خطبہ حرم مکی (استقبال رمضان) ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی (28 شعبان 1440هـ بمطابق 3 مئی 2019.

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    25

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی (حفظہ اللہ تعالی) نے مسجد حرام میں 28 شعبان 1440 کا خطبہ '' استقبال رمضان'' کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، چنانچہ ان ہی عبادات کے اہم موسموں میں سے ایک موسم کہ جس میں رب کی رحمتیں برستیں، اس کے اطاعت کے کام کیے جاتے ، عمل پر اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا نیز جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں وہ عظیم موسم ماہ رمضان ہے جس کی عظیم راتیں اور افضل ایام آنے والے ہیں۔ نبی ﷺ صحابہ کرام کو اس موسم کی خوشخبری دیا کرتے تھے۔ یہ ماہ مبارک گناہوں کی معافی کا بہترین موقعہ ہے۔ اس میں مسلمان اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھتے ہیں، روزہ صرف کھانے پینے اور خواہشات نفس سے رکنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں تمام حرام کاموں سے بھی بچنا ہے۔ روزے کا مقصد تقرب الہی اور تقوی کا حصول ہے ، رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے ،یہ ماہ قرآن بھی ہے اس میں کثرت تلاوت قرآن کی بہت اہمیت اور اجر و ثواب ہے۔
    مترجم: فرہاد احمد سالم( مکہ مکرمہ)
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ!
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے روزے کو ڈھال اور جنت تک پہنچنے کا راستہ بنایا۔ میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان ہوں اور اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، نیز اسی سے گناہوں کی بخشش بھی مانگتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچایا، امانت ادا کی، امت کی خیر خواہی فرمائی اور کما حقہ اللہ کے راستے میں جہاد کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے پیغام اجل آگیا۔
    آپ ﷺ پر آپ کی آل ، صحابہ ،نیز ان کے طریقے پر چل کر اقتدا کرنے والوں ، اور قیامت تک ان کے طرزِ زندگی اپنانے والوں پر بھی اللہ کی سلامتی اور درود نازل ہوں۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    مومنو! میں آپ سب کو اور اپنے آپ کو تقوی کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔
    آپ پر صبر و تحمل اور محنت و کوشش لازم ہے، اور یہ یاد رکھیئے کہ دنیا گنتی کے چند دن اور محدود سانسوں کا نام ہے، ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کب رخصت ہو جانا ہے؟ اس لیے اللہ کے بندو! ہمیں چاہیے کہ جب تک زندگی ہے تیاری کریں، اور ہم یہ بھی یاد رکھیں کہ موت اچانک غفلت میں آتی ہے، نیز راتوں کو محنت کرنے والے صبح اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
    {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ } [البقرة: 281]
    اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
    امت مسلمہ!
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔
    {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ } [الذاريات: 56]
    اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔
    روزانہ اللہ کی اطاعت کے کام ہو رہے ہیں اور اس کی رحمتیں برس رہی ہیں، نیکی کی اللہ تعالی جسے چاہے توفیق دیتا ہے، اللہ بہت عظیم فضل والا ، پاک ، معاف اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
    بےشک آپ کے سامنے عظیم راتیں اور افضل ایام آ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کے آنے کی خوشخبری دیتے تھے؛ چنانچہ مسند امام احمد میں ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قَدْ جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهَرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ»
    تمہارے پاس مبارک ماہ رمضان آ چکا ہے ،اللہ تعالی نے اس میں تم پر روزے فرض کیے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اور شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے ۔جو اس رات کی خیر سے محروم رہا تو وہی حقیقی محروم ہے۔
    ابن رجب (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں ، یہ حدیث لوگوں کو ایک دوسرے کو رمضان کی مبارک باد دینے کی دلیل ہے۔ مومن جنت کے دروازے کھلنے اور گناہگار جہنم کے دروازے بند ہونے کی خوشخبری کیوں نہ دیے جائیں، اسی طرح عقلمند آدمی شیطان کو بیڑیوں میں بند ہونے کی خوشخبری کیوں نہ دیا جائے، اس جیسا وقت پھر اور کہاں۔
    {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} [يونس: 58]
    آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے وہ اس سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔
    بےشک رمضان کا مہینہ روزوں، قیام، قرآن اور احسان کرنے کا مہینہ ہے، یہ مہینہ فضیلت والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے رب میں نے اس کو دن میں کھانے اور شہوت سے روکے رکھا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا : میں نے اس کو رات کو سونے سے روکا پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔
    صحیحین میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے حالت ایمان میں حصول ثواب کے لیے ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا اس کے بھی پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے روزے کا اجر اپنے ذمہ لیا ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے،
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي
    حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’انسان جو نیکی کرتا ہے، وہ اس کے لیے دس گنا سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مگر روزہ کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا۔ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور کھانے پینے سے دست کش ہوتا ہے۔
    بےشک یہ عظیم مہینہ اور پیاری بہار ہے، اس میں فرشتے روزہ دار کے لئے افطاری تک دعا کرتے رہتے ہیں، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت افطاری کی خوشی اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت روزے کا ثواب پا کر۔
    اللہ تعالی روزانہ جنت کو مزین کرتا اور فرماتا ہے: يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمُ الْمُؤْنَةَ وَالْأَذَى، وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ
    عنقریب میرے نیک بندے اپنے اوپر سے محنت اور تکلیف کو اتار دیں گے اور تیر ے پاس آئیں گے، اللہ کی طرف سے آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے۔: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ، أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ، أَقْصِرْ،
    اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اور اے برائی کے رسیا رک جا۔ چنانچہ دل اپنے خالق کے قریب اور نفوس اپنے پیدا کرنے والے کے لئے خالص ہوتے ہیں۔
    اس ماہ کے آخر میں فضیلت والی دس راتیں اور لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔
    جس نے امام کے ساتھ مکمل قیام کیا تو اس کے لئے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، اور ہر رات اللہ کے بہت سے بندے آگ سے آزاد ہوتے ہیں ، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ، اس کی ناک پھر خاک آلود ہو ، اس کی ناک پھر خاک آلود ہو جس نے رمضان کو پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی۔
    رمضان میں روزہ داروں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں ، اور دعا کی قبولیت کہ بہت سی گھڑیاں ہیں، پس ان میں کثرت سے دعا کریں، اللہ تعالی نے آیات صیام میں ذکر کیا ہے کہ وہ مومن بندوں کے قریب ہوتا اور دعائیں قبول کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:
    {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} [البقرة: 186]
    اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں کہہ دیجئے کہ میں (ان کے) قریب ہی ہوں، جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں لہذا انہیں چاہیے کہ میرے احکام بجا لائیں اور مجھ پر ایمان لائیں اس طرح توقع ہے کہ وہ ہدایت پا جائیں گے۔
    اور مسند امام احمد میں ہے کہ بنی ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ
    ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگوں کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا: عدل کرنے والا حاکم، روزہ دار یہاں تک کہ روزہ افطار کر لے اور مظلوم کی دعا۔
    رمضان میں بھلائی کے بہت سے دروازے ہیں مثلاً جس نے کسی روزہ دار کی افطاری کروائی چاہے ایک کھجور ہی کے ذریعے تو اس کو روزے دار کے برابر اجر ملے گا اور روزے دار کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں ہو گی۔
    اسی طرح رمضان کا صدقہ بہترین صدقہ ہے، چنانچہ حساب کے دن سے ڈرنے والے کو چاہیے کہ بھوکے مسکین کو کھانا کھلائے، بیوہ اور یتیم کی ضرورت کو پورا کرے۔
    { وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (8) إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (9) إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا (10) فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا (11) وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا} [الإنسان: 8 - 12]
    اور خود کھانے کی محبت کے باوجود وہ مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں (اور انہیں کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کی خاطر کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ ہمیں اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو بہت منہ بنانے والا اور (دلوں کو) مضطر کرنے والا ہو گا چنانچہ اللہ ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا ،اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔
    مومن بھائیو!
    ماہ رمضان تقوی کا عظیم موسم ہے اسی لیے روزہ ڈھال ہے، یعنی فواحش اور محرمات کے مقابلے میں محفوظ قلعہ ہے۔ اللہ سبحانہ نے روزوں کی آیات کا آغاز اور اختتام بھی تقوی کے ذکر سے ہی کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے روزہ کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا: {كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ} [البقرة: 187]
    اسی انداز سے اللہ تعالیٰ اپنے احکام لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔
    تقوی بہترین زاد راہ اور تقوی پر مبنی لباس؛ بہترین لباس ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    { وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (2) وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق: 2، 3] {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا} [الطلاق: 5] {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا} [الطلاق: 4]
    اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کی کوئی راہ پیدا کر دے گا۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں اسے وہم و گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اسے بڑا اجر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لئے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔
    اللہ تعالی نے متقین کو اپنی معیت سے خاص کیا اور انہیں اپنی محبت سے نوازا ہے۔
    { بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ} [آل عمران: 76]
    کیوں نہیں! جو شخص اپنا عہد پورا کرے اور ڈرے تو یقیناً اللہ ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
    قتادۃ (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں: متقی اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ ہو اس کے ساتھ ایسی جماعت ہوتی ہے جو مغلوب نہیں ہو سکتی، ایسا محافظ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو سوتا نہیں اور ایسا رہنما جو بھٹکتا نہیں ہے۔
    اہل تقوی دنیا اور آخرت میں بلند ہوں گے،
    {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} [القصص: 83]
    یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔
    مسلم اقوام! تقوی کے ذریعے اس جنت کی حقیقی سعادت حاصل ہوتی ہے کہ جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے اور وہ متقین کے لئے تیار کی گئی ہے، نیز اس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی گزرا۔
    {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (63) لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ } [يونس: 62 - 64]
    سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ انہی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
    مسلمانو!
    رمضان حصولِ رضائے الہی ، راہِ راست پر استقامت اور اللہ سے ملاقات کی تیاری کا موقعہ ہے، پس آج عمل ہے اور حساب نہیں اور کل حساب ہوگا عمل نہیں۔
    {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى} [البقرة: 197]
    اور زاد راہ ساتھ لے لیا کرو اور بہتر زاد راہ تو پرہیزگاری ہے۔
    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183]
    اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے (اور اس کا مقصد یہ ہے) کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو ۔
    اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت اور ان میں موجود آیات اور حکمتوں سے نفع دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے اپنے لئے ، آپ سب اور تمام مسلمانوں کے لئے استغفار کرتا ہوں، آپ بھی اسی سے استغفار کریں بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ!
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں کہ جس نے ہمیں رمضان کے مہینے سے نوازا اور اس میں قرآن اتارا جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ اور تابعین سمیت قیامت تک اچھے طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    مومنو!
    رمضان کے مقاصد میں اطاعت الہی اور گناہ سے بچنے پر نفس کی تربیت اور تزکیہ بھی شامل ہے۔ جیسے کہ مسلمان اپنے نفس کو حالت روزہ میں بعض حلال چیزوں سے روکتا ہے، ا س سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کو حرام سے بچائے۔ پس روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں ایمان اور عمل صالح کے نتائج سامنے آتے ہیں۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جھوٹ اور فریب کاری ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ(روزے کے نام سے) اپنا کھانا پیناچھوڑ دے۔
    ہمارے نبی ﷺ ماہ رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے تھے، چنانچہ صحیحین میں ہے۔
    ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔ اور سب سے زیادہ آپ کی سخاوت ماہ رمضان میں اس وقت ہوتی جب حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ملتے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان المبارک کے ختم ہونے تک ہر رات آپ سے ملاقات کرتے، نبی کریم ﷺ ان سے قرآن مجید کی دہرائی فرماتے، جس وقت آپ ﷺ سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو آپ اندھیری سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔
    رمضان میں تلاوت قرآن کی خصوصی فضیلت ہے ،پس قرآن کی تلاوت، تدبر اور غور فکر سے زیادہ کوئی چیز دل کے لئے نفع بخش نہیں۔ جیسے کہ ابن القیم (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں:
    قرآن وہ تمام پسندیدہ اوصاف پیدا کرتا ہے جو دل کی حیات کا باعث ہیں، اسی طرح وہ ان تمام برے اوصاف سے روکتا بھی ہے جن سے دل میں بگاڑ اور تباہی پیدا ہوتی ہے۔ اگر لوگ جان لیں کہ تدبر کے ساتھ تلاوت قرآن میں کیا ہے تو وہ اس کے علاوہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر اس ہی میں مشغول ہو جائیں۔
    مسند امام احمد میں ہے: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ، يَرْكَعُ بِهَا وَيَسْجُدُ بِهَا : { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ }
    رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے رہے، (وہ آیت یہ ہے:) {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ}
    اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔
    چنانچہ یہ عائشہ صدیقہ ہیں ( اللہ ان سے اور ان کے والد سے راضی ہو) ان کے بارے میں ان کا بھتیجا کہتا ہے کہ میں ایک دن صبح کہ وقت ان کے پاس گیا تو وہ نماز میں ان آیات کی تلاوت کر رہی تھیں:
    { إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ (26) فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ (27) إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ} [الطور: 26 - 28]
    کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔ پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں زہریلی لو کے عذاب سے بچا لیا۔ بے شک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ وہ ان آیات کو بار بار پڑھتیں دعا کرتیں اور روتیں ، میں کھڑا رہا پھر جب تھک گیا تو کسی کام سے بازار چلا گیا ، جب واپس آیا تو اس وقت بھی آپ نماز میں مسلسل یہ ہی آیات پڑھ رہیں اور رو رہیں تھیں ۔
    اے عاجزی کرنے والو! نیکی کے دن آ چکے ہیں اور صدقہ کرنے کا موسم سایہ فگن ہے پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ، اپنے اوقات کو نیکیوں سے آباد کرو، اطاعت کے کاموں میں بڑھو نیز اپنے رب کے لئے خالص ہو جاؤ اور سنت نبوی کی پیروی کرو۔
    مخلوق میں سب سے بہتر اور انسانوں میں سب سے پاکیزہ محمد بن عبداللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔
    مومنوں جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں بڑے پیارے کام کا حکم دیا ہے جس کی ابتدا اپنے آپ سے کرتے ہوئے فرمایا: { إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمً} [الأحزاب: 56]
    اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔
    اے اللہ اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ پر آپ کی پاکیزہ آل ، نیکی میں سب سے آگے صحابہ پر درود و سلام نازل فرما۔ اے اللہ تو ہدایت یافتہ آئمہ اور خلفاء راشدین ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی اور نبی ﷺ کے تمام صحابہ اور تابعین سے راضی ہو جا ، نیز آپ کی پیروی کرنے والوں اور آپ کی سنت پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اور ان کے ساتھ اپنی معافی کرم اور سخاوت کا معاملہ فرما۔ یاالرحم الراحمین!
    یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما۔
    دین کی حدود کی حفاظت فرما، اس ملک اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن و خوشحالی کا گہوارا بنا۔
    یا حیی یا قیوم ہم تیری رحمت کے ساتھ مدد کے طلب گار ہیں، تو ہمارے تمام معاملات کو درست فرما دے اور ہمیں پلک جھپکنے کے برابر بھی ہمارے نفس کے حوالے نہ کرنا۔
    یا اللہ ! مسلمان مومنوں کو غموں سے نجات عطا فرما، پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما ، مقروضوں کے قرضے اتار دے ، اور بیماروں کو شفایاب فرما۔
    یا اللہ! تمام جگہوں پر مسلمانوں کے حالات درست فرما۔ برحمتک یا منّان یا ذلجلال والاکرام
    یا اللہ ! جو ہمارے ساتھ اور ہمارے ملک کہ ساتھ برا ارادہ کرے تو اس کی چالوں کو اس کے منہ پر دے مار، اور اس کی چالوں کو اسی پر لٹا دے ۔ یا قویّ یا عزیز یا ذلجلال والاکرام
    یا اللہ ! ہمیں ہمارے ممالک میں امن دے اور ہمارے آئمہ ولی الامر کی اصلاح فرما اور حق کے ساتھ ان کی مدد فرما۔
    یا اللہ ! ان کو اپنی ہدایت کی توفیق دی اور تیری رضا والے عمل کی توفیق دے، ان کے لئے نیک جانشین زندہ رکھ جو ان کی خیر خواہ اور مدد گار ہوں۔
    یا اللہ ! ان کو ، ان کے نائب اور مدد گاروں کو لوگوں اور ملک کی بھلائی کی توفیق دے۔
    یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی محبت اور رضا کی توفیق دے ، اور ان کو مومن بندوں کے لئے باعث رحمت بنا۔
    {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201]
    اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔ اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
    اے اللہ ہمارے دلوں کو تقوی دے، ان کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی ان کو سب سے بہتر پاک کرنے والا اور تو ہی ہر چیز پر مکمل قدرت رکھنے والا ہے۔
    یا اللہ ! ہم تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ معافی کا سوال کرتے ہیں۔
    یا اللہ ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما ، ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور ہمارے معاملات آسان فرما، نیز ہمیں اپنے رضا والوں کاموں کی توفیق عطا فرما۔
    یا اللہ! ہمیں ، ہمارے والدین ان کے والدین اور ان کی اولادوں کو معاف فرما بے شک تو دعا سننے والا۔
    یا اللہ! ہمیں ماہ شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان نصیب فرما۔ یا اللہ اس ماہ کو ہم پر امن ، ایمان ، اسلام اور سلامتی کے ساتھ طلوع فرما۔
    یا اللہ! اس میں ہماری نماز، روزہ قیام اور تلاوت قرآن سے مدد فرما۔
    یا اللہ ! ہمیں رمضان کے لئے اور اس کو ہمارے لئے سلامت رکھ، یہاں تک کہ ہماری موت کا وقت آجائے اور تو نے ہم پر اپنی رحمت اور مغفرت کر دی ہو ا اور ہمیں معاف کر دیا ہو۔
    یا اللہ ! ہماری سرحدوں کی رکھوالی کرنے والے ہمارے فوجی دستوں کی مدد فرما۔
    یا اللہ ! تو اپنے اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما۔
    یا اللہ ! ہمارے اور مسلمانوں کے تمام ممالک میں امن و سلامتی کا بول بالا فرما۔ اور شریروں کے شر اور سازش کرنے والوں کے سازشوں سے نیز دن اور رات کے شر سے ہمیں کافی ہو جا۔ برحمتک یا ذلجلال والاکرام۔
    یا اللہ ! ہم سے قبول فرما بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
    {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الصافات: 180 - 182]
    پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ۔
    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    509
    جزاک اللہ خیرا

    خطبہ مسجد الحرام باقاعدگی سے دیکھ کر خوشی ہوئی الحمد للہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    اللہ تعالی محترم فرہاد احمد سالم صاحب کو جزائے خیر دے، اور ان کے قلم میں مزید قوت ڈال دے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    آمین یارب.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں