خطبہ حرم مدنی 31-05-2019 " الوداع ماہ رمضان اور اسلامی سربراہی کانفرنس" از القاسم حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 1, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    ﷽​
    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے26 رمضان 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں" الوداع ماہ رمضان اور اسلامی سربراہی کانفرنس" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کے سعادت بھرے لمحات مسلمانوں کو نصیب ہوئے اور مساجد کے ساتھ گھر بھی عبادات سے معمور رہے، اس دوران ایمانی لذت اور مٹھاس بھی لوگوں کو ملی اب ہم رمضان کو الوداع کہنے والے ہیں، تو ایسی صورت میں وہی کامیاب ہے جو بقیہ وقت کو غنیمت سمجھے اور اچھے انداز سے الوداع رمضان کہے، چنانچہ ماہ رمضان میں عبادت کے لئے خوب محنت کرنے والا اپنے اندر مزید بہتری لائے اور کمی کوتاہی کا شکار توبہ کر لے؛ کیونکہ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، خیال رہے الوداع رمضان سے قبل مغفرت حاصل نہ کرنے والے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بد دعا ہے۔ الوداع رمضان کے بعد بھی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھیں؛ کیونکہ نیکی بعد پھر نیکی پہلی نیکی کے قبول ہونے کی علامت ہے۔ نیکی کسی بھی وقت کریں اس کی قبولیت کا خاص خیال رکھیں؛ سلف صالحین نیکی کرنے سے زیادہ نیکی کی قبولیت پر زیادہ دھیان دیتے تھے، رمضان کے بعد نیکیاں اس لیے کریں کہ تھوڑی اور مسلسل نیکی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔ رمضان میں قیام، صیام اور لیلۃ القدر میں قیام کرنے والے کے سب گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور روزے دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے فطرانے کے بارے میں بتلایا کہ گھر کے ہر فرد کی جانب سے ایک صاع علاقائی غذائی جنس عید کی نماز سے قبل دینا مستحب ہے، جبکہ عید سے ایک یا دو دن پہلے دینا جائز ہے۔ عید کا چاند نظر آتے ہی نماز عید تک تکبیرات پڑھنے کا تاکیدی حکم قرآن مجید میں آیا ہے، اور رمضان کے روزوں کے ساتھ شوال کے چھ روزے رکھنے سے پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ نزول وحی اور بعثت رسالت مآب ﷺ مکہ مکرمہ میں ہوئی اور یہیں پر اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس لیے کہ مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے تمام تر اسباب بروئے کار لائے جائیں، اور مسلمان ایک قوت بنیں، آخر میں انہوں نے منتظمین کانفرنس کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور سب کے لئے دعا منگوائی۔

    اردو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے کلک کریں۔

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کے لئے کلک کریں۔

    عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقّہ ڈور اور خلوت و جلوت میں اللہ کو اپنا نگران سمجھو۔

    مسلمانو!

    اس مبارک مہینے کے سعادت بھرے لمحات مسلمانوں کو نصیب ہوئے، دن صیام میں تو رات قیام میں گزری، اس مہینے میں مساجد عبادات اور تلاوتِ قرآن سے آباد رہیں، لوگ نہایت رحیم و کریم ذات کے قریب ہوئے۔

    لوگ اس مہینے میں ذکر، دعا، سخاوت اور صدقہ خیرات میں مشغول رہتے ہیں، دل سراپا عاجز اور نفس مکمل متوجہ رہتا ہے، اسی بنا پر لوگوں کو ایمانی مٹھاس اور لذت بھی ملی، اب اس مہینے کے آخری ایام کوچ کرنے والے ہیں، اور اختتام کی طرف جا رہے ہیں، تو ایسے میں کامیاب وہی ہے جو باقیماندہ لمحات کو غنیمت سمجھے؛ کیونکہ اصل اعتبار تو اچھے اختتام اور انجام کا ہوتا ہے ۔

    اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں خوب عبادت گزار رہا اور صحیح طریقے سے عمل کرتا رہا تو وہ اپنی اسی روش کو مزید بہتر بنائے، اور اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے، اس بڑھیا کی طرح نہ ہو جائے جو سوت کاتنے کے بعد پھر اس کے تار پور بکھیر دیتی تھی! کیونکہ نیکیوں کا تحفظ نیکی کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صالحین اپنی دعا میں یہ بھی کہا کرتے ہیں: "یا اللہ! ہم تجھ سے نیکی اور پھر نیکی کو محفوظ رکھنے کا سوال کرتے ہیں"

    بصورت دیگر اگر کوئی شخص عبادات کی بجائے کہیں اور مشغول رہا تو وہ اب بھی سچی توبہ کر لے؛ کیونکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایسا شخص تباہ و برباد ہو جائے جسے رمضان کا مہینہ ملے اور اس کی مغفرت سے پہلے ہی چلا جائے) احمد

    نیز اپنی نیکی کی قبولیت کے لئے نیکی کرنے سے زیادہ محنت کرو، اللہ تعالی تو صرف متقی لوگوں سے ہی قبول فرماتا ہے، اسی لیے مومن شخص حسن کارکردگی اور دل میں خوف دونوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے، مومن کی کیفیت اللہ تعالی کے اس فرمان کا مصداق ہوتی ہے: {وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ} اور انہوں نے [اللہ کی راہ میں]جو کچھ بھی دیا اس حال میں دیا کہ انہیں دل میں دڑکا لگا رہتا ہے کہ وہ یقیناً اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 60] اس آیت کی مراد سے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ کیا: "اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو شراب نوشی اور چوری میں ملوث ہیں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں ، صدیق کی بیٹی! اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز، روزے اور صدقہ خیرات کا اہتمام کرتے ہیں اور دل میں خدشہ رکھتے ہیں کہ کہیں ہمارے اعمال مردود نہ ہو جائیں {أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ} یہی ہیں جو فوری بھلائیاں کر رہے ہیں اور یہی نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ [المؤمنون: 61]) ترمذی

    اگر رمضان چلا بھی جائے تو عبادت کا موقع موت تک ہے! اسی لیے فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے ۔[الحجر: 99]

    زیادہ غیر دائمی عمل سے؛ تھوڑا دائمی عمل بہتر ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (دائمی عمل چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہوں اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل ہے) متفق علیہ

    نیکی قبول ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ نیکی کے بعد پھر نیکی کریں، بدی کے بعد کی جانے والی نیکی بہت شاندار ہوتی ہے کہ نیکی بدی کو مٹا دیتی ہے، تاہم اس سے بھی اعلی بات یہ ہے کہ نیکی کے بعد مزید نیکیاں کی جائیں۔

    یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ رمضان میں کی جانے والی عبادات سارا سال ہو سکتی ہیں، چاہے وہ تلاوت قرآن، صدقہ، روزہ، عمرہ، دعا اور قیام اللیل سمیت کوئی بھی شرعی عبادت ہو، اللہ تعالی نے ان سب کو سارا سال اور ہمیشہ کرتے رہنا شریعت میں شامل فرمایا ہے۔

    ہمیشہ اطاعت گزاری ، اور نیکی کا غیر محدود وقت در حقیقت نیک لوگوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں، یہ اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُون} بلا شبہ جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر [عبادات کرتے ہوئے] ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں۔ نہ ڈرو اور نہ غمگین ہو اور اس جنت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے [فصلت: 30]

    قیام و قیام کا اہتمام کرنے والوں کے لئے رمضان المبارک کے اختتام پر خوشخبری ہوتی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جو شخص رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید سے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید سے کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) بخاری

    اسی طرح فرمایا: (جو شخص رمضان کا قیام ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید سے کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) متفق علیہ

    (روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطاری کے وقت اور دوسری خوشی اللہ سے ملاقات کے وقت) متفق علیہ

    زندگی چند سانسوں اور محدود مہلت کا نام ہے، اگر عمر کی پیمائش سانسوں سے کی جائے تو یہ معمولی سی زندگی ہے، گزرتا رمضان دنیا اور وما فیہا کے فانی ہونے کا درس دیتا ہے۔ گویا کہ آپ بھی اپنے اعمال اور فانی دنیا کے ساتھ نتھی ہیں، اور ہر شخص اپنی کارکردگی کے عوض گروی ہے، تو کامیاب وہی ہو گا جو اپنے پروردگار کی دعوت قبول کرے اور اچھی کارکردگی دکھائے۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی نے اس مہینے کے آخر میں فطرانہ بھی فرض فرمایا ہے، فطرانہ روزے داروں کی پاکیزگی اور مساکین کے لئے کھانے پینے کا بندوبست ہے، فطرانے کی مقدار علاقائی غذائی جنس کا ایک صاع ہے، فطرانے کا یہ ایک صاع اپنی طرف سے اور زیر کفالت افراد کی جانب سے دینا ہوتا ہے، فطرانہ ادا کرنے کا مستحب وقت عید کی نماز سے پہلے ہے ، تاہم عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

    رمضان کے اختتام پر رمضان کے آخری دن سورج غروب ہونے سے لیکر نماز عید تک تکبیرات پڑھنا تاکیدی عمل ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم ہے: {وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} تا کہ تم گنتی پوری کر لو، اور اسی طریقے کے مطابق تکبیرات کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایات دیں، اور تا کہ تم شکر گزار بنو۔[البقرة: 185]

    کوئی رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

    أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} جو مرد یا عورت حالت ایمان میں نیک عمل کرے تو ہم اسے خوشحال زندگی دیں گے اور (آخرت میں) ان کے بہترین اعمال کے مطابق انہیں ان کا اجر عطا کریں گے [النحل: 97]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔



    دوسرا خطبہ
    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی نے اس امت کو شرف بخشا کہ ماہ رمضان اور مکہ مکرمہ میں قرآن کریم کا نزول اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی، اور ساری انسانیت کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکال کر نورِ اسلام میں لا کھڑا کیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ} ایک ایسا رسول [ہم نے بھیجا] جو تمہیں اللہ کی واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں، اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ [الطلاق: 11] اللہ تعالی نے مسجد الحرام کو تمام مسلمانوں کا قبلہ بنایا اور نبی ﷺ کی جائے ہجرت میں مسجد نبوی کو اعلی مقام دیا۔

    اللہ تعالی کا مملکت سعودی عرب پر یہ احسان ہے کہ اسے حرمین شریفین کا گہوارہ بنا دیا، اسی لیے ملکی قیادت نے مسلمانوں میں باہمی اتحاد ، یکجہتی اور محبت پیدا کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری کا ادراک کیا اور تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو بیت اللہ کے ساتھ رمضان المبارک میں اکٹھا کر لیا؛ [اس جگہ اور وقت کا انتخاب اس لیے ہوا کہ] رمضان میں دل صاف ہوتے ہیں اور قلبی تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے، نیز ان دنوں اور اس جگہ پر اللہ تعالی سے امیدیں بھی قوی ہوتی ہیں، تاکہ مسلمانوں کے باہمی اتحاد اور قوت کے تمام اسباب یکجا ہو جائیں۔ اللہ تعالی سے دعا کہ اللہ تعالی ہماری قیادت کو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لئے کی جانے والی کوششوں پر بہترین جزائے خیر سے نوازے۔

    یہ بات ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

    یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

    یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے لئے رہنمائی فرما، یا اللہ! ان دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کا بھلا فرما، یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں اور مسلم اقوام کو قرآن اور سنت نبوی پر عمل سمیت نفاذِ شریعت کی بھی توفیق عطا فرما۔

    یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما۔

    یا اللہ! ہمارے اگلے اور پچھلے سارے گناہ اپنی رحمت، مغفرت اور بخشش کے صدقے معاف فرما دے، یا غفور! یا غفار!

    یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

    تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں