خطبہ حرم مکی "ہم رمضان سے کیسے مستفید ہوں"،5 رمضان 1440 معالي الشيخ عبدالرحمن السديس حفظه الله

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 13, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    13

    معالی الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس (حفظہ اللہ تعالی) نے مسجد حرام میں 5 رمضان 1440ھ کا خطبہ ''ہم رمضان سے کیسے مستفید ہوئیں'' کے عنوان پر ارشاد فرمایا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ رمضان نیکیوں کا موسم ہے اس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں ہوتی ہیں ، جنت کے دروازے کھول اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتی ہیں ، نیز اللہ کی طرف سے پکارنے والا پکارتا ہے ، ائے خیر کے چاہنے والے آگے بڑھ اور ائے برائی چاہنے والے رک جا، اور اللہ کی طرف سے ہر رات لوگوں کو جہنم سے آزاد کی جاتا ہے ۔ چنانچہ اس ماہ مبارک سے مستفید ہوئیں ، کثرت سے تلاوت قرآن اور اس پر تدبر، ذکر اذکار، صلہ رحمی اور نیک اعمال کریں ۔ نیز اعضاء ، دل ، زبان ، آنکھوں ، کانوں، ہاتھوں اور پاؤں کو اللہ کی فرما برداری میں لگادیں۔
    فرہاد احمد سالم ( مکہ مکرمہ)
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے کہ اس نے ہمیں ایسے موسم سے نوازا جس کا تذکرہ قلب و جان بھی کرتے ہیں، نیز خیالات اور زبانوں پر ان کے چرچے رہتے ہیں۔
    مسلسل بڑھنے والے اللہ کے فضل پر بار بار اس کی حمد ، اور ہر وقت اس کا شکر ہے ، ہم اس کا اجرو ثواب قیامت کے دن چاہتے ہیں ۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس نے روزہ داروں کے لئے دنیا ور آخرت میں بے پناہ اجر رکھا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ آپ ﷺ سب روزے داروں اور قیام کرنے والوں میں سے افضل ترین ہیں اسی لیے آپ نے بلند ترین مقام پا لیا۔ آپ ﷺ کے طریقے پر چلنے والا بلند اور قابل فخر مقام کا مستحق ہو گا۔
    آپ ﷺ پر آپ کی آل اولاد ، اور بلند مقام پر پہنچنے والے آپ کے صحابہ ، نیز راز افشا ہونے کے دن تک بہترین طریقے سے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر ڈھیروں برکتیں اور سلامتی نازل ہو۔
    حمد و صلاۃ کے بعد:
    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرتے ہوئے اخلاص و تقوی کے ذریعے ماہ قرآن میں اپنے کردار اور گفتار کو بہترین بنا لو، نیز جلدی توبہ کرو اس سے پہلے کہ پیشانی سے پکڑ لیا جائے اور کوئی بھاگنے کی جگہ نہ ملے۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [البقرة: 183]
    اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
    تقوی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھک جاؤ کہ یہ ہی آخرت کا توشہ ہے ، نیز کج روی کو چھوڑ دو ؛یہ ہی تمہارے لئے کافی ہے ۔ وہیں پر رہو جہاں ہدایت ،ورع، اور تقوی تمہیں میسر آئے۔
    مسلمانو ! بخشش کا یہ مہینہ اپنے جمال و جلال اور تمام تر خوبیوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، اس مبارک ماہ کی فضیلت واضح اور یہ بھلائیوں سے بھر پور ہے ۔ اس کی برکت سے صبح روشن اور شہر اس کی بکھرتی خوشبو سے مہک گئے ہیں ۔ اس مہینے کے ستارے آسمانوں پر اندھیرے میں جگمگا رہے ہیں ، یہ ایک بار پھر شان و شوکت کے ساتھ لوٹ آئے ہیں ، ان کا دوبارہ آنا قابل ستائش ہے تاکہ ہماری پیاسی روحیں نگہت اور رحمت سے چھلک جائیں ، اور عطا کرنے والے رب کا قرب پائیں۔
    اللہ اکبر! ماہ رمضان اللہ تعالی کی عظیم نوازش ہے ، رمضان مسلمان کی زندگی کو ذکر اور نیک اعمال سے بھر دیتا ہے، اس میں زبان قرآن کی تلاوت کرتی ہے اور روح روزہ اور قیام سے خوش ہوتی ہے۔
    یہ مہینہ دلوں میں بھلائی کے سوئے ہوئے جذبات کو جگانے آیا ہے، گناہوں اور برائیوں کو بند کرنے آیا ہے۔ یہ مہینہ بھلائی اور نیکی کے احساس اور مفہوم کو دلوں میں نکھارنے آیا ہے۔
    ماہ رمضان کا مقصد خوشی اور مسرت پھیلانا ہے جس کے نتیجے میں پریشان نفوس زندگی کے غموں سے آزاد ہو جاتے ہیں اور مادیت کے پریشان کن پھندوں سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔
    اس ماہ میں کان سنتے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، روحانیت پیدا ہوتی ہے اور دل گڑگڑاتے ہیں، تو قبولیت کا دریا بہہ رہا ہے اور بھلائی کا سیلاب امنڈ آیا ہے ، نیز شیطان کو جکڑ دیا گیا ہے۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنْ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ
    ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ ، اور شر کے طلب گار! رُک جا اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں اور ایسا ہر رات کو ہوتا ہے ۔
    روزے آئے تو ساری بھلائی آ گئی ، تلاوت قرآن ، حمد اور ذکر کا سماں بندھ گیا، انسان کے کردار اور گفتار میں روانی آ گئی کہ دن میں روزہ تو رات میں تراویح کی پابندی کرنے لگا۔
    مسلم اقوام!
    سچی توبہ کر کے اور فضول چیزوں سے بچ کر اس ماہ کا بہترین استقبال کریں ۔
    اے میری قوم! اس مہینے کا متقی بن کر اور سچی توبہ سے استقبال کرو ؛ اس کام میں تاخیر گمراہی ہے ۔
    اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کرو، ؛کیونکہ گناہ تو تباہی ہے، کتنی ہی امتیں اس کی وجہ سے ذلیل ہوئیں اور بیماریوں نے انہیں آ لیا۔
    اللہ کے بندو! روزہ مسلمان کے لئے گناہوں کے مقابلے میں ڈھال ، نجاستوں اور گندگی میں لت پت ہونے سے بچانے کا ہتھیار ہے، نیز جہنم کے شعلوں سے بچانی والی ڈھال ہے۔
    سنو! روزے کو کمی اور نقص سے بچانے لے لئے اپنے اعضاء اور بدن کو لگام دو، نیز تقوی اور ورع کو اپنا نگہبان بنا لو۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ،
    روزہ ڈھال ہے ، آدمی اس سے اپنے آپ کو آگ سے بچاتا ہے۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
    یہ تب ہی ممکن ہو گا جب اعضائے بدن کو تباہ کن اور ہلاکت خیز اعمال سے بچایا جائے گا، زبان کو لغو اور فضول باتوں سے روکا جائے ، گفتگو کو زبان کے نشتروں سے ، نگاہوں کو حرام دیکھنے سے اور پاؤں کو برائی کی جگہ جانے سے روکا جائے گا۔ نیز معافی پھیلائیں، تکلیف دینے اور بخل سے بچیں، اسی طرح صاف اور خشیت والے دل، سچی توبہ ، اخلاص اور توحید سے بھرے سینے کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑائیں
    اے روزہ دار! جس نے تقوی کے لئے کھانا پینا چھوڑا اور بھوک کی شدت برداشت کی قیامت میں اس کے لئے بھلائی اور بخشش سے بھری خوشخبری ہے ۔
    نبی ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ
    ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بعض روزے داروں کو روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور بعض قیام کرنے والوں کو قیام سے بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ابن ماجہ
    اللہ کے بندو!
    روزے کے عظیم مقاصد اس کے علاوہ کیا ہیں، انسانوں کی تہذیب و تربیت ہو، انہیں برائیوں سے بچایا جائے اور ان کا تزکیہ کیا جائے۔ اور روزے کا اعلی ترین مقصد اور ہدف کیا ہے؟ سنو ! یہ تقوی ہے۔
    ابن قیم (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں روزہ متقی کی لگام، مجاہد کی ڈھال اور صالحین و مقربین کی ریاضت ہے، نیز تمام عبادات میں سے صرف روزہ اللہ کے لئے خاص ہے، روزہ اللہ اور بندے کے درمیان خفیہ ہوتا ہے کہ اسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
    امام کمال بن ھمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بے شک روزہ برائی کی طرف اکسانے والے نفس کو کمزور کرتا اور تمام اعضاء سے فضول کاموں کے رجحان کو توڑتا ہے ، ماہ رمضان وہ ہے کہ جس میں میں قرآن اتارا گیا ۔
    روزے دار اور صاحب قرآن امت! رمضان ماہِ قرآن ہے، جبرئیل (علیہ السلام) اس ماہ میں نبی ﷺ کے قرآن کریم کی دہرائی فرماتے۔ بہ سند صحیح ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ "، قَالَ : " فَيُشَفَّعَانِ ".
    سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور دیگر خواہشات سے روکے رکھا، پس تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اُدھر قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کو سونے نہ دیا، پس تو اس کے حق میری سفارش قبول فرما۔ سو ان کی سفارش قبول کر لی جائے گی۔ امام احمد اور طبرانی نے صحیح سند ست روایت کیا ہے
    کیا ہی عظیم مہینہ ہے کہ نیکی کے مواقع بہت زیادہ ہیں، بارگاہ الہی کی طرف کھنچنے والوں کے دل سنتوں کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں ۔
    ابن تیمیہ (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں: جو شخص طلبِ ہدایت کے لئے قرآن پر غور کرے گا اس کے لئے ہدایت کا راستہ واضح ہو جائے گا۔
    قرآن پر غور و تدبر کرو اگر ہدایت کے متلاشی ہو اس لئے کہ خیر قرآن پر تدبر میں ہی ہے۔
    مسلمانو! اور روزے دارو!
    یہ بابرکت ایام محاسبہ نفس اور اصلاح عمل کا موقع ہیں کیونکہ اس ماہ میں بھلائیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر نیکی کرنے کا سبق ملتا ہے۔
    تو کیا امت نے اس روشن صورت کو باقی رکھنے کی کوشش کی کہ جس میں میانہ روی اور اعتدال اس دین کی امتیازی صفت ہے اور یہ دین غلو ،انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے؟
    اور کیا امت ہر اس چیز کے خلاف کھڑی ہے جو دنیا کے امن و استحکام ، اقوام عالم کے ساتھ رواداری ، اور بقائے باہمی کے فروغ کو بگاڑ دے؟ اسی طرح نسل پرستی اور گروہ بندی کو چھوڑ دے؟
    اور کیا امت پور ے جذبے کے ساتھ ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہے جو ان کے عقائد ہلانا چاہتے ہیں، محکم اصولوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، نیز مسلمات اور قطعیات پر زبان درازی کرتے ہیں؟
    روح کے نکلنے سے پہلے اللہ کے فضل کی طرف تیزی سے بڑھیں، اس ماہ کو نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، ایک دوسرے پر رحم کریں اور درگزر سے کام لیں ، ایک دوسرے کو معاف کریں ، آپس میں صلح کریں، صلہ رحمی کریں ، اور وقت کی حفاظت کریں، نیز دلوں کا مکمل خیال رکھیں اور روزے کے مقاصد پورے کریں۔
    رمضان دین اسلام کے ان بلند مفاہیم کو عملی طور پر سمجھنے کا موقع ہے۔ اس عظیم مہم کو پورا کرنے میں خاندان، مسجد ، اسکول، یونیورسٹی ،معاشرہ، ذرائع ابلاغ اور جدید رابطے کے چینلز سب ہی شریک ہوتے ہیں۔
    چنانچہ اس کا بدلہ جنت میں بلند درجات کے علاوہ کیا ہو گا کہ جہاں باب ریان داخلے کے لئے کھلا ہے ، روزہ داروں کے لئے خوشخبری ہے اور قیام کرنے والوں کے لئے بشارت ہے۔
    رمضان امانت دار، تحفظ اور تقوی کا مہینہ ہے اس میں قبولیت کی چاہت رکھنے والے کے لئے کامیابی ہے، خوشخبری ہے اس کے لئے کہ جس کا روزہ درست ہوا اور اس نے صبح شام اللہ سے دعا کی ۔
    اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ اس نے یہ بابرکت ماہ نصیب فرمایا، اور پھر اس کا شکر اس طرح ادا کریں کہ زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اللہ کے بندوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں:
    {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ } [البقرة: 185]
    رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔ لہذا تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پالے اس پر لازم ہے کہ پورا مہینہ روزے رکھے۔ ہاں اگر کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرسکتا ہے (کیونکہ) اللہ تمہارے ساتھ نرمی کا برتاؤ چاہتا ہے سختی کا نہیں چاہتا۔ (بعد میں روزہ رکھ لینے کی رخصت اس لیے ہے) کہ تم مہینہ بھر کے دنوں کی گنتی پوری کرلو۔ اور جو اللہ نے تمہیں ہدایت دی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور اس لیے بھی کہ تم اس کے شکرگزار بنو۔
    اللہ تعالی میرے اور آپ کے لئے قرآن و سنت کو بابرکت بنائے، اور اس میں موجود آیات اور حکمتوں سے نفع دے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لئے اور آپ سب کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں اور توبہ کریں، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفات بلند قدردان اللہ کے لئے ہیں ، اس نے روزہ داروں کے لئے بہترین بدلہ رکھ کر ان کو تقوی اور خوشی سے نوازا۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس گواہی کے بدلے ہم قیامت کے دن نجات کی امید رکھتے ہیں ۔
    میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ آپ ﷺ روزہ رکھنے اور اللہ کی دعوت دینے والوں میں سب سے افضل تھے ، آپ ﷺ نے دعوت دی یہاں تک کہ حق واضح اور عام ہو گیا۔
    آپ ﷺ پر آپ کی آل اور ہدایت کی طرف بلانے والے روشن ستارےیعنی صحابہ کرام پر درود اور بہت زیادہ سلامتی نازل ہو۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    اللہ کے بندو قول و فعل میں تقوی اختیار کرو، نیز صبح و شام اس کے سامنے جھکنے اور اس کا حکم ماننے میں بھی تقوی اختیار کرو، تمہیں عزت و مقام اور سیادت ملے گی۔
    ایمانی بھائیو!
    اللہ آپ کی حفاظت کرے روزے کے اس مہینے کو نیکی میں آگے بڑھنے کا مہینہ بنائیں۔ کیا ہی اچھی بات ہو گی کہ اس ماہ کے آغاز سے ہی بہترین تیاری کریں، شروعات ہی اعلی کر لیں، توبہ کی تجدید کریں، کثرت تلاوت اور زیادہ سے زیادہ قرآن پر تدبر کا اہتمام کریں۔
    اسی طرح اس ماہ کی ابتدا ایک دوسرے کو معاف کر کے ، حسد اور کینہ چھوڑ کے، سینہ اور دل کی صفائی سے کریں، اور دو متحارب گروپوں کے درمیان جنگ بندی سے ہو۔ نیز مسلمانوں کے باہمی اتحاد اور آپس میں حسن ظن کے ساتھ ہو، ایسے ہی صدقہ و احسان، رفاہی کاموں ، خاندان پر توجہ اور صلہ رحمی سے ہو۔
    اسی طرح آغاز رمضان سے ہی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر توجہ دیں، ان کی بہتر تربیت کریں۔ اتحاد امت پیدا کریں، اختلاف اور تفرقہ سے دور رہیں، اور اعتدال اور میانہ روی کو مستحکم کریں۔
    ساتھ ساتھ امن و سلامتی ، اتحاد اور قومی یکجہتی کو مضبوط کریں، نیز قوم اور حکمرانوں کے ہم رکاب رہیں، حسن خاتمہ ، جنت کے حصول کی کوشش اور جہنم سے بچنے کی کاوش کریں۔
    اسی طرح وقت کی حفاظت کریں۔ نیز سوشل میڈیا ، سیٹلائٹ چینلز اور جدید میڈیا پر اخلاقی اقدار کا خیال رکھیں، جدید ٹیکنالوجی کو دینی اور ملکی مفاد کے لئے استعمال کریں، جھوٹے پراپیگنڈوں اور افواہوں سے دور رہیں۔
    اللہ کے بندو!
    ماہ رمضان اور بیت اللہ میں شرف زمان اور مکان کی جو سعادت آپ کو حاصل ہوئی ہے اس پر اللہ کے شکر میں اپنی زبان کو تر رکھیں ۔ آپ کے لئے امن و سلامتی سے بھر پور کئی طرح کی خدمات کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ سب سے پہلے اللہ کے فضل و کرم اور پھر اس ملک کے حکمرانوں کی خصوصی توجہ اور کاوش سے ممکن ہوا، ( اللہ ان کاوشوں کو ان کی حسانات میں شامل فرمائے)۔
    اللہ کے بندو!
    سیکورٹی اہل کاروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیے ، ہمارے سکیورٹی اہل کاروں اور سرحدوں پر ڈٹے جوانوں کی ہم قدر کرتے ہیں وہ ہمارے سر کا تاج ہیں ۔ وہ ہمارے لئے باعث فخر اور اعزاز ہیں۔
    بابرکت مہینے میں حرم مکی کی فضاؤں سے ان کے لئے پاکیزہ دعائیں ہیں۔

    اللہ کے بندو! اپنے لئے اپنے اہل و عیال ، حکمرانوں ، وطن اور امت مسلمہ کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا کریں۔
    اللہ تعالی سے بار بار مانگیں ، اسے پکاریں اور خوب گڑگڑا کر مانگیں کہ وہ آپ کے کمزور بے وطن مصیبت زدہ قیدی بھائیوں کی ہر جگہ مدد فرمائے اور ان کی پریشانیوں اور غموں کو دور فرمائے نیز ان کی مصیبتوں کو ختم فرمائے۔یقینا وہ سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,420
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں