خطبہ حرم مکی عاشوراء كے احكام وآداب از ڈاکٹر اسامہ بن عبد اللہ خیاط ۔۔06-09-2019

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏ستمبر 21, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    خطبہ جمعۃ المبارک 7 محرم 1441ھ بمطابق 6 ستمبر 2019ء
    مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اسامہ بن عبد اللہ خیاط
    عنوان: عاشوراء كے احكام وآداب
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    بشکریہ: عمر وزیر ویب


    خطبے کے اہم نکات
    1- نیکی کی کوشش اور تمنا ہر نیک آدمی عادت ہے۔
    2- اللہ کی نعمت ہے کہ اس نے نیکی کے راستے متعدد بنائے ہیں۔
    3- عاشوراء کے روزے کی فضیلتیں۔
    4- نیکی کے کاموں پر ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔

    اقتباس
    اس عظیم اجر انسان کو اس دن کے روزے کی ترغیب دلاتا ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھانے، اسے ضائع نہ ہونے دینے، نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرو۔ اللہ کے نبی پر بہت رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں۔ آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور سلف صالحین کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔

    پہلا خطبہ
    ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، وہی سب بے شمار عطاؤں اور احسانات والا ہے۔ میں اللہ پاک کی ایسی حمد وثنا بیان کرتا ہوں جو ہمیں اس کے قریب لے جائے اور سعادت مندوں کا مقام دلا دے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وه جسے چاہتا ہے، اپنی رحمت کا سے نواز دیتا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ خاتم الانبیاء اور پرہیزگاروں کے سربراہ ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر ، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر، جب تک زمین وآسمان اپنی جگہ موجود ہیں، ہمیشہ رہنے والی رحمتیں اور سلامتی نازل فرما! تابعین پر اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر بھی نازل فرما۔
    بعدازاں!
    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ آپ نے اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ (جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا) [النبأ: 40]۔

    اے مسلمانو!
    نیکی کی چاہت، بھلائی کی تلاش، خیر کے دروازوں پر دستک دیتے رہنا، اس کی راہ میں کامیابی کی دعا کرنا اور اللہ سے نیکی کی چوٹی تک پہنچنے میں مدد کا سوال کرنا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور خود کی نگہداشت کرنے والوں کا شیوہ ہے۔ غیب کے علم کو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے راستوں کی تلاش کرنے والوں کا طرز عمل ہے۔ ایسے لوگ اللہ کے دارِ اکرام تک پہنچے اور اس کے وعدوں سے سرخرو ہونے اور زمین وآسمان جتنی کشادگی رکھنے والی متقین کے لیے تیار کی جانے والی جنت میں اس کے چہرہ اقدس کے دیدار کی امید رکھتے ہوئے ایسے کاموں میں سے کسی کام کو نظر انداز نہیں کرتے جس میں اللہ کی خوشی ہو، جس کی ہدایت اور رہمائی اللہ تعالیٰ دی ہو، جس پر عمل کرنے یا اللہ کے راستے میں اسے زاد راہ کے طور پر حاصل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ۔

    اللہ کی رحمت کی کشادگی، اپنے بندوں پر اس کی خصوصی مہربانیوں اور اس کی مخلوق کے لیے بھلائی کی چاہت کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ نیکی کے وہ راستے بہت زیادہ ہیں جن کی طرف اللہ نے اپنی نازل کردہ اور واضح کتاب میں رہنمائی کی ہے، جو رسول مصطفیٰ اور نبی مجتبیٰ ﷺ کی صحیح اسناد کے ساتھ ثابت احادیث میں آئے ہیں جن میں آپ ﷺ کے رویے اور منہج کا ذکر ہے، جن پر چلنے اور عمل کرنے اور ان کی چوٹی تک پہنچنے کا حکم اس نے انہیں دیا ہے۔

    نیکی کے یہ راستے بھلائی کے وہ دروازے ہیں جو تمام لوگوں کے لیے ہر وقت یکسان کھلے ہیں، یہ سال کے ہر دن میں کھلے رہتے ہیں۔ یہ کسی وقت بھی بند نہیں ہوتے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں ہے، جس کے دنوں اور راتوں میں کوئی ایسی عبادت نہ رکھی گئی ہو کے ذریعے انسان اپنے رب کے قریب ہونے کے لیے بہت سی نیکیاں اور کثیر تعداد کی بھلائیاں کما سکتا ہے اور ان کا عظیم ثواب پا کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔

    اگر کوئی مسلمان اپنے سال کو ذو الحجہ کی عظیم عبادات پر حج، عمرہ، ایام تشریق میں اللہ کے ذکر اور قرب الٰہی کے حصول کے لیے قربانی اور غیر حاجی ہونے کی صورت میں عرفات کے دن کے روزے جیسی ایک عظیم عبادات پر ختم کرے، تو اس کا نیا سال بھی ایک عظیم عبادت سے شروع ہوتا ہے۔ سال کے پہلے مہینے، محرم میں روزوں کی عظیم عبادت آ جاتی ہے۔ جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ اس کے روزے رمضان کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے ہیں۔ جیسا کہ امام مسلم اور اصحاب سنن کی روایت کردہ حدیث میں ہے۔ یہ عبادات انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ اس کی تخلیق کا اصل مقصد کیا تھا؟ زمین میں بھیجے جانی کی اصل غایت کیا تھی؟ وہ عظیم مقصد اور بہترین غایت کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں واضح فرمایا ہے۔ فرمایا: (میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں (56) میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں (57) اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست) [الذاریات: 56 -58]۔

    اگر انسان اپنی تخلیق کی غرض وغایت کو یاد رکھے تو وہ حقیقت اسے ہمیشہ یاد رہتی ہے جو بطور بخود انتہائی واضح، بڑے واضح دلائل رکھنے والی اور بڑی اہمیت کی حامل ہے، مگر جسے بہت سے لوگ بھول جاتے ہیں کہ مسلمان کی زندگی اجمالی طور پر اور اس کے تمام اعمال خالق کائنات، رب العالمین کے لیے ہی ہیں، جو اسے پیدا کرنے والا، اسے رزق دینے والا اور اس کا مالک ہے۔ جو اپنی مرضی کے مطابق اس کے تمام معاملات سنبھالتا ہے۔ اس لیے اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسی کی رضا کو اپنا مقصد اور ہدف بنائے۔ اسی کی طرف متوجہ ہو اور اپنی محنت کا مقصد اسی کی رضا بنائے۔ ﴿کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے (162) جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں﴾ [الانعام: 162 -163]۔

    اللہ کے بندو!
    محرم کے مہینے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا روزہ عاشورء کا روزہ ہے۔ عاشوراء کا روزہ رکھنے والے کو بہت اجر اور ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیح کتابوں میں روایت کیا ہے، ابن عباس سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی دن اور کسی مہینے کے روزے دوسرے دنوں سے افضل سمجھتے ہوئے اور اتنے اہتمام کے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنے اہتمام سے آپ ﷺ اس دن یعنی عاشوراء کے دن اور اس مہینے یعنی ماہ رمضان کے روزے رکھتے تھے‘‘ ۔

    اسی طرح امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں روایت کیا ہے کہ ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عاشوراء کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے گناہ معاف فرما دے گا‘‘، اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو روزہ رکھتے دیکھا، ان سے پوچھا: اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی۔ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا۔ موسیٰ نے بھی شکرانے کے طور پر اس کا روزہ رکھا تھا اور ہم بھی اس کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: موسیٰ کی نجات کا شکرانہ ادا کرنے کے ہم زیادہ حق دار ہیں۔، پھر رسول اللہ ﷺ نے خود بھی یہ روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔

    اس عظیم اجر انسان کو اس دن کے روزے کی ترغیب دلاتا ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھانے، اسے ضائع نہ ہونے دینے، اور نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے، اللہ کے نبی پر بہت رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں۔ آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور سلف صالحین کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ سلف صالحین بھی اس بے مثال اور عظیم دن کا روزہ پورے اہتمام کے ساتھ رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم) میں ہے رُبیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن مدینہ کے گرد بسنے والی بستیوں کو پیغام بھیجا: جس نے صبح سے روزہ رکھا ہے، وہ اپنا روزہ پورا کرے، اور جس نے صبح سے روزہ نہیں رکھا وہ بقیہ دن کا روزہ رکھے‘‘، فرماتی ہیں: ’’پھر اس دن کا روزہ ہم خود بھی رکھتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی رکھواتے تھے، انہیں بھی مسجد لے جاتے اور اون کا کھلونا بنا کر دے دیتے، جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو اسے کھلونا دے دیتے تاکہ افطار کے وقت تک اس کا دھیان ادھر لگ جائے۔ ایک روایت میں ہے: تاکہ اس کا روزہ پورا ہو جائے‘‘امام مسلم کی روایت میں ہے: ’’جب ہم سے وہ کھانا مانگتے تو ہم انہیں کھلونا دے دیتے تاکہ روزے کے آخر ان کا دیہان ادھر لگا رہے‘‘، اسی لیے امام ابو حنیفہ ﷫ فرماتے ہیں: ’’اس وقت یہ روزہ واجب تھا: پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اسے استحباب کا درجہ دے دیا کیا‘‘امام احمد ﷫ کا موقف بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔

    جہاں تک بچوں کی بات ہے تو روزہ ان پر تو فرض نہیں تھا، کیونکہ دین اسلام کے تمام احکام سے وہ مستثنیٰ ہیں۔ مگر صحابہ کرام ایسا انہیں مشق کرانے کے لیے کیا۔ حافظ قرطبی ﷫ فرماتے ہیں: ’’صحابہ نے احکام کی پابندی میں آگے بڑھتے ہوئے اپنے بچوں کو عادت ڈالنے کے لیے یہ روزہ رکھوایا۔‘‘یہاں ان کی بات ختم ہوئی۔ بھر حال یہ تربیت کا ایک عظیم طریقہ ہے۔ اس انداز کے اثرات انتہائی شاندار ہیں۔ اس کی عاقبت بھی بڑی بہترین ہے۔

    تو اللہ کے بندو!
    اللہ سے ڈرو! اس دن کے عظیم موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ پورے اخلاص کے ساتھ نیکی کرو۔ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرو۔ تاکہ تو کامیاب ہو جاؤ۔

    اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم کی ہدایات سے فیض یاب فرمائے۔ سنت نبی ﷺ سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں اپنی بات کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ
    ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی صراط مستقیم کی راہ دکھانے والا ہے۔ میں اللہ پاک کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں وہی مہربان، نرمی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ صحیح منہج اور طریقے والے ہیں۔ بہترین اخلاق والے ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر، تابعین سے اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔
    بعدازاں! اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا، موسیٰ نے بھی اسی دن کا روزہ رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نصرت عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا تھا۔ اس روزے میں نعمتوں کے شکر کی تلقین ہے، یہ پیغام ہے کہ فرمان برداری سے نعمتیں ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔ مزید نعمتوں کا امید بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وعدہ اللہ تعالیٰ نے اہل شکر کے ساتھ کیا ہے۔ فرمایا: (اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا) ابراہیم: 7] تو اللہ کے بندو! نعمتیں حاصل کرنے کے لیے اللہ کو خوش کرنے والے کام کرو۔ اسے ناراض کرنے اور اس کی سزا نازل کرنے والےاعمال سے بچو۔ عاشوراء سے کے ساتھ ایک دن کا اضافی روزہ رکھو، یا اس سے پہلے یا اس کے بعد۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ’’اگر میں اگلے سال تک رہا تو نویں دن کا روزہ رکھوں گا‘‘ (اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں روایت کیا ہے)

    ، اسی طرح امام طبرانی کی راویت میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر مجھے اگلے سال تک زندگی ملی تو میں نویں دن کا روزہ رکھوں گا، ایسا نہ ہو کہ عاشوراء کا روزہ رہ جائے۔‘‘، امام شافعی ﷫ اور امام احمد ﷫ کا یہی موقف ہے کہ عاشوراء کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھا جائے۔ امام ابو حنیفہ ﷫ نویں یا گیارہویں دن کے روزے کے بغیر عاشوراء کا روزہ مکروہ سمجھتے ہیں۔

    مخلوق میں سے افضل ترین ہستی پر درود وسلام بھیجو! محمد بن عبد اللہ ﷺ پر، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی کتاب میں یہی حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو﴾ [الاحزاب: 56]۔

    اے اللہ! اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما! اے اللہ! اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہو جا! ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے، اور تمام صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے بھی راضی ہو جا۔ آپ ﷺ کی بیویوں، امہات المؤمنین سے ، تابعین سے اور قیامت تک ان نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔ اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والے! اپنی رحمت اور کرم سے ہم سے بھی راضی ہو جا۔ اے سب سے پڑھ کر درگزر اور معاف کرنے والے!

    اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! دین کے مرکز کی حفاظت فرما! دشمنان دین کو بتاہ وبرباد فرما! تمام سرکشوں اور فسادیوں کو تباہ وبرباد فرما۔ مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ دے! ان کی صفیں مضبوط کر دے، ان کے حکمرانون کی اصلاح فرما۔ اے پروردگار عالم! انہیں حق وسلامتی پر اکٹھا فرما!
    اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب کی نصرت فرما! رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اپنے نیک، مؤمن، مجاہد اور سچے بندوں کی مدد فرما۔
    اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے پروردگار عالم! ہماری حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہوں اور اے پروردگار عالم! جو تیری خوشنوی کے طالب ہوں۔
    اے اللہ! ہمارے حکمران کی تائید فرما! اس کی نگہبانی فرما! اسے نیک مشیر ، معین اور اچھی کابینہ نصیب فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم!اسے ان باتوں اور کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
    اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کی عزت اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود ہو۔ جن میں ملک اور قوم کا بھلا ہو۔ اے قیامت کے دن ہمارے فیصلے فرمانے والے!
    اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما!
    اے اللہ! ہم تجھ سے نیکیاں کرنے کا اور برائیاں چھوڑنے کا سوال کرتے ہیں۔ مسکینوں سے محبت کا سوال کرتے ہیں۔ تیری مغفرت اور رحمت کے خواہشمند ہیں۔ جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے چاہے تو ہمیں فتنے سے بچا کر اپنا پاس بلا لینا۔
    اے اللہ! نادان لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہمیں سزا نہ دے۔ اے اللہ! نادان لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہمیں سزا نہ دے۔ اے اللہ! نادان لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہمیں سزا نہ دے۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! نادان لوگوں کی غلطیوں کی ہم معافی مانگتے ہیں۔
    اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملات کا دار ومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہمارا روزگار ہے۔ ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔ زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے نجات کا سبب بنا۔
    اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ!ہم تجھے تیرے اور اپنے دشمنوں کے سامنے کرتے ہیں۔ اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
    اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما! ہماری نیک خواہشات پوری فرما! ہمارے اعمال کا خاتمہ نیک اور ہمیشہ باقی رہنے والے کاموں پر فرما!
    اے اللہ! ہم تجھ سے نعمتوں کے زوال سے، عافیت کے خاتمے سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور اے پروردگار عالم! تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
    اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ! اے پروردگار عالم! جس طرح تو چاہے، ہمیں ہمارے دشمنوں سے بچا لے! اے اللہ!ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں۔ ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اے اللہ!ہم تجھے ان کے سامنے کرتے ہیں۔ ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
    اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما! ہماری نیک خواہشات پوری فرما! ہمارے اعمال کا خاتمہ نیک اور ہمیشہ باقی رہنے والے کاموں پر فرما!
    ﴿اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا، تو یقیناً! ہم تباہ ہو جائیں گے﴾ [الاعراف: 23]،
    (اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!) [البقرۃ: 201]۔
    اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو رسول اللہ ﷺ پر آپ ﷺ کے اہل بیت پر اور تمام صحابہ کرام پر۔ ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہی ہے۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 21, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں