صلاۃ التراویح چند قابل توجہ امور

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رمضان المبارک' میں ‏مئی 22, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,351
    صلاۃ التراویح چند قابل توجہ امور

    صلاۃ التراویح میں امام صاحب کو دوران تراویح یہ دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ قرأت قرآن کتنا کس رکعت میں کرنا ہے اور کہاں پر ٹھہرنا اور کہاں سے شروع کرنا ہے.مقدیوں کی جان تراوہح کے آخری رکعت سے معلق ہوتی ہے. کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تراویح میں حسن قرأت سے زیادہ دینی احکام و مسائل اور اس کےمعانی ومفاہیم سے أگاہی ضروری ہےلہذا امام تراویح حافظ قرآن کے ساتھ ساتھ صاحب علم بھی ہونا چاہئے تاکہ خشوع خضوع بر قرار رہے.ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ ختم قرآن وقت کی تعیین اور دیگر چونچلوں نے تراویح کے روح کو بالکل ختم کر دیا ہے .ختم قرآن کی وجہ سے تراویح حفاظ کرام کی انڈسٹری بن گئی ہے .قیمتیں طے ہوتی ہیں مساجد فکس کئے جاتے حفاظ کی شکل میں زرخرید وقتی غلام ہایر کئے جاتے ہیں .افسوس اس بات پر ہے کہ علماء و مصلحین سب اس ناجائز سسٹم سے جڑے ہوئے ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں ہے. بڑے بڑے جبہ و دستار والے اونچی اونچی بلند و بالا ٹوپیوں والے ڈگری ہولڈر حضرات سب اس میں ملوث اور بھاگیدار ہیں. تراویح ایک عبادت ہے اور عبادت کی روح خشوع و خضوع ہے. مجھے یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ آج نہ جانے کتنے مساجد میں تراویح ہوتی ہے مگر بے روح اور بے وزن ہوتی ہے. نہ حفاظ کو کوخشوع و خضوع کی خبر ہے نہ مقتدی حضرات کو .کیا تراویح کا مقصد صرف بھیڑ اکھٹا کرنا ہے .کیا تراویح تماشہ لگانے کے لئے ہے کیا تراویح کا مقصد فقط کھیل کود کرنے کے لئے ہے. تراویح کوئی رسمی شیئ نہیں ہے نہ تراویح کوئی تیج تیوہار ہے .تراویح انٹرٹین کے لئے تھوڑی ہے کہ اس میں راگ سر تال ٹون ہو.اسی تصنع نے تو تراوح کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے.جسے دیکھو سدیس و شریم بنا پھرتا ہےاور اسی زعم میں امام تو امام مقتدی حضرات بھی مبتلا ہیں ہر کسی کو ٹیسٹ چاہئے گویا عبادت عبادت نہ ہوئی مزے کی کوئی چیز ہو گئی اسی تصنع نے صاحب علم حافظ قرآن کی قدر و قیمت کو کم کر دیا ہے .اللہ کے یہاں عبادت میں صوتی تصنع نہیں بلکہ حقیقی کیفیت مطلوب ہے جو سنت میں مذکور ہے. آج نہ کسی کو اس کی فکر ہے نہ رغبت.اہل حدیث مساجد میں بھی کیفیت سنت غریب الوطنی اختیار کر چکی ہے .لوگوں کے رویوں نے اسے مزید رسوا کر دیا ہے.سنت رسول آج اپنوں میں ہی بیگانی ہو گئی ہے.تراویح جسمانی مجاہدہ کانام ہے. تراویح عملی ذوق کی ایک تصویر ہے.تراویح اخیار لوگوں کی علامت ہے.تراویح سنت رسول ہے اس کی تحدید اس کی تعیین کمیت کیفیت سب کچھ نصوص سے طیے ہے .کسی بھی فرد یہ شرعا یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی منمانی کرے. آج کل مساجد میں میں چلے جاؤ تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی مچھلی بازار میں آگئے ہیں حافظ جی تراویح میں قرآن ایسے پڑھتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ان کے پیچھے پاگل کتا چھوڑ رکھا ہو. قرآن ایسے پڑھنا چاہئے کہ دل سوز سے بھر جائے لگے کہ واقعی اللہ کا کلام پڑھا جا رہا ہے .آنکھیں اشکبار ہو جائیں مسجد میں ایک عجیب سا سما بندھ جائے پورا منظر روحانی منظر میں تبدیل ہو جائے .حافظ جی کی قرأت سن کر دل موم ہو جائے مسجد میں داخل ہوتے ہی ہمارے دل کی دنیا ہی بدل جائے. مسنون تراویح صرف آٹھ رکعت کانام نہیں ہے تراویح میں استراحت ٹھہراو اطمنان سوز لگاو دلچسپی خوف خشیت احسان سب کچھ شامل ہے. تراویح کوئی رسمی چیز نہیں تراویح کی ادایگی میں حسن کمال جہد ہر چیز کی رعایت ضروری ہے. عبادت میں اسوۃ رسول اصل ہے .فقط تعداد کو بنیاد بنا کر مسنون تراویح کا نام دینا انتہائی مبغوض عمل ہے. تراویح میں اگر روحانی کیفیت نہ پیدا ہوتو تراویح جسمانی مجاہدہ رہ جائے گی.جب تراویح بے روح ہوجائے اور توہین قرآن کا ذریعہ بن جائے تو یہ اپنے پڑھنے والوں کے لئے وبال جان بن سکتی ہے. علماء کرام کی شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جاہل متولیان مساجد کو سمجھائیں کہ زبردستی اپنی ہانکنا اور منوانا بند کریں .بہترین اہل علم حفاظ قرآن کا انتظام کریں اور سہی ڈھنگ سے تراویح کا نظم و نسق قائم کریں.تراویح کی ادائگی اور اس کی امامت میں حسن نیت کا بڑا دخل ہے. اگر تراویح کا مقصد لوگوں کی نذر و نیاز حاصل کرنا یا پیسا کمانا ہو تو یہ قرآن کو فراخت کرنا ہوا.آج جسے دیکھو تراویح کے نام پر لوٹنے کھانے میں جٹا ہوا ہے.اور قرآن کو بیچ رہا ہے خوش ہو رہا ہے. تراویح کے ذریعہ حصول منفعت کی خاطر جھوٹ فریب گپ چاپلوسی سب کچھ روا ہے.بھلا بتائے کیا ایسی عبادت میں کوئی دم خم باقی جاتا ہے جس کی بنیاد کی مکاری اور فریب پر ہو جس کی بنیاد ہی حصول منفعت ہو تماش بین اکھٹا کرنا ہو میلا ٹھیلا لگانا ہو مظاہرہ حسن قرأت ہو عبادت کے ذریعہ حصول منفعت یہودیانہ عمل ہے .اور یہی چیز انسانی تباہی کا سبب بنتا ہے اس کے ذریعہ انسان اللہ کا غضب اس کی ناراضگی مول لیتا ہے.عبادت کو حصول منفعت کا ذریعہ بنا لیناانسان کو نہایت ہی غلیظ اور بدبو دار بنا دیتا ہے یہ دنیا و آخرت میں جہاں کہیں بھی رہے اپنی نجاستوں سے ماحول کو سماج کو افراد کو سب کو گندا کرتا ہے . یہ اتنے بد ترین ہوتے ہیں کہ انہیں اللہ کی نظر عنایت کی بھی توفیق نہیں ملتی .یہ اور ان کا وجود دونوں دینی سماج و معاشرہ کے لئے باعث ننگ و عار ہے.یہ کسی بھی سماج و معاشرہ کے کے قابل نہیں ہوتے ان کو سماج و معاشرہ میں باقی رکھنا دینی امور کی بیع و شراء کو بڑھاوا دینا ہے .بھلا بتائے ہماری جرأت کیس ہوجاتی ہے کہ ہم تعبدی امور میں اپنی منمانی کریں .تراویح اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہے اسے مسلکی پہچان دینا دین کے ساتھ مزاق ہے.اسی مسلکی پہچان نے مسنون تراویح کو معیوب بنا دیا ہے .لوگ مسنون تراویح کا نام سنتے ہی راہ فرار اختیار کرتے ہیں .اسی مسلکی پہچان کے چکر میں نبوی تراویح سہی شکل بھی باقی نہیں رہی.اسی مسلکی پہچان نے انسان کو دین کا باغی بنا دیا ہے .خصوصا رمضان میں مساجد اکھاڑے میں تبدیل ہوجاتے ہیں .جسے دیکھوہر سڑک چھاب دین کی تشریح و تبیین کی ذمہ داری لئے بیٹھا ہوتا ہے.مساجد میں جتنے جاہل ہوتے ہیں سب کی الگ الگ اپنے اپنے حلقے ہوتے ہیں .اکثر و بیشتر اہل حدیثوں کے یہاں بھی یہی حال ہے .ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اہل حدیثوں نے رمضان میں توہین قرآن توہین مساجد توہین عبادت توہین شعایر دین کا عزم کر رکھا ہے. اہل حدیث مساجد میں موجودہ تراویح کی صورت حال دیکھ کر طبیعت بالکل مکدر ہوجاتی ہے .دل ہی نہیں چاہتا کہ کسی امام کے پیچھے تراویح پڑھی جائے.دعوی عمل بالحدیث کا ہے تو اس کا مظاہرہ تمام چیزوں میں ہوناچاہئے .صرف تعداد کی رعایت کر لینا کافی نہیں اسے خواہشات کی پیروی کا نام دیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں عبادت نصوص سے منصوص ہوتی ہے.تمہارے گھر کی کھیتی تھوڑی ہے کہ جب چاہا بویااور جب جاہا کاٹا. مانا کہ تراویح میں منصوص تعداد سے زاید کی گنجائش موجود ہے مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ سنت سے دوری اختیار کی جائے سنت ہمارا ترجیحی عمل ہونا چاہئے ہاں یہ اور بات ہے کہ اس پر شدت نہ برتی جائے مگر بسا شدت اور التزام ضروری ہوتا ہے خصوصا وہاں جہاں پر لوگ سنت پر عمل کرنا معیوب سمجھتے ہیں مگر کیفیت کی رعایت کے ساتھ.نصوص پڑھو تراویح کی کیفیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم الجمیع خصوصا اما عائشہ ایسے بیان فرماتی ہیں گویا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں. اتنا اہتمام صحابہ کیوں کر کرتے تھے ظاہر ہے سنت کی تحفظ کی خاطر. یاد رہے سنت سے ہی قوموں کو حیاد جاودانی ملتی ہے. آج مسلکی چھگڑوں نے ہماری جودرگتی بنائی ہے وہ بیان سے باہر ہے .مساجد مدارس سب الگ الگ ہو گئے اس کی وجہ سنت سے دوری ہی ہے. مسلکی پہچان کے چکر میں ہم نے اپنی دینی شناخت کھو دیا ہے.مسلکی چھگڑے دینی حیثیت کو تسلیم کرنے میں ہمیشہ مانع رہے ہیں. مسلکی منافرت نے ہماری سماجی حیثیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے. مختصر لفظوں میں یہ کہ عبدت کو خواہشات نفس اور مسلکی منافرت جاہلانہ رسم و رواج کے بھینٹ چڑھانا بند کریں. دین کی تابعداری اختیار کریں دینی تحریف ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں .بہترین سیٹ اپ کریں سماج و معاشرہ کی سنت نبوی کے مطابق ذہن سازی کریں علماء ثقات سے گزارش ہے سماجی روش سے ہٹ کر عوام الناس کی پیروی کرنا بند کریں اور اخلاص کے ساتھ دینی فریضہ کو ادا کریں .اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین
    محمد افضل محی الدین
    علی گڑھ یو پی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں