خطبہ حرم مکی "رمضان میں بھلائی کے کاموں سے متعلق چند نصیحتیں" 12 رمضان المبارک 1440هـ

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مئی 19, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    17

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی (حفظہ اللہ تعالی) نے مسجد حرام میں 12 رمضان 1440 ھ کا خطبہ ''رمضان میں بھلائی کے کاموں سے متعلق چند نصیحتیں '' کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ نیکی کے موسم بندوں پر اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں ایک نعمت ہیں، ان ہی میں ایک موسم ماہ رمضان ہے کہ اس میں ہر رات ایک پکارنے والا پکارتا ہے! ''اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اور اے برائی کے رسیا رک جا''
    پھر شیخ نے اس عظیم موسم یعنی ماہ رمضان میں نیکیوں میں آگے بڑھنے کے حوالے سے چند نصیحتیں کیں جن میں (1) ہمیشہ نیکی کرنے کا سوچیں، وہ اس طرح کہ نیکی کی نیت اور اسے کرنے کا پختہ عزم کریں۔(2) آپ کو یقین ہو کہ نیکی قیامت کے دن کام آنے والا حقیقی زاد راہ ہے۔(3) نیک آدمی کی خصوصاً ان بابرکت بہاروں میں صحبت اختیار کریں۔(4) خیر کی کنجی اور شر کے سامنے دیوار بن جائیں۔(5) نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والے بن جائیں تاکہ ڈھیروں اجر پائیں۔(6) اللہ تعالی سے دین پر ثابت قدمی مانگیں۔(7) نیکی صرف اللہ کی رضا کے لئے کریں۔
    فرہاد احمد سالم ( مکہ مکرمہ)
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ!
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں ، جو نیکیوں کی بہاروں سے اپنے بندوں کو نوازتا ہے تا کہ وہ ان میں اللہ کا قرب حاصل کریں اور اللہ ان کی مغفرت فرما دے اور ڈھیروں اجر عطا فرمائے۔ میں اللہ پاک کی حمد بیان کرتا اور شکر ادا کرتا ہوں ، وہ جسے چاہتا ہے توفیق دیتا ہے تو وہ اس کی اطاعت کرتا اور اس سے ڈرتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے رسوا کرتا ہے تو وہ اس کی حکم عدولی اور نافرمانی میں ملوث ہو جاتا ہے ۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ سب سے بڑا اور بلند ہے ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : نیکیوں میں تاخیر مت کرو۔
    اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل، صحابہ ، اور اچھے طریقے سے قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    اللہ کے بندو تقوی اختیار کرو، کیونکہ تقوی بندوں کے لئے اللہ کی وصیت، اور قیامت کے دن متقین کا زاد راہ ہے ۔
    {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]
    اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہیں آنی چاہیے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
    مسلمانو!
    رمضان کی ہر رات اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے بھلائی کا اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے۔
    يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ
    اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ ، اور شر کے رسیا! رُک جا۔
    وہی بار بار نصیحت کرنے والا، ہمیشہ یاد دہانی کرانے والاا اور تسلسل کے ساتھ دعوت دینے والا ہے ۔وہ نیک کام اور اس کے فوائد کی دعوت دیتا اور برے کام اور اس کے نقصانات سے روکتا ہے۔
    ایسا کیوں نہ ہو! مسلمان سے تو آخری سانس تک نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے اور انہیں غنیمت جاننے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [الحج: 77]
    اے لوگو! جو ایمان لائے ہو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو سکو۔
    ہمارے لئے کتنی ہی بھلی بات ہے کہ ہم ان گنے ہوئے دنو ں میں اپنے رب کی رحمت سے لطف اندوز ، اس کی سخاوت سے فیض یاب اور اس کے احسان کی وسعت سے مستفید ہوں۔
    اللہ کے بندو یہاں پر اس عظیم بہار میں بھلائی کے کاموں سے متعلق چند رہنما، قواعد اور نصیحتیں پیش خدمت ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ انہیں ہمارے لئے مفید بنا دے۔
    پہلی نصیحت:
    ہمیشہ نیکی کرنے کا سوچیں، وہ اس طرح کہ نیکی کی نیت اور اسے کرنے کا پختہ عزم کریں ، پھر اگر اللہ تعالی تمہارے لئے آسانی کرے اور اس کے کرنے پر تمہاری مدد کرے، تو یقیناً جس کی تمہیں رغبت تھی اور تم نے کوشش کی تم اس کا اجر پا لو گے ۔ اور اگر تمہارے لئے اس پر عمل ممکن نہ ہوا، عمل اور نیت کے درمیان کوئی چیز حائل ہو گئی تو تمہیں تمہاری نیت پر اجر ملے گا۔
    امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ نے ایک دن اپنے والد سے کہا: ابا جان مجھے نصیحت کیجئے !
    امام احمد نے فرمایا: بیٹا! نیکی کی نیت رکھو، کیونکہ جب تم نیکی کی نیت رکھو گے ہمیشہ خیر پر ہی رہو گے۔
    یہ بڑی عظیم نصیحت ہے اور اس پر عمل پیرا شخص کا اجر دائمی اور تسلسل کے ساتھ ہمیشہ جاری رہتا ہے ۔
    چنانچہ جب بندہ نیکی کا ارادہ کر لے اور اس پر عمل کرنے کے اسباب میسر نہ بھی ہوں تو اس کو نیت پر اجر ملے گا اگرچہ وہ عمل نہیں کر سکا۔
    چنانچہ جس نے نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا، اللہ تعالی اپنے پاس اس کے لئے مکمل نیکی لکھے گا۔ اور جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا تو اللہ تعالی اپنے پاس اس کے لئے دس سے سات سو اور اس بھی کئی گنا زیادہ نیکیاں بڑھا کر لکھے گا۔ اس کی خبر ہمیں صادق المصدوق نبی محمد ﷺ نے دی ہے۔
    ویسے بھی نیک سوچ اور اس کے بارے میں غور و فکر خیر کے کاموں کو غنیمت جاننے اور ان سے فائدہ حاصل کرنے کی بنیاد ہے؛ چنانچہ عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: نیکی کی سوچ اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتی ، اور شر پر ندامت شر کو چھوڑنے کی دعوت دیتی ہے ۔
    پس آپ کی سوچ ہمیشہ نیکی اور نیک آدمی کے اجر اور اس پر نیکی کے اچھے اثرات کے بارے میں مشغول رہے۔ اس کے بالمقابل بندے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور برے اعمال پر نادم ہو۔ اور یہ گناہوں کے ارتکاب سے روکنے کے لئے کافی ہے۔
    دوسری نصیحت!
    آپ کو یقین ہو کہ نیکی قیامت کے دن کام آنے والا حقیقی زاد راہ ہے، اسی کو محفوظ رکھا جائے گا، نیز نیکی کبھی ضائع نہ ہو گی چاہے کم ہو یا زیادہ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ} [آل عمران: 115]
    جو بھی بھلائی کا کام وہ کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی ۔
    چنانچہ نیک کاموں میں سبقت لیں، ان کو غنیمت جانیں اور کسی بھی عمل کو حقیر نہ سمجھیں۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا } [المزمل: 20]
    اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔
    ابن عباس (رضی اللہ عنہما) اللہ تعالی کے فرمان :
    { فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 7، 8]
    پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
    کی تفسیر میں فرماتے ہیں: کوئی مومن یا کافر جو بھی خیر یا شر کا کام کرے گا اللہ اس کو وہ دکھا دے گا ، چنانچہ مومن اپنی اچھائیوں اور برائیوں کو دیکھے گا تو اللہ تعالی اس کی برائیوں کو معاف کر دے گا اور اس کی بھلائیوں کا بدلہ دے گا۔ جبکہ کافر کو اس کی بھلائیاں اور برائیاں دکھائی جائیں گی چنانچہ اللہ تعالی اس کی بھلائیوں کو رد کر دے گا اور اس کی برائیوں کا بدلہ دے گا۔
    تیسری نصیحت:
    نیک آدمی خصوصاً ان بابرکت بہاروں میں صحبت اور رفاقت کے لئے بہترین آدمی ہے۔
    حاتم الاصم (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں: میں نے ہر آدمی کا ایک دوست دیکھا جو اس کا راز دان اور دکھ درد کا ساتھی ہوتا ہے ۔ چنانچہ میں نے خیر کو اپنا دوست بنایا تاکہ وہ حساب کتاب میں میرے ساتھ ہو اور میرے ساتھ پل صراط پار کرے۔
    میرے بھائی ہمیشہ خیر پر قائم رہو ؛کیونکہ یہ وہ روشنی ہے جو قبر میں میت کو حاصل ہو گی
    چوتھی نصیحت!
    اللہ کے بندے! خیر کی کنجی اور شر کے سامنے دیوار بن جائیں، اسی لیے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق لوگوں کی دو قسمیں ہیں:
    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ، مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ»
    سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کچھ لوگ نیکی کی چابیاں اور برائی کے تالے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ برائی کی چابیاں اور نیکی کے تالے ہوتے ہیں۔ اس شخص کو مبارک ہو جس کے ہاتھ میں اللہ نے نیکی کی چابیاں دے دیں اور اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ نے برائی کی چابیاں دے دیں۔
    چنانچہ بندے سے اللہ کے راضی ہونے کی یہ بھی علامت ہے کہ اللہ اس کو خیر کی کنجی بنا دے۔ اس کو دیکھنے سے رب یاد آئے ، اس کا اوڑھنا بچھونا خیر ہی ہوتا ہے ، خیر کے کام کرتا اور خیر ہی بولتا ہے ۔ نیز خیر کے بارے میں سوچتا اور اپنے اندر بھی خیر ہی رکھتا ہے ۔پس وہ جہاں بھی ہو خیر کی کنجی بن کر رہتا ہے۔
    اور اس بندے کے لئے بھی خیر کا سبب ہے جو اس کی صحبت میں رہے ۔ جبکہ دوسرا شخص برائی میں ملوث رہتا ، برائی کرتا اور برا بولتا ہے ، نیز برا ئی کا سوچتا اور اپنے اندر برائی چھپاتا ہے پس وہ شر کی کنجی ہے۔
    اللہ کے بندے یہ جان لو! بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی خیر کی تمنا نہ کرے۔
    چنانچہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ مِنْ الْخَيْرِ
    حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ)کی جان ہے !تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک )مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے (ہر مسلمان)بھائی کے لیے اسی طرح خیرو بھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے ۔
    پانچویں نصیحت:
    کتنی عظیم بات ہے کہ مومن نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا ہو ، تاکہ اس کے بدلے ڈھیروں اجر پائے۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ, فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
    جو شخص کسی خیر کی رہنمائی کرے ، اسے بھی بھلائی کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔
    اور آپ ﷺ کی یہ بھی فرمان ہے : إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
    بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا (ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے۔
    سب سے نفع بخش چیز جسے انسان لوگوں کو پیش کر سکتا ہے وہ ان کی رہنمائی، تعلیم، نصیحت، اور بھلائی کے کاموں کی طرف ان کی نشاندہی ہے۔ نیز وقت کو کارگر بنانے اور قرب الہی کے کاموں کو غنیمت جاننے پر ابھارنا ہے ۔
    چھٹی نصیحت:
    اللہ تعالی سے دین پر ثابت قدمی مانگیں، اور دعا کریں کہ وہ آپ کو اطاعت الہی اور تقوی پر قائم رہنے والوں میں شامل کر دے۔ اور اللہ کی پناہ طلب کریں کہ وہ آپ کو ایڑھیوں کے بل لوٹا دے اور پھر آپ بھلائی کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں ، برائی کرنے لگیں اور آپ کا نفس برائی کی طرف مائل ہو۔
    ابو ذر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ہمیشہ خدشہ رکھیں کہ نیک شخص برا بن جائے اور اس کی موت برائی پر ہو، اور ہمیشہ امید رکھیں برا آدمی نیک بن جائے اور اس کی موت نیکی پر ہو ۔
    اس لئے ہم پر واجب ہے کہ حقوق اللہ میں کوتاہی پر کڑا محاسبہ نفس کریں ، اور اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھلائی کے کاموں پر ثابت قدم رکھے اور اسی پر موت نصیب فرمائے۔
    ساتویں نصیحت:
    اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور و فکر کریں:
    {وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ} [البقرة: 197]
    تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالی باخبر ہے۔
    یہ آیت بندے کے ضمیر میں راحت ، اور دل میں اطمینان پیدا کرتی ہے، اس لئے کہ مخلوق کی اخلاص کے ساتھ بھلائی کرنے والا، مخلوق سے کسی قسم کی قدردانی یا تعریف کا منتظر نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جب بھی بھلائی کا کام کرتا ہے اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اس سے باخبر اور اسے اجر دے گا۔
    اس نے جو اچھا کام کیا ہے اس پر بعض لوگوں کا انکار اس پر گراں نہیں گزرتا بلکہ وہ اللہ کے اس فرمان کو ذہن نشین رکھتا ہے۔
    {إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا} [الإنسان: 9]
    (اور کہتے ہیں) ہم تو صرف اللہ کی رضا کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیں، نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
    میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں ، اپنے لئے اور آپ سب کے لئے اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں ، آپ بھی اسی سے استغفار کریں بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ:
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، اس کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ، اس کے علاوہ کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ نے ہمہ قسم کی خیر کے لئے رہنمائی فرمائی ، اور ہر قسم کے شر سے آپ نے خبردار کر دیا۔ اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل اور تمام صحابہ پر درود نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد:
    متلاشیانِ خیر! ذہن نشین کر لو کہ خیر کا مفہوم بہت وسیع ہے ؛ محدود نہیں: اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں کہ جن سے انسان جلدی یا دیر سے فائدہ اٹھائے۔
    بلا شبہ یہ دن اور رات جہنم سے آزادی ، توبہ کی قبولیت، نیکیوں کے بڑھنے، اور درجات کی بلندی کے ہیں۔
    آؤ اے اللہ کے بندو ! نیکی کہ اس موسم میں اللہ کو اپنی نیکیاں دکھائیں، وقت ضائع نہ کریں ، کیونکہ عقل مند انسان نیکی کمانے میں بے رغبتی اور ٹال مٹول نہیں کرتا ۔ نیز قربِ الہی کے کاموں کو غنیمت جاننے میں بھی دیر نہیں کرتا ، بلکہ بیدار رہتا ہے اور کوتاہی کا تدارک کرتا ہے ۔
    آج کی نیکی کو کل پر نہ چھوڑ ہو سکتا ہے کل تو آئے لیکن تو ہی دنیا میں نہ ہو
    مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ بھلائی کے کاموں کی جستجو کرے اور زیادہ سے زیادہ نیک کام کرے تاکہ وہ ان کا عادی بن جائے ۔ اور پھر وہ اعمال اس کی خصلت اور فطرت میں شامل ہو جائیں ۔
    حضرت معاویہ بن سفیان (رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں :اپنے آپ کو خیر کا عادی بناؤ، بےشک میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
    نیکی انسانی فطرت ہے جبکہ گناہ فطرت سے تصادم ہے۔ نیز اللہ تعالی جس کے لئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے‘‘
    مسلمان جہاں اس بات پر مامور ہے کہ زندگی بھر خیر کا طلب گار رہے وہاں اس سے یہ بھی مطلوب ہے کہ محنت کرے اور فضیلت والے دنوں سے فائدہ اٹھائے ۔ جیسے کہ اس عظیم ماہ میں موقع ہے کہ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں چنانچہ مستعد لوگوں پر لازمی ہے کہ وہ آگے بڑھیں ، اور بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرنے والے فوری نیکیاں کریں۔
    کامیاب لوگوں کو یقین ہے کہ اس مہینے کی فضیلت سے محرومی ہی حقیقی گھاٹا اور محرومی ہے۔
    آپ ﷺ سے با سند صحیح ثابت ہے آپ ﷺ نے فرمایا:
    رَغِمَ أنفُ رجلٍ دخَل عليه رمضانُ ثم انسلخ قبل أن يُغفر له
    اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر رمضان کا مہینہ آئے اور اس کو معاف کئے جانے سے پہلے چلا جائے۔
    یہ وقت دوسرے اوقات کی طرح نہیں ہے جیسے کہ ابن الجوزی (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں: تمام مہینوں میں رمضان کا مقام ایسے ہی ہے جیسے یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں میں تھے۔ تو یعقوب علیہ السلام کو یوسف محبوب ترین تھے تو اسی طرح رمضان علام الغیوب اللہ کے ہاں سب سے محبوب مہینہ ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے گیارہ بیٹے تھے ، لیکن ان کی بینائی یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کے علاوہ کسی کی قمیص سے واپس نہیں آئی۔ اسی طرح خطا کار اور گناہ گار کی حالت ہوتی ہے جب وہ رمضان کی خوشبو سونگھتا ہے۔
    ماہ رمضان میں شفقت، برکت ، نعمت ، بھلائی، آگ سے آزادی، اور طاقت ور بادشاہ کی طرف سے مغفرت ہے اور یہ رمضان میں تمام مہینوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
    اس لئے ہمیں چاہیے کہ باقی مہینوں میں ہونے والی کوتاہیوں کی تلافی کریں ، اور بگڑے ہوئے معاملات کی اصلاح کریں ۔
    اللہ کے لئے ان تھوڑے دنوں میں اس فضیلت کو غنیمت سمجھو، تمہیں بڑی نعمت ، بلند درجات ، اور ان شاءاللہ لمبی راحت ملی گے۔
    اللہ کے بندو! یہ کوشش تب ہی کارگر ہو گی کہ جب ہم رمضان میں اپنے اوقات کی حفاظت کریں ، اور انسان کی شکل میں وہ شیاطین جو مسلمانوں کو بھلائی ، نفع اور بہتری سے پھیرنے کی کوشش میں مگن ہیں ان سے بچیں، اسی طرح ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ اس سے بھی خبردار رہیں کہ سوشل میڈیا اور دیگر امور اس ماہ کی فضلیت سے فائدہ اٹھانے سے غافل نہ کر دیں ۔
    بعض لوگوں کو ان میں تفریح اور لذت ملتی ہے تو ان میں مگن ہو جاتے ہیں، اور بھلائی کے موسم میں محنت سے رک جاتے ہیں ۔
    خبردار: اللہ کے چنے ہو نبی محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجو جیسے کہ تمہیں تمہارے رب نے بھی حکم دیا ہے اور فرمایا:
    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } [الأحزاب: 56]
    بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر خوب کثرت سے درود و سلام بھیجو۔ (احزاب:56)
    اے اللہ تو نبی ﷺ آپ کی بیویوں آپ کی اولاد پر رحمتیں نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر بھجیں۔ اور اے اللہ تو نبی ﷺ آپ کی بیویوں اور اولاد میں برکت عطا فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت تعریف کا مستحق اور بزرگی والا ہے۔
    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! ، ، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما اور اپنے اور دین اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔ یا ذالجلال والا کرام!
    یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔
    اے اللہ ہمارے ملکوں اور گھروں میں امن پیدا فرما اور ہمارے حکمرانوں اور معاملات کو چلانے والوں کی اصلاح فرما، اے تمام جہانوں کے رب ہمارا حاکم اسے بنا جو تجھ سے ڈرتا ہو اور تقوی والا اور تیری خوشنودی (والے کاموں) کی پیروی کرنے والا ہو۔ اے اللہ اے زندہ اور قائم رہنے والے تو ہمارے حکمرانوں کو اپنی محبوب اور خوشنودی والی باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما۔ اور انکو انکی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کی طرف لے جا۔
    اے اللہ تو (مددگار) ہو جا ہمارے کمزور بھائیوں اور تیری راہ میں جہاد کرنے والوں، سرحدوں کی رکھوالی کرنے والوں کا، اے اللہ تو ان کے لئے نصرت، تائید اور کامیاب کرنے والا ہو جا۔
    یا اللہ ! ہم تجھ سے بھلائی کے کام کرنے، برائی چھوڑنے اور مساکین سے محبت کا سوال کرتے ہیں اور یہ کہ تو ہمیں معاف فرما دے اور ہم پر رحم فرما دے ، اور جب تو کسی قوم سے فتنہ کا ارادہ کرے تو ہمیں اس فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلا فوت کردینا۔
    یا اللہ ! ہم تجھ سے تیری محبت اور جس سے تو محبت کرے، اور وہ عمل کو تیری محبت کے قریب کرے اس کا سوال کرتے ہیں ۔
    یا اللہ ! رمضان جتنا باقی ہی ہمیں اسے غنیمت جاننے کی توفیق دے ، اور ہمیں ان میں شامل کر دے جن کی گردنیں تو جہنم سے آزاد فرمائے ۔اور ہمیں ان میں لکھ سے جن کو تو نے معاف کیا اور راضی ہوا۔
    و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,429
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں