اس امت کی دو فضیلت والی جماعتیں

ابو حسن نے 'ماہ ذی الحجہ اور حج' میں ‏جولائی 7, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    437
    اس امت کی دو فضیلت والی جماعتیں

    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )




    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مجھے حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جھوٹ سے حفاظت فرمائے اور ریا و دکھلاوے سے محفوظ رکھے اور ہر لگ جانی والی نظر سے حفاظت فرمائے ،آمین یا رب العالمین

    پہلی جماعت اس امت کی ان نفوس پر مشتمل تھی جس میں سابقون الاولون مہاجرین و انصار کہ جنہوں نے سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھا اور بیت اللہ کا قصد کیا، تلبیہ ان کی زبانوں پر تھا


    لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَۃَ، لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیکَ لَکَ

    اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تیری بارگاہ میں۔ تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں تیری بادشاہت میں تیرا کوئی شریک نہیں

    اللہ کی واحدانیت سے وادیاں گونج رہی تھیں ، یہ سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کے چار "عمروں اور حج " کے دوران مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شمولیت تھی

    کیا ہی اعلیٰ شان اور عظمت اس مبارک و متبرک جماعت کی تھی اور پھر سونے پر سہاگہ سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ اور اس ہستی کے قدمین جس جس وادی میں پڑے ہونگے وہ وادیاں بھی تفاخر محسوس کرتی ہونگی ،اللہ اکبر

    سب سے بڑا اور عظمت لیے مجمع سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج یعنی حجۃ الوداع کا تھا جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور پھرنزول قرآن اور اللہ تعالی کی طرف سے دین کے مکمل ہونے کی خوشخبری دی جارہی ہے اور اس آیت کا نزول ہوتا ہے

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

    اس آیت کے متعلق ایک یہودی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دلچسپ واقعہ بھی ہے

    ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

    ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ ( المائدہ: ۳ )

    ہمارے اوپر ( ہماری توریت میں ) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی،

    عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے کہا: مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔

    یہ آیت یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی (رواہ: ترمذی - حدیث :حسن)

    (اس سے اچھا اور خوشی کا دن اور کونسا ہوگا ؟ یہ دونو ں دن تو ہمارے لیے خوشی کے دن ہیں )




    اور اس حج کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بہت سی غلطیاں بھی صادر ہوئی لیکن "امام اعظم سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم " نے شفقت فرماتے ہوئےآسانیاں فرمائیں

    کہیں کسی نے قربانی سے پہلے ہی بال منڈوا دیے اور عرض کیا مجھ سے یہ کام ہوگیا ہے

    فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قربانی سے پہلے بال منڈوا دیے ؟

    جواب مل رہا ہے

    قَالَ : اذْبَحْ وَلا حَرَجَ فرمایا : کوئی حرج نہیں اب قربانی کرلو


    کہیں کسی نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کردی اور عرض کیا مجھ سے یہ کام ہوگیا ہے

    فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ کنکریاں مارنے سے پہلے ہی قربانی کردی ؟

    جواب مل رہا ہے

    قَالَ : ارْمِ وَلا حَرَجَ فرمایا : کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مارلو

    جو کوئی بھی آرہا ہے اسے "امام اعظم سیدالاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ وسلم " یہی فرما رہے ہیں کہ افْعَلْ وَلا حَرَجَ کروکوئی حرج نہیں ،اللہ اکبر



    اور اس امت کی دوسری جماعت وہ ہوگی جن کو نبی علیہ السلام کے ساتھ حج یا عمرہ کے احرام باندھنے کی سعادت نصیب ہوگی اور وہ نبی کون ہیں ؟ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام ،اللہ اکبر


    حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کا ذکر خیر آیا ہے تو اگر میں " مرزا غلام قادیانی لعین " کا ذکر شر نہ کروں تو " تحفظ ختم نبوت کا خادم " ہوتے ہوئے اپنے آپ سے بھی ناانصافی ہوگی اور بعض احباب بھی ناراض ہونگے

    " مرزا غلام قادیانی لعین " خبیث نے پہلے تو اپنے آپ کو نعوذ باللہ مریم علیہا السلام ہونے کا دعوی کیا پھر اس پر نہ رکا اس سے آگے چھلانگ لگائی اور کہا کہ میں حمل سے ہوں ،پھر اگلے مرحملے میں دعوی کیا کہ نعوذباللہ میں نے "عیسی بن مریم " کو جنم دیا ہے اور پھر ایک اور چھلانگ لگائی اور کہا کہ مجھ میں نعوذباللہ "عیسی بن مریم " حلول کرگئے اور نعوذباللہ "عیسی بن مریم " ہونے کا دعوی کردیا

    جب اہل علم نے اسکی طبیعت صاف کرنی شروع کی اور پوچھا کہ وہ تومسجد کے مینار پر اتریں گے ؟

    تو " مرزا غلام قادیانی لعین " نے قادیان انڈیا میں اپنے عبادت خانے کے ساتھ منارہ تعمیر کروالیا اور کہا کہ یہ لو یہانپر منارہ ہے ،

    علماء نے کہا کہ خبیث قادیانی وہ مسجد دمشق شہر میں واقع ہے ،اب اس خبیث نے کچھ عرصہ کے بعد نیا شوشہ چھوڑا کہ نعوذباللہ "حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام " تو وفات پاچکے ہیں ، اور اس پر طرح طرح کے دلائل دینا اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کی ترکیبیں کرنے لگا لیکن اس پر بھی اہل علم نے اسکی خوب علمی درگت بنائی ، اور اصل مقصد اس امت سے جہاد ختم کرنے کی سازش جو اس کے برٹش آقاؤں اور انکے ہمنؤاوں کی پلانگ تھی جس میں یہ " مرزا غلام قادیانی لعین " کامیاب نہ ہوسکا


    " مرزا غلام قادیانی لعین " پر لعنت جو اپنے آپ کو نعوذباللہ عیسی بن مریم علیہ السلام ہونے کا دعوی کرتا تھا اور لعنتی نے کبھی وادی روحاء دیکھی بھی نہیں اورجب اس پر بات نہ بنی تو لعنتی خبیث نے ابن مریم علیہ السلام کے فوت ہونے کا دعوی کیا اور مرزائی امت اسی پر ایڑی چوٹی کا زور لگائے بیٹھی ہے


    آج بھی میں حیران ہوتا ہوں کہ ایسے عجیب الخلقت انسان کے پیچھے لوگ لگے ہوئے ہیں جس کو وہ اسی کی عبارات سے انسان ثابت نہیں کرسکتے؟ اور کجا کہ نبی جیسی عظیم ہستی ؟

    لعنت " مرزا غلام قادیانی لعین " کی سوچ و سمجھ پر ،اور اسکے پیروکاروں کی تو ویسے ہی عقلیں سلب ہوچکی ہیں وگرنہ کوئی ذی شعور انسان ایسے گھٹیا کی باتوں میں آسکتا ہے ؟


    اب میں آتا ہوں حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے حج و عمرہ کی جانب اور اس امت کی اس جماعت کی جانب جنکو حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے ساتھ یہ سعادت نصیب ہوگی ،کیا ہی عظیم لوگ ہونگے جنہیں ایسی بابرکت سعادت نصیب ہوگی ،اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ میری آنے والی نسلوں میں ایسے نوجوان پیدا فرمائے جنہیں یہ سعادت ملے ،آمین

    یہ حدیث امام مسلم رحمہ اللہ نے مسلم شریف میں ذکر فرمائی ہے

    اب آپ سیدالاولین و الاخرین ﷺ کا فرمان غور فرمائیں


    عن أبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ

    وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ ، حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَ

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابن مریم علیہ السلام وادی روحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا ہی تلبیہ کہیں گے " (رواہ : مسلم)


    اللہ تعالی جنت الفردوس میں ہرایک صحابی رضی اللہ عنہ سے خاص ملاقات کا شرف عطا فرمائے اور الانبیاء کرام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف و صالحین کی مجالس میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو اور آنے والی نسلوں کوبدعات و شرک کی دلدل سے بچائے اور عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت و ناموس صحابہ کی خدمات میں پیش پیش رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن و سنت اور فہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ ﷺ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور آپ ﷺ کی محبت ہمارے سودائے قلب میں بسا دے، آپ ﷺ سے محبت ہمارے دلوں میں ہماری جانوں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اہم بنا دے، اور ہمیں آپ ﷺ کی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین

     
    Last edited: ‏جولائی 7, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,442
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ تحریر!

    آمین یا رب!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں