اہل جھنم کی چار خواہشات

عبد الرحمن یحیی نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏مئی 21, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,316
    اہل جھنم کی چار خواہشات
    اللہ مالک الملک نے جھنم سے ڈراتے ہوئے ایک جگہ فرمایا :
    لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّـهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ ﴿١٦﴾
    انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو (16) سورة الزمر

    پہلی خواہش
    جو وہ اللہ سبحانہ و تعالی سے کریں گے :
    (رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ)
    اے ہمارے پروردگار! ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم ایسا ہی کریں تو بےشک ہم ظالم ہیں (107)
    اللہ تعالی جواب دیں گے :

    (قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ)
    اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو (108) سورة المؤمنون
    تفسیر ابن کثیر :
    جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے تو دوسری خواہش کا اظہار داروغہ جھنم سے کریں گے

    دوسری خواہش

    وہ داروغہ جھنم ( مالک ) سے کریں گے
    (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ)
    '' اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک ! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے ''
    وہ اُ س سے گزارش کریں گے کہ اللہ تعالی کے ہاں ہماری سفارش کردو کہ ہمیں موت ہی دے دے تاکہ وہ اس عذاب سے نجات پائیں
    مالک انہیں جواب دے گا :

    (قَالَ إِنَّكُم مَّاكِثُونَ).
    وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے (77) سورة الزخرف
    تفسیر ابن کثیر :
    صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ” نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی“۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ” وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا “ ۔
    پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ” نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے “۔

    تیسری خواہش
    تیسری ایک عجیب خواہش کا اظہار وہ جھنم کے فرشتوں سے کریں گے :
    (وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّار لِخَزَنَةِ جَهَنَّم اُدْعُوَا رَبّكُمْ يُخَفِّف عَنَّا يَوْمًا مِنْ الْعَذَاب)
    اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے (49)
    یعنی عذاب میں تخفیف اور کمی چاہیں گے
    فرشتے جواب میں کہیں گے :

    (قَالُوا أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَاتِ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۚ قَالُوا فَادْعُوا ۗ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ).
    وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے (50) سورة غافر
    تفسیر ابن کثیر :
    فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لیے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے۔

    چوتھی خواہش
    یہ ایک بہت چھوٹی اور معمولی خواہش ہو گی جو وہ اھل جنت سے کریں گے :
    (وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ)
    اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے، کہ ہمارےاوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو، جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے۔
    اھل جنت جواب دیں گے :

    (قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ).
    جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کردی ہے (50) سورة الأعراف
    تفسیر ابن کثیر :
    جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭
    دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔

    اللهم اجعلنا من أصحاب الجنة، ولا تجعلنا من أهل النار.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,434
    اللهم اجعلنا من أصحاب الجنة، ولا تجعلنا من أهل النار
    آمین یا رب

    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں