خطبہ حرم مدنی 07-06-2019 " بعد از رمضان نیکیوں کا تحفظ کیوں اور کیسے؟" از حذیفی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 7, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    ﷽​
    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے04 شوال 1440ہجری کا خطبہ جمعہ " بعد از رمضان نیکیوں کا تحفظ کیوں اور کیسے؟" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ تقوی دنیاوی اور اخری زندگی میں کامیابی کے لئے از بس ضروری ہے اسی لیے احکامات الہیہ بجا لانے والے لوگ ہی انبیائے کرام اور دیگر صالحین کی رفاقت پائیں گے، نیکی کرنے والوں کے لئے ایسے گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے جن سے نیکی کا اجر کم یا ختم ہو جاتا ہے، ایسے گناہوں میں تنہائی کے گناہ سر فہرست ہیں، انہوں نے کہا کہ رمضان میں کی ہوئی نیکیوں کو ختم کرنے کے لئے شیطان پورا زور لگائے گا آپ نے شیطان کی چالبازی میں نہیں آنا کیونکہ یہی مومن کا شیوہ ہے۔ اگر کوئی مرتے دم تک گناہوں میں ملوث رہے تو اسے دائمی ندامت اٹھانی پڑے گی، جبکہ اچھے کام کرنے والا ہی منکر اور نکیر کے سوالات کا جواب دے پائے گا، نیز اعمال کا فائدہ چار چیزوں کی بنیاد پر ہو گا: اخلاص، اطاعت، نیکی ضائع کرنے والے اعمال سے بچاؤ اور ہمیشہ اطاعت گزاری کی پابندی۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یقین کے درجے پر پہنچ کر انسان مکلف نہیں رہتا وہ بہت بڑا شیطان ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ شریعت اور طریقت کے قائلین بھی کتاب و سنت کو عملی طور پر مفلوج کرنے کے درپے ہیں یہ بھی اسلام اور انسانیت کے کھلے دشمن ہیں، لہذا آپ جب تک زندہ ہیں اطاعت کرتے رہیں، دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ رمضان کی تمام تر عبادات فرائض یا مستحبات کی شکل میں سارا سال موجود ہیں، اس لیے صرف رمضان میں عبادت کا اہتمام اچھی روش نہیں ، دعا اور ذکر الہی سب سے آسان ترین عبادات ہیں اور شوال کے چھ روزے رکھنے سے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے، آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

    ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    پی ڈی ایف فائل ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہی غالب، بخشنے والا، حلیم اور قدر دان ہے، اسے آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے راز بھی معلوم ہیں ۔ میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر حمد و شکر بجا لاتا ہوں، حاجت روائی اور مشکل کشائی پر مبنی ان نعمتوں کا شمار اس کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں، آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا، آپ کو اللہ نے ہدایت و نور کے ساتھ مبعوث فرمایا، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد -ﷺ-انکی آل اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    تقوی اختیار کرو، اور اس کے لئے اللہ کے احکامات کی تعمیل کرو اور ممنوعہ کاموں سے رک جاؤ؛ کیونکہ کوئی بھی تقوی کے بغیر کامیاب نہیں ہو گا نیز رو گردانی اور ہوس پرستی سے انسان نامراد ہوتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { فَأَمَّا مَنْ طَغَى (37) وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا(38) فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى (39) وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} اور جس نے سرکشی کی [37] اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی [38] تو جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے [39] اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اور نفس کو خواہشات سے روکا [40] تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔[النازعات : 40-41]

    اللہ کے بندو!

    یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ انسان کی کامیابی اور کامرانی ، دنیاوی اور اخروی سعادت مندی صرف اللہ رب العالمین کی اطاعت سے ہی ممکن ہے، اور اطاعت اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل اور منع کردہ چیزیں ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔

    چنانچہ جو لوگ اللہ تعالی کے احکامات بجا لاتے ہیں اور منع کردہ چیزوں سے دور رہتے ہیں تو: {فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (69) ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا} ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیا، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ، اور رفاقت کے لئے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں [69] یہ اللہ کا فضل ہے، اور علم رکھنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔[النساء: 69، 70]

    لیکن جو لوگ اللہ کے حکم کی تعمیل بھی کرتے ہیں اور ساتھ میں نافرمانیاں بھی کر جاتے ہیں تو انہوں نے اطاعت بھی کی ہے اور نافرمانی بھی ، ان کی نافرمانی سے اطاعت گزاری کو نقصان پہنچتا ہے اور نیکی کا ثواب کم ہو جاتا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اگر نافرمانی ایسی ہے جس سے نیکی باطل ہو جائے تو نیکی کا ثواب بالکل ختم بھی ہو سکتا ہے۔

    اس لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ جو شخص بھی یہ چاہتا ہے کہ اللہ کا کامل اطاعت گزار بن جائے تو وہ نیکیاں کرے اور حرام کاموں سے لازمی بچے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ} اے ایمان والو! اللہ کی اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، نیز اپنے اعمال ضائع مت کرو۔ [محمد: 33] یعنی مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کو نافرمانیوں سے ضائع مت کرو۔

    ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (11) وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (12) قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (13) قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي} آپ کہہ دیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ساری عبادت خالص اللہ کے لئے کرتے ہوئے اس کی بندگی کروں [12]اور مجھے اولین فرماں برداروں میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے [12] آپ کہہ دیں: اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خدشہ ہے۔ [13] آپ کہہ دیں: میں اپنی عبادات خالص اللہ کے لئے کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرتا ہوں ۔ [الزمر: 11 - 14]

    ایک اور مقام پر فرمایا: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا} اس عورت کی طرح نہ ہو جانا جس نے مضبوط سوت کاتا اور پھر اسے ادھیڑ دیا۔[النحل: 92] تو یہ چیز ہر ایسی نیکی کے بارے میں ہے جس کے بعد نیکی کو نقصان دینے والی بدی کا ارتکاب کیا جائے۔

    مفسرین کرام اللہ تعالی کے فرمان : {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ} کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو جس میں ہر طرح کے میوے پیدا ہوتے ہوں اور اسے بڑھاپا آلے اور اس کی اولاد چھوٹی چھوٹی ہو۔ (ان حالات میں) اس کے باغ کو ایک بگولا آلے جس میں آگ ہو اور وہ باغ کو جلا ڈالے؟ اللہ تعالی اسی انداز سے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو ۔[البقرة: 266] کے متعلق کہتے ہیں: "اللہ تعالی نے یہ مثال ایسی نیکیوں کے بارے میں بیان کی ہے جنہیں گناہ ختم کر دیتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں، اللہ ہمیں ایسے گناہوں سے محفوظ رکھے۔"

    سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روزِ قیامت تہامہ کے پہاڑوں جیسی چمکدار نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالی انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دے گا) اس پر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کے رسول! ہمیں ان کے اوصاف واضح کر کے بتلائیں کہیں ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جائیں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری قوم سے ہیں، وہ بھی رات کو اسی طرح قیام کرتے ہوں گے جس طرح تم کرتے ہو، لیکن [ان میں منفی بات یہ ہے کہ] وہ جس وقت تنہا ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کے حرام کردہ کام کر بیٹھتے ہیں ) ابن ماجہ نے اسے روایت کیا ہے اور یہ صحیح حدیث ہے۔

    اس حدیث میں ایسے تمام لوگوں کے لئے سخت وعید اور دھمکی ہے جنہیں اللہ کا خوف حرام کاموں سے نہیں روک پاتا، اور ایسے ہی ان لوگوں کے لئے بھی اس میں دھمکی ہے جو نیکیوں کے بعد برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی نے تم پر احسان کیا اور تمہیں خیر و برکت والے مہینے میں نیکیوں اور عبادات کی توفیق سے نوازا، تمہیں اس مہینے میں مہلک گناہوں سے بچایا اور حرام کاموں کی دعوت دینے سے والے شیطان سے محفوظ رکھا، اس طرح رمضان کی گھڑیاں اور ساعتیں تمہارے لیے انتہائی پاکیزہ بن گئیں ، تم نے ان سعادت بھرے لمحات میں قرآنی آیات سنیں، تمہارے دلوں کا رحمن کی اطاعت سے تزکیہ ہوا، تم نے شیطان کو رسوا کیا، نیکیوں کے لئے ایک دوسرے کے دست و بازو بنے، اب اللہ کے دشمن مذموم اور ملعون شیطان کی کوشش ہے کہ آزادی کے بعد تم سے بدلہ لے، اور تمہاری تمام تر نیکیوں کو اڑتی ہوئی دھول بنا دے، وہ چاہتا ہے کہ تقوی کی جگہ گناہ آ جائے اور بھلائی کی جگہ برائی آ جائے، اس کی بھر پور کوشش ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر کے جہنم میں لے جائے جو کہ بہت برا ٹھکانا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} بیشک تمہارا دشمن شیطان ہے، تم اسی کو اپنا دشمن سمجھو، وہ تو اپنی جماعت والوں کو دعوت ہی اس لیے دیتا ہے کہ وہ جہنمی بن جائیں۔[فاطر: 6] تو یہاں شیطان کو اپنا دشمن سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اطاعت گزاری پر کار بند رہیں ، اور حرام کاموں سے دور رہیں، تو ایسے لوگوں کے لئے دہری خوشخبری ہے جو نیکیوں کے بعد پھر نیکیاں کرتے ہیں اور اس کے لئے سلامتی ہے جو برائی کے بعد نیکیاں کرنے لگے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ یاد کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے۔ [هود: 114]

    مومن شخص ہر وقت اچھے عمل کرتا ہے اور ہمیشہ اللہ تعالی سے اچھے انجام کا سوال کرتا ہے؛ کیونکہ حسن خاتمہ کی دعا سے شیطان کی بہت زیادہ رسوائی ہوتی ہے۔

    جبکہ آخری سانس تک گناہ در گناہ کرتے چلے جانے والے کے لئے تباہی ہے، وہ ہوس پرستی میں گرتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دنیا کے درمیان موت حائل ہو جاتی ہے، پھر دنیا کی لذتیں کچھ کام نہیں آتیں اور اسے ندامت اور دائمی تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ (205) ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ (206) مَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ} بھلا دیکھیں! اگر ہم انہیں کئی برس عیش کرنے دیں [205] پھر ان کے پاس وعدہ شدہ عذاب آ جائے [206] تو ان کا سامان عیش ان کے کوئی کام نہ آئے گا۔ [الشعراء: 205 - 207]

    ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ} ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسے ان سے پہلے ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ یقیناً وہ بے چین کرنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔ [سبأ: 54]

    دنیاوی زندگی فریقین کے ٹھکانے کی گواہ ہے، تو کامیاب وہی ہے جو خود ہی عبرت حاصل کر لے، جبکہ ناکام وہی ہے جو راہ ہدایت سے رو گردانی کر لے اور نصیحت نہ پکڑے۔

    انسان! تم اپنے رب کے سامنے مال لے کر نہیں جاؤ گے!

    تم اپنے رب کے سامنے اہل و عیال اور دوستوں کے ساتھ نہیں جاؤ گے!

    نہ ہی تمہارے پاس عذاب سے امان کا پروانہ ہو گا!

    تم تو اپنے اعمال لیکر ہی اللہ کے سامنے حاضر ہو گے!

    تو اگر تمہارے اعمال اچھے ہوئے تو تمہیں منکر اور نکیر کے سوالوں کا جواب دینے کی صلاحیت دی جائے گی نیز تمہیں دائمی نعمتوں کی خوشخبری بھی ملے گی، اور اگر تمہارے اعمال ہی اچھے نہ ہوئے تو تم جواب نہیں دے سکو گے، تمہیں درد ناک عذاب بھی ملے گا: {وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ} تمہارے مال اور اولاد تمہیں ہمارے قریب نہیں کر سکتیں، تاہم جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کیے تو انہی کے لیے ان کے عمل کے عوض د گنا بدلہ ہے اور وہ بالا خانوں میں پر امن ہوں گے۔ [سبأ: 37]

    تمہاری اصل تجارت؛ اطاعتِ رب العالمین ہے، تمہاری کامیابی اطاعت میں پنہاں ہے، تمہاری سعادت اور عزت بھی اطاعت میں ہے۔ اور اطاعت اس وقت مفید اور شفاعت کا باعث بنتی ہے جب اس میں متعدد چیزیں پائی جائیں:

    1- اخلاص، یعنی مطلب یہ ہے کہ عبادت کے ذریعے رضائے الہی مطلوب ہو، ریاکاری، شہرت مطلوب نہ ہو۔

    2- اطاعت کا طریقہ سنت اور نبی ﷺ والا ہو۔

    3- آپ اطاعت کو ضائع کرنے والے امور سے بچائیں۔

    4- ہمیشہ اطاعت گزاری پر قائم رہیں ، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} اپنے رب کی عبادت کریں، یہاں تک کہ تمہارے پاس یقین آ جائے۔ [الحجر: 99] اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کہتے ہیں کہ: "یہاں یقین سے مراد موت ہے؛ کیونکہ موت یقینی چیز ہے" اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (عثمان بن مظعون کو یقین آ چکا ہے۔) یعنی وہ فوت ہو گئے ہیں۔

    جو کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جب بندہ ایمان کے درجے یقین تک پہنچ جائے تو تمام شرعی احکام سے آزاد ہو جاتا ہے، ایسا شخص سرکش ، گمراہ اور گمراہ کن شیطان ہے، اس کے حصے میں ذرہ برابر بھی اسلام نہیں ہے چاہے وہ لا الہ الا اللہ کہتا ہو؛ کیونکہ اس کی یہ بات ہی شہادتین کو کالعدم کر رہی ہے، ایسی بات کرنے والا اور اس کے ہمنوا لوگ شیطان کے پیروکار ہیں، یہ رحمن کے ولی نہیں ہیں چاہے ان کے ہاتھ پر عجیب و غریب چیزیں رونما ہوں، یہ چیزیں شیطان کی کارستانی ہوتی ہیں، یہ لوگ ایسی چیزیں دکھا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔

    اللہ کے ولی تو وہ ہوتے ہیں جو نمازیں قائم کریں، ارکان اسلام پر عمل پیرا ہوں، عقیدہ توحید کی آبیاری کے لئے عبادت، دعا، ذبح، نذر اور مدد طلبی اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کے لئے بجا لائیں، اللہ تعالی کے لئے اسما و صفات اور افعال ایسے ثابت سمجھیں کہ ان میں کوئی تاویل، تعطیل اور تحریف نہ ہو، ان کا وہی مفہوم سمجھیں جو صحابہ ، تابعین اور ان کے پیروکاروں نے سمجھا۔

    کیا شرعی احکام رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کو معاف ہو گئے تھے؟

    کیا رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو چھپا کر رکھا اور ان جاہلوں اور گمراہوں کو وہ حقیقت معلوم ہو گئی ہے؟!

    ان کی یہ بات اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ پر کتنا بڑا جھوٹ ہے کہ شریعت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے، یا وہ کہتے ہیں کہ اسلام شریعت اور طریقت ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں باطن اور طریقت کا علم ہے، یہ لوگ در حقیقت ملت اسلامیہ کے دشمن ہی نہیں بلکہ انسانیت کے بھی دشمن ہیں، یہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ، یہ قرآن اور سنت کو عملی طور پر مفلوج کرنے والے ہیں، اور اللہ کے کھلے دشمن ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سچ ہے کہ: (ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہوتا ہے)

    اس لئے اے مسلم!

    جب تک جسم اور روح کا ناتا قائم ہے اپنے پروردگار کی بندگی میں لگے رہو، اور نبی ہدی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت سے متصادم بدعات سے بچو، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} تمہیں جو حکم دیا گیا ہے تم اور تمہارے توبہ کرنے والے ساتھی [ہمارے احکامات پر]ڈٹ جاؤ، اور حد سے نہ بڑھو، بے شک وہ تمہاری کارکردگی کو خوب دیکھنے والا ہے۔ [هود: 112]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

    دوسرا خطبہ
    تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں ، وہی بادشاہ، حق اور ہر چیز واضح کرنے والا ہے، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر اسی کے لئے حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، سچی اور یقینی گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نیز یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد -ﷺ-صادق، امین بندے اور رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی آل، اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    خلوت و جلوت میں اللہ تعالی سے ڈرو، تمہارا پروردگار ہی ڈرنے کے لائق اور بخشنے والا ہے۔

    اللہ کے بندو!

    عبادت اور بندگی کا مہینہ چلا گیا ہے، اللہ تعالی نے اس امت کے لئے خیر و بھلائی کے دروازے رمضان کے بعد بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں؛ چنانچہ فرائض اب بھی فرض ہیں اور ان کا اجر بھی بڑھا چڑھا کر دیا جاتا ہے، ایسے ہی جو بھی عمل رمضان میں شرعاً جائز تھا وہ سارا سال وجوب یا استحباب کے طور پر جائز ہے۔

    تمہارا رب چونکہ رحمن و رحیم ہے اس لیے اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ایسے اعمال فرض کرتا ہے جو لوگوں کے لئے دائمی رحمت کا موجب بنتے ہیں، تو یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ وہ کبھی بندوں سے اپنا فضل ، احسان اور کرم نہیں روکتا، ہمارے پروردگار کی ہی آسمان و زمین میں بندگی کی جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ} وہی ہے جس کی آسمان اور زمین میں بندگی کی جاتی ہے، اور وہی حکمت والا جاننے والا ہے۔[الزخرف: 84]

    ہر دور میں اسی کی بندگی کی جاتی رہی ہے، وہ ذاتی طور پر غنی ہے، ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے، ان کی زندگی اللہ کی رحمت ، قدرت، اور علم کے بغیر بالکل ممکن نہیں، اللہ سبحانہ و تعالی کا عبادت اور ذکر پر سب زیادہ حق ہے۔

    بشر الحافی سے کہا گیا: کچھ لوگ رمضان میں تو خوب عبادت کرتے ہیں لیکن جب رمضان گزر جائے تو بھول جاتے ہیں، تو کہنے لگے: " وہ بہت برے لوگ ہیں کہ اللہ کو صرف رمضان میں ہی یاد کرتے ہیں۔"

    رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے وصیت فرمائی: (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد نیکی کرو تو نیکی برائی کو مٹا دے گی)

    آسان ترین عبادت دعا اور ذکر الہی ہے، اس لیے کثرت کے ساتھ دعائیں کرو اور اللہ کا ذکر کرو، اپنے دشمن یعنی شیطان کو دھول چٹانے کے لئے استقامت کے ساتھ عبادت کرو اور برائی سے اجتناب کرو، شیطان ملعون کو علم ہے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے۔

    ویسے تو نیکی کے آسان ذرائع اور بھی بہت ہیں ، تاہم صحیح مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں شوال میں چھ روزے رکھنے کی ترغیب دلائی کہ رمضان کے روزوں کے ساتھ مل کر پورے سال کے روزوں کی طرح ہو جائیں گے۔

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو [الأحزاب: 56] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

    اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود پڑھو۔

    اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْراً۔

    یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا۔ تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ! کفر اور کافروں سمیت شرک اور مشرکوں کو بھی ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تیرے اور دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    یا اللہ! ہمارے اگلے ، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی تہ و بالا کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے تیری رضا اور جنت کا سوال کرتے ہیں، اور جہنم سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

    یا اللہ! تو نے ہماری جن عبادات کے لئے مدد فرمائی اور ہمیں جن عبادات کی توفیق دی، جو عبادات ہمارے لیے آسان فرمائیں، یا رب العالمین! یہ تیرا ہی احسان اور امتنان ہے، اس پر تیرا ہی شکر اور حمد بیان کرتے ہیں، یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ان تمام عبادات کو ہمارے لیے محفوظ فرما لے، یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہماری کی ہوئی ایک نیکی بھی رائیگاں جائے، یا اللہ! ہماری برائیاں مٹا دے، یا اللہ! ہمارے گناہ بھی معاف فرما دے۔

    یا اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بہتر فرما دے، یا اللہ! ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما دے۔

    یا اللہ! ہمیں ،ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے۔

    یا اللہ! ہمیں حق بات کو حق سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اتباعِ حق بھی عطا فرما، یا اللہ! ہمیں باطل کو باطل سمجھنے کی توفیق دے اور پھر اس سے اجتناب کرنے کی قوت بھی عطا فرما۔

    یا اللہ! پوری دنیا میں اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    یا اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے، اور ہمارے عیوب چھپا دے۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ مسلمان مقروض لوگوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ مسلمان مقروض لوگوں کے قرضے چکا دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما دے۔

    یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ،شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، یا ذالجلال والا کرام! یا اللہ! انسانی اور جناتی تمام شیطانوں سے ہمیں محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! مسلمانوں کو شیطان ،شیطانی چیلوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! ہم تجھ سے ابتدا سے انتہا تک ، ظاہری اور باطنی ہر قسم کی خیر مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے ہمہ قسم کے شر سے پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ جلد آنے والا ہے یا دیر سے، چاہے ہمیں معلوم ہے یا نہیں۔

    یا اللہ! تمام مسلمانوں کے درمیان الفت پیدا فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کے درمیان الفت پیدا فرما، یا اللہ! جو آپس میں ناراض ہیں ان کی صلح فرما دے۔

    یا اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو تیرے دین کی سمجھ عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مشکل کشائی فرما دے، یا اللہ! مسلمانوں کو ہر قسم کی سزاؤں سے محفوظ فرما دے، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما، یا اللہ! انہیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    یا اللہ! ہمارے ملک کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی شریروں کے شر سے حفاظت فرما، یا اللہ! ظالموں اور جارحیت کرنے والوں سے ہمارے ملک کی حفاظت فرما۔

    یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! جارحیت کرنے والوں کے خلاف ان کی مدد فرما۔

    یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! تیری مرضی کے مطابق ان کی رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلیے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ انہیں صحیح فیصلے اور اچھے کام کرنے میں کامیابی عطا فرما، یا اللہ! انہیں ہمہ قسم کے بھلائی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اسلام کی مدد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ان کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں صحیح فیصلے اور اچھے کام کرنے میں کامیابی عطا فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اسلام کی مدد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

    یا اللہ! ہمارے ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو پر امن بنا دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم تجھ سے حسن خاتمہ کا سوال کرتے ہیں۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے دنیا اور آخرت میں بھلائی کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما،

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

    عظمت و جلالت والے اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,448
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں