خطبہ حرم مکی "عبادات پر مداومت رمضان کے بعد سال کے باقی مہینوں میں بھی" 4شوال 1440هـ شیخ سعود الشریم

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 9, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    25


    فضیلۃ الشیخ سعود بن ابراہیم الشریم (حفظہ اللہ تعالی) نے مسجد حرام میں 5 شوال 1440ھ کا خطبہ جمعہ '' عبادات پر مداومت رمضان کے بعد سال کے باقی مہینوں میں بھی'' کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ نیکی کے بعد دوبارہ برائی نیک اعمال کو گدلا کر دیتی ہے ، اس لئے نبی ﷺ بھی اطاعت کے بعد معصیت سے پناہ مانگتے تھے ،رمضان کے مہینے میں اللہ کی توفیق سے نیک کام کرنے کے بعد سال کے باقی مہینوں میں بھی ان نیک کاموں پر مداومت اختیار کریں ، دین اسلام میں کثرت عمل مطلوب نہیں بلکہ بہترین عمل مطلوب ہے جو کہ اللہ کی رضا اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ہو، اسی طرح نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ تعالی کو بھی وہ عمل پسند ہے جس پر مداومت ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ رمضان میں انسان جن نیک اعمال کی تربیت حاصل کرتا ہے اسے چاہیے کہ باقی مہینوں میں بھی ان پر ہمیشگی اختیار کرے، کیونکہ جس رب کی رمضان میں عبادت کی جاتی تھی وہ ہر رب شوال اور سال کے باقی مہینوں کا بھی رب ہے ۔

    رمضان کے بعد شوال کا مہینہ آتا ہے جس کو کچھ خصوصیات حاصل ہیں جیسے کے اس میں عید الفطر ہے ،یہ حج کے مہینوں میں پہلا مہینہ ہے اور اسی طرح میں چھ روزوں کو خصوصی فضیلت حاصل ہے جیسے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا کہ اس نے سال بھر کے روزے رکھے۔(صحیح مسلم)

    فرہاد احمد سالم (مکہ مکرمہ)

    ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:

    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں جو عظمت اور بڑائی کے ساتھ جمال و کمال میں اکیلا ہے، تقدیر و تدبیر کے اعتبار سے تفصیلی و اجمالی طور پر حالات کے الٹ پھیر کرنے میں منفرد ہے ،اپنی عظمت و بزرگی میں بلند ہے ،اس نے اپنے بندے پر حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب ( قرآن) نازل فرمائی تاکہ جہاں میں خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا ہو، نیز اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ ہو ۔

    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ ﷺ روشن چہرے اور چمک دار پیشانی والے ہیں ، نیز رسولوں کے سردار، روشن ہاتھ پاؤں والوں کے سردار ہیں ،

    آپ ﷺ پر آپ کی پاکیزہ اولاد ،آپ کی بیویاں امہات المومنین ، روشن پاکباز، اور مبارک صحابہ ،تابعین اور قیامت تک حق کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر ڈھیروں درود اور پاکیزہ سلامتی نازل ہو۔

    حمد و صلاۃ کے بعد!

    اللہ کے بندو ، اللہ کا تقوی اختیار کرو ، جب تک تم زمانہ مہلت میں ہو اللہ کا تقوی اختیار کرو اس لئے کہ وقت تیزی سے گزرنے والا اور آہستہ لوٹنے والا ہے ۔

    تمہیں زائل ہونے والی دنیا باقی رہنے والی آخرت سے غفلت میں نہ ڈال دے ، اس لئے کہ جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور اچھا انجام متقین کا ہے ۔

    اللہ کے بندو! رات و دن کی حرکت ہمیں زمانے کے قریب ہونے اور اس کے تیزی سے گزرنے کا احساس دلاتی ہے ،جیسی کہ وقت بادل کی تیز رفتاری کی طرح گزر رہا ہے، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر ایک اس کی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے ،کہ ہفتہ دن کی طرح اور مہینہ ہفتے کی طرح اور سال مہینے کی طرح گزرتا ہے ۔

    ہم اپنے دین کہ ذریعے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ چیز قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ،جیسے کہ صادق مصدوق نبی ﷺ کی صحیح حدیث ہے ۔

    اللہ کے بندو !یہ سب عقل و دانشمند کو بیدار کرنے کے لئے عظیم موقع ہے کہ وہ نیکی کے کام ، اور سچی توبہ کریں نیز اچھائی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا} [الفرقان:62[

    وہ ہی ہے جس نے رات دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا تاکہ جو چاہے نصیحت حاصل کرے یا شکر گزاری کرے۔

    اللہ کے بندو ! جب برائی کا کام قبیح ہے۔، تو نیکی کے بعد برائی کرنا کتنا گھناؤنا اور قبیح ترین ہو گا۔

    اگر نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں تو نیکی کے بعد برائی نیک اعمال کو گدلا کر دیتی اور اس میں رکاوٹ ڈالتی ہے ۔

    ہمارے نبی ﷺ اطاعت کے بعد معصیت سے پناہ مانگتے تھے ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    { وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا} [النحل: 92]

    اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکرے ٹکرے کر ڈالا۔

    اللہ کے بندو !

    اسی لئے جو شخص ذمہ داری پوری کرنے کے بعد کوتاہی کرے، یا گناہوں کو چھوڑنے کے بعد دوبارہ کرنے لگے تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہوں نے اطاعت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور پھر اس کو برباد کیا ۔

    اگرچہ اس نے معمولی موسمی عبادتوں کے ذریعے اپنے نفس کو دھوکے میں رکھا، مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا ۔

    یہ اس وقت ہوتا ہے جب نیکی کرتے وقت مناجات کی لذت اور عبادت کی حلاوت سے محرومی ہو ، اور نیکی سے پہلے والی حالت پر دوبارہ لوٹنے کا عزم ہو۔

    اے اللہ کے بندو غور کرو! اے اللہ کے بندو غور کرو!

    کہ تم نے رمضان کے مہینے میں عبادت کے کچھ مزے کو چکھا ہے ، اب ہرگز اس مزے کو ان چیزوں سے خراب نہ کرو جو انہیں معیوب کر دیں ۔

    آپ عبادت پر مداومت اختیار کرو اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ عبادت میں مقدار مطلوب نہیں بلکہ کیفیت مطلوب ہے۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا} [الملك: 2]

    تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔

    یہ نہیں کہا کہ زیادہ عمل کون لاتا ہے ،اللہ کے حکم سے کم عمل پر مداومت عبادت میں نشاط و قوت کے بعد سستی میں مبتلا ہونے سے نگرانی کرتا ہے ۔

    اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

    تم پر اتنا عمل ضروری ہے جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو ، اللہ کی قسم اللہ تعالی نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ، اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین وہ ہے جس پر اس کا ماننے والا مداومت اختیار کرے ،(صحیح مسلم )

    اللہ کے بندو! جان لو توفیق یافتہ انسان اپنے اوقات کو اللہ کی اطاعت میں گزارتا ہے غرض یہ کہ کھڑے بیٹھے ، چلتے پھرتے اور پہلو کے بل بھی اللہ کی عبادت کرتا ہے ، نیز ہر وقت اپنے خالق کی معرفت رکھتا ہے خواہ وہ رمضان ، شوال یا سال کا کوئی بھی مہینہ یا وقت ہو ۔

    یہ کہ ان اوقات کے متعلق سارے انسان بلا تفریق سوال کیے جائیں گے، سال کے تمام مہینے ہیں کہ انسان کی عمر کا وقت ان میں گزرتا ہے اور وہ بلا شک و شبہ اپنی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

    نبی ﷺ نے فرمایا اور آپ صادق مصدوق ہیں ،

    بندے کے قدم قیامت کے دن نہیں ہل سکیں گے یہاں تک کہ چار چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،( ابن ماجہ)

    اس لئے توفیق یافتہ انسان عبادت کو کسی مہینے میں چھوڑ کر دوسرے مہینے میں محصور نہیں کرتا اس لئے کہ و ہ جانتا ہے کہ رمضان کا رب ہی شوال اور باقی مہینوں کا رب ہے،

    چنانچہ یہ توفیق یافتہ انسان اسی وقت جان لیتا ہے کہ عبادت کے موسم ایک دوسرے پر فضیلت تو رکھتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں الگ نہیں ۔

    جبکہ لوگوں میں کم عقل لوگوں کا یہ گمان ہے کہ رمضان کا مہینہ استثنائی مہینہ ہے اور وہ رمضان سے قبل اور اس کے بعد کی معصیت کے درمیان فاصل ہے، اور اللہ کی قسم یہ یقیناً جہالت، کج روی اور بصیرت کی کمی ہے ۔

    اسی طرح توفیق یافتہ انسان یہ جانتا ہے کہ مشروع عید کی خوشی عبادت ہے جس طرح اس کا مشروع روزہ عبادت ہے ۔

    جب رمضان کا مہینہ ایک مہینے میں کئی طرح کی عبادات کے اجتماع سے مخصوص ہے انسان اس میں چھوڑنے اور آراستہ کرنے کے مابین جمع کرتا ہے ، تو ان اکٹھی عبادتوں کو بندہ بقیہ مہینوں میں اپنے سامنے الگ الگ پاتا ہے ۔

    پھر کون سی چیز اس کو شوال کے مہینے میں پیر اور جمعرات اور ایام بیض کے روزوں سے روکتی ہے ، اور کون سی چیز اس کو صدقہ ، ذکر اور قرآن کی تلاوت سے روکتی ہے ؟اسی طرح سال کے باقی مہینوں کے متعلق بھی یہ ہی بات ہے۔

    نبی ﷺ نے شوال کو چھ روزوں سے خاص فرمایا جیسے کہ آپ ﷺ سے ثابت ہے ،

    جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا کہ اس نے سال بھر روزے رکھے۔(صحیح مسلم)

    حاصل کلام یہ ہے کہ نیکی کا اجر دس گناہ ملتا ہے رمضان کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے ساٹھ روزوں(دو ماہ) کے برابر ہیں تو گویا کل تعداد بارہ مہینے کی ہو گی ، یعنی مکمل زمانہ اور زمانہ سے مراد سال ہے ۔

    یہ بندوں پر اللہ کی رحمت ہے کہ ان کو پورے سال کے روزوں سے منع فرمایا ہے جیسے کہ اس بارے میں نبی ﷺ سے صحیح روایات میں ثابت ہے ۔

    تو ان کے لئے رمضان کے مکمل اور شوال کے چھ روزوں میں پورا سال روزہ رکھنے کا اجر اگر ملتا ہے ،اور یہ اجر پورے سال کے روزے کی ممانعت میں مبتلا ہوئے بغیر ملتا ہے ، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔

    شوال کے مہینے کو ایسی خصوصیات سے مختص کیا گیا ہے جو اس کے علاوہ مہینوں میں نہیں ہیں ، وہ یہ کہ ماہ شوال ان معروف مہینوں میں پہلا ہے جن میں حج فرض ہے اور وہ شوال ، ذوالقعدہ ، اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں ۔

    اسی طرح شوال کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں عید الفطر ہے ،اسی طرح اس میں چھ روزوں بھی مخصوص فرمایا۔

    اللہ کے بندو خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان بندہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی عبادت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے اس پربھی اس کو اجر ہے ۔

    برائیوں کے مٹانے میں اللہ کے لئے توحید کو خالص کرنے سے زیادہ عظیم کوئی چیز نہیں ،پھر نیکیوں کی کثرت جن کے ذریعے انسان اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کرتا ہے ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ } [هود: 114]

    اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔

    میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔


    دوسرا خطبہ!

    تمام تعریفات جہانوں کے رب اللہ کے لئے ہیں ،درود و سلام نازل ہو انبیاء و رسل میں معزز ترین ذات محمد ﷺ پر ۔

    حمد و صلاۃ کے بعد!

    سب سے بہترین بات اللہ کا کلام اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے ، نیز سب سے بری بات دین میں نئی چیزوں کا ایجاد کرنا ہے ، دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ،

    تم مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑو اس لئے کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے ۔جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں ڈال دیا گیا ۔

    اللہ کے بندو ، اللہ کا تقوی اختیار کرو ، اور جان لو جو رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان چلا گیا اور فوت ہو گیا، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اس کو موت نہیں ۔

    عقلمند وہ ہے جس نے محاسبہ نفس کیا اور اللہ کی عبادت کی اور موت کے بعد کے لئے عمل کیا،

    عاجز وہ ہے جس کے نفس نے خواہشات کی پیروی کی اور اللہ سے امیدیں لگائیں ۔

    جان لو کہ انسان اپنی عمر کو اپنے رب کی ناراضگی کی چیزوں میں ضائع نہ کرے اور تمام مہینوں میں خیر کو غنیمت جاننے میں کوتاہی نہ کرے نیز خیر کے حصول کے لئے اللہ سے مدد طلب کرے ، جیسے کہ نبی ﷺ اپنی مشہور دعا میں کہا کرتے تھے،۔

    زندگی میں خیر کو میرے لئے ہر طرح کے اضافے کا ذریعہ بنا دے ۔

    اگر وہ خیر کو صرف رمضان میں محدود نہ کرے ،بلکہ خیر تو ہر زمانے میں ہے ،اسے تلاش کرنا ہر وقت مطلوب ہے ،یہ سب اللہ جلّ جلالہ کے حکم کی تکمیل ہے ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} [الحجر: 99]

    اپنے رب کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آلے۔

    عبادت اور اللہ سے قریب ہونے کی موت کے سوا کوئی انتہا نہیں۔

    اللہ کے بندو بندگی پر مداومت اور اللہ کی رضا تلاش کرنے میں جمے رہنے کا بھر پور خیال رکھیں اور ڈٹے رہیں ۔

    خیر نیکی اور حسن سلوک کی راہ پر برابر چلنے سے کمزور نہ پڑھیں اور سستی نہ برتیں ،

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [الزمر: 10]

    بےشک صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بے شمار دیا جائے گا۔

    انسان دنیا مہلت میں ہے ان چیزوں کے اوقات کو غنیمت جاننے میں کوتاہی نہ کرے جو اللہ کو راضی کریں ، تمہارے اموال و اولاد اور تمہاری عیدیں تمہیں رب کی اطاعت سے غافل نہ کر دیں ،اس لئے کہ موت اچانک آئے گی ،

    حساب سخت ہے ندامت بڑی ہوگی اور وہ ندامت کی گھڑی نہ ہو گی ،

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (9) وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ (10) وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (11) } [المنافقون: 9 - 11]

    اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو ایسا کرے گا تو وہ ہی خسارہ اٹھانے والا ہے ، اور اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کیا کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے پھر وہ کہے اے رب! تو نے مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوں میں ہو جاتا ، اور جب کسی کان کا وقت آ جائے تو اللہ ہر گز مہلت نہیں دے گا، اور جو تم کر رہے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

    مخلوق کے بہترین انسان ،اور انسانوں میں سب سے پاکیزہ، حوض کوثر اور شفاعت والے ، محمد ﷺ بن عبداللہ پر درود و سلام بھیجو،

    اللہ تعالی نے تمہیں اس بات کا حکم دیا اور اس کا آغاز اپنی ذات سے پھر پاکیزگی کے ساتھ تسبیح بیان کرنے والے فرشتوں سے اور پھر اے مومنوں تمہیں حکم دیا۔

    اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [الأحزاب: 56]

    اے ایمان والو آپ ﷺ پر خوب درود اور کثرت سے سلام بھیجو۔

    اے اللہ اپنے بندے اور رسول ،روشن چہرے ، اور خندہ پیشانی کے مالک، پر درور و سلام نازل فرما،

    یا اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، انکے ساتھ ساتھ اہل بیت، تمام صحابہ کرام ، تابعین اور احسان کے ساتھ قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں سے راضی ہو جا، نیز ان کے ساتھ اپنی معافی ،کرم اور سخاوت کا معاملہ فرما ۔یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔

    یا اللہ اپنے دین، کتاب ، نبی ﷺ کی سنت اور مومن بندوں کو غلبہ عطا فرما۔

    یا اللہ مسلمانوں میں مومنین کے غموں کو دور کر کے کشادگی فرما۔ پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما۔ اور مقروضوں کے قرضے اتار دے۔ ہماری اور مسلمانوں کی بیماریوں کو اپنی رحمت سے شفاء عطا فرما۔ یا ارحم الراحمین۔

    یا اللہ ہمارے دلوں کو تقوی دے، ان کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی ان کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے۔

    یا اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، اور ہمارے ائمہ ، اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔اور اس کو ہمارا ولی بنانا جو تجھ سے ڈرتا ۔ متقی اور تیری رضا کی پیروی کرنے والا ہو۔

    یا اللہ!ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ اور رضا کے موجب کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری رضا اور رہنمائی کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو ہر خیر کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا ارحم الراحمین!

    سُبْحَانَ رَبِّنا رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

    پاک ہے ہمارا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں اور پیغمبروں پر سلام ہے۔ اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں