صلاۃ التراويح شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ

عبدالرحیم نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏مئی 11, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالرحیم

    عبدالرحیم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 22, 2012
    پیغامات:
    947
    صلاة التراويح


    مجدد عصر امام محمد ناصر الدین البانی رحمة اللہ علیہ
    (1914-1999ء)

    ترجمانی:
    ابوصادق عاشق على اثری
    (جنرل سکریٹری ابوالکلام آزاد اسلامک او یکیننگ سنٹر ، نئی دہلی)

    نظر ثانی و تقدیم:
    مولانا عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ
    (صدرعموی ابوالکلام آزاد اسلامک او یکینگ سینٹر، دہلی)
    خلاصہ رسالہ:
    اس رسالہ کے مباحث ہمارے تصور سے زیادہ طویل ہو گئے لیکن یہ ایسی چیز تھی جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا، کیونکہ تحقیق کے معاملہ میں منہج کا یہی تقاضا ہوتا ہے، اس لئے اخیر میں ہم نے مناسب سمجھا کہ محترم قارئین کی خدمت میں اس کا خلاصہ پیش کر دیں ، تا کہ یہ باتیں ان کے ذہن نشین ہو جائیں ، اور ان کے لئے ان پر عمل پیرا ہونا آسان ہو جائے ، ان شاء اللہ۔

    خلاصہ درج ذیل ہے:
    صلاة تراویح میں جماعت سنت ہے، بدعت نہیں ہے، اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے چند راتوں میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائی، البتہ اس کو اس خوف سے ترک کر دیا کہ آپ کی مداومت سے آپ کا کوئی امتی اسے فرض نہ سمجھ لے، اور آپ کا یہ اندیشہ شریعت کی تکمیل کے ساتھ آپ کی وفات پر ختم ہو گیا۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح گیارہ رکعت پڑھی، جس روایت میں 20 رکعت پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے وہ سخت ضعیف ہے۔

    گیارہ رکعت سے زیادہ تراویح پڑھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ گیارہ رکعت سے زیادہ پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو باطل کرنا اور آپ کے فرمان *صلوا كما رأيتموني أصلی* کو معطل کرنا لازم آتا ہے۔اسی وجہ سے فجر وغیرہ کی سنتوں میں زیادتی ناجائز ہے۔

    گیارہ رکعت سے زیادہ پڑ ھنے والوں کو ہم بدعتی اور گمراہ نہیں کہتے ہیں، بشرطیکہ ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واضح نہ ہوئی ہو اور وہ ایسا خواہشات نفس کی پیروی میں نہ کر رہے ہوں۔

    اگر گیارہ رکعت سے زیادہ کے جواز کا فتوی دیا جائے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شده تعداد کے افضل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ کیونکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے *خير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم* بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔

    عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کے سلسلہ میں کوئی نئی چیز نہیں ایجاد کی تھی، بلکہ انہوں نے صرف سنت جماعت کا احیاء کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شده تعداد پرمحافظت اور مداومت کی تھی ، اور جن روایتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تعداد کو زیادہ کر کے اسے 20 رکعت کر دیا تھا، ان میں سے کوئی سند صحیح نہیں ہے، نیز ان میں سے کوئی سند دوسری کو تقویت نہیں پہنچاتی ہے، اور امام شافعی اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے ان سب کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور بعض طرق کو امام نووی اور حافظ زیلعی رحمہما اللہ وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

    یہ زیادتی اگر ثابت بھی مانی جائے تو بھی آج کل اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ وہ خاص علت کی بنا پر تھی جو زائل اور ختم ہوگئی ، اور اس تعداد پر اصرار نے لوگوں کو عموماصلاة میں جلدی کرنے اور اس کے خشوع کو اور بسا اوقات اس کی صحت کو ختم کرنے تک پہنچا دیا ہے۔

    ہمارا گیارہ رکعت سے زیادہ کوقبول نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے شرعی کورٹوں کے ججوں کا ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے کے سلسلہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو
    نہ قبول کرنا ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ ہماری دلیل ان کی دلیل سے مقلدین کی نظر میں بھی بہتر ہے۔

    کسی بھی صحابی سے بیس رکعت تراویح پڑھنے کا ثبوت نہیں ہے، بلکہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا.

    اس تعداد (20رکعت) پراجماع نہیں ہے۔

    عدد مسنون ( گیارہ رکعت) کا التزام واجب ہے، کیونکہ رسول ﷺ اور عمر رضی اللہ عنہ سے یہی ثابت ہے، اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔

    اس تعداد ( گیارہ رکعت ) سے زائد کو امام مالک اور ابن العربی وغیرہ علماء نے منکر قرار دیا ہے۔

    اس زیادتی کے انکار سے ان ائمہ مجتہدین کا انکار لازم نہیں آتا ہے جنہوں نے
    اسے قبول کیا ہے، اسی طرح ان کی مخالفت سے ان کے علم و فہم میں طعنہ زنی یا علم و فہم میں ان کی مخالف کی برتری لازم نہیں آتی ہے۔

    اگر چہ گیارہ رکعت سے زائد جائز نہیں ہے لیکن اس سے کم جائز ہے، یہاں تک کہ ایک رکعت پر اکتفاء کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ سنت سے اس کا ثبوت ہے اور سلف نے ایسا کیا ہے۔

    جن کیفیات اور طریقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ وتر پڑھی ہے وہ سب جائز ہیں اور ان میں افضل اور اکثر ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا ہے۔

    صلاة تراویح کے سلسلہ میں یہ آخری بات ہے جسے اللہ تعالی نے مجھے جمع کرنے کی توفیق بخشی ہے، اگر اس میں آپ کو صواب نظر آئے تو یہ اللہ تبارک و تعالی کا فضل و کرم ہے، اور وہی فضل واحسان والا ہے، اور اگر کوئی غلطی اور کمی ملے تو کسی غلطی پر واقف ہونے والے ہر شخص سے میری گزارش ہے کہ وہ مجھے اس کی نشاندہی کرائے ، اللہ تبارک وتعالی اسے اس کا اچھا بدلہ دے گا۔
    وسبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك. وصلى الله على محمد النبي الأمي وعلى آله و صحبه وسلم.
    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,341
    شکریہ.بیس تراویح پڑھنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل کیسے معطل ہوا. یہ تو نفل عبادت ہے. جو کہ جائز ہے.
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,420
    گیارہ رکعت سے زائد کو ناجائز کہنا بھی جائز نہیں، چاہے بیس ہوں یا چالیس، البتہ اس میں سے سنت گیارہ ہی سمجھی جائیں گی اور باقی نوافل!
     
  4. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    420
    سوال یہ ہے کہ آیا تروایح گیارہ رکعات ہیں یا بیس ؟ کیونکہ سنت تو گیارہ رکعت ہی ہیں ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی بھی اپنی کتاب " القیام والتراویح " میں اسے گیارہ رکعت ہی قرار دیتے ہیں

    جواب:
    ہمارے خیال میں مسلمان کو اجتھادی مسائل میں اس طرح کا معاملہ نہيں کرنا چاہیے کہ وہ اہل علم کے مابین اجتھادی مسائل کو ایک حساس مسئلہ بنا کراسے آپس میں تفرقہ اورمسلمانوں کے مابین فتنہ کا باعث بناتا پھرے ۔

    شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی دس رکعت ادا کرنے کےبعد بیٹھ کروترکا انتظار کرنے اورامام کے ساتھ نماز تراویح مکمل نہ والے شخص کے بارہ میں کہتے ہیں کہ :

    ہمیں بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں لوگ ایسے مسائل میں اختلاف کرنے لگے ہیں جن میں اختلاف جائز ہے ، بلکہ اس اختلاف کو وہ دلوں میں نفرت اوراختلاف کا سبب بنانے لگے ہیں ، حالانکہ امت میں اختلاف تو صحابہ کرام کے دور سے موجود ہے لیکن اس کے باوجود ان کے دلوں میں اختلاف پیدا نہیں ہوا بلکہ ان سب کے دل متفق تھے ۔

    اس لیے خاص کرنوجوانوں اورہرملتزم شخص پر واجب ہے کہ وہ یکمشت ہوں اورسب ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ ان کے دشمن بہت زيادہ ہیں جوان کے خلاف تدبیروں میں مصروف ہیں ۔

    دیکھیں : الشرح الممتع ( 4 / 225 ) ۔

    اس مسئلہ میں دونوں گروہ ہی غلو کا شکار ہیں ، پہلے گروہ نے گیارہ رکعت سے زيادہ ادا کرنے کومنکر اوربدعت قرار دیا ہے اوردوسرا گروہ صرف گیارہ رکعت ادا کرنے والوں کو اجماع کا مخالف قرار دیتے ہیں ۔

    ہم دیکھتے ہیں کہ شيخ الافاضل ابن ‏عثيمین رحمہ اللہ تعالی اس کی کیا توجیہ کرتے ہیں :

    ان کا کہنا ہے کہ :

    ہم کہیں گے کہ : ہمیں افراط وتفریط اورغلو زيب نہيں دیتا ، کیونکہ بعض لوگ تراویح کی تعداد میں سنت پر التزام کرنے میں غلو سے کام لیتے اورکہتےہیں : سنت میں موجود عدد سے زيادہ پڑھنی جائز نہيں ، اوروہ گیارہ رکعت سے زيادہ ادا کرنے والوں کوگنہگار اورنافرمان قرار دیتے اور ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں ۔

    بلاشک وشبہ یہ غلط ہے ، اسے گنہگار اورنافرمان کیسے قرار دیا جاسکتا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز کے بارہ میں سوال کيا گيا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ( دو دو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر تعداد کی تحدید نہیں کی ، اوریہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھااسے تعداد کا علم نہیں تھا ، کیونکہ جسے نماز کی کیفیت کا ہی علم نہ ہواس کاعدد سے جاہل ہونا زيادہ اولی ہے ، اورپھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے بھی نہیں تھا کہ ہم یہ کہیں کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہونے والے ہرکام کا علم ہو ۔

    لھذا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تعداد کی تحدید کیے بغیر نماز کی کیفیت بیان کی ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں وسعت ہے ، اورانسان کے لیے جائزہے کہ وہ سو رکعت پڑھنے کے بعد وتر ادا کرے ۔

    اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ :

    ( نمازاس طرح ادا کرو جس طرح مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ) ۔

    یہ حدیث عموم پر محمول نہيں حتی کہ ان کے ہاں بھی یہ عموم پر نہیں ہے ، اسی لیے وہ بھی انسان پر یہ واجب قرار نہیں دیتے کہ وہ کبھی پانچ اورکبھی سات اورکبھی نو وتر ادا کریں ، اگر ہم اس حدیث کے عموم کو لیں تو ہم یہ کہيں گے کہ :

    کبھی پانچ کبھی سات اور کبھی نو وتر ادا کرنے واجب ہیں ، لیکن ایسا نہیں بلکہ اس حدیث " نماز اس طرح ادا کرو جس طرح مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے" کا معنی اورمراد یہ ہے کہ نماز کی کیفیت وہی رکھو لیکن تعداد کے بارہ میں نہیں لیکن جہاں پر تعداد کی تحدید بالنص موجود ہو ۔

    بہر حال انسان کو چاہیے کہ وہ کسی وسعت والے معاملے میں لوگوں پر تشدد سے کام نہ لے ، حتی کہ ہم نے اس مسئلہ میں تشدد کرنے والے بھائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ گیارہ رکعت سے زيادہ آئمہ کو بدعتی قرار دیتے اورمسجد نے نکل جاتے ہیں جس کے باعث وہ اس اجر سے محروم ہوجاتے ہیں جس کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ :

    جو بھی امام کے ساتھ اس کے جانے تک قیام کرے اسے رات بھر قیام کا اجروثواب حاصل ہوتا ہے
    سنن ترمذی حدیث نمبر ( 806 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 646 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    کچھ لوگ دس رکعت ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے ہیں جس کی بنا پر صفوں میں خلا پیدا ہوتا اورصفیں ٹوٹ جاتی ہیں ، اوربعض اوقات تو یہ لوگ باتیں بھی کرتے ہیں جس کی بنا پر نمازی تنگ ہوتے ہیں ۔

    ہمیں اس میں شک نہيں کہ ہمارے یہ بھائي خیر اوربھلائي ہی چاہتے ہيں اوروہ مجتھد ہیں لیکن ہر مجتھد کا اجتھاد صحیح ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات وہ اجتھاد میں غلطی بھی کربیٹھتا ہے ۔

    اوردوسرا گروہ : سنت کا التزام کرنے والوں کے برعکس یہ گروہ گیارہ رکعت ادا کرنے والوں کوغلط قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اجماع کی مخالفت کررہے ہیں ، اوردلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہيں :

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    جوشخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اورتمام مومنوں کی راہ چھوڑکر چلے ، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کردیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہوا اوردوزخ میں ڈال دیں گے ، وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے النساء ( 115 )

    آپ سے پہلے جتنے بھی تھے انہيں تئيس رکعت کے علاوہ کسی کا علم نہیں تھا ، اوروہ انہیں بہت زیادہ منکر قرار دیتے ہیں ، لھذا یہ گروہ بھی خطاء اورغلطی پر ہے ۔

    دیکھیں الشرح الممتع ( 4 / 73 - 75 ) ۔

    نماز تراویح میں آٹھ رکعت سے زيادہ کے عدم جواز کے قائلین کے پاس مندرجہ ذيل حدیث دلیل ہے :

    ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں میں نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ کی رمضان میں نماز کیسی تھی ؟

    توعائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کہنے لگيں :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اورغیررمضان میں گیارہ رکعت سے زيادہ ادا نہيں کرتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاررکعت ادا کرتے تھے آپ ان کی طول اورحسن کےبارہ میں کچھ نہ پوچھیں ، پھر چار رکعت ادا کرتے آپ ان کے حسن اورطول کے متعلق نہ پوچھیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت ادا کرتے ، تومیں نے کہا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وترادا کرنے سے قبل سوتے ہیں ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل نہيں سوتا ۔


    صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1909 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 738 )

    ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث رمضان اورغیررمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی ہمیشگی پر دلالت کرتی ہے ۔

    علماء کرام نے اس حدیث کے استدلال کورد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے اور فعل وجوب پر دلالت نہیں کرتا ۔

    رات کی نماز کی رکعات کی تعداد مقید نہ ہونے کے دلائل میں سب سے واضح دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے :

    ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارہ میں سوال کیا تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    رات کی نماز دو دو رکعت ہے اورجب تم میں سےکوئي ایک صبح ہونے خدشہ محسوس کرے تو اپنی نماز کے لیے ایک رکعت وتر ادا کرلے
    صحیح بخاری حدیث نمبر ( 946 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 749 ) ۔

    اس مسئلہ میں علماء کرام کے اقوال پر نظر دوڑانے سے آپ کو یہ علم ہوگا کہ اس میں وسعت ہے اورگیارہ رکعت سے زيادہ ادا کرنے میں کوئي حرج نہيں ، ذیل میں ہم معتبرعلماء کرام کے اقوال پیش کرتے ہیں :

    آئمہ احناف میں سے امام سرخسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ہمارے ہاں وتر کے علاوہ بیس رکعات ہیں ۔

    دیکھیں : المبسوط ( 2 / 145 ) ۔

    اورابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ابوعبداللہ ( یعنی امام احمد ) رحمہ اللہ تعالی کے ہاں بیس رکعت ہی مختار ہيں ، امام ثوری ، ابوحنیفہ ، امام شافعی ، کا بھی یہی کہنا ہے ، اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں کہ چھتیس رکعت ہیں ۔

    دیکھیں : المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 1 / 457 ) ۔

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    علماء کرام کے اجماع میں نماز تراویح سنت ہیں ، اورہمارے مذہب میں یہ دس سلام م کے ساتھ دو دو رکعت کرکے بیس رکعات ہیں ، ان کی ادائيگي باجماعت اورانفرادی دونوں صورتوں میں ہی جائز ہیں ۔

    دیکھیں : المجموع للنووی ( 4 / 31 ) ۔

    نماز تراویح کی رکعات میں مذاہب اربعہ یہی ہے اورسب کا یہی کہنا ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت سے زيادہ ہے ،اورگيارہ رکعت سے زيادہ کے مندرجہ ذیل اسباب ہوسکتے ہیں :

    1 - ان کے خیال میں حدیث عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا اس تعداد کی تحدید کی متقاضی نہيں ہے ۔

    2 - بہت سے سلف رحمہ اللہ تعالی سے گیارہ رکعات سے زيادہ ثابت ہیں

    دیکھیں : المغنی لابن قدامہ ( 2 / 604 ) اورالمجموع ( 4 / 32 )

    3 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات ادا کرتے تھے اوریہ رکعات بہت لمبی لمبی ہوتی جو کہ رات کے اکثر حصہ میں پڑھی جاتی تھیں ، بلکہ جن راتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز تراویح کی جماعت کروائي تھی اتنی لمبی کردیں کہ صحابہ کرام طلوع فجر سے صرف اتنا پہلے فارغ ہوئے کہ انہيں خدشہ پیدا ہوگيا کہ ان کی سحری ہی نہ رہ جائے ۔

    صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز ادا کرنا پسند کرتے تھے اوراسے لمبا نہيں کرتے تھے ، توعلماء کرام نے کا خیال کیا کہ جب امام مقتدیوں کو اس حدتک نماز لمبی پڑھائے تو انہيں مشقت ہوگی ، اورہوسکتا ہے کہ وہ اس سے نفرت ہی کرنے لگیں ، لھذا علماء کرام نے یہ کہا کہ امام کو رکعات زيادہ کرلینی چاہیے اور قرآت کم کرے ۔

    حاصل یہ ہوا کہ :

    جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہی گیارہ رکعت ادا کی اورسنت پر عمل کیا تو یہ بہتر اوراچھا اورسنت پر عمل ہے ، اورجس نے قرآت ہلکی کرکے رکعات زيادہ کرلیں اس نے بھی اچھا کیا لیکن سنت پر عمل نہيں ہوا ، اس لیے ایک دوسرے پر اعتراض نہيں کرنا چاہیے ۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    اگرکوئي نماز تراویح امام ابوحنیفہ ، امام شافعی ، اورامام احمد رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق بیس رکعت یا امام مالک رحمہ اللہ تعالی کے مسلک کے مطابق چھتیس رکعات ادا کرے یا گیارہ رکعت ادا کرے تو اس نے اچھا کیا ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے عدم توقیف کی بنا پر تصریح کی ہے ، تورکعات کی کمی اورزيادتی قیام لمبا یا چھوٹا ہونے کے اعتبار سے ہوگي ۔

    دیکھیں : الاختیارات ( 64 ) ۔

    امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ان صحیح اورحسن احادیث جن میں رمضان المبارک کے قیام کی ترغیب وارد ہے ان میں تعداد کی تخصیص نہیں ، اورنہ ہی یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح بیس رکعت ادا کی تھیں ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی راتیں بھی نماز تروایح کی جماعت کروائی ان میں رکعات کی تعداد بیان نہیں کی گئي ، اورچوتھی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز تراویح سے اس لیے پیچھے رہے کہ کہيں یہ فرض نہ ہوجائيں اورلوگ اس کی ادائيگي سے عاجز ہوجائيں ۔

    ابن حجر ھیثمی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    یہ صحیح نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےنماز تراویح بیس رکعات ادا کی تھیں ، اورجویہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس رکعت ادا کیا کرتے تھے "

    یہ حدیث شدید قسم کی ضعیف ہے ۔

    دیکھیں : الموسوعۃ الفقھیۃ ( 27 / 142 - 145 ) ۔

    اس کے بعد ہم سائل سے یہ کہيں گے کہ آپ نماز تراویح کی بیس رکعات سے تعجب نہ کریں ، کیونکہ کئي نسلوں سے آئمہ کرام بھی گزرے وہ بھی ایسا ہی کرتے رہے اور ہر ایک میں خیر وبھلائي ہے ۔ سنت وہی ہے جواوپر بیان کیا چکا ہے ۔

    واللہ اعلم .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    547
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں