اہل السنہ والجماعہ کے نزدیک عقدی مصادر

عبيد الله الباقي أسلم نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏ستمبر 14, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبيد الله الباقي أسلم

    عبيد الله الباقي أسلم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏ستمبر 13, 2019
    پیغامات:
    4
    اہل السنہ والجماعہ اہل الحدیث کے نزدیک عقدی مصادر

    .............................
    عبيد الله الباقي أسلم
    ..............................
    • دنیا میں پائے جانے والے تمام مذاہب و ادیان، ہر ملل ونحل کے مصادر ہوا کرتے ہیں، مصادر ہی سے کسی بھی مذہب کی صحت وبطلان کی پرکھ ہوتی ہے...
    • مذہب اسلام کے دو ہی مصادر ہیں؛ اللہ کی کتاب، وسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اسی لئے اسلامی عقائد کی بنا ان ہی دونوں پر منحصر ہے، چنانچہ اہل السنہ الجماعہ اہل الحدیث دینی و عقدی مسائل کے لئے کتاب وسنت کو اپنا اساسی مصادر تسلیم کرتے ہیں، اخذ و استنباط میں فہم سلف صالحین کا اعتبار کرتے ہیں، ان کے نزدیک ایسے بھی چند فرعی مصادر ہیں، جنہیں معرض استدلال میں استقلال تو حاصل نہیں ہے، مگر مسائل کی تائید و تقویت میں ان کا اہم کردار ہوا کرتا ہے.
    ▪اسلامی عقیدہ کے اصلی مصادر: قرآن کریم اور سنت نبویہ
    أولاً: قرآن کریم
    • قرآن کریم؛ یہ دستور حیات، منہج زندگی، رحمت و برکت کا خزینہ، ارشاد و ہدایت کا ذریعہ، اور اسی میں دلوں کی شفا ہے...
    • قرآن کریم دنیا کا سب سے عظیم کلام ہے، کیونکہ اللہ کی ذات عظیم ہے، لہذا اس کی ہر سورت، ہر آیت عظیم ہے، مگر سورتوں میں سورة الفاتحة کا سب سے اونچا مقام ہے، اور آیتوں میں سب سے عظیم آیت آية الكرسي ہے...
    • قرآن کریم؛ وہ مقدس کتاب ہے؛ جس نے ہر مسئلے کا حل پیش کیا ہے، لہذا اس کی اتباع ہر شخص پر واجب و ضروی ہے، اس پر مندرجہ ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں:
    ☆ قوله تعالى:{اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ}[سورة الأعراف:3].
    ☆ قوله تعالى:{اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ}[سورة الأنعام:106].
    ☆ قوله صلى الله عليه وسلم:"...وأنا تارك لكم فيكم ثقلين: أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله واستمسكوا به." (صحيح مسلم[4/1873]).
    ثانياً: سنت نبوی
    سنت سے مراد: ہر وہ قول، یا فعل، یا تقریر جو نبی علیہ الصلاة والسلام سے ثابت ہو.
    لہذا عقیدہ کے باب میں ہر اس امر کا اعتبار ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، اور اس پر مندرجہ ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں:
    ☆ قوله تعالى:{قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ}[سورة آل عمرن:31]
    ☆ قوله تعالى:{وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا}[سورة الحشر:7]
    ☆ قوله صلى الله عليه وسلم :"مانهيتكم عنه فاجتنبوه، وما ما أمرتكم به فافعلوا منه ما استطعتم..."(صحيح البخاري [7288] و صحيح مسلم[1337]).
    مذکورہ نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قرآن کریم وسنت نبوی ہی کو بحثیت مصدر اولیت حاصل ہے، لہذا ہر طرح کے مسائل کے حل کے لئے ان ہی مصادر اصیلہ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، اس پر اللہ تعالٰی کا یہ قول صراحتا دلالت کرتا ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا}[سورة النساء:59].
    عقیدہ کے باب میں صرف منہج سلف صالح کا اعتبار
    • اہل السنہ والجماعہ اہل الحدیث نصوص شرعیہ کو سمجھنے، اور ان سے استنباط و استدلال کرنے میں منہج سلف صالحین، اور ان آئمہ کرام کے طریقہ کار کو اپناتے ہیں، جنہوں نے دین میں کبھی بھی اور کوئی بھی بدعت ایجاد نہ کی ہو.
    منہج سلف صالحین کو اپنانا ضروری ہے، اس پر مندرجہ ذیل نصوص دلالت کرتے ہیں:
    ☆ قوله تعالى:{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[سورة التوبة:100]
    ☆ قوله تعالى:{ وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا}[سورة النساء:115].
    ☆ قوله صلى الله عليه وسلم:"عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين وعضوا عليها بالنواجذ..."(سنن الترمذي [2676]، وسنن ابن ماجه [42]).
    یقینا مذکورہ نصوص شرعیہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ فہم سلف، ان کا منہج و طریقہ کار کو اپنانا مسلمانوں کی شان و پہچان ہے.
    آج ہمارے پاس قرآن محفوظ ہے، سنت نبویہ مدون ہے، اقول سلف مرتب ہیں، اور ان کے طریقہ کار بھی مبین ہیں، مگر افسوس ہے کہ ہوس کے ٹھیکداروں نے تاویل کے نام پر عقلی گھوڑے دوڑا کر تحریف وتعطيل کا سہارا لیا، جس کی وجہ سے طرح طرح کی بدعتیں معرض وجود میں آئیں...کاش کہ منہج سلف کی طرف رجوع کیا جاتا!!
    منہج سلف کو اپنانا ایک مسلمان کے لئے کتنا ضروری ہے، ائمہ کرام کے ان اقوال سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
    1-عبد الله بن مسعود -رضي الله عنه- فرماتے ہیں:" من کا مستنا فلیستن بمن قد مات، فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أبر هذه الأمة قلوبا وأعمقها علما، وأقلها تكلفا، قوم اختارهم الله بصحبة نبيه وإقامة دينه فاعرفوا لهم حقهم وفضلهم فقد كانوا على الهدي المستقيم"(جامع بيان العلم وفضله:2/97).
    جو سنت کا متلاشی ہے وہ اپنے پرکھوں کی سنت کو لازم پکڑے، کیونکہ جو زندہ ہیں ان پر فتنوں کے خطرات ہیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھی ہیں، اس امت کے سب سے صاف و شفاف دل والے ہیں، گہرے علم کے مالک ہیں، تکلف سے عاری ہیں، وہ ایسی جماعت ہے جسے اللہ نے اپنے نبی کی صحبت کے لئے اختیار کیا تھا، اور اپنے دین کی سربلندی کے لئے انتخاب فرمایا تھا، تو ان کے حقوق و فضائل کو جانو، کیونکہ یہی لوگ راہ راست پر گامزن تھے.
    2- عمر بن عند العزيز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" سن رسول الله وولاة الأمور من بعده سننا، الأخذ بها إتباع لكتاب الله، واستكمال لطاعة الله تعالى وقوة على دين الله، ليس لأحد من الخلق تغييرها وتبديلها، ولا النظر في شيء خالفها، من اهتدى بها فهو المهتدي، ومن استنصر فهو منصور، ومن تركها واتبع غير سبيل المؤمنين ولاه الله ما تولى، وأصلاه جنهم وساءت مصيرا".
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد امراء وعلماء نے چند طریقوں کو بیان فرمایا ہے؛ انہیں لازم پکڑنا (در اصل ) اللہ کی کتاب کی اتباع ہے، اور اللہ تعالی کی اطاعت کی تکمیل ہے، اور اس کے دین کی قوت( کا سبب) ہے، کسی کے لئے روا نہیں کہ ان میں تغییر و تبدیل کا قلم چلائے، نہ ہی کسی ایسی چیز پر عقلی گھوڑے دوڑائے جو ان کے مخالف ہو، جس نے بھی انہیں ہدایت کا ذریعہ سمجھا وہ راہ یاب ہو گیا، اور جس نے انہں مدد کا باعث سمجھا وہ کامیاب ہو گیا، اور جنہوں نے اس روشن راہ کو چھوڑ کر غیروں کے دراوازے پر دستک دی؛ ان کی خبر خود اللہ ہی لے گا، اور ایسوں کو جنہم رسید کرے گا، جو نہایت ہی برا ٹھکانا ہے.
    امام عمر بن عبدالعزیز -رحمہ اللہ- منجملہ ان علماء سلف میں سے ایک ہیں؛ جن کے اقوال منہج سلف کے التزام میں اصول کی حیثیت رکھتے ہیں.
    سلف کے ان موتیوں سے یہ روشن ہو گیا کہ منہج سلف کو اپنانے میں ہی ہر قسم کی بھلائی پنہا ہے، اسی سے سعادت وکامیابی ممکن ہے، اور یہی وجہ کہ اہل السنہ والجماعہ اہل الحدیث نے اس کا التزام کیا ہے، اور اسی سے ان کے اور اہل بدعت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے.
    اسلامی عقیدہ کے فرعی مصادر: عقل اور فطرت
    • اہل السنہ و الجماعہ اہل الحدیث کے نزدیک عقیدہ کے باب میں عقل و فطرت کو فرعی مصادر کی حیثیت حاصل ہے.
    لہذا جب تک عقل و فطرت کتاب وسنت سے معارض نہ ہوں؛ ان کا ایک خاص اعتبار ہے.
    أولاً: عقل
    شيخ الإسلام ابن تيميہ -رحمه الله- اس باب میں اہل السنہ والجماعہ اہل الحدیث کا منہج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:" ...اور وہ سرے سے معقالات صریحہ کا انکار کرتے ہی نہیں ہیں، بلکہ معقولات صریحہ سےحجت پکڑتے ہیں، جیسا کہ اس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، اور اس پر دلالت کرتا ہے، غرض کہ تمام مطالب الہیہ پر قرآن عقلی دلائل، اور یقینی براہین سے دلالت کرتا ہے..."(الصفدية:1/295).
    بے شک شریعت اسلامیہ نے کوئی بھی مستحیل چیز کو ثابت نہیں کیا ہے، مگر کچھ ایسے امور ہیں جن سے عقل محیر رہ جاتی ہے، اور ان کے ادراک سے قاصر ہے، شیخ الاسلام -رحمة اللہ علیہ- فرماتے ہیں:" ربوبیت و الوہیت کی وحدانیت میں سے ہر ایک اگرچہ ضروری و بدیہی فطرت، اور نبوی الہی شریعت سے معلوم ہے، مگر وہ( شریعت میں) پیش کردہ مثالوں سے بھی معلوم ہے؛ جو (درحقیقت) عقلی قیاس ہیں (مجموع الفتاوی:2/37).
    عقیدہ کے باب میں عقلی دلائل کا اعتبار
    اسلامی عقیدہ میں عقلی دلائل کا اعتبار ہے، مگر عقل کوئی مستقل مصدر نہیں ہے، بلکہ تائید و تقویت کے طور پر عقلی دلائل پیش کئے جاتے ہیں، جن کی مثالیں کتاب وسنت میں بھری پڑی ہیں:
    ☆ قوله تعالى:{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا}[سورة الإسراء:99].
    ☆ قوله تعالى:{أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ}[سورة يس:81].
    عقل صریح نقل صحیح سے متعارض نہیں
    عقل صریح نقل صحیح سے متعارض نہیں ہو سکتی ہے، شيخ الإسلام - رحمہ اللہ - فرماتے ہیں:" کتاب وسنت اور اجماع امت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو عقل صریح کے مخالف ہو، کیونکہ جو عقل صریح کا مخالف ہے وہ باطل ہے، اور کتاب وسنت اور اجماع میں کچھ بھی باطل نہیں ہے، ہاں مگر ان میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں بعض لوگ بسا اوقات سمجھ نہیں پاتے ہیں، یا ان سے باطل(مطلب) سمجھ بیٹھتے ہیں، لہذا (یہ نا سمجھی) کی آفت کتاب وسنت کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان ہی کی طرف سے ہے(مجموع الفتاوى:11/490).
    • عقلی دلائل جو شرعی دلائل سے متعارض ہوں
    اگر شرعی دلائل کے ساتھ عقلی دلائل متعارض ہوں تو وہ قابل قبول نہیں ہیں.
    عقل کے ذریعہ نقل کا معارضہ ہو تو اس کا کتنا خطرناک انجام ہو سکتا ہے؛ امام مالک -رحمہ اللہ- نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ...جب بھی ایسا شخص آیا جو دوسرے سے زیادہ جھگڑالو ہو؛ تو اس نے اس چیز کو رد کیا جسے جبرئیل (علیہ السلام) نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا(شرح اعتقاد أهل السنة والجماعة:1/144).
    امام شافعی -رحمہ اللہ- فرماتے ہیں:" ہر وہ چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم مخالف ہو؛ وہ مسقوط ہے... (الأم:2/193).
    اور شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" صحابہ کرام اور جنہوں نے اچھائی کے ساتھ ان اتباع کی؛ ان کے درمیان یہ متفقہ اصول رہا ہے کہ کسی ایسے شخص کی بات ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتی جس نے اپنی رائے، اپنے ذوق، اپنی عقل، اپنے قیاس، یا اپنے وجد کے ذریعہ قرآن سے معارضہ کیا ہو... " (مجموع الفتاوى:13/28).
    ثانياً: فطرت
    • اس سے مراد وہ: علم ہے جو انسانوں کے دلوں میں جاںگزیں ہے، جس سے خیر وبھلائی کی معرفت اور اس کی محبت، شر وبرائی کی معرفت اور اس کی کراہت جیسے امور حاصل ہوتے ہیں...اور اس کا اصل منبع، و حقیقی معیار توحید و ایمان ہے{وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ}[سورة الحجرات:7].
    اسی فطری علم سے انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرتا ہے؛ جو در اصل انسانی دلوں میں اس طرح رچا بسا ہے کہ کبھی بھی اور کسی بھی مؤثرات سے نہ متاثر ہو سکتا ہے، اور نہ ہی کسی بھی صورت میں زائل ہو سکتا ہے.
    اسی لئے فطرت سلیمہ کو بھی عقیدہ باب میں فرعی مصدر کی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ صحیح اور سلیم الفطرت انسان کبھی بھی اللہ تعالٰی کی وحدانیت کا انکار نہیں کر سکتا ہے{فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ}[سورة الروم:30].
    نوٹ: مبادئ علم ربوبیت کے مباحث میں ان شاء الله فطرت پر تفصيلي روشنی ڈالی جائے گی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,432
    بارک اللہ فیک. شیئرنگ کے لیے شکریہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں