تم تو کہتے تھے اٹھاوں گا نہ کشکول کبھی

ابوعکاشہ نے 'حُسنِ کلام' میں ‏جولائی 7, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,351
    تبدیلی والی ریاست مدینہ کے نام ، (فرحت عباس شاہ)

    تم تو کہتے تھے اٹھاوں گا نہ کشکول کبھی
    تم کہا کرتے تھے چوروں کو پکڑ ماروں گا
    ان کو بھیجوں گا میں ایوانوں سے ایسا واپس
    ان کی آنتوں سے نکالوں گا میں پیسہ واپس
    لیکن اب ہوتا ہے محسوس نشانہ میں ہوں
    قاعدے ظلم کے نافذ ہیں بہانہ میں ہوں
    تم نے بولا تھا کہ انصاف کروں گا نافذ
    تم نے سو دن کا ہمیں خواب دکھایا ، دیکھا
    تم نے چھت چھین لی چھت دینے کا وعدہ کرکے
    تم نے اس ملک کے تاجر سے تجارت چھینی
    تم نے خود اپنے ہی ورکر سے محبت چھینی
    تم نے مزدور کی ریڑھی پہ بھی ہے وار کیا
    پھر مسلط مرے سر پر وہی عیار کیا
    جس کے قرضوں پہ بہت شور مچایا تم نے
    اب وہی چور خزانے پہ بٹھایا تم نے
    تم نے مارا ہمیں مہنگائی زیادہ کرکے
    پچھلے چوروں کی برائی کا اعادہ کرکے
    کام مشکل ہے تو تم تخت پہ آئے کیوں ہو
    جس نے تیاری نہ کی تھی اسے لائے کیوں ہو
    روز ہی کھیلتا ہے تو مری تقدیر کیساتھ
    مطمئین کر نہ مجھے بھربھری تقریر کیساتھ
    تم کسی طوطے سے بھی آگے کے عالم نکلے
    پچھلے والوں سے بھی کچھ زیادہ ہی ظالم نکلے
    پھر مرے ملک کی قسمت میں اندھیرا نکلا
    میرے ادھڑے ہوے خوابوں کی کراہوں سے پھر
    آئندہ نسلوں کا مفلوج سویرا نکلا
    اونچے ایوانوں کے چنگل سے کبھی باہر آ
    اتنے پھیلے ہوئے جنگل سے کبھی باہر آ
    دیکھ جا اجڑی ہوئی گلیوں کا ماحول کبھی
    تم تو کہتے تھے اٹھاوں گا نہ کشکول کبھی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں