خطبہ حرم مدنی 10-05-2019 " رمضان؛ محاسبہِ نفس اور اطاعت گزاری کا مہینہ" از حذیفی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 10, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    ﷽​

    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے05 رمضان 1440ہجری کا خطبہ جمعہ " رمضان؛ محاسبہِ نفس اور اطاعت گزاری کا مہینہ" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ زندگی کا ہر لمحہ نیکی کرتے ہوئے اور گناہوں سے بچتے ہوئے گزرے تو یہ حقیقی سعادت مندی ہے، انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آخرت کے لئے اس نے کیا تیاری کی ہے؟ کیونکہ یہ سوچ حدیث نبوی کے مطابق عقلمندی کی علامت ہے، انسان کو کسی بھی ایسے عمل سے بچنا چاہیے جس سے نیکیوں کا ثواب کم یا ختم ہو جائے۔ قرآن کریم اور رمضان کا بہت گہرا تعلق ہے اسی ماہ میں قرآن نازل کیا گیا اور در حقیقت رمضان کی عبادات نعمت قرآن کے شکرانے کا مظہر ہیں۔ کسی بھی نعمت کے ملنے پر شکر گزاری شیوہ پیغمبری ہے، رسول اللہ ﷺ کی ساری زندگی اسی چیز کا مصداق تھی۔ قرآن کریم کا رمضان میں روح پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے؛ کیونکہ برائی کا عنصر روزے کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہوتا ہے تو ایسے میں قرآن کی تاثیر کارگر ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں ہر طرح کے مسئلے کا حل موجود ہے چاہے وہ دنیاوی مسئلہ ہو یا دینی، انہوں نے تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا کہ کیا تم نے رمضان میں آخرت کی تیاری، ہڑپ شدہ مال کی واپسی، بد اخلاقی سے توبہ، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، حرام اور سود خوری سے توبہ کر لی ہے؟ آج اپنا خود محاسبہ کر لو ورنہ کل کوئی اور تمہارا حساب کرے گا، آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ روزے کا اثر اسی وقت ہوتا ہے جب انسان روزے کو نیک اعمال کے ذریعے عمدہ بنا لے اور کسی بھی ایسے عمل سے دور رہے جو ثواب میں کمی کا باعث بنے ، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔
    ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:

    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے، وہ نعمتیں اور برکتیں دینے والا ہے، ہماری بندگی سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور ہماری خطائیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، نیکی اور بدی کرنے والے کو ہی ان کا نفع اور نقصان ہوتا ہے، اللہ تعالی تو تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ میں اپنے رب کی حمد خوانی کرتا ہوں اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر گزار ہوں، اللہ تعالی کی معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر اسی کے لئے حمد و شکر بجا لاتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں اور اس کی صفات عظیم ترین ہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ-اللہ کے بندے ، اور اسکے رسول ہیں، آپ کی براہین اور معجزوں کے ذریعے تائید کی گئی، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد -ﷺ-انکی اولاد اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    تقوی الہی اختیار کرو، اور اس کے لئے ایسے کام کرو جو اللہ کو راضی کر دیں، نیز اس کے غضب اور نافرمانی سے محفوظ کر دیں۔ صرف متقی ہی کامیاب ہوں گے اور مجرم لوگ ہی نقصان اٹھائیں گے۔

    مسلمانو!

    محاسبہ نفس، عبادت کے لیے محنت، زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا حصول ، اللہ تعالی کی توفیق سے کی جانیوالی نیکیوں پر دوام، عمل صالح کی توفیق اور نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال سے اجتناب ؛ دنیا و آخرت میں عین سعادت مندی اور کامیابی کے باعث عمل ہیں، فرمان باری تعالی ہے: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى[40] فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اور نفس کو خواہشات سے روکا [40] تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگی[النازعات : 40-41]

    ایسے ہی اللہ تعالی نے اہل جنت کے بارے میں فرمایا: {وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ (25) قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ (26) فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ} اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کرتے ہوئے [25] کہیں گے: اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں دبک کر رہا کرتے تھے۔ [26] پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں تپتی لو کے عذاب سے بچا لیا۔ [الطور: 25 - 27]

    اسی طرح فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ}اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال ضائع مت کرو۔ [محمد: 33]

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ ، اللہ تعالی کے فرمان: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کیلیے کیا پیش کیا ہے [الحشر: 18] کی تفسیر میں کہتے ہیں: "تم خود اپنا محاسبہ کر لو اس سے قبل کے تمہارا محاسبہ کیا جائے، یہ دیکھ لو کہ تم نے اپنے لیے کتنے نیک عمل کیے ہیں جو روز قیامت تمہارے لیے مفید ہوں اور تم اُنہیں اپنے رب کے سامنے پیش کر سکو" ختم شد

    اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کیلیے تیاری کرے، اور وہ شخص عاجز ہے جو چلے تو نفسانی خواہشات کے پیچھے لیکن امیدیں اللہ سے لگائے۔)یہ حدیث حسن ہے۔

    ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں محاسبہ نفس اس طرح ہو گا کہ انسان ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کر لے، نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال سے بچے، اور زیادہ سے زیادہ خیر و بھلائی کے کام کرے۔

    جبکہ بدبختی، ذلت اور رسوائی ؛ ہوس پرستی اور حرام کاموں کے ارتکاب میں ہے، ایسے ہی نیکیاں ترک کرنے یا نیکیوں کو تباہ کرنے والے اعمال بھی ذلت و رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔

    نقصان کے لئے انسان کو اتنا ہی کافی ہے کہ نیکیوں کا ثواب کم کرنے والی حرکت کر بیٹھے۔

    مسلمانو!

    تم دیکھ رہے ہو کہ دن اور رات کس تیزی کے ساتھ گزرتے جا رہے ہیں، سالہا سال بھی کس قدر سرعت کے ساتھ گزر رہے ہیں، کوئی بھی دن گزرنے کے بعد دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا، زندگی شب و روز کے آنے جانے کا نام ہے۔ اس کے بعد موت آ جائے گی اور تمام کی تمام امیدیں ختم ہو جائیں گی، تب خواہشات کا دھوکا سب پر عیاں ہو جائے گا۔

    آپ اس وقت ماہ مبارک کے آغاز میں ہیں، اللہ تعالی نے تم پر خیر و بھلائی کے دروازے کھول دئیے ہیں، اور اس کے اسباب بھی مہیا کر دئیے ہیں، اس لیے تم خیر و بھلائی کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ اور اپنے آپ کو تباہی اور مہلک دروازوں سے بچاؤ، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ}اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں پر مت چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔[البقرة: 208]

    مسلمانو!

    نعمتِ ایمان اور نعمتِ قرآن کی تعظیم کرو؛ کیونکہ ایمان اور قرآن سے بڑھ کر کسی کو کوئی نعمت ملی ہی نہیں۔

    جو بھی مسلمان رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی امید سے روزے رکھے تو وہ لازمی طور پر ایمان پا لیتا ہے، اسے قرآن کی برکتیں بھی حاصل ہو جاتی ہیں۔

    قرآن والے وہ ہیں جو قرآن پر عمل کریں چاہیں وہ قرآن کے حافظ نہ ہوں، اور جو شخص قرآن پر عمل نہ کرے تو وہ قرآن والا نہیں چاہے وہ قرآن کا حافظ ہی کیوں نہ ہو!

    رمضان میں قرآن کریم کا نزول؛ امت مسلمہ کے لئے ہدایت و رحمت والی عمومی اور ہر فرد کے لئے خصوصی نعمت ہے، یہ نعمت خوشحال زندگی کی بھی ضامن ہے ، تو روزوں کے مہینے میں قرآن کریم کا نزول خیر و برکت اور سعادت مند زندگی کا نکتہِ آغاز ، اور آخرت میں بلند درجات پا کر کامیابی حاصل کرنے کا راز ہے۔ قرآن کریم سے روشنی ملتی ہے اور اندھیرے چھٹ جاتے ہیں، قرآن کریم جہالت اور گمراہی کا خاتمہ کرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی۔ اس سے پہلے آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے اس روح کو ایک روشنی بنا دیا۔ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں؛ اس روشنی سے راہ دکھا دیتے ہیں اور بلاشبہ آپ سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ [الشورى: 52]

    ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا (174) فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔ [174] اب جو لوگ اللہ پر ایمان لے آئے اور اس نور کو مضبوطی سے تھامے رہے انہیں اللہ اپنی رحمت اور فضل میں شامل کرے گا اور انہیں اپنی طرف آنے کی سیدھی راہ دکھا دے گا۔ [النساء: 174، 175]

    چنانچہ اس امت کے اولین یا بعد میں آنے والے افراد میں سے جو بھی قرآن مجید پر ایمان لایا تو اس نے قرآن کریم کی عمومی اور مکمل نعمت کا شکر بھی ادا کر دیا نیز انفرادی طور پر ملنے والی نعمتِ ایمان کا بھی شکر ادا کر دیا ہے۔ جبکہ قرآن پر ایمان نہ لانے والا تمام نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے، اور جہنم میں بھی ہمیشہ رہے گا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ} اقوام عالم میں سے کوئی بھی اس کا انکار کرے گا تو آگ اس کا ٹھکانہ ہے۔[هود: 17]

    ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} اور جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے گا تو یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔[البقرة: 121]

    ایک اور مقام پر فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ (40) لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ} بلاشبہ جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اکڑ کر بیٹھے رہے، ان کے لیے نہ تو آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت ہی میں داخل ہو سکیں گے تا آنکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں[40] ان کے لئے بچھونا بھی جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کا اور ہم ظالموں کو ایسے ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ [الأعراف: 40، 41]

    ہم پر اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ اس نے اپنی حکمت اور علم کے مطابق ہم پر رمضان المبارک کے روزے فرض فرمائے، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس ماہ میں قیام اللیل بھی فرمایا، اور ماہ رمضان کے خصوصی فضائل بتلائے، اس طرح ماہ رمضان میں بڑی بڑی عبادات اور نیکیاں یک جا ہو گئیں۔ پھر اللہ تعالی نے اس ماہ میں اعمال کا اجر بھی بڑھا دیا تا کہ مسلمان نعمت قرآن اور نعمت ایمان پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کریں ۔

    نعمت عطا کرنے والے کا شکر واجب ہے، تا کہ اللہ تعالی نعمت کو زائل ہونے سے محفوظ فرما دے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں ڈھیروں مزید نعمتیں عطا فرمائے، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر اللہ کی مختلف عبادات بجا لانے سے ہو گا، ان میں سے عظیم ترین عبادت عقیدہ توحید ہے، اسی طرح اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے سے بھی شکر ادا ہو گا، اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} بیشک ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کی [1] پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ [الكوثر: 1، 2] یہاں کوثر سے مراد اتنی زیادہ خیر و بھلائی مراد ہے جس کا احاطہ صرف اللہ تعالی ہی کر سکتا ہے، اسی خیر میں جنت کی ایک نہر بھی ہے جسے کوثر کہتے ہیں، تو اللہ تعالی نے ہمارے نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی کہ مختلف عبادات کے ذریعے نعمتوں کا شکر ادا کریں ، اور خلقت کے ساتھ مختلف قسم کے احسانات والے کام کریں، اس پر ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ نے عبادت اور احسان کے تمام مقامات کا حق ادا کر دیا اور اللہ تعالی کے حکم کی بجا آوری کامل ترین انداز میں فرمائی۔

    تو ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماری طرف سے ہمارے نبی جناب محمد ﷺ کو تمام انبیائے کرام کو ملنے والے بدلے سے بھی زیادہ بہترین بدلہ عطا فرماے؛ آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور امت کی خیر خواہی فرمائی۔

    اسی طرح اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کے لیے فرمایا: { فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} جو کچھ میں نے تمہیں دیا اس پر عمل پیرا ہو جائیں اور میرا شکر کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔[الأعراف: 144]

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ} اے آل داؤد! ان [نوازشوں ]کے شکر میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکر گزار کم ہی ہوتے ہیں۔ [سبأ: 13] اس آیت کی تفسیر میں کچھ مفسرین کا کہنا ہے کہ: دن اور رات کی کوئی بھی گھڑی ایسی نہیں گزرتی کہ جس میں داود علیہ السلام کی آل میں سے کوئی رکوع یا سجدے کی حالت میں نہ ہو۔

    اور جس وقت اللہ تعالی نے مریم علیہا السلام پر ہونے والی نعمتیں شمار کروائیں تو انہیں بھی شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: {يَامَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ} اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اور سجدہ کر، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ [آل عمران: 43]

    اسی طرح اس امت کے افضل ترین افراد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: {تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا} تم انہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے۔ [الفتح: 29] تو رمضان اور غیر رمضان میں عبادات؛ نعمتِ قرآن اور نعمتِ ایمان پر اللہ کا شکر ہیں۔

    قرآن کریم کا رمضان میں روح پر بڑا ہی گہرا اثر ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ روزے کی بدولت برائی کے اسباب کمزور پڑ جاتے ہیں اور نیکیوں کے اسباب قوی ہو جاتے ہیں، اسی طرح شیطان کا تسلط بھی کمزور ہو جاتا ہے؛ اس لیے رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔

    مسلمانوں کے حالات کی بہتری قرآن و سنت سے ہی ممکن ہے، دنیا جہان کے اول تا آخر تمام مفکرین، چاہے زندہ ہوں یا مردہ سب کے سب بھی کسی عالمی بحران کے حل کے لیے جمع ہو جائیں تو انہیں اس کا حل نہیں ملے گا، لیکن قرآن کریم نے ہر قسم کے بحران کا مبنی بر حق حل بیان کیا ہے؛ آپ اللہ تعالی کے بارے میں عقیدے کے مسائل ہی دیکھ لیں، اسما و صفات ، اور عبادت سے متعلق اللہ تعالی کے حقوق دیکھیں؛ ان میں آپ کو کتنے نظریات ملیں گے؟ انہیں شمار نہیں کیا جا سکتا ، تو ان تمام نظریات میں سے حق وہی ہے جو قرآن کریم نے کہہ دیا ہے۔

    اسی طرح پوری دنیا کے اقتصادی بحران نے بھی سب اقتصادی ماہرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اس کے متعلق بھی حق بات وہی ہے جو قرآن نے کہہ دی۔ بلکہ کچھ غیر مسلم ماہرین نے اسلامی شریعت سے جزوی فائدہ اٹھایا ہے۔

    اب یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ سب کے سب لوگ ہی مسلمان ہو جائیں، تاہم مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود کتاب و سنت پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوں، جس وقت لوگ مسلمانوں کو -چاہے دنیاوی امور میں ہی سہی -عملی میدان میں بطور نمونہ دیکھیں گے تو وہ بھی مسلمانوں سے استفادہ کریں گے۔

    قرآن کریم ہی در حقیقت امت اسلامیہ کا جسم اور جان ہے، امت اسلامیہ کی بقا اور خوشحالی کا ضامن ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا} یقیناً یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور نیک عمل کرنے والے مومنوں کو اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ [الإسراء: 9]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو ۔


    دوسرا خطبہ

    تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں وہی پہلی بار پیدا کرنے والا اور دوبارہ پیدا کرنے والا ہے، وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، میرے ہی رب کی بادشاہی ہے اور تعریفیں اسی کے لئے ہیں ، وہ جو چاہے فیصلے فرماتا ہے، اس کے فضل پر میں اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں اور اس سے مزید فضل کا سوالی ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وہی مولی اور قابل تعریف ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ-اس کے بندے اور صراط مستقیم کے رہنما رسول ہیں ، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی آل، اور ہدایت یافتہ صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    ہر حال میں تقوی اپناؤ تو معاملہ دنیاوی ہو یا اخروی سب میں تمہیں بہترین نتائج ملیں گے۔

    اللہ کے بندو!

    فرض روزوں میں تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے، روزے کی بدولت دنیاوی فوائد بھی ملتے ہیں، اہل دانش ان فوائد سے بہرہ ور ہیں۔

    تاہم روزوں کے ثمرات اور روزے داروں کو فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب انسان انہیں نیک عمل کے ذریعے پاکیزہ بنا دے، روزوں کو انہیں توڑنے والی اشیا سے محفوظ رکھے، گناہوں اور برائیوں جیسے کسی بھی ایسے کام سے بچے جن سے روزوں کے ثواب میں کمی آئے۔

    اے مسلم!

    جب تم روزہ رکھو تو تمہارے ساتھ تمہاری سماعت، بصارت، زبان اور اعضا کا بھی روزہ ہونا چاہیے انہیں حرام کاموں سے محفوظ کریں تا کہ آپ کا تزکیہ نفس ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ} اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال غارت نہ کرو۔ [محمد: 33]

    اور ایک حدیث میں ہے کہ: (جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اس دن بیہودہ باتیں نہ کرے اور نہ ہی برائی پر عمل کرے، پھر بھی کوئی اسے برا بھلا کہے تو کہہ دے: میرا روزہ ہے۔)

    آپ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: (روزہ ڈھال ہے، جب تک اسے توڑا نہ جائے) یعنی مطلب یہ ہے کہ جب تک غیبت اور چغلی جیسے گناہوں کے ذریعے اسے عیب زدہ نہ کیا جائے، تو روزہ گناہوں سے ڈھال ہے۔

    اے مسلم!

    رمضان میں اپنا محاسبہ کر لو؛ تا کہ روزِ قیامت تمہارا حساب قدرے آسان ہو جائے!

    تو کیا تم نمازیں اسی طرح ادا کرتے ہو جیسے تمہیں حکم دیا گیا ہے؟

    کیا تم نے روزے رکھ کر زکاۃ بھی ادا کی ہے؟

    کیا تم نے گناہوں سے توبہ کر لی ہے؟

    کیا تم نے سود خوری اور دیگر روزی کے حرام ذرائع چھوڑ دئیے ہیں؟

    کیا تم نے صلہ رحمی کی ہے؟

    کیا تم نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے؟

    کیا تم نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیا ہے؟

    کیا تم نے ہدایت یافتہ بننے کے لئے سیرت طیبہ پر چلنے کی مکمل کوشش کی ہے؟

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی بات کیا کرو [70] تو اللہ تعالی تمہارے اعمال کو بہتر کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مان لیا اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ [الأحزاب: 70، 71]

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو [الأحزاب: 56] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

    اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود پڑھو۔

    اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْراً۔

    یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! کفر اور کافروں سمیت شرک اور مشرکوں کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی تہہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری اطاعت گزاری کے لئے مدد فرما، یا اللہ! ہمیں اس ماہ کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرما اور ہماری مدد بھی فرما، یا اللہ! ہمیں اس ماہ میں ایسے قیام کرنے توفیق عطا فرما جیسے تجھے پسند ہو اور تیری رضا کا موجب ہو، یا اللہ! ہمیں لیلۃ القدر میں قیام نصیب فرما، یا اللہ! ہماری کی ہوئی نیکیاں بھی قبول فرما، یا اللہ! جن نیکیوں کو کرنے کی تو نے ہمیں توفیق دی اور ان پر معاونت بھی فرمائی یا اللہ! ہماری ان تمام نیکیوں کو قبول فرمانا، یا اللہ! ہماری ان نیکیوں کو روزِ قیامت تک کے لئے محفوظ فرمانا۔

    یا اللہ! ہمارے گناہ مٹا دے، یا اللہ! ہمارے گناہ مٹا دے، یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! ہمیں حق بات کو حق سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اتباعِ حق بھی عطا فرما، یا اللہ! ہمیں باطل کو باطل سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اس سے اجتناب کرنے کی قوت بھی عطا فرما۔

    یا اللہ! ہمیں ہمارے اپنے نفسوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ،شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، یا اللہ! انسانی اور جناتی تمام شیطانوں سے ہمیں محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان ،شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! ہمارے دلوں کو نفاق سے اور ہماری آنکھوں کو خیانت سے پاک فرما دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ہمارے اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما دے، یا اللہ! ان کی قبروں کو منور فرما دے، یا اللہ! انہیں اس مبارک مہینے میں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں نیکی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔

    یا اللہ! ہم جنت اور اس کے قریب کر دینے والے ہر قول و فعل کا تجھ سے سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جہنم اور اس سے قریب کر دینے والے ہر قول و فعل سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

    یا اللہ! حلال روزی کے ذریعے ہمیں حرام سے بے نیاز کر دے، تیری اطاعت کے ذریعے نافرمانی سے دور کر دے، اور تیرے فضل کے ذریعے تیرے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہمیں ہمارے علاقوں اور محلوں میں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

    یا اللہ! ہمارے ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی شریروں کے شر سے حفاظت فرما، یا اللہ! فاجروں کی مکاریوں سے حفاظت فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہمارے ملک کی جارحیت کرنے والوں کی جارحیت سے حفاظت فرما، ظالموں کے ظلم سے حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تیری مرضی کے مطابق ان کی رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلیے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہر نیکی کے کام کی انہیں توفیق دے، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کا غلبہ فرما، یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! انہیں ہمہ قسم کے بھلائی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحیح فیصلے کرنے میں کامیابی عطا فرما، یا اللہ! انہیں صحت اور عافیت سے نواز، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں ہمہ قسم کے بھلائی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اسلام کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں صحیح فیصلے کرنے میں کامیابی عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! مسلم معاشروں سے سنگین نوعیت کے فتنے ختم فرما دے، یا اللہ! ہمیں سنگین نوعیت کے فتنوں سے محفوظ فرما دے، یا اللہ! ہمیں اور ہمارے ملک کو نیز تمام اسلامی ممالک کو مہنگائی، وبائی امراض، سود خوری، زنا، زلزلوں ، آزمائشوں اور ظاہری یا باطنی سیاہ فتنوں سے محفوظ فرما دے۔

    یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما، یا اللہ! ان میں باہمی چپقلش کا خاتمہ فرما دے، یا رب العالمین! یا اللہ! سب مسلمانوں کو باہمی محبت کرنے والے اور تیری اطاعت گزاری اور حق بات پر ایک دوسرے کا تعاون کرنے والا بنا دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

    اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں