خطبہ حرم مکی "بصارت اور بصیرت میں فرق" 18 شوال1440ھ (الشیخ فیصل غزاوی حفظہ اللہ تعالیٰ)

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏جون 25, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    25


    فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل غزاوی (حفظہ اللہ تعالی) مسجد حرام میں 18 شوال 1440 کا خطبہ '' بصارت اور بصیرت میں فرق'' کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ بصارت اور بصیرت میں فرق ہے، بصارت چیزوں کے ظاہر کو دکھاتی ہے جبکہ بصیرت چیزوں کے حقائق بتلاتی ہے، بصارت آنکھوں سے دیکھنے کا نام ہے، جبکہ بصیرت وہ روشنی ہے جسے اللہ دل میں ڈالتا ہے پھر اس سے انسان کو ہدایت ملتی، رب کی صحیح معرفت حاصل ہوتی ،حق و باطل میں فرق اور آخرت کے دن کا پتا چلتا ہے ۔ اور یہ ہی ان دونوں کے درمیان حقیقی فرق ہے۔ اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے نظر کی حفاظت اور اس کو نیچا رکھنے سے انسان کے دل کو بصیرت اور سچی فراست حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حقیقی نابینا بصیرت کا نابینا ہونا ہے اور بصیرت کے بغیر انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ بصیرت کے تین درجے ہیں جس نے ان کو مکمل کر لیا اس نے مکمل بصیرت پا لی۔

    1)اسما و صفات میں بصیرت۔ 2)اوامر و نہی میں بصیرت ۔ 3)وعد و وعید میں بصیرت۔

    بصیرت والے لوگ حق کو دلائل کے ساتھ پہچانتے ہیں چنانچہ یہ لوگ فتن اور شبہات کے نمودار ہونے پر ڈگمگاتے نہیں بلکہ یقین کامل کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں ، اور دوسری جانب بہت سے لوگ ان فتنوں کی رو میں بہہ جاتے۔ بصیرت حاصل کرنے کے اسباب میں عظیم سبب ظاہر و باطن میں اللہ کا تقوی ہے ،جبکہ تقوی کے متضاد میں گناہوں کا ارتکاب بصیرت لے جاتا ہے۔ بصیرت حاصل کرنے کے اسباب میں اللہ عزوجل کے ذکر پر مداومت بھی ہے ،اور بصیرت ضائع ہونے کے اسباب میں ذکر الہی سے غفلت بھی ہے ۔اسی لئے اللہ تعالی سے بصیرت ، ہدایت اور تقوی پر ثابت قدمی کی دعا بصیرت و ہدایت حاصل کرنے کے بڑے اسباب میں شامل ہے ۔

    خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    آڈیو ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:

    یقیناً تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں ہم اسی کی حمد خوانی کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں ،ہم اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے چاتے ہیں ، اپنے نفس اور برے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ،جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں بن سکتا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔اللہ تعالی آپ ﷺ پر آپ کی آل اور صحابہ پر ڈھیروں برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد!

    اللہ کے بندو تقوی الہی اختیار کرو، کیونکہ تقوی نور، ہدایت ، نجات، اور فوز و فلاح ہے؛ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    }يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ{

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لیے (حق و باطل میں) فرق کرنے کی بڑی قوت بنا دے گا اور تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

    مسلمانو!

    ہر بصیرت مند مومن کے نزدیک یہ بات معروف ہے کہ بصارت اور بصیرت میں فرق ہے، بصارت چیزوں کے ظاہر کو دکھاتی ہے جبکہ بصیرت چیزوں کے حقائق بتلاتی ہے۔

    اللہ کے بندو !

    بصارت آنکھوں سے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کا نام ہے، جبکہ بصیرت وہ روشنی ہے جسے اللہ دل میں ڈالتا ہے پھر اس کے ذریعے سے انسان کو ہدایت ملتی اور وہ اپنے رب کی صحیح معرفت حاصل کرتا ہے، نیز حق و باطل میں فرق کرتا ہے، اور اسی کے ذریعے ہدایت اور حق کی راہ کو پہچانتا ہے۔ اسی طرح اس گھر کی معرفت حاصل کرتا ہے جہاں لوگ لوٹ کر جائیں گے۔ اور یہ ہی ان دونوں کے درمیان حقیقی فرق ہے ؛ چنانچہ مومن کو ہی بصیرت حاصل ہوتی ہے جبکہ دوسرے لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں؛ کیونکہ بصیرت کا مفہوم ان کے لئے واضح نہیں ہوتا تو ان میں معاملات کے اندر تفریق کی صلاحیت نہیں ہوتی وہ ان کی حقیقت اور ماہیت پہچاننے کی سکت نہیں رکھتے۔

    مسلمانو! نعمتِ بصارت کو منفی سرگرمیوں سے تحفظ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔اسی لیے شرعی احکامات ان چیزوں سے نظر کی حفاظت کی ترغیب دیتے ہیں جنہیں بصیر و خبیر اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } [النور: 30، 31]

    (اے نبی)! مومن مردوں سے کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔ یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے۔ اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔

    نبی ﷺ نے علی (رضی اللہ عنہ) کو اس بات کی وصیت کی:

    "يا عليُّ، لا تُتبِعِ النظرةَ النظرةَ؛ فإن لكَ الأولى وليست لكَ الآخرةُ" (رواه أحمد، وأبو داود، والترمذي).

    اے علی ! نظر کے پیچھے نظر مت لگاؤ ، پہلی تمہارے لیے معاف ہے ( جو اچانک پڑ گئی ) دوسری نہیں ( عمدا ًدیکھنا ) ۔ “

    اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں سے نظر کی حفاظت اور اس کو نیچا رکھنے سے انسان کے دل کو بصیرت اور سچی فراست حاصل ہوتی ہے۔

    سلف صالحین میں سے کسی نے کہا: جو شخص اپنی نظر کو حرام کردہ چیزوں سے اور نفس کو شہوت سے بچاتا ہے نیز اپنے باطن کو اللہ کی نگرانی سے اور ظاہر کو اتباع سنت سے آباد کرتا ہے اور ساتھ ساتھ حلال کھانے کا عادی بناتا ہے تو اس کی فراست خطا نہیں کھاتی۔

    اسی لئے کہتے ہیں : جب انسان بصری آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو اس کی بصیرت اندھی ہو جاتی ہے ۔اللہ تعالی نے قوم لوط (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کی آزمائش کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ} [الحجر: 75]

    بلاشبہ اس واقعہ میں بھی صاحب فراست لوگوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔

    اور صاحب فراست وہ لوگ ہیں جو حرام اور فحش نظر سے محفوظ ہوتے ہیں۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں :اللہ تعالی بندے کے عمل پر اسے عمل کی جنس سے بدلہ دیتا ہے ۔ پس حرام کردہ چیزوں سے بصارت کو بچانے پر اللہ تعالی اس کی جنس سے بہتر بدلہ دے گا وہ اس طرح کہ اسے نور بصیرت عطا ہو گا اور عمل و معرفت کے دروازے اس پر کھول دئیے جائیں گے۔

    مسلم اقوام!

    کتنے ہی لوگ ہیں جو آنکھوں سے تو دیکھتے ہیں لیکن دل کے اندھے ہوتے ہیں، چنانچہ ان کی نظر ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتی اس لئے کہ ان کے پاس بصیرت نہیں ۔ اور کتنے ہی ایسے نابینا ہیں جن کی بصارت میں تو نور نہیں لیکن ان کی بصیرت انتہائی منور ہوتی ہے؛ چنانچہ نابینا پن ان کے لئے نقصان دہ نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں نورِ بصیرت سے نوازا ہوتا ہے۔

    ابن عباس (رضی اللہ عنہما) کی جب بصارت چلی گئی تو وہ فرمایا کرتے تھے:

    "إِنْ يأخذِ اللهُ من عينيَّ نورَهما، ففي لسانِي وقلبِي منهما نورٌ".

    اگر چہ اللہ تعالی نے میری آنکھوں سے نور لے لیا لیکن میری زبان اور دل کو پر نور کر دیا ہے۔

    بینائی چلی جائے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے؛ اس لیے اگر انسان آزمائش میں صبر کرے تو اس کے لئے اللہ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے ۔

    فعن أنس بن مالك -رضي الله عنه- قال: "سمعتُ رسولَ الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "قال الله -عز وجل-: إذا ابتليتُ عبدي بحبيبتيه ثم صَبَرَ عوضتُه منهما الجنةَ" يريد عينيه. (رواه البخاري).

    حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”جب میں اپنے بندے کو دو محبوب چیزوں سے آزماتا ہوں اور وہ صبر کرتا ہے تو اس کے عوض میں اسے جنت عطا کرتا ہوں۔ “ دو محبوب چیزوں سے مراد دو آنکھیں ہیں۔

    فقدان بصارت اتنا بڑا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ فقدان بصیرت ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ} [الحج: 46]

    بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو وہ دل ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

    چنانچہ حقیقی نابینا بصیرت کا نابینا ہونا ہے ،پس آپ نابینا بصیرت والے کو ذکر الہی اور اللہ کی اطاعت سے دور دیکھیں گے، اور اس کا بدلہ انتہائی سنگین ہو گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    { وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124]

    اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    بصیرت کے بغیر انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا } [الأعراف: 179]

    بہت سے ایسے جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے (حق کو) سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔

    بلکہ بصیرت کے بغیر انسان اس دنیا میں بد حواس بن کر اس اندھے کی طرح زندگی گزارتا ہے کہ جو راستے میں چلتا ہے مگر راستہ نہیں جانتا کہ کہاں جانا ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    { أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [الملك: 22]

    بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سیدھا کھڑا ہو کر راہ راست پر چل رہا ہو؟

    مسلم اقوام!

    بصیرت کے تین درجے ہیں جس نے ان کو مکمل کر لیا اس نے مکمل بصیرت پا لی۔

    1)اسما و صفات میں بصیرت۔ 2)اوامر و نہی میں بصیرت ۔ 3)وعد و وعید میں بصیرت۔

    اسما و صفات میں بصیرت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے ناموں اور اس کی صفات کی صحیح معرفت حاصل کرے، یہ معرفت اسے اللہ کے سیدھے راستے پر قائم رہنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

    پس ذات باری تعالی تو وہ ہے کہ جس کی بات صداقت اور عدالت میں کامل ہے ۔اس کی صفات مخلوق کے ساتھ تشبیہ یا تمثیل سے بالا تر ہیں، اور اس کی ذات بھی کسی اور کی مشابہت سے اعلی تر ہے۔ اس کے عدل ،حکمت ، رحمت ،احسان اور فضل پر مبنی افعال تمام مخلوقات کو سموئے ہوئے ہیں۔ مخلوق کی تخلیق اور پھر ان پر حکم چلانا اسی کا کام ہے ۔ نعمتیں اور فضل اللہ ہی کاہے ، اسی کی بادشاہی اور اسی کی تعریفیں ہیں نیز اسی کی ثنا اور بزرگی ہے ۔

    ذات باری تعالی ہی اول ہے اس سے پہلے کوئی نہیں ، وہ ہی آخر ہے پس اس کے بعد کچھ نہیں ، وہ ہی غالب ہے اس سے اوپر کوئی نہیں اور وہی باطن ہے کہ اس سے خفیہ کوئی نہیں ۔

    اس کے تمام نام مدح، حمد و ثنا اور تعظیم بیان کرنے والے ہیں ، اللہ تعالی کی تمام صفات؛ صفاتِ کمال ہیں ، اور تمام خوبیاں عظمت والی خوبیاں ہیں ۔

    اللہ تعالی کے تمام افعال میں حکمت ، رحمت ، مصلحت اور عدل ہے اس کی مخلوقات میں سے ہر چیز اس پر دلالت کرتی اور نگاہ بصیرت سے دیکھنے والے کی رہنمائی کرتی ہے۔

    چنانچہ جب بندہ اپنے رب کی پہچان حاصل کر لے گا تو وہ اس سے ڈرے گا اور اسی سے امید رکھے گا، نیز اسی کی عبادت اور تعظیم کرے گا ،اور مخلوق کو بڑا نہیں جانے گا کہ اپنے رب سے زیادہ ان کی تعظیم اور خوف دل میں بٹھائے ۔

    بہت سی بیماریاں جو اللہ کا حکم ماننے والوں کو لاحق ہوتی ہیں ان کی وجہ یہ ہی ہوتی ہے کہ ان کو اللہ عزوجل کی کما حقہ معرفت حاصل نہیں ہوتی جیسے کہ اس کی شان ، عظمت اور بزرگی کے لائق ہے۔ نتیجتاً وہ رب کی ذات کے ساتھ کوتاہ معاملے کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

    اوامر و نہی میں بصیرت سے انسان اللہ تعالی کی مراد اور حدود کو جانتا اور ان کو لازم پکڑتا ہے ،نیز یہ تقوی اور صراط مستقیم کو لازم پکڑنے کا ذریعہ ہے ۔پس اس طرح انسان اللہ کی عبادت کی معرفت حاصل کرتا ہے چنانچہ اس کے دل میں اللہ تعالی کے احکام ،شریعت کی منع کردہ چیزوں اور قضا و قدر کے بارے میں ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں ہوتا۔ اس طرح بندہ شرعی احکام اور تقدیری فیصلوں پر سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔

    وعد اور وعید میں بصیرت سے مراد یہ ہے کہ بندہ یہ گواہی دے کہ ہر جان نے اچھائی یا برائی جو کچھ بھی کمایا ہے اللہ تعالی جلد یا بدیر ، دنیا یا آخرت میں اس کا بدلہ دے گا۔ اور یہ ہی چیز اللہ تعالی کی الوہیت اور ربویت کی متقاضی ہے ۔ چنانچہ بندہ اللہ تعالی کی بیان کردہ اخروی گھر کی تفاصیل کو ذہین نشین رکھتا ہے گویا کہ وہ ان کا مشاہدہ کر رہا اور دیکھ رہا ہے ۔ نتیجتاً وہ اس علم کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور پھر اس کے دل کو عطا کردہ یہ بصیرت اس کے لئے راستے کو واضح کرتی ہے اور وہ اپنے مستقبل کو جان لیتا ہے ، پس وہ اس آنے والے دن اور اپنے رب سے ملاقات کے لئے مستعد ہوتا ہے ۔

    اللہ کے بندو!

    ایمانی بصیرت انسان کے ڈھانچے اور زندگی کو بدل دیتی ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ} [الزمر: 22]

    بھلا جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشنی پر ہو (اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو کوئی سبق نہیں لیتا) لہذا ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے (اور) سخت ہو جاتے ہیں۔

    اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا } [الأنعام: 122]

    بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کو روشنی عطا کی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں زندگی بسر کر رہا ہے اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہو اور اس کے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو؟

    بےشک جسے بصیرت ایمانی دی جاتی ہے وہ اللہ پر بھروسا ، مددِ الہی پر یقین ، رحمت الہی پر توکل نیز اللہ کی توفیق اور عدل پر اعتماد کرتے ہوئے خوش بخت زندگی گزارتا ہے ۔اس کہ ہر وقت یہی کوشش ہوتی ہے کہ صحیح الہی منہج اور سیدھی راہ پر گامزن رہے ۔

    اللہ تعالی نے اپنی مخلوق میں سے ایسے برگزیدہ بندوں کی تعریف کی ہے جن کو بصیرت دی گئی اور انہوں نے اسی پر اپنی زندگیاں گزار دیں چنانچہ فرمایا:

    {وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ} [ص: 45]

    اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور صاحبان بصیرت تھے۔

    یعنی اللہ کے دین میں بصیرت رکھنے والے تھے پس اسی سے انہوں نے حق کو جانا اور پایا۔

    میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ، اللہ جلیل سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے استغفار کرتا ہوں بت شک وہ بہت معاف کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے ۔


    دوسرا خطبہ:

    تمام تعریفات اللہ تعالی کے لئے ہیں کہ جس نے ایمان کے ذریعے اپنے اولیاء کے دلوں کو روشن کیا اور اپنے چنیدہ بندوں کی آنکھوں کو نور تقوی سے منور کر دیا۔

    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی شان بلند ہے ۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں آپ ﷺ اللہ کی رضا کی دعوت دینے والے تھے۔ اللہ تعالی آپ ﷺ پر آپ کی آل اور مدد گار صحابہ پر ڈھیروں سلامتی نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    مسلمانو!

    مخلوق میں برگزیدہ اور بنی آدم میں زیرک بصیرت والے لوگ وہ ہیں کہ جنہوں نے حق کو دلائل کے ساتھ پہچانا اور حق کو حقیقی صورت میں دیکھا۔ چنانچہ یہ لوگ فتن اور شبہات کے نمودار ہونے اور شہوت عام ہونے پر نہیں ڈگمگاتے بلکہ یقین کامل کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں ، اور دوسری جانب بہت سے لوگ ان فتنوں کی رو میں بہہ جاتے ہیں ۔

    جبکہ بصیرت سے محروم لوگ حق اپنے سامنے تو پاتے ہیں مگر اس کی پیروی کرتے نہ اس پر عمل کرتے ہیں بلکہ باطل کی پیروی اور عملدرامد میں تاخیر نہیں کرتے ، اور باطل کی دعوت میں صبح شام سرگرم رہتے ہیں اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے؛ کیونکہ ایسے لوگوں کا معاملہ ہی الٹ ہوتا ہے اور وہ پیچیدگیوں میں الجھ جاتے ہیں، وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کر سکتے، انہیں معلوم نہیں ہوتا مصلحت یا خرابی کہاں ہے؟ یہ لوگ شریعت الہی سے فیصلہ کرانے کی بجائے ہوس اور مرضی سے فیصلے کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ } [الجاثية: 23]

    بھلا آپ نے اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو الہ بنا رکھا ہے اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ؟ اللہ کے بعد اب کون ہے جو اسے ہدایت دے سکے؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟

    اللہ کے بندو!

    دین میں اہمیت ِ بصیرت کی یاد دہانی ضروری ہے ، بے بہا فتنوں اور سخت آزمائشوں کے وقت تو اس کی ضرورت مزید دو چند ہو جاتی ہے۔

    کتنی ہی اقوام ہیں کہ راہ حق پر ہونے کے باوجود ان کے قدم ڈگمگا گئے اور وہ ثابت قدم نہ رہ سکے، اسی طرح قوموں میں کتنے ہی لوگ شبہات و شہوات کی رو میں بہہ گئے اور ان آفات سے نکلنے کی بصیرت حاصل نہ کر سکے۔

    لہذا ہر وہ شخص جو اپنے لئے خیر اور نجات چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ بصیرت کے اسباب حاصل کرنے کی کوشش کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جن سے بصیرت چلی جاتی ہے ۔

    بصیرت حاصل کرنے کے اسباب میں عظیم سبب ظاہر و باطن میں اللہ کا تقوی ہے ۔ جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا } [الأنفال: 29]

    اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ تمہیں قوت تمیز عطا کرے گا۔

    پس جو تقوی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کو حق و باطل کی معرفت عطا کرتا ہے ، چنانچہ یہ اس کی مدد ، نجات، دنیاوی معاملات میں آسانی ، قیامت کے دن سعادت اور گناہوں کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے۔

    تقوی کے متضاد میں گناہوں کا ارتکاب ، اللہ کے احکامات کے مقابلے میں گناہ اور نا فرمانی سمیت اللہ عزوجل سے حیا نہ کرنا شامل ہیں۔ اور یہ بصیرت کے ضائع ہونے کے اسباب بھی ہیں ۔

    بصیرت حاصل کرنے کے اسباب میں اللہ عزوجل کے ذکر پر مداومت بھی ہے ۔ پس ذکر الہی دل کو جِلا بخشتا ہے، اور بہترین ذکر قرآن کریم کی تلاوت اس کا فہم اور اس پر تدبر ہے ۔ جتنا انسان کا قرآن سے تعلق مضبوط ہو گا اتنی ہی اسے نور بصیرت ملے گا۔

    اسی طرح بصیرت ضائع ہونے کے اسباب میں ایک سبب ذکر الہی سے غفلت بھی ہے ،بےشک یہ غفلت انسان کے معاملے کو حد سے بڑھا دیتی ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :

    {وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا} [الكهف: 28]

    نہ ہی آپ ایسے شخص کی باتیں مانئے جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، وہ اپنی خواہش پر چلتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔

    بصیرت حاصل کرنے کے اسباب میں اللہ کی قائم کردہ حرمتوں اور دین اور حدودِ شریعت کی پامالی پر غیرت کھانا بھی شامل ہے ۔جبکہ اس کے برعکس حقوق اللہ اور حرمتوں کی پامالی پر غصہ اور غیرت کا نہ ہونا انسان کی بصیرت کو اندھا کر دیتا ہے ۔

    ان تمام اسباب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف بندو کو توفیق ، رشد و ہدایت اور دل میں نورِ حق مل جائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔

    اسی لئے اللہ تعالی سے بصیرت ، ہدایت اور تقوی پر ثابت قدمی کی دعا بصیرت و ہدایت حاصل کرنے کے بڑے اسباب میں شامل ہے ۔

    خبردار: اللہ کے چنے ہو نبی محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجو جیسے کہ تمہیں تمہارے رب نے بھی حکم دیا ہے اور فرمایا:

    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } [الأحزاب: 56]
    بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر خوب کثرت سے درود و سلام بھیجو۔ (احزاب:56)

    اے اللہ تو نبی ﷺ آپ کی بیویوں آپ کی اولاد پر رحمتیں نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر بھجیں۔ اور اے اللہ تو نبی ﷺ آپ کی بیویوں اور اولاد میں برکت عطا فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت تعریف کا مستحق اور بزرگی والا ہے۔

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! ، ، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما اور اپنے اور دین اسلام کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما۔ یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن کا گہوارہ بنا دے۔

    اے اللہ ہمارے ملکوں اور گھروں میں امن پیدا فرما اور ہمارے حکمرانوں اور معاملات کو چلانے والوں کی اصلاح فرما، اے تمام جہانوں کے رب ہمارا حاکم اسے بنا جو تجھ سے ڈرتا ہو اور تقوی والا اور تیری خوشنودی (والے کاموں) کی پیروی کرنے والا ہو۔ اے اللہ اے زندہ اور قائم رہنے والے تو ہمارے حکمرانوں کو اپنی محبوب اور خوشنودی والی باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما۔ اور انکو انکی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کی طرف لے جا۔

    اے اللہ تو (مددگار) ہو جا ہمارے کمزور بھائیوں اور تیری راہ میں جہاد کرنے والوں، سرحدوں کی رکھوالی کرنے والوں کا، اے اللہ تو ان کے لئے نصرت، تائید اور کامیاب کرنے والا ہو جا۔

    یا اللہ ! ہم ظاہر اور باطنی فتنوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

    یا اللہ ! ہمیں دین میں بصیرت عطا فرما اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں شامل فرما۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں