خطبہ حرم مکی الغزاوی (امن وامان کی اہمیت) 21 محرم 1441هـ بمطابق 20 ستمبر 2019

فرهاد أحمد سالم نے 'خطبات الحرمین' میں ‏اکتوبر، 5, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فرهاد أحمد سالم

    فرهاد أحمد سالم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2019
    پیغامات:
    25

    فضیلۃ الشیخ فیصل بن جمیل غزاوی حفظہ اللہ تعالی نے مسجد حرام میں 21 محرم 1441کا خطبہ " امن و امان کی اہمیت "کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں کہا کہ امن و امان ہر معاشرہ کی ضرورت ہے، امن و امان پاکیزہ زندگی کے مقاصد میں شامل ہے ۔ انسان ایسی حالت میں کیسے زندگی گزار سکتا جس میں امن و استقرار نہ ہو، امن و امان نہ ہونے کی صورت میں حقوق کا ضیا ع ہوتا اور لاقانونیت پھیلتی ہے نیز طاقتور کمزور پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ امن بڑی نعمت اور عظیم احسان ہے، جس کی قدر و قیمت کا ادراک اور اہمیت وہ ہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اس کی محرومی کا گھونٹ پیا ہو۔ آج دنیا میں امن و امان کے فقدان کی ایسی صورتحال ہے کہ جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں۔ امن انسانی زندگی کا مقصود ہے، اس لیے کہ انسان اپنی فطرت سے ہی امن اور ایسی چیز کو تلاش کرتا ہے جو اسے خطرے اور خوف سے دور رکھے۔ امن و امان نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج ظاہر ہوتے ہیں ۔ اسلامی شریعت نے امن و امان کے حصول کے اسباب بتائے ہیں، جن میں ایمان با اللہ، عمل صالح، توحید کا اقرار اور شرک سے برات شامل ہیں، اسی طرح دین اسلام میں قیام امن پر بہت زور دیا گیا ہے اور فساد سے منع کیا گیا ہے ۔

    فرہاد احمد سالم (مکہ مکرمہ)​

    عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    اردو ترجمہ کی آڈیو سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:

    بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اور مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل اور صحابہ کرام پر بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے۔

    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

    {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] لوگو! اپنے اس پروردگار سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر ان دونوں سے (دنیا میں) بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ نیز اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور قریبی رشتوں کے معاملہ میں بھی اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ تم پر ہر وقت نظر رکھے ہوئے ہے۔

    { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 70، 71] اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو ۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقیناً اس نے کامیابی حاصل کر لی، بہت بڑی کامیابی۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    کتاب اللہ (قرآن مجید) میں وارد اللہ تعالی کے پیارے ناموں میں سے ایک نام المؤمن ( امن دینے والا)بھی ہے ۔ جیسے کہ اللہ تعالی نے اپنا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : {هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الحشر: 23] وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

    المؤمن کے معانی میں سے ایک معنی امن بھی ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ہی اپنے مومن بندوں کو اس کے ذریعے دنیا میں اطمینان اور امن عطا کرتا ہے۔ جس کو بندے اپنے دلوں میں اللہ رب العالمین پر ایمان اور اس کی توحید کے ذریعے محسوس کرتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالی ہی کی ذات ہے جو اپنی تمام مخلوق کو رزق عطا کر کے اور ان سے مصائب دور کر کے ان کو زندگی سے موت تک امن دیتی ہے ۔

    اللہ کے بندو!

    امن و امان پاکیزہ زندگی کے مقاصد میں سے ہے، انسان ایسی حالت میں کیسے زندگی گزار سکتا جس میں امن و استقرار نہ ہو۔ اور اس کی زندگی کیسے خوشگوار ہو گی جس میں امن نہ ہو۔

    اسی طرح امن و امان ہر معاشرہ کی ضرورت ہے تاکہ معاشرہ شرور و فتن اور آفات سے محفوظ رہے نیز اسی کے ذریعے اطمینان و سکون اور ترقی و خوشحالی حاصل ہوتی ہے، اور اسی سے مفادات کی درستگی اور جان و عزت اور دولت کی حفاظت راستوں کی سلامتی اور حدود کا نفاذ ہوتا ہے۔

    امن و امان نہ ہونے کی صورت میں حقوق کا ضیا ع اور مفادات معطل ہو جاتے ہیں، لاقانونیت پھیلتی ہے اور طاقتور کمزور پر مسلط ہو جاتے ہیں، اسی طرح لوٹ کھسوٹ، خون ریز ی، پامالی عزت کے علاوہ اور بھی بے عملی کے مناظر معاشرے میں رونما ہو تے ہیں۔

    امن بڑی نعمت اور عظیم احسان ہے، جس کی قدر و قیمت کا ادراک اور اہمیت وہ ہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اس کی محرومی کا گھونٹ پیا ہو اور اس کے فقدان کی آگ میں جلا ہو، اور وہ امن و امان نہ ہونے کی وجہ سے خوف تشویش، ڈر، بے چینی ، لاقانونیت اور جلاوطنی میں مبتلا ہوا ہو۔

    کتنے ہی ایسے اجنبی ہیں جو جلاوطن اور اپنے گھر والوں سے دور ہوئے ، اور کتنے ہی بھٹکے ہوئے مصیبت زدہ ہیں جو نہ تو اپنا ٹھکانہ جانتے ہیں اور نہ ہی ان کو اطمینان و سکون کا احساس ہے۔

    اللہ آپ پر رحم کرے، غور کریں !

    آج دنیا میں امن و امان کے فقدان کی ایسی صورتحال ہے کہ جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں۔ جیسے سیاہ فتنے اور شدید ہلاکت خیز جنگیں ، بدترین لاقانونیت ، ظالمانہ جارحیت کی حالت میں خوف و دہشت اور لوٹ کھسوٹ کا عام ہونا ۔

    اللہ کے بندو!

    امن انسانی زندگی کا مقصود ہے، اس لیے کہ انسان اپنی فطرت سے ہی امن اور ایسی چیز کو تلاش کرتا ہے جو اسے خطرے اور خوف سے دور رکھے، اس کی اہمیت اور اعلی مقام کی وجہ سے خلیل ابراہیم نے اہل مکہ کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ فرمایا: {رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ } [البقرة: 126] اے میرے رب! اس (جگہ مکہ مکرمہ ) کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ان کو پھلوں سے رزق دے۔

    چنانچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے سلامتی کی دعا کو رزق کی دعا پر مقدم فرمایا، اس لیے کہ امن و امان ایک ضرورت ہے جبکہ خوف کی موجودگی میں انسان رزق سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا ہے۔ بلکہ قرآنی آیات میں غور و فکر سے ایک طرف ہم امن و امان اور آسودہ حالی کے مابین مضبوط تعلق اور دوسری طرف خوف اور فاقہ کشی کے مابین تعلق پائیں گے۔

    اللہ تعالی نے قریش کے بارے میں فرمایا کہ جنہوں نے ہدایت کی پیروی سے انکار کیا: {أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ } [القصص: 57] اور کیا ہم نے انہیں ایک با امن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کے لیے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

    اور ا للہ تعالی نے قریش پر اپنے احسان اور فضل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : {الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} [قريش: 4] جس نے انہیں بھوک سے ( بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے (بچا کر) امن دیا۔

    امن کی اسی اہمیت کی وجہ سے اللہ تعالی نے مومنین سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ایک اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کی اطاعت پر جمے رہیں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹہرائیں گے تو اللہ تعالی ان کی خوف کی حالت کو کہ جس میں وہ جی رہے ہیں امن و اطمینان چین اور سکون سے بدل دے گا۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } [النور: 55] اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انہیں ان کے خوف کے بعد بدل کر امن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔

    امن انسان کی ضرورت ہے ، اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس کا اللہ تعالی سے سوال کیا چنانچہ حدیث میں ہے: فعن ابن عمر رضي الله عنه قال: ”كان رسول الله ﷺ إذا رأى الهلال قال: اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام والتوفيق لَِما تُحب وترضى ربنا وربك الله”(رواه ابن حبان)

    عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہےکہ جب نبی ﷺ نیا چاند دیکھتے تو فرماتے(اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام والتوفيق لَِما تُحب وترضى ربنا وربك الله) اے اللہ تو اسے ہم پر امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ ظاہر فرما اے چاند میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ اس حدیث کو ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

    اس کا معنی یہ ہے کہ ہمارا نئے چاند کو دیکھنا آفات و مصیبت سے سلامتی اور ایمان پر ثابت قدمی نیز دین و دنیا کی آ فات سے حفاظت کے ساتھ جوڑ دے۔

    آپ ﷺ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی تھی : اللهم ْ اسُتر َ عوَراتي، ِ وآمن َ ر ْو َعاتي”(رواه أحمد، وأبو داود، وابن ماجه). اے اللہ میرے عیوب کی پردہ پوشی فرما اور مجھے خوف سے امن عطا فرما۔( اس حدیث کو احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے)۔

    سلامتی وہ عمدہ مقصد ہے جسے معاشرے تلاش کرتے ہیں اور قومیں اسے حاصل کرنے کے لیے مسابقہ کرتی ہیں۔ اللہ تعالی نے قوم سبا کو دن رات ان کی بستیوں میں حاصل امن و امان کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ} [سبأ: 18] راتوں اور دنوں کو بے خوف ہو کر ان میں چلو۔

    اور اللہ تعالی نے قریش پر اپنی نعمت امن کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ } [العنكبوت: 67] اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے ایک حرم امن والا بنا دیا ہے، جب کہ لوگ ان کے گرد سے اچک لیے جاتے ہیں، تو کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں؟

    حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

    من أصبح ِ آمنا في سربہ معافی فی جسدہ عندہ قوت یومہ فکانما حيزت له الدنيا”(رواه الترمذي، وابن ماجه) جو شخص اپنے گھر میں امن اور اپنے وطن میں عافیت کے ساتھ صبح کرے اور اس کے پاس اس دن کے بقدر خوراک کا سامان ہو، تو گویا اس کے لیے دنیا سمیٹ دی گئی۔

    مسلم اقوام!

    اگر امن و امان کے نظام میں بگاڑ اور اس کے عناصر میں لرزہ پیدا ہو جائے تو اس کی باڑ ٹوٹ جاتی ہے۔ پھر اس کے سنگین نتائج کے بارے میں نہ پوچھیے جو فتنوں کے طوفان اور برائیوں کی کثرت کی شکل میں رونما ہوتے ہیں، اس لیے کہ امن کے فقدان سے اندھے فتنے، گھناؤنے جرائم اور ناپسندیدہ اعمال ہی پیدا ہوتے ہیں۔

    لہذا امن و امان اسلام کا ایک ایسا عظیم مقصد ہے کہ جس کے لیے وہ احکام مقرر کیے گئے ہیں جو اس کی اور اس کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو روکتے ہیں۔

    شرعی نصوص میں ضرورت خمسہ کی محفاظت کا با کثرت ذکر ملتا ہے ۔ اور ضرورت خمسہ یہ ہیں، دین ، نفس، عقل، عزت اور مال۔ شریعت نے ان کی حفاظت کو واجب کیا ہے اور اس کے باڑ کو محفوظ کر دیا ہے نیز اسے چھیڑ چھاڑ سے روکنے کے لیے حدود اور سزا مقرر کی ہے۔

    بلکہ اسلام نے اس عظیم فضل کی حفاظت کے لیے ہر اس عمل کو حرام قرار دیا ہے جو امن ، سکون اور استحکام کو درہم برہم کرے۔ اور ہر اس کام سے متنبہ کیا ہے جس سے خوف، دہشت اور بے چینی پھیلے۔ میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں اپنے اور آپ کے لیے اللہ رب العزت سے مغفرت طلب کرتا ہوں، آپ بھی اس سے تمام گناہوں کی مغفرت طلب کریں بیشک وہ معاف کرنے والا غفور و رحیم ہے۔

    دوسرا خطبہ:

    ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے امن کو ایمان کے ساتھ جوڑا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ بہت کرم اور احسان کرنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ﷺ ولد آدم کے سردار ہیں ۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کے صحابہ اور اچھے طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر کثرت سے درود و سلام نازل فرمائے ۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    اللہ کے بندوں!

    سچا مومن ہر گز یہ نہیں چاہے گا کہ کسی اسلامی ملک کو کوئی گزند پہنچے ، چہ جائیکہ بلد حرمین شریفین ہی کیوں نہ ہو ۔ بلکہ سچا مومن ہر اس مخالف شخص کے مقابل کھڑا ہوگا جو اس کے اقدار اور اصولوں میں دستدرازی کرنا چاہے یا اس میں انتشار پھیلانا چاہے یا ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہے جو استقرار کو درہم برہم اور امن کو بگاڑنا چاہیں۔

    اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں امن و استحکام کی حفاظت ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ و عزوجل کا قرب حاصل کرتے ہیں۔

    اس تعلق سے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان لو گوں سے مقابلہ کریں ، جو ملک اور لوگوں کی سلامتی کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہمیں ہر اس آواز کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے جو امن کے لیے خطرہ اور استحکام کو درہم برہم کر دینے والی ہے۔ امن کے بغیر زندگی میں کوئی خوشی نہیں اور نہ ہی مال میں سعادت ۔

    اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر بہت سے احسانات کیے اور ان پر بہت سارے واجبات مقرر کیے ہیں۔ ان احسانات میں سے ایک امن بھی ہے، جس کی حفاظت کرنا ان پر واجب ہے ۔

    مسلمانو!

    اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کو ڈراتے ہیں اور کے امن میں خلل ڈالتے ہیں نیز ان کے معاشی مفادات کے لیے خطرہ بنتے ہیں، ان کا یہ عمل زمین میں بڑا فساد پیدا کرنے کا سبب ہے۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ } [البقرة: 204 - 206] اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جس کی بات دنیا کی زندگی کے بارے میں تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اس پر گواہ بناتا ہے جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب واپس جاتا ہے تو زمین میں دوڑ دھوپ کرتا ہے، تاکہ اس میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو برباد کرے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقیناً وہ برا ٹھکانا ہے۔

    اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ} [القصص: 77] اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

    یعنی گناہ اور ظلم کے ذریعے زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو ، اس لیے کے اللہ تعالی ظالموں اور گناہگاروں سے محبت نہیں کرتا۔

    مذکورہ بالا کی بنیاد پر تیل کی دو منصوبوں پر بڑا مجرمانہ حملہ زمین میں فساد پھیلانے کی قسموں اور حرمت پامال کرنے میں سے ہے ۔ اس بھیانک شر، قبیح جرم اور خوفناک گناہ کی وحشت اس لیے بڑی ہے کہ یہ وہ جرم عظیم ہے جسے اللہ کے حرام کردہ مہینوں میں سے ایک مہینہ محرم میں انجام دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ } [التوبة: 36] بے شک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

    چنانچہ ان مہینوں میں ظلم بڑا گناہ اور بڑا جرم اس لیے ہے کیونکہ ایک تو گناہوں اور خطا وں کے ارتکاب کے ذریعے اللہ تعالی کی نافرمانی کی گئی ہے، اور دوسری طرف اللہ تعالی کی جانب سے حرام کردہ اور عظمت والے مہینے کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے، لہذا اس میں یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں