خطبہ حرم مکی قلبِ سلیم-۔۔۔۔ 23-08-2019

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏ستمبر 4, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    501
    قلبِ سلیم
    خطبہ جمعہ مسجد الحرام (اقتباس)
    22 ذو الحجہ، 1440ھ بمطابق 23 اگست 2019ء
    امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد الله بن حمید
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    نظر ثانی : محمد اجمل بھٹی
    بشکریہ: عمر وزیر ویب



    خطبے کے اہم نکات
    1. پرہیزگاری اصل مقصود اور حقیقی ہدف ہے۔
    2. دل اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق ہے۔
    3. کچھ اعمال صرف دل سے وابستہ ہیں۔
    4. ہر عبادت میں نیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
    5. قلب سلیم سے مراد اور اس کی علامات۔
    6. اللہ کی فرمان برداری اور اس کی پہچان دلوں کی اصلاح کا راستہ ہے۔
    7. ایسی بیماریاں کہ جن سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

    اقتباس
    انسان کی نجات کا دار ومدار اس کے سب سے چھوٹے اعضاء پر ہے، یعنی اس کے دل اور اس کی زبان پر۔ گناہ اور نافرمانی، خوف اور ڈر کا سبب ہیں۔ فرمان برداری حفاظت کا ضامن قلعہ ہے۔ دلوں کو صرف اللہ کی نگہبانی میں ہی سکون اور چین ملتا ہے۔ انہیں تب ہی سکون ملتا ہے جب وہ شریعت کی حدود میں رہیں۔ ا ن کی بصیرت پر تب ہی پردہ پڑتا ہے اور ان کا نور حق، علم اور ہدایت کو پہنچاننے کے لیے تب ہی ناکافی ہوتا ہے جب وہ شیطان کے قبضے میں آ جائیں اور گمراہی کی کھائی میں گر جائیں۔ دو دل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے ساتھ رہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں اس کا ساتھ دے اور دوسرا وہ کہ جسے شیطان گناہوں اور نافرمانیوں سے ذلیل اور رسوا کر چھوڑتا ہے۔

    پہلا خطبہ
    ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی حمد وثنا کے لائق ہے۔ جو حکم چاہتا ہے، صادر کر دیتا ہے اور جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ میں ہر نعمت پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ بدبخت لوگوں کے حال سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی عظمت وکبریائی والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اگلوں کے سردار اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے نیک، پرہیز گار اور بلند مقام ومرتبے والے اہل بیت پر، نیک وکار اور وفادار صحابہ کرام پر، تابعین پر اور استقامت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔ ان کا راستہ اپنا کر ہدایت پانے والوں پر۔ اے اللہ! ان سب پر مزید سلامتی نازل فرما! ایسی سلامتی کہ جس کی کوئی انتہا نہ ہو۔
    بعدازاں!
    میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ پرہیز گاری ہی بہترین سامان ہے جو دنیا میں بھی کام آتا ہے اور آخرت میں بھی ساتھ ہوتا ہے۔ یاد رکھو کہ انسان کے لیے ایمان کے بعد سب سے اچھی نعمت اچھے اخلاق ہیں۔ اچھے اخلاق کم پڑھے لکھے آدمی کے پاس بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑی بڑی ڈگریوں والا اس خزانے سے محروم ہو۔ مبارکباد کے لائق تو وہ شخص ہے جو دوسروں کی زیادتی کو بھول جاتا ہے، جو سنگ دل نہیں ہوتا، جو دشمنی کا راستہ بھی نہیں جانتا۔ جس کی ملاقات سے خوشی ملتی ہے اور جس سے بات کر کے سعادت محسوس ہوتی ہے۔

    اے اللہ کے بندے!
    معافی وہی مانگتا ہے جس میں بہادری ہو، معاف وہی کرتا ہے جو زیادہ طاقتور ہو۔ ویسے بھی لوگوں کی خوشنودی کمانا تو خود کو مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لیکن بردبار انسان کے غصے سے بچنا چاہیے۔ (اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے (34) یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں) [فصلت: 34 -35]۔
    اے مسلمانو! اے بیت اللہ کے حاجیو! اللہ آپ کا حج قبول فرمائے۔ آپ کے حج کو حج مبرور بنائے، آپ کو محنت کا صلہ عطا فرما! آپ کے گناہ معاف فرما! اور آپ کو آپ کے گھروں تک سلامتی اور اجر کے ساتھ لوٹائے۔
    اے بیت اللہ کے حاجیو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے) [الحج: 32]جی ہاں! اللہ کے بندو! نیکی کا دار ومدار دلوں کی پرہیزگاری پر ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں: ’’تقویٰ ایمان سے بھی زیادہ قابل تعریف ہے، کیونکہ ایمان میں کچھ اور چیزیں بھی شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ تقویٰ میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں ہوسکتی‘‘کیوں، اللہ کے بندو؟ کیونکہ دل سب سے خطرناک حصہ ہے۔ جس کی تاثیر سب سے زیادہ ہے۔ جس کا معاملہ سب سے زیادہ نازک ہے۔ جس کی اصلاح سب سے زیادہ مشکل ہے۔ حسن بصری ﷫ فرماتے ہیں: ’’اپنے دل کا علاج کرو، کیونکہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کے دل نیک ہوں۔ اللہ آپ کے جسموں اور شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ آپ کے دلوں اور کاموں کو دیکھتا ہے‘‘۔
    اے بھائیو!
    عربی میں قلب ہر چیز کے خالص اور سب سے زیادہ اہم حصے کو کہتے ہیں۔ دل کو قلب اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے اعضاء میں سب سے زیادہ خالص اور اہم ہے۔ دوسری طرف سے قلب اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو اپنی حالت بدلتی رہتی ہو یا جس میں تبدیلی آتی رہتی ہو۔ اسی طرح قلب کے معانی میں سے ایک ہر چیز کے نتیجے پر غور کرنا بھی ہے۔

    اے مسلمانو!
    دل اپنے کام کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کی انتہائی اہم مخلوقات میں سے ہے۔ جس کا کام محسوس نہیں ہوتا، بلکہ وہ روح، نفس، ذہن، عقل اور احساس کی طرح یہ بھی علم الغیب کا حصہ ہے۔ یہ ساری اللہ ہی کی غیر محسوس نعمتیں ہیں جو محسوسات کی دنیا میں آ کر انہیں غذا، نور اور مدد فراہم کرتی ہیں۔ ان ہی کے نور سے سے انسان حق اور باطل میں فرق کرنے کے قابل بنتا ہے، درستی اور خرابی میں، نفع اور نقصان میں، حقیقت اور توہمات میں فرق کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سنو! جسم میں گوشت کا ایسا ٹکڑا ہے، جو درست ہو جائے تو سارا جسم سدھر جاتا ہے، اور اگر بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، یہ ٹکڑا دل ہے‘‘ (اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔
    پیارے بھائیو!
    دل کی درستی ایمان، حقیقت سے آگاہی اور احوال سے واقفیت میں ہے۔ جبکہ جسم کی درستی اللہ کی فرمان برداری اور اس کے سامنے عاجزی میں ہے۔

    جب دل بگڑتا ہے تو شرک، کفر، تکبر، خود پسندی، ریا کاری، حسد اور دیگر امراض قلب سے بگڑتا ہے۔ اور جب یہ بگڑتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ جسم بگڑتا ہے تو گناہوں اور نافرمانیوں سے بگڑتا ہے، مخلوق خدا پر ظلم سے اور زمین میں فساد سے بگڑتا ہے۔
    اے مسلمانو! دل ہی وہ حصہ ہے جس میں باہر سے آنے والی معلومات براہ راست پہنچتی ہیں۔ یہ وہ رابطہ ہے جو انسان کو اپنے رویے اور ظاہری اعمال سے جوڑے رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ: ’’اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی نصیب فرما!‘‘ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان قبول کر چکے ہیں، کیا پھر بھی آپ ہمارے معاملے میں فکر مند ہیں، فرمایا: ’’دل اللہ کی دو انگلیوں میں ہیں۔ وہ جیسے چاہتا ہے، انہیں پھیر دیتا ہے‘‘ (اسے امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں روایت کیا ہے، اس کی سند امام مسلم کی شرط پر پوری اترتی ہے)۔
    نبی اکرم ﷺ ان الفاظ میں بھی قسم کھایا کرتے تھے: ’’نہیں! دلوں کو پھیرنے والے کی قسم!‘‘ (اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے)۔
    اے میرے بھائیو!
    دل ہی ہر خیر کا شہر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خیر کو دل کے ساتھ جوڑا ہے۔ فرمایا: (اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) [الانفال: 70]، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دل میں خیر ہوتی ہے، چاہے وہ ذرہ برابر ہی کیوں نہ ہو، وہ ایمان کے لیے کھل ہی جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیجیے: (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے) [المجادلۃ: 22]اسی طرح بلند شان والے کا فرمان ہے: (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے) [الحجرات: 7]منافقین کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر بھی غور کیجیے: (اے پیغمبرؐ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے) [المائدہ: 41]، اسی طرح بلند شان والے نے اعراب کے ایک گروہ کے بارے میں فرمایا: (ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے) [الحجرات: 14] ایمان ہی دلوں کی زندگی اور اس کا سکون ہے۔
    اے مسلمانو!
    کچھ اعمال صرف دل سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جن کا اثر انسان کے برتاؤ میں، اس کے احساسات میں اور اس کے احوال میں نظر آتا ہے۔ پیار اور خوشی کی شکل میں، فکر اور غم کی شکل میں، پریشانی اور غصے کی شکل میں، کینہ اور حسد کی شکل میں، چال بازی، موقع پرستی، غصے، سمجھ، آگاہی اور معرفت کی شکل میں۔ بلند شان والے نے چند قوموں کے متعلق فرمایا: (ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں) [الاعراف: 179]۔

    دل کے اہم ترین اور عظیم کاموں میں ارادہ اور نیت بھی شامل ہیں۔ نیت دل کے عزم اور پختہ ارادے کو کہتے ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے: ’’اعمال کا دار ومداد نیتوں پر ہے، ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دی جائے گی‘‘، (اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)

    ہر عبادت میں نیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی سے عادت اور عبادت الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ اسی سے عبادات ایک دوسرے سے الگ ہو جاتی ہیں۔ بلکہ نیت سے عادت بھی عبادت بن جاتی ہے۔ بری نیت ہو تو عبادت بھی بے قیمت ہو جاتی ہے۔ اخلاص بھی تو سچی نیت اور دل کی پاکیزگی ہی کو کہتے ہیں۔
    دل کے کاموں میں ثابت قدمی بھی شامل ہے۔ جس سے وقار اور سکینت حاصل ہوتی ہے۔ جب انسان کو ثابت قدمی نصیب ہو جاتی ہے تو وہ پریشانی اور اضطراب سے بچ جاتا ہے۔ وہ اپنے حال کو صحیح انداز میں سمجھ لیتا ہے اور مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ نے معاذ کو یمن بھیجا تو انہیں فرمایا: ’’اللہ آپ کے دل کو ثابت قدم کر دے گا، اور آپ کے دل کو ہدایت عطا فرمائے گا‘‘ (اسے امام احمد، امام ابو داؤد، اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے)۔

    اے مسلمانو!
    دل کی کچھ صفات انتہائی عظیم ہیں، جن سے ایمان کی حقیقت جھلکتی ہے اور جن میں دلوں کی زندگی اور چین ہے۔ جن پر قائم رہنے میں بندے کی استقامت اور کامیابی ہوتی ہے۔ ان صفات میں: دل کی سلامتی شامل ہے۔ جیسا کہ بلند شان والا فرماتا ہے: ﴿اس دن نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد (88) الا یہ کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو﴾ [الشعراء: 88 -89]نبی اکرم ﷺ اللہ سے یہ دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میں تجھ سے قلبِ سلیم کا سوال کرتا ہوں‘‘ (اسے امام احمد، امام ترمذی اور امام نسائی نے سیدنا شداد بن اوس سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)

    قلبِ سلیم والا شخص وہ ہے جو ہر قسم کے عیب، شک، شرک، برائی اور گمراہی سے بچ گیا ہو۔ جس کا ظاہر اور باطن ایک جیسے ہوں۔ جس کے راز کا پیغام اس کے اعضاء سناتے ہوں۔ قلب سلیم وہ ہے جس میں معبود کے لیے اخلاص بھی ہے، اس کی طرف مکمل ذلت اور عاجزی کے ساتھ رجوع بھی ہو اور اخلاص کے ساتھ شریعت کی پیروی بھی ہو۔ (حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اُس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں) [البقرۃ: 112]۔

    پیارے بھائیو!
    دل کے عظیم کاموں میں عاجزی بھی شامل ہے۔ یعنی اللہ کی بات کو تسلیم کر لینا اور اسی کی جانب متوجہ رہنا۔ حافظ ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ جب عاجزی میں انسان کا قدم راسخ ہو جاتا ہے اور وہ اس کی راہ میں آگے نکل جاتا ہے تو اس کی ہمت بلند ہو جاتی ہے اور نفس بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ پھر وہ کسی کی تعریف پر خوش نہیں ہوتا۔ کسی کی تنقید پر پریشان نہیں ہوتا۔ وہ خواہشات نفس سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوتا ہے اور ایمان اور یقین کی لذت اس دل میں گھر کر چکی ہوتی ہے۔ اگر کوئی دلیل چاہو تو اللہ کے اس فرمان کو پڑھ لو: (اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں) [الحج: 54]۔

    دل کی صفات میں خوف بھی شامل ہے۔ رب العزت کا فرمان ہے: (سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں) [الانفال: 2]عرباض بن ساریہ کی حدیث میں ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسی نصیحت کی کہ دل لرز گئے‘‘ (اسے امام ابو داؤد، اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ پھر فرمایا: یہ حدیث حسن اور صحیح ہے)۔

    اہل ایمان کے دل اس خوف سے لرزتے رہتے ہیں کہ جو عبادات اور نیک اعمال انہوں نے کیے ہیں وہ اللہ کے یہاں رد نہ ہو جائیں۔ ان کے خوف کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اجلال ہوتا ہے، اس کی ہیبت اور اس کی بادشاہت سے رعب ہوتا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کے دل ڈرے ہوتے ہیں، ایک نیکی کرتے ہیں تودوسری میں لگ جاتے ہیں۔ اس دن کے شر سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں پھرنے لگیں گی۔

    اللہ کے بندو!
    اطمینان والا دل وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے: ﴿جنہوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا، اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے، جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے﴾ [الرعد: 28] اطمینان وہ ہوتا ہے جس میں انسان کو سکون، امن، آرام اور خوشی نصیب ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو اور اہل بدر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: (یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں) [آل عمران: 126]۔

    دل کی وہ صفت، جس کو حاصل کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے، خشوع کی صفت ہے۔ فرمان الٰہی ہے: (کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں) [الحدید: 16]رسول اللہ ﷺ نے ایسے دل سے پناہ مانگی ہے کہ جس میں خشوع ہی نہ ہو۔ (امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں سیدنا زید بن ارقم سے روایت کیا ہے)

    خشوع میں عاجزی، انکساری، گریہ زاری اور خوف آ جاتے ہیں۔ ان سب میں بنیادی چیز ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں غیر اللہ سے ناامیدی ہے۔

    اللہ کے بندو!
    دل تب ہی درست ہو سکتا ہے جب وہ اللہ کو پہچان لے، اس کی اطاعت کرنے لگے، اس سے ڈرے، اس کی حدود کے اندر رہے، اپنے کھانے پینے اور لباس کی اصلاح کرے۔ جسے اپنے دین کی فکر ہوتی ہے، غفلت کی نیند سے بیدار ہو جاتا ہے، آخرت میں نجات کا طالب ہوتا ہے، وہ اپنے دل کی اصلاح کا سب سے زیادہ فکر مند ہوتا ہے، دل کی خرابی اور ہلاکت کے اسباب سے سب سے زیادہ دور رہتا ہے۔ حسن بصری ﷫ فرماتے ہیں: ’’جب تک تم اللہ کی فرمان بردار نہ ہو گے، تب تک تم اس سے محبت نہ کر پاؤ گے‘‘ی حییٰ بن معاذ ﷫ فرماتے ہیں: ’’جو اللہ کی حدود کے اندر نہ رہے اور اس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہو، تو اس کا دعویٰ سچا نہیں ہے، اور جو دنیا سے محبت کرنے والا ہوتا ہے، اس کے نزدیک خواہشات نفس سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہوتی‘‘۔

    بعدازاں!
    اللہ کے بندو! دل کو زندگی نصیب ہوتی ہے نفس کے ساتھ جہاد کرنے سے، نیک اور پرہیز گار لوگوں کی صحبت سے اور اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنے سے۔ دل میں اللہ کی محبت جتنی زیادہ ہو جائے گی، بندا اتنا ہی فرمان بردار بن جائے گا اور جتنا وہ فرمان بردارہو گا، اس کی محبت اتنی ہی زیادہ ہو جائے گی۔ تمام نیک اعمال کا مقام ومرتبہ محبت کے بعد ہی آتا ہے جن کی توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ خوش نصیب وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ خوش نصیب بنائے۔ بدبخت بھی وہی ہے جسے اللہ گمراہ کر دے۔ دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جیسے چاہتا ہے، انہیں پھر دیتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے! (کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں) [الحج: 46]۔

    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم کی ہدایات سے فیض یاب فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے مستفید فرمائے۔ میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ
    ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی کریم اور انتہائی بلند ہے۔ نعمتیں دینے والا اور نوازنے والا ہے۔ ہم ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ بدبخت لوگوں کے حال سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی باشاہت اور سلطنت والا ہے۔ عزت اور جلال والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ بہترین اخلاق اور شاندار صفات کے مالک ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر، کیا ہی خوب آل ہے اور کیا ہی بہترین صحابہ ہیں۔ تابعین پر اور استقامت کے ساتھ ان کے پیروکاروں پر۔ اے اللہ! ان سب پر قیامت تک جاری رہنے والی سلامتی بھی نازل فرما!

    بعدازاں!
    اے مسلمانو! انسان کے سب سے چھوٹے اعضاء جسم پر سب سے بڑا اثر ڈالتے ہیں۔ ، یعنی اس کے دل اور اس کی زبان پر۔ گناہ اور نافرمانی، خوف اور ڈر کا سبب ہیں۔ فرمان برداری حفاظت کا ضامن قلعہ ہے۔ دلوں کو صرف اللہ کی نگہبانی میں ہی سکون اور چین ملتا ہے۔ انہیں تب ہی سکون ملتا ہے جب وہ شریعت کی حدود میں رہیں۔ ان کی بصیرت پر تب ہی پردہ پڑتا ہے اور ان کا نور حق، علم اور ہدایت کو پہنچاننے کے لیے تب ہی ناکافی ہوتا ہے جب وہ شیطان کے قبضے میں آ جائیں اور گمراہی کی کھائی میں گر جائیں۔ دو دل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے ساتھ رہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں اس کا ساتھ دے اور دوسرا وہ کہ جسے شیطان گناہوں اور نافرمانیوں سے ذلیل اور رسوا کر چھوڑتا ہے۔

    پیارے بھائیو!
    دل بیمار بھی ہوتا ہے، مر بھی جاتا ہے اور اندھا بھی ہو جاتا ہے۔ (کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟) [الانعام: 122]، دل کی بیماریوں میں سب سے پہلے شرک اور غیر اللہ پر بھروسہ ہے۔ اللہ کی پناہ ایسے شخص سے جو جان بوجھ کر کفر کی طرف جائے یا جس کا دل کفر پر مطمئن ہو جائے۔

    دل کی بڑی بیماریوں میں بدعت پرستی اور سنت کی خلاف وزری ہے۔ کیونکہ بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے اور ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دل کی سلامتی کے اسباب بیان کرتے ہوئے کینہ اور خواہشات پرستی سے دوری کا ذکر کیا اور ساتھ مسلمان جماعت سے مضبوط تعلق اور حکمران کی اطاعت اور ان کے خلاف جانے سے بچنے کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل کبھی پیچھے نہیں کرتا، اعمال کو اللہ کے لیے خالص کرنا، حکمرانوں کے ساتھ خلوص رکھنا اور مسلمان جماعت سے جڑے رہنا‘‘ (اسے اصحاب سنن نے صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت سے روایت کیا ہے۔)

    اسی طرح دل کی بیماریوں میں خواہش پرستی اور خواہشات کے سامنے جھک جانا بھی ہے۔ ، ابن قيم ﷫ فرماتے ہیں: ’’گناہوں کی سزا میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ معاف کرے، ان سے دل کی بصیرت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا نور جاتا رہتا ہے۔ علم کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ہدایت کی راہ غیر واضح ہو جاتی ہے۔ دل کے اندھے پن سے پہلے دل بہت سی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے، جیسے تکبر، نفاق، استہزاء، حسد، فساد وغیرہ۔

    سنو!
    اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ جب گناہوں سے پرہیز نہ کیا جائے تو دل اندھےپن اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے) [المؤمنون: 63]،

    دل کی بیماری کے بہت سے نتائج سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ راہ راست سے بھٹک جانا، گناہوں میں پڑ جانا، دل پر مہر لگ جانا، شیطان کا ساتھی بن جانا اور اس کی اغوا کاری میں بھٹکتے پھرنا۔ (پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے) [الصف: 5]، (ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا) [البقرۃ: 10]ہم اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس کی دردناک سزا سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ رسوائی سے اس کی پناہ میں آتے ہیں۔

    اللہ کی طرف سے بھیجے جانے والی رحمت اور سراسر نعمت پر درود وسلام بھیجو۔ اپنے نبی محمد ﷺ پر درود وسلام بھیجو۔ آپ کے پروردگار نے اپنی واضح کتاب میں یہی حکم دیا ہے۔ کریم اور با عزت فرمامین جاری کرنے والے نے اپنی واضح کتاب میں ارشادِ عظیم فرمایا: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔

    اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما، حبیبِ مصطفیٰ، نبی مجتبیٰ، اللہ کے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر ، آپ ﷺ کی نیک اور پاکیزہ اہل بیت پر، اور آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین پر۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے راضی ہو جا! اور تمام صحابہ کرام سے بھی راضی ہو جا۔ تابعین سے اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔ اے سب سے بڑھ کر کرم فرمانے والے! اپنے خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا کر دے! سرکشوں، بے دینوں اور تمام دشمنان دین کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیزگاری اپنانے والے اور تیری خوشنودی کے طالب ہوں۔

    اے اللہ! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام کی تائید فرما۔ خادم حرمین کو توفیق عطا فرما! اے اللہ! اسے توفیق عطا فرما! اپنے فرمان برداری سے اسے عزت عطا فرما! اس کے ذریعے اپنے کلمے کو سربلند فرما! اس کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کی نصرت فرما! اسے، اس کے ولی عہد کو، اس کے بھائیوں کو اور اس کے مدد گاروں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ انہیں نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لا۔

    اے اللہ! مسلمان حکمرانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما! انہیں اپنے مؤمن بندوں پر رحم کرنےوالا بنا۔ اے پروردگار عالم! انہیں حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما!

    اے اللہ! مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت فرما! انہیں حق، ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما! نیک لوگوں کو ان کا حکمران بنا! انہیں برے لوگوں کے شر سے محفوظ فرما! ان کے علاقوں میں امن، عدل اور سلامتی عام فرما! اے اللہ! انہیں برائیوں اور ظاہر وپوشیدہ فتنوں سے محفوظ فرما!

    اے اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما! اے اللہ! سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں جوانوں کی نصرت فرما! اے اللہ! ان کی رائے درست فرما! ان کے نشانے درست فرما! انہیں قوت نصیب فرما! ان کی عزیمت بلند فرما! انہیں ثابت قدمی نصیب فرما! ان کے دلوں کو جما دے۔ زیادتی کرنے والوں پر ان کی نصرت فرما! اے اللہ! ان کی تائید فرما! ان کی نصرت فرما! اے اللہ! آگے سے، پیچھے سے، دائیں جانب سےبائیں جانب سے اور اوپر سے ان کی حفاظت فرما! اے اللہ! نیچے آنے والے عذاب سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ان کے شہیدوں پر رحم فرما! ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما! ان کے گھر والوں اور ان کی نسلوں کی حفاظت فرما! یقینًا! تو دعا سننے والا ہے۔

    اے اللہ! ہمارے بھائیوں کی نصرت فرما! اے اللہ! ہر جگہ ہمارے کمزور بھائیوں کی نصرت فرما! فلسطین میں، برما میں، وسط افریقہ میں، لیبیا میں، عراق میں، یمن میں اور شام میں۔ اے اللہ! ان پر سخت مشکلات آن پڑی ہیں۔ اے اللہ! ان پر بڑی مصیبت آن پڑی ہے۔ ان کی مصیبت بہت بڑی ہو گئی ہے۔ ان پر سختی آ گئی ہے۔ انہیں ظلم، سرکشی، بے گھری اور محاصرے کا سامنا ہے، اے اللہ! ان کی نصرت فرما! اے اللہ! ان کی نصرت فرما! ان کا معاملہ سنبھال لے! ان کی مشکل آسان فرما!ان کی مصیبت دور کر دے۔ ان کی فتح قریب کر دے۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے۔ انہیں اکٹھا فرما دے! اے اللہ! ان کی مدد فرما! اپنے لشکر سے انکی تائید فرما! اپنی نصرت سے انہیں کامران فرما! ان کی نصرت فرما!

    اے اللہ! سرکش ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور معاونوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! ان کی اجتماعیت ختم فرما اور انہیں بکھیر دے۔ انہیں الگ تھلگ کر دے۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! انہی کی چالوں میں انہیں ہلاک فرما دے۔
    اے اللہ! غاصب اور حملہ آور یہودیوں کو تباہ وبرباد فرما! اے اللہ! غاصب اور حملہ آور یہودیوں کو تباہ وبرباد فرما! یقینًا! وہ تجھے بے بس نہیں کر سکتے۔ اے اللہ! ان پر اپنا عذاب نازل فرما جو مجرموں سے دور نہیں رہتا۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

    اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما! اے اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما! ہماری پردہ پوشی فرما! ہماری مصیبتیں آسان فرما! آزمائش میں پڑنے والوں کو عافیت نصیب فرما! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما!

    ﴿اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے﴾ [الاعراف: 23]،
    (اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!) [البقرۃ: 201]۔
    اللہ کے بندو!
    ﴿اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم سبق لو﴾ [النحل: 90]
    اللہ کو یاد کرو! وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، وہ تمہیں اور عطا فرمائے گا۔ اللہ کا ذکر تو اس سے بھی بڑی چیز ہے۔ اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

    بشکریہ پیغام ٹی وی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں