خطبہ حرم مکی "ازدواجی زندگی کے لیے رہنما تعلیمات" المعیقلی 11 شوال1440ھ بمطابق 14 جون2019

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 17, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    22

    فضیلۃ الشیخ ماہر بن حمد المعیقلی (حفظہ اللہ تعالی) نے مسجد حرام میں 11 شوال 1440ھ کا خطبہ جمعہ '' ازدواجی زندگی کے متعلق رہنما تعلیمات'' کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے شادی کا حکم دیا اور اس کو انبیاء و رسل کی سنت قرار دیا چنانچہ شریعت الہی نے نکاح کو آسان کیا اور اس کو عفت اور پاکدامنی کا ذریعہ بنایا۔ ازدواجی زندگی شوہر اور بیوی کی ضرورت ہے اس سے ان دونوں کی زندگی سنورتی ہے ۔ ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنانے کے لئے شوہر اور بیوی دونوں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جن میں شوہر اور بیوی کا آپس میں دینی و دنیوی معاملات میں تعاون، ایک دوسرے کی خدمت، آپس کے معاملات میں رعایت نیز آپس میں غم و پریشانی دور کرنا شامل ہے ۔اسی طرح شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کی ضروریات کو حسب استطاعت پورا کرے اور رہن سہن میں اسے اپنے برابر رکھے اسی طرح بیوی شوہر ہر خرچ سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد اور پوشیدہ رازوں کی حفاظت بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ ازدواجی زندگی میں محبت ، نرمی اور حسن ظن زندگی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔ اسی طرح خوشی مسرت اور تفریح بھی حسن معاشرت میں شامل ہیں۔ ٖغرض یہ کہ ان اچھی صفات کے ساتھ ازدواجی زندگی نیکی تقوی میں معاون اور حسن ایمان کی علامت ہے۔
    فرہاد احمد سالم (مکہ مکرمہ)
    ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    پہلا خطبہ:
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا اور کامل بنایا ،نیز ٹھیک تخمینہ لگایا اور رہنمائی فرمائی ۔ اسی نے ٹپکتے ہوئے قطرے سے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں ۔میں اللہ پاک کی حمد بیان کرتا اور شکر ادا کرتا ہوں ،نیز اس کی تعریف کرتا اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ تعالی آپ ﷺ پر آپ کی آل ، صحابہ ، تابعین اور بہترین انداز میں قیامت تک آپ کی پیروی کرنے والوں پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1]
    لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے (دنیا میں) بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی رشتوں کے معاملہ میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے
    امت اسلام!
    ان دنوں میں جب کہ شادی کی تقریبات کثرت سے ہوتی ہیں شادی کے متعلق گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ گفتگو قرآن و حدیث کے دلائل اور نصیحتوں کا تقاضا کرتی ہے ۔
    جیسے کہ اللہ تعالی نے شادی کا حکم دیا اس کی ترغیب دلائی اور اس کو انبیاء اور رسل کی سنت قرار دیا ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    { وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً } [الرعد: 38]
    ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی اللہ کی شریعت نے نکاح کو آسان بنایا، پس شریعت نے ہر اس چیز سے روکا جس سے نکاح کی تکمیل میں رکاوٹ ہو یا آسان نکاح کو مشکل بنا دے۔
    دنیا کا سب سے بہترین ذریعہ لطف اندوزی نیک بیوی ہے کہ جب شوہر اس کو دیکھے تو خوش کر دیتی ہے ، جب حکم دے تو بجا لاتی ہے اور جب خاوند موجود نہ ہو تو اس کی ہر چیز کی حفاظت کرتی ہے ۔
    شادی ایک مضبوط عہد ہے یہ اللہ کے فضل سے دنیا میں شروع ہوکر آخرت میں بھی قائم رہتی ہے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    {جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ } [الرعد: 23، 24]
    وہ گھر جو ہمیشہ قائم رہنے والے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے آباء و اجداد، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی داخل ہوں گے اور فرشتے (جنت کے) ہر دروازے سے ان کے استقبال کو آئیں گے۔(اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم (دنیا میں مصائب پر) صبر کرتے رہے۔ سو یہ آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے۔
    مسلم اقوام!
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ازواجی زندگی شوہر اور بیوی دونوں کی ضرورت ہے ، یہ ضرورت دلہا اور دلہن دونوں کو ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ان کی زندگی سنورتی ہے اور محبت و الفت کے ماحول میں بچوں کی پرورش ہوتی ہے تو یہ اچھی معاشرت، پاکیزہ معاملات اور نرمی کے بغیر ممکن نہیں۔
    اور یہ اللہ تعالی کے اس حکم کی تعمیل ہے: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: 19]
    اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔
    اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنے کا مطلب ہے کہ ان کے ساتھ ہر اس طریقے سے اچھائی کرو جو اچھائی شرعی طور پر معروف ہے اور حسب قدرت اچھی باتیں اور اچھے کام وغیرہ کرو۔
    حسن معاشرت میں شوہر اور بیوی دونوں کا دین و دنیا کے معاملات کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے تعاون بھی شامل ہے ۔اللہ کے نبی ﷺ کا بھی یہ ہی طریقہ تھا، چنانچہ مسند امام احمد میں ہے :
    هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ.
    سیدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) سے دریافت کیا کہ آیا اللہ کے رسول ﷺ گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ اپنے جوتے مرمت کر لیتے، کپڑے کو سلائی کر لیتے اور آپ ﷺ اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کاج کرتا ہے۔
    شوہر بیوی دونوں میں سے کسی ایک کے لئے بھی درست نہیں کہ وہ ایک دوسرے کی خدمت سے یا اپنی ذمہ داری سے دور بھاگیں یا ایک دوسرے پر احسان جتلائیں ۔
    نبی ﷺ نے فرمایا:
    خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي
    تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔ (جامع ترمذی)
    مسلم اقوام!
    حسن معاشرت کے مظاہر میں یہ بھی ہے کہ شوہر اور بیوی آپس میں خیال رکھیں، ایک دوسرے کے غم و پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کریں اور آپس میں فرحت و مسرت پیدا کریں۔
    خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے عمل کو دیکھیے جب جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس پہلی مرتبہ آئے ،تو آپ ﷺ اس حال میں گھر لوٹے کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے مجھے پر چادر ڈالو ، مجھ پر چادر ڈالو، چنانچہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) نے اس وقت بہترین انداز میں اپنے فریضے کو سر انجام دیا تو آپ ﷺ کو سکون محسوس ہوا اور دل مطمئن ہو گیا۔ آپ (رضی اللہ عنہا) کی سیرت سے انسیت اور الفت کا سبق ملتا ہے ۔ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور وہ صاحب علم تھے ، تو انہوں نے کہا کہ یہ تو وہ ہی ناموس (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ہے جو اللہ نے موسی پر اتارا تھا)۔
    حسن معاشرت میں یہ بھی ہے کہ خوشحالی کی حالت میں شوہر اپنی بیوی کے خرچے میں تنگی نہ کرے اور رہن سہن میں اپنے برابر رکھے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ} [الطلاق: 6]
    انہیں اپنی طاقت کے مطابق وہاں رہائش دو جہاں تم رہتے ہو ، اور انہیں اس لئے تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو۔
    آپ کے خرچ کے سب سے زیادہ مستحق آپ کے اہل و عیال اور خواص ہیں ، ان پر خرچ کرنا ضائع کرنا نہیں ہے بلکہ یہ باقی رہنے والا صدقہ ہے ۔
    اللہ کے نبی ﷺ نے اس معاملے کی عظمت اور اس کے بڑے اجر کو بیان کیا ۔
    صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ( جن دیناروں پر اجر ملتا ہے ان میں سے ) ایک دینا وہ ہے جسےتو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی کی گردن ( کی آزادی ) کے لیے خرچ کیا ایک دینا ر وہ ہے جسے تو نے مسکین پر صدقہ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے گھر والوں پر صرف کیا ان میں سب سے عظیم اجر اس دینار کا ہے جسے تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ۔
    اسی کے بالمقابل بیوی کے لئے بھی جائز نہیں کہ شوہر پر خرچ کا اتنا بوجھ ڈالے جو وہ اٹھا نہ سکے، اور خصوصاً اگر مطلوبہ چیز کا تعلق سہولیات سے ہو نہ کہ ضروریات سے ۔
    شریعت نے خرچ کی مقدار حسب استطاعت مقرر کی ہے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا } [الطلاق: 7]
    لازم ہے کہ وسعت والے اپنی وسعت میں سے خرچ کرے ، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جتنا اللہ نے اسے دیا ہے ، اللہ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی جو اسے دیا ہے ، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کرے گا۔
    بڑا پن اور اعلی کردار یہ ہے کہ شوہر بیوی کے مال سے اس کی رضامندی اور خوشی کے بغیر نہ لے ، چنانچہ اگر شوہر ضرورت مند ہو اور اللہ نے عورت کو اپنا فضل دیا ہو تو حسن معاشرت میں یہ ہے کہ بیوی اللہ کے عطا کردہ مال میں سے اپنے شوہر کی مدد کرے ۔
    اللہ کے نبی ﷺ عید الفطر یا عید الاضحی میں نکلے اور لوگوں کو وعظ کیا اور کہا:
    اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو کہ میں نے تمہاری اکثریت کو جہنم میں دیکھا ہے جب آپ گھر آئے تو آپ کے پاس ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کی بیوی زینب آئیں اور کہا اللہ کے نبی آج آپ نے صدقے کا حکم دیا ہے اور میرے پاس میرے زیور ہیں میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں ، ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کا خیال یہ ہے کہ وہ اور ان کی اولاد اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ابن مسعود صحیح کہتے ہیں تمہارا شوہر اور اولاد اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ تم ان پر صدقہ کرو اور دوسری روایت میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں اس کے دو اجر ہیں ایک قرابت کا اجر اور دوسرا صدقے کا اجر (متفق علیہ)
    شریک حیات!
    حسن معاشرت کی خصلتوں میں شوہر اور بیوی کا ایک دوسر ے پر بھروسا کرنا بھی شامل ہے ، معتدل غیرت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تو اعلی مروت میں شامل اور محبت کی دلیل ہے ۔
    صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ کو غیرت آتی ہے اور مومن کو بھی غیرت آتی ہے ۔
    لیکن حد سے بڑھی ہوئی غیرت مسئلہ ہے کیونکہ اس سے بد گمانی پیدا ہوتی ہے ،اسی طرح اگر ہر بات کی غلط تاویل کی جائے کہ جس سے معاشرت کی شفافیت پر داغ آتا ہو ،اور ازدواجی زندگی منہدم ہو تی ہو تو یہ غیرت قابل مذمت ہے۔
    علی (رضی اللہ عنہ) کا قول ہے : اپنے اہل و عیال پر زیادہ غیرت نہ کرو کہ تمہاری وجہ سے ان پر تہمت لگنے لگے۔
    اللہ کے بندو! حسن معاشرت میں ازدواجی تعلقات کے رازوں کی حفاظت بھی شامل ہے اس لئے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ انتہائی گہرا رشتہ ہے ۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    {هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ} [البقرة: 187]
    وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔
    ازدواجی زندگی کے رازوں کو شریعت نے خفیہ رکھنے کا حکم دیا ہے ،جہاں تک ان کو عام کرنے اور پھیلانے کی بات ہے تو یہ بڑی خیانت ہے جو قیامت کے دن ایسا کرنے والے کو بد ترین درجے میں لے جائے گی۔
    صحیح مسلم میں ہے :
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے ہاں لوگوں میں مرتبے کے اعتبار سے بدترین آدمی وہ ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس خلوت میں جاتا ہے اور وہ اس کے پاس خلوت میں آتی ہے پھر وہ (آدمی) اس کا راز افشا کر دیتا ہے ۔
    حسن معاشرت میں بیوی کے ساتھ ایسی تفریح بھی ہے جس سے خوشی اور مسرت حاصل ہو ، جو آدمی نبی ﷺ کی زندگی پر غور کرے گا وہ یہ بات جان لے گا کہ نبوت کی ذمہ داری کے باوجود بیویوں کے ساتھ تفریح کے بہت سے مظاہر پائے گا آپ ﷺ کی زندگی میں موجود ہیں۔
    مسند امام احمد میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھی میں ابھی لڑکی تھی مجھ پر زیادہ گوشت نہ تھا اور وجود بھی ہلکا تھا، اس لئے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا تم آگے نکل جاؤ پس وہ آگے چلے گئے پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا آؤ میں تم سے دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں چنانچہ میں آگے نکل گئی ۔ پھر کچھ عرصہ بعد میرا وجود بھاری ہو گیا اور گوشت بھی آگیا اور میں یہ واقعہ بھول چکی تھی، چنانچہ ایک سفر میں آپ ﷺ نے لوگوں کو کہا کہ آگے نکل جاؤ پس وہ آگے چلے گئے پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :آؤ میں تم سے دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں چنانچہ اس بار آپ ﷺ آگے نکل گئے پھر آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: یہ اس کے مقابلے میں ہے۔
    اے شوہر ! زینت ، کھانے اور لباس میں بیوی کی تعریف اس کے دل کی کنجی اور محبت کا راستہ ہے ۔
    یاد رکھیں !اچھے لوگوں کا دل ہمیشہ نرم ہوتا ہے، آپ اپنی بیوی کے لئے ایسے ہی رہیے جیسے آپ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے لئے رہے ، وہ بھی آپ سے وہ ہی چاہتی ہے جو آپ اس سے چاہتے ہیں ۔
    مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں :
    میں بیوی کے لئے زینت اختیار کرنا پسند کرتا ہوں جیسے کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے لئے زینت اختیار کرے ،اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 228] اور معروف کے مطابق ان (عورتوں ) کے لئے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے۔
    حسن معاشرت میں یہ بھی ہے کہ شوہر اور بیوی آپس میں محبت کا اظہار کریں اور قول کے ساتھ ساتھ اپنے فعل سے بھی الفت کا مظاہرہ کریں ۔
    بخاری اور مسلم میں ہے۔ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا لوگوں میں آپ کا سب سے محبوب کون ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ (متفق علیہ)
    عائشۃ (رضی اللہ عنہا) سے مروی ہے فرماتی ہیں میں حیض کی حالت میں پانی پی کر نبی ﷺ کو دیتی تو آپ ﷺ وہاں سے منہ لگاتے جہاں سے میں نے لگایا ہوتا اور میں حیض کی حالت میں گوشت والی ہڈی کھاتی اور پھر نبی ﷺ کو دیتی تو آپ ﷺ وہاں سے کھاتے جہاں میں نے منہ لگایا ہوتا، اور آپ ﷺ میری گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن پڑھتے تھے حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم)
    شوہر اور بیوی !
    آپ دونوں حسن معاشرت کی جتنی بھی کوشش کر لیں کمی کوتاہی اور اختلاف ہو ہی جاتا ہے ، پس شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی ان چیزوں کو معاف کر دیں اور دونوں خطاؤں اور لغزشوں سے صرف نظر کو اپنا شعار بنا لیں۔
    اس لئے کہ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر محاسبہ کرو گے تو ہر ایک چیز سے عاجز ہو جاؤ گے۔
    شوہر اور بیوی کے درمیان حسن اخلاق ایمان کی علامات میں سے ہے ؛ کیونکہ کامل ایمان والے مومنین کے اخلاق سب سے اچھے ہوتے ہیں اور وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ شوہر اور بیوی کو چاہیے کہ نیکی اور تقوی کے کاموں پر تعاون ، اور عفت کی فراہمی جیسے ازدواجی زندگی کے بہترین مقاصد کے حصول پر آپس میں تعاون کریں ۔اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو یاد رکھیں ۔
    {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} [البقرة: 237]
    اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو۔
    دونوں کو چاہیے کہ غصے کے وقت بات کو مزید نہ پھیلائیں اور نہ ہی شریک حیات کی ناپسند چیز پر اڑیں، بلکہ فریق ثانی کی خوبیوں کو لازمی طور پر ذہن نشین کریں۔ نتیجتاً کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ حسن اخلاق، پاکیزہ عادات ،اور بھلائیوں میں کوئی ایسی چیز نہ پائے جو اسے خوش کرے۔ اور یہ چیز مردوں پر زیادہ واجب اور تاکیدی ہے ۔
    صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ،ا گر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری کسی خوبی سے راضی ہو جائے۔
    آپ ﷺ کے عظیم اخلاق میں یہ بات تھی کہ آپ اپنی بیویوں کے روکنے پر صبر کرتے تھے ۔
    صحیح بخاری میں ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک آپ کو دن سے رات تک نہ چھوڑتی ۔
    عورتوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کرو وہ تمہاری مدد گار ہیں پس تم ان کے حقوق ادا کرو جیسے کہ تمہیں تمہارے نبی ﷺ نے وصیت کی اور حقیقی بات یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد اللہ کے تقوی پر ہے۔ شوہر اور بیوی کے معاملات میں تقوی پر رغبت دلانے اور اس پر ابھارنے کے بارے میں جو بات سورۃ طلاق میں آئی ہے وہ آپ اور کہیں نہیں پائیں گے ۔
    جو تقوی اختیار کرے گا اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور اجر بڑھا دے گا ، اس کے معاملات آسان کر دے گا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ بنا دے گا نیز اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔ اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے ؟ اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے ؟
    جب نیتیں درست ہوں اور لوگ بھلائی کی طرف جلدی کریں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں تو سعادت عام ہو گی اور توفیق ملے گی، اور جو دعا پر ہمیشگی اختیار کرے اور اللہ سے خالص دل سے امید رکھے تو اللہ اس کی امید کو نہیں توڑتا اور اس کے عمل کو ضائع نہیں ہونے دیتا ۔
    اللہ کی کتاب میں اس پر شواہد میں سے نبی زکریا (علیہ السلام) کا ذکر کہ جن پر اللہ تعالی نے احسان کیا ۔
    {فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَى وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ } [الأنبياء: 90]
    تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحیی عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لئے درست کر دیا ، بیشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے لئے عاجزی کرنے والے تھے۔
    اے شوہر اور بیوی !
    اپنے اور رحمٰن کے درمیان جو کچھ ہے اس کو درست کریں اللہ آپ کو ملا دے گا۔کتنے ہی گناہ ہیں جن سے خوش و خرم خاندانوں میں پھوٹ ڈلتی اور کتنے ہی گناہ ہیں جن کا بدلہ بدبخت زندگی بنتی ہے۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30]
    اور جو بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے۔
    جسے سعادت بخش زندگی چاہیے وہ اللہ کہ اس قول پر عمل کرے ۔
    {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً} [النحل: 97]
    جو بھی نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی بخشیں گے۔
    اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآن و سنت میں برکت دے ان میں موجود آیات و حکمتوں کو ہمارے لئے نفع بخش بنائے ، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لئے اور آپ سب کے لئے تمام گناہوں اور خطاؤں سے استغفار کرتا ہوں آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں بے شک وہ بہت معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے ۔

    دوسرا خطبہ!
    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں اس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو نسب اور سسرال والا بنایا بے شک آپ کا رب ہر چیز پر مکمل قدرت رکھنے والا ہے ۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ،اللہ تعالی نے آپ کو راستہ دکھانے والا، خوشخبری دینے والا ، ڈرانے والا اور اس کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا نیز روشن چراغ بنا کر بھیجا ۔
    اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل اور صحابہ پر ڈھیروں برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے ۔
    حمد و صلاۃ کے بعد!
    ازدواجی رشتے میں سکون و اطمینان بڑی نعمت ہے ،اس کا حقیقی قدر دان تو وہ ہی ہو گا جو اس کی لذت سے محروم ہو، قرآن نے اس حسین نعمت کا ذکر کیا ہے۔
    {وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا } [النحل: 80]
    اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنائی۔
    اللہ کے بندو ! یہ سکونت کی جگہ راحت اطمینان ، محبت و رحمت پر قائم باہمی صحبت ہے۔ اس کے ذریعے روح پرسکون ہوتی اور جسم آرام پاتا نیز مطمئن اور خوش ہوتا اور گفتگو سے انسیت و بشاشت تلاش کرتا ہے۔
    مومنو! ہمیں جاننا چاہیے کہ ازواجی زندگی صرف محبت سے ہی قائم نہیں ہوتی ، اگرچہ محبت سے قائم ہو تو سب سے مثالی اور بلند مقام کی نمائندگی کرتی ہے ، لیکن یہ محبت کے ساتھ رحمت پر بھی قائم ہوتی ہے ۔
    بلکہ محبت گزرتے دنوں اور حسن معاشرت کے ساتھ پروان چڑھتی ہے ، اور اللہ تعالی شوہر اور بیوی کے درمیان محبت ، گرم جوشی ، سعادت اور خوشی ڈال دیتا ہے ، پتا چلا کہ حسن معاشرت، حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں باہمی شرکت شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور رحمت پیدا کرنے کی ضامن ہے۔
    امام بخاری کی تاریخ الکبیر اور امام بغوی کی شرح السنۃ میں ہے کہ ایک آدمی نے عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں اپنی بیوی کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کیا تو مجھ سے محبت کرتی ہے ؟ تو بیوی نے کہا تم اللہ کا واسطہ دے کر پوچھ رہے ہو ، تو بات یہ ہے کہ میں تم سے محبت نہیں کرتی ۔چنانچہ وہ آدمی عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس حاضر ہوا اور قصہ ذکر کیا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے عورت کو بلایا ، جب وہ آئی تو اس سے پوچھا کیا تم ہی ہو جو کہتی کو کہ میں اپنے شوہر سے محبت نہیں کرتی ؟ عورت نے جواباً کہا : اے امیر المومنین اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا تو کیا میں جھوٹ بولتی ، تو عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ہاں اس سے جھوٹ ہی کہو سارے گھر محبت پر ہی قائم نہیں ہوتے بلکہ لوگ اسلام اور احسان کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ۔
    اللہ تعالی کا فرمان سچ ہے :
    {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} [الروم: 21]
    اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہی سے بیویاں پیدا کیں ، تاکہ تم ان کی طرف جا کر آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی ، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے یقیناً بہت سے نشانیاں ہیں ۔
    یا اللہ ! ہر نئے جوڑے کو توفیق یاب فرما۔ یا اللہ ! ہر نئے جوڑے کو توفیق یاب فرما۔
    یا اللہ ! ہر شوہر اور بیوی کو توفیق یاب فرما ، انہیں خوشی اور مسرت دے ، انہیں برکتوں سے نواز اور ان پر برکتوں کا دروازہ کھول دے نیز انہیں خیر پر جمع فرما اور نیک پاکیزہ ، بابرکت اولاد سے نواز۔
    اے اللہ! مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو توفیق دے ، ان کو ظاہری اور باطنی فواحش اور فتنوں سے بچا۔
    یا اللہ! ان کے لئے ایمان کو محبوب کر دے اور ان کے دلوں کو ایمان سے مزین کر دے ۔ نیز ان کے دلوں میں کفر ، فسق اور گناہ سے نفرت ڈال دے اور ان کو ہدایت یافتہ بنا دے۔
    اے اللہ اپنے نبی اور رسول محمد ﷺ پر آپ کی پاکیزہ آل ، نیکی میں سب سے آگے صحابہ پر درود و سلام نازل فرما۔ اے اللہ تو ہدایت یافتہ آئمہ اور خلفاء راشدین ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی اور نبی ﷺ کے تمام صحابہ اور تابعین سے راضی ہو جا ۔ یاالرحم الراحمین!
    یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ یا اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔ شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما اور اس ملک اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن و خوشحالی کا گہوارا بنا۔
    یا اللہ ! جو ہمارے ساتھ اور ہمارے ملک کہ ساتھ برا ارادہ کرے تو اس کی چالوں کو اس کے منہ پر دے مار، اور اس کی چالوں کو اسی پر لٹا دے ۔
    یا اللہ ! ہمیں ہمارے ممالک میں امن دے اور ہمارے آئمہ ولی الامر کی اصلاح فرما اور حق کے ساتھ ان کی مدد فرما۔
    یا اللہ ! ان کو اپنی ہدایت کی توفیق اور اپنی رضا والے عمل کی توفیق دے، ان کے لئے نیک جانشین زندہ رکھ جو ان کے خیر خواہ اور مدد گار ہوں۔
    یا اللہ ! ان کو ، ان کے نائب اور مدد گاروں کو لوگوں اور ملک کی بھلائی کی توفیق دے۔
    یا اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو اپنی محبت اور رضا کی توفیق دے ، اور ان کو مومن بندوں کے لئے باعث رحمت بنا۔
    اے اللہ ! مسلمان مومنین کے غموں کو دور فرما۔ پریشان حالوں کی پریشانی دور فرما۔ مقروضوں کے قرضے اتار دے۔ اور ہمارے بیماروں کو شفا یاب فرما۔
    {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201]
    اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔ اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
    اے اللہ ہمارے دلوں کو تقوی دے، ان کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی ان کو سب سے بہتر پاک کرنے والا اور تو ہی ہر چیز پر مکمل قدرت رکھنے والا ہے۔
    یا اللہ ! ہم تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں، اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ معافی کا سوال کرتے ہیں۔
    یا اللہ ! مسلمان مردوں اور عورتوں میں سے جو زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں ان کی مغفرت فرما۔
    یا اللہ ! ہم سے قبول فرما بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے، اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
    {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الصافات: 180 - 182]
    پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ پیغمبروں پر سلام ہے اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں