ایمان کی تقویت کے اسباب

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏مئی 29, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,351
    ایمان کی تقویت کے اسباب

    اللہ تعالی نے ہر مطلوب کی رسائی کے لیے کوئی نا کوئی سبب و ذریعہ بنایا ہے ،ایمان سب سے اہم و عظیم ترین مطلوب ہے. اللہ تعالی نے اس کے لئے بھی کچھ اسباب بنائے ہیں. جو اسے فراہم کرتے ،قوت پہنچاتے اور مضبوط کرتے ہیں،( جس طرح بعض اسباب ایمان کو کمزور و بے وزن کرتے ہیں)، ان میں سے کچھ یہ ہیں.

    سب سے عظیم چیز کتاب و سنت میں وارد اللہ کے اسماء و حسنی کی معرفت ،ان کے معانی کی فہم، ان کے ذریعہ اللہ کی عبادت و جستجو ہے. اور جنت میں چونکہ صرف مومنین ہی داخل ہوں گے، اس لیے معلوم ہوا کہ یہ معرفت ایمان کے حصول اور اس کی قوت و مضبوطی کا سرچشمہ ہے اور سبب، و ذریعہ ہے

    دوسرا سبب، قرآن میں غور و تدبر ہے، کیونکہ قرآن میں تدبر کرنے والا ہمیشہ اس کے علوم و معارف سے مستفید ہوتا ہے.

    تیسرا سبب، نبی کریم کی احادیث، اور ایمان کے جن علوم و اعمال کی طرف وہ حدیث بلاتی ہیں. ان کی معرفت بھی ایمان کی تقویت کا سبب ہے. چنانچہ جس شخص کو کتاب اللہ و سنت نبوی کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی. اس کا ایمان و یقین بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا.اپنے علم و ایمان میں درجہ یقین تک پہنچ سکتا ہے

    چوتھا سبب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق اور اوصاف کریمہ کی معرفت ہے. اس لیے جو نبی کریم کو کماحقہ پہچان لے گا ، اس آپ کی صداقت، آپ کی لائی ہوئی کتاب و سنت و دین حق میں ادنی شبہ تک نا رہے گا

    پانچواں سبب، کائنات یعنی آسمان و زمین اور اس میں موجود طرح طرح کی مخلوقات میں غور و فکر کرنا ہے. اس طرح اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کرنا. جس سے کوئی مخلوق چشم و زدن کے لیے بھی خالی نہیں رہ سکتی.

    چھٹا سبب، اللہ تعالی کا بکثرت ذکر اور بکثرت دعا عبادت بھی ہے، یہ ذکر، زبان، دل، عمل، حالت ہر طرح سے ہونا چاہیے. کیونکہ بندہ جتنا یہ ذکر کرے گا اتنا اس کے ایمان میں اضافہ ہو گا

    ساتواں سبب، اسلام کے محاسن و خوبیوں سے معرفت بھی ہے، کیونکہ دین اسلام سراپا خوبیوں سے عبارت ہے، اس کے عقائد نہایت سچے، درست اور نفع بخش ہیں. اس کے اخلاق سب سے عمدہ ہیں. ان پہلوؤں پر غور کرنے سے اللہ تعالی بندہ کے دل میں ایمان کو مزین کرتا ہے. اور اس کے یہاں مضبوط بنا دیتا ہے

    آٹھواں سبب. اللہ کی عبادت میں احسان اور بندگان الہی کے ساتھ حسن سلوک کی کوشش اور جدوجہد کرنا ہے. چنانچہ بندہ عبادت میں ایسی کوشش کرے گا جیسے وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، اگر یہ طاقت نا ہو تو یہ احساس کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے.اور اس کا مشاہدہ کر رہا ہے، ہر عمل کو پختگی سے انجام دینے کی کوشش کرتا رہے. یہاں تک اس سے ایمان و یقین مضبوط ہو جائے گا. اور بالآخر وہ حق یقین تک پہنچ جائے گا. جو یقین کا سب سے اوپر درجہ ہے.

    نواں سبب، اللہ اور اس کے دین کی طرف دعوت دینا. اور باہم حق و صبر کی تلقین کرنا. اس سے بندہ خود کو اور دوسروں کو مکمل کرے گا

    دسواں سبب. کفر،شرک،فسق، نفاق و گناہ کی شاخوں سے دور رہنا.

    گیارہواں سبب، فرائض کے بعد نوافل کے ذہعے اللہ کا قرب حاصل کرنا. خواہش نفس پرستی کے وقت اللہ کی محبوب چیزوں کو مقدم کرنا.

    بارہواں سبب، اللہ کے نزول کے وقت، اس سے مناجات، اس کے کلام کی تلاوت، اس کے سامنے دل کو جمانے اور بندگی کے آداب بجا لانے کے لیے تنہائی میں ہونا ہے. پھر توبہ استغفار کے ساتھ اختتام کرنا ہے.

    تیرہواں سبب. بندے کے دل اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے درمیان حائل ہونے والے ہر سبب سے دور رہنا ہے

    استفادہ،،
    مدارج السالكين از ابن قیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں