چلا کہ وہ مستقبل میں کامیاب انسان ثابت ہوئے۔ اس لئے انسان کا اپنے نفس پر قابو پانا اس کا اصل جوہر ہے۔

    اسی لئے روزہ کی فرضیت کا حکم صرف ایک بار ہی آیا ہے۔ اور تقوی کا حکم 151 بار آیا یے۔ یہ تمام نیکیوں کا سر چشمہ اور برائیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ روزہ دراصل بھوک پیاس اور جنسی خواہشات کو روکے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ روح کا تزکیہ کرتی ہے اور انسان کی روح کو پاک و صاف کرتی ہے۔ روزہ جہاں ضبط نفس اور قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ تو جسمانی اور طبی لحاظ سے روزہ کے اندر شفائی اثرات موجود ہیں۔

    حالیہ 2016ء میں جاپانی سائنسدان یوشینوری اوسومی نے میڈیسن کا نوبل پرائز دیا گیا۔ اسامی نے کینسر کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ ان کی ریسرچ کا لب لباب ہے کہ روزہ میں انسانی جسم کو غذائیت نہ ملنے کی صورت میں کینسر کے خلیے اپنے موت مر جاتے ہیں۔ اور پوچھا گیا کہ یہ عمل کتنے دن کے لئے کرنا یوگا تو کیا ۲۵ سے ۲۸ دنوں کے لئے کرنا ہوگا۔ سبحان اللہ!

    وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْـرٌ لَّكُمْ ۖ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (184)
    لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔

    رمضان دراصل ٹرینیگ کا مہینہ ہے. اور قوت ایمانی کی مشق اور ضبط نفس کا امتحان ہے۔ رمضان قرآن کا مہینہ ہے رمضان مبارک صبر کا مہینہ ہے صبر کا بدلہ جنت ہے ایک دوسرے سے ہمدردی کا مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔

    روزہ قرب الہی کا بہترین ذریعہ : بلا شبہ اللہ باری تعالیٰ کے ہر حکم کی بجا آوری سے اسکا قرب اور رضا حاصل ہوتی چلی جاتی ہے لیکن روزہ اس اعتبار سے چوٹی کی عبادت ہے چنانچہ رسول اکرم ؑ کاارشاد مبارکہ ہے :

    ’’ ابن آدم کے ہر نیک عمل کا بدلہ 10 نیکیوں سے 700گناہ تک بڑھایا جاتا ہے سوائے روزہ کے کہ اللہ تعالیٰ اسکے بارے میں فرما تا ہے کہ یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا یا میں ہی اسکا بدلہ ہوں اسلئے کہ میرے اس بندے یا بندی نے اپنی شہوتِ نفس، کھانے اور پینے کو صرف میرے لئے ترک کیا۔‘‘

    اکثر ہم سوچتے ہیں کہ رمضان کے مہینہ میں روزہ، عبادت کی کثرت، قیام الیل، تراویح، تہجد اسکے علاوہ قرآن کی تلاوت اور دیگر نوافل۔ دراصل رمضان قرآن کے نزول ليلة القدر کی راتوں میں ہوا۔ جو ہزار راتوں سے بہتر ہے جو اس رات سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔ یہ ایک جشن کا مہینہ ہے۔ اور ہم جشن اللہ کو بہت زیادہ یاد کر کے کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس مہینے کی تمام برکت اور رحمت سمیٹنے والا بنائیں۔ آمین
     
    Last edited: ‏مئی 3, 2019
    • مفید مفید x 3
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا سس!
    اللہ ہمیں رمضان کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں