مبادئی توحید

عبيد الله الباقي أسلم نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏ستمبر 13, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبيد الله الباقي أسلم

    عبيد الله الباقي أسلم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏ستمبر 13, 2019
    پیغامات:
    4
    مبادئ توحید
    ............................
    عبيد الله الباقي أسلم
    .............................
    1- توحید کی تعریف: اللہ عزوجل کو ان تمام امور(عبادت، افعال، اور اسماء و صفات) میں ایک مان لینا؛ جو اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہیں.
    2- توحید کا موضوع: بندوں پر حقوق الہی کی معرفت حاصل کرنا، اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے.
    3- توحید کا ثمرہ: اسی سے دنیا و آخرت میں امن و استقرار نصیب ہوگا.
    4- توحيد کی فضیلت: اس عظیم علم کے بے شمار فضائل ہیں؛ ان میں سے چند یہ ہیں: بندوں پر توحید ہی سب سے بڑا حق ہے، اسی کی خاطر رب نے انسانوں کی تخلیق فرمائی، اسی پر ان سے عہد و پیمان لیا گیا، اسی کی خاطر انبیاء کرام اور رسل علیہم السلام کی بعثت ہوئی، اور اسی توحید پر مسئلہ جزاء وسزا کا انحصار ہوگا.
    5- توحيد کی نسبت: دوسرے علوم کے ساتھ علم عقیدہ کا تعلق بڑا گہرا ہے؛ کیونکہ یہی تمام علوم کا محور و مرکز ہے، یہی ان کی اصل ہے، اور اسی پر دیگر علوم کا مقصود منحصر ہے.
    6- توحيد کا واضع: سب سے پہلے جس نے علم عقیدہ کے اصول و ضابطے کو ایجاد کیا، اور اس کی بنیادوں کو بیان کیا ہے؛ وہ خود اللہ کی ذات مقدسہ ہے؛ اسی لئے قرآن کریم کی ہر آیت اللہ کی وحدانیت کو متضمن ہے.
    7- توحید کا نام : اس مبارک علم کا نام "توحید" ہے؛ جس کا ذکر نصوص شرعیہ میں متعدد بار آیا ہے.
    8- علم عقیدہ کے مصادر: فطرت، اور جو اللہ عزوجل کی طرف سے انبیاء کرام و رسل علیہم السلام لے کر آئے.
    9- توحید کا حکم: انسان پر سب سے پہلا واجب یہ ہے کہ وہ مفردات توحید کی معرفت حاصل کرے، اور ان کے مطابق عمل کرے.
    10- توحید کے مسائل: اس عظیم علم کے سب سے اہم مسائل یہ ہیں:
    أ- معانی توحید کی معرفت
    ب- اس کے ارکان کی معرفت
    ج- اس کے شروط کی معرفت
    د- اور اس کے قوادح(شرک اصغر، غیر شرکیہ، معاصی) و نواقض(شرک اکبر، شرکیہ بدعت) کی معرفت.
    ان دس امور کو شاعر نے کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے:
    إن مـــبادئ كل فن عشرة
    الحد والموضوع ثم الثمره
    و نسبة و فضلــــه والـــواضع
    والإسم الإستمداد حكم الشارع
    مسائل والبعض بالبعض اكتفى
    ومن درى الجميع حاز الشرف
    علم عقیدہ میں پختگی حاصل کرنے کے لئے صرف یہ بنیادی امور کافی نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ مندرجہ ذیل امور کا التزام کرنا بھی ضروری ہے:
    مدارس عقدیہ: مدارس عقدیہ(مدرسہ فسلفیہ عقلیہ، مدرسہ کلامیہ، مدرسہ کشفیہ، مدرسہ اہل السنہ والجماعہ)، اور ان کے مناھج و مصادر استدلال کی معرفت حاصل کرنا.
    تاریخ تدوین علم عقیدہ: تدوین علم عقیدہ، اور اس کے مراحل کی معرفت حاصل کرنا
    علم عقیدہ پر منہج تصانیف: علم عقیدہ کی تدوین، اور تالیف و تصنیف پر علماء کرام کے طریقہ کار کی معرفت حاصل کرنا.
    مسائل علم عقیدہ کے احکام: مسائل علم عقیدہ کی حقیقت، دلائل و اصول، اور احکام کی معرفت حاصل کرنا.
    مسائل علم عقیدہ کا صحیح نتیجہ نکالنا: مسائل علم عقیدہ، اور ان کے مراتب کو سمجھنا، اور ساتھ ہی دلائل و قواعد کی روشنی میں صحیح نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرنا.
    علم عقیدہ میں رسوخ، اور علمی مضبوطی حاصل کرنے کے لئے مذکورہ تمام امور کا دراسہ کرنا، ان کی باریکی کو سمجھنا، ان کی حقیقت و تہہ تک پہنچنا، ان کے دلائل و اصول کی معرفت، ان پر لکھی گئی کتابوں کے مناھج، اور مصنفین کے طرز استدلال جیسے امور پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے.
    #ہدیہ_اسلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں