علم عقیدہ سیکھنے کا حکم

عبيد الله الباقي أسلم نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏ستمبر 13, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبيد الله الباقي أسلم

    عبيد الله الباقي أسلم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏ستمبر 13, 2019
    پیغامات:
    4
    علم عقیدہ سیکھنے کا حکم

    ......................................
    ✍عبيد الله الباقي أسلم
    ......................................
    • علم عقیدہ کا تعلق اللہ تعالٰی کی معرفت اور اصول دین کی جانکاری سے ہے، اسی لئے علم عقیدہ سب سے عظیم علم ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ:"شرف العلم بشرف المعلوم".
    اس عظیم علم سے متعلق چند ایسے امور ہیں جو فرض عین ہیں، جبکہ اس کے بعض امور فرض کفایہ ہیں.
    علم عقیدہ کے بعض امور فرض عین ہیں:
    اس سے وہ تمام امور مراد ہیں؛ جن کے بغیر کسی کا اسلام صحیح نہیں ہو؛ لہذا کلمہ شہادت "لا إله إلا الله محمد رسول الله" کی معرفت، اور ارکان ایمان کی آگاہی ہر انسان پر واجب و ضروری ہے، کیونکہ اسی پر قبولیت عمل کا دار و مدار ہے، یہی خشیت الہی کا سب بڑا ذریعہ ہے، اسی سے توحید وایمان کو ہر طرح کے شوائب بچایا جاسکتا ہے، بدعات وخرافات کی تردید کی جا سکتی ہے، اور گمراہ فرقے و باطل ادیان ومذاہب کی طرف سے اٹھنے والے طوفان کا رخ بدلا جا سکتا ہے، چانچہ امام عبد البر-رحمہ اللہ- فرماتے ہیں کہ:" علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ علم میں سے بعض - امور- ہر انسان کے لئے فرض عین ہیں، اور بعض امور فرض کفایہ ہیں....اور جو امور تمام لوگوں کے لئے لازم ہیں؛ ان میں سے منجملہ وہ فرائض ہیں جو انسان پر عائد کئے گئے ہیں جیسے :زبان سے گواہی دینا، اور دل سے اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور نہ اس کا کوئی شریک ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی مثیل ہے...(جامع بيان العلم وفضله:1/56).
    امام عبد البر - رحمہ اللہ - کے اس کلام سے واضح ہوتا ہے کہ اصول عقدیہ کی جانکاری حاصل کرنا ہر انسان کے لئے ضروری ہے، ساتھ ہی ان تمام امور کی واقفیت ضروری ہے؛ جن کی وجہ سے اسلام یا اصول دین ٹوٹ جاتے ہیں، مثلا: شرک، اور کفر وغیرہ .
    ہاں مگر اس علم کے دقیق مسائل، اور تفصیلی دلائل کی معرفت ہر انسان کے لئے واجب نہیں ہے.
    کچھ خاص لوگوں کو چھوڑ کر علم شرعی کا حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، مگر مامورات و منہیات کا علم حاصل کرنا ہر فرد کے لئے ضروری ہے، جیسا کہ شيخ الإسلام ابن تيمية - رحمه الله- فرماتے ہیں:"و طلب العلم الشرعي فرض على الكفاية إلا فيما يتعين، مثل طلب كل واحد علم ما أمره به وما نهاه عنه، فإن هذا فرض على الأعيان"(مجموع الفتاوى:3/328-329).
    اصول عقدیہ کی معرفت ضروری ہے؛ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام ابن ابی العز -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:أن أول واجب يجب على المكلف شهادة أن لا إله إلا الله..."(شرح العقيدة الطحاوية:1/21-22).
    • اصول عقدیہ کی معرفت ہر انسان کے لئے ضروری ہے، اس پر مندرجہ ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں:
    1- اللہ عزوجل کا فرمان ہے:{اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ،وخَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ، الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ، عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ}[سورة العلق:٢-٥].
    2- اللہ تعالٰی فرمان ہے:{فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ}[سورة محمد:١٩].
    اسی لئے امام بخاری - رحمہ اللہ- نے اپنی صحیح کے اندر ایک باب باندھا ہے:" باب العلم قبل القول والعمل"(صحيح البخاري،كتاب العلم، رقم الباب[10 ]).
    3- اللہ رب العزت کا فرمان ہے:{ فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ}[سورة الحجر:٩٢].
    اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت انس اور ابن عباس - رضی اللہ عنہما- فرماتے ہیں:"انہیں لا إله إلا الله کے بارے میں پوچھا جائے گا".
    حضرت ابوالعالیہ- رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:" قیامت کے دن تمام بندوں سے دو خصلتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا:" وہ کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟اور انہوں نے نبیوں کو کیا جواب دیا تھا؟"(تفسیر طبری:/17/149).
    4- نبی علیہ السلام نے حضرت معاذ بن جبل - رضی اللہ عنہ- کو یمن کی طرف راونہ کرتے ہوئے یہ نصیحت کی تھی کہ ان کے سامنے پہلے دعوت توحید پیش کرنا، اگر وہ اسے مان لیں تو باقی فرائض کے بارے میں بتانا:" إنك تقدم على قوم من أهل الكتاب، فليكن أول ما تدعوهم شهادة إلى أن يوحدوا الله تعالى، فإذا عرفوا ذلك، فأخبرهم أن الله فرض عليهم خمس صلوات في يومهم وليلتهم، فإذا صلوا، فأخبرهم أن الله افترض عليهم زكاة في أموالهم، توخذ من غنيهم وترد على فقيرهم، فإذا أقروا بذلك فخذ منهم، وتوق كرائم أموالهم"(صحيح البخاري:9/14).
    علم عقیدہ کے بعض مسائل فرص کفایہ ہیں:
    اس علم کے دقیق مسائل، وتفصيلی دلائل کی معرفت ہر فرد کے لئے ضروری نہیں ہے، مثلا: اللہ کے اسماء حسنی، وصفات علیا کے معانی و مفاہیم، امور آخرت، اور تقدیر کے مسائل، مبتدعہ کی آراء و خیالات وغیرہ امور کی جانکاری ہر شخص کے لئے ضروری نہیں ہے، اس پر یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے:{وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ}[سورة التوبة:122].
    مذکورہ آیت کریمہ سے واضح ہے کہ علم وتعلم، تعلیم وتربیت، اور فقہ وفتاوی کے لئے ایک گروہ کا ہونا ضروری ہے، جو اس فریضہ کو بخوبی انجام دے سکے، باقی دیگر لوگوں کے لئے اس میدان کی باریکی کو جاننا ضروری نہیں ہے.
    اسی بات کی طرف امام عبد البر - رحمہ اللہ - اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:" ثم سائر العلم، وطلبه و التفقه فيه وتعليم الناس إياه وفتواهم به في مصالح دينهم ودنياهم والحكم به فرض على الكفاية....."(جامع بيان العلم وفضله:1/58 ).
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں