کالے یرقان کا جنگلی کبوتر سے علاج کی شرعی حیثیت

مقبول احمد سلفی نے 'صحت و طب' میں ‏اکتوبر، 23, 2019 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    کالے یرقان کا جنگلی کبوتر سے علاج کی شرعی حیثیت

    تحقیق: مقبول احمد سلفی
    اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)

    یرقان جسے انگریزی میں (Hepatitis) کہتے ہیں ، یہ ایک قسم کا مرض ہے جو جگر سے متعلق ہے جو دراصل وائرس ہے اور دوسروں میں منتقل بھی ہوتا ہے۔اس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ہیپاٹائٹس ڈی اور ہیپاٹائٹس ای۔ ہیپاٹائٹس اے کو پیلا یرقان اور بی و سی کو کالا یرقان کہا جاتا ہے ۔

    آج کل یہ مرض دنیا میں عام ہے، ہرملک میں وافر مقدار میں اس کے مریض پائے جاتے ہیں ،اس وجہ سے علاج کے مختلف طریقے لوگوں میں پائے جاتے ہیں بلکہ آئے دن اس مرض کے خاتمہ کے لئے نئے نئے علاج تلاش کئے جارہے ہیں ۔ علم طب وسائنس کے یہاں ہیپاٹائٹس کی جملہ اقسام کا علاج موجود ہے بلکہ اکثر ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں ان کا مفت علاج ہوتا ہے ۔ گھریلو طور پر عوام نے بھی مختلف قسم کے علاج ومعالجے ایجاد کر رکھی ہے۔ کالے یرقان سے متعلق عوامی علاج کا ایک نیا طریقہ آج کل کافی مشہور ہوتا جارہاہےاور لوگ اس کی شرعی حیثیت جاننا چاہتے ہیں تاکہ اگر علاج درست ہو تو اسے عمل میں لایا جائے ورنہ اس طریقہ علاج سے پرہیز کیا جائے ۔

    کالے یرقان یعنی ہیپاٹائٹس سی کا علاج آج کل جنگلی کبوتر سے کیا جاتا ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اس مرض کا شکار ہو اس کی ناف پہ جنگلی کبوتر(نر) کے پیخانہ کی جگہ سٹاکر رکھی جائے ،اس سے مریض کا وائرس ناف کے راستے کبوتر میں منتقل ہوکر کبوتر خود بخود مرجائے گا ، کبوتر والا یہ عمل اس وقت تک جاری رکھنا ہے جب تک کبوتر ناف سے لگ کر مرتا رہے اور اگر مرنا بند ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب مریض کو افاقہ ہوگیا ہے ، اس مریض کا ٹیسٹ کرایا جائے تومعلوم ہوجائے گا کہ کالے یرقان کی بیماری ختم ہوچکی ہے۔یہ عوامی خیال ہے۔

    جواب اس بنیاد پر دیا جارہا ہے کہ اگر یہ عوامی خیال درست ہوتو اس علاج کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ اس کے لئے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اسلام نے ہمیں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور کیا علاج کی غرض سے جاندار کا قتل جائز ہوسکتا ہے ؟
    ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تمام کائنات کا خالق اکیلا اللہ ہے ، وہی انسانوں کا بھی اور حیوانوں کا بھی خالق ہے ۔ وہ اپنی تمام مخلوقات پر شفیق ومہربان ہے ، فرمان الہی ہے : إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (النحل:7)
    ترجمہ: یقینا تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے۔
    جس طرح اللہ اپنی مخلوق پر مہربان ہے اسی طرح اپنے نبی محمد ﷺ کے ذریعہ بندوں کو بھی زمین پر رہنے والی تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کرنے کا حکم دیا ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : الراحمون يرحمهم الرحمن، ارحموا اهل الارض يرحمكم من في السماء(صحیح ابی داؤد:4941)
    ترجمہ: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

    یہ حدیث ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ زمین پر رہنے والی تمام مخلوق کے ساتھ پیارومحبت اور حسن سلو ک سے پیش آنا چاہئے اورکسی مخلوق کوبغیر کسی وجہ کے تکلیف دینے سے پرہیز کرنا چاہئے حتی کہ چیونٹی کا بھی قتل ممنوع ہے ۔

    کہاجاتا ہے کہ جنگلی کبوتر سے کالے یرقان کا علاج کرنے میں کبوترخود بخود مرجاتا ہے،اس کا گلا نہیں دبایا جاتاہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک آدمی کے علاج میں اسی اسی اور چالیس چالیس کبوتر مرتے ہیں ۔

    اگر یہ بات صحیح مان لی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کبوتر کی موت تکلیف دہ صورت میں تڑپ تڑپ کر ہوتی ہوگی کیونکہ جب اسے تیزآلہ سے ذبح نہیں کیا گیا تو کبوتر کی جان نکلنے کی صورت یہی تکلیف دہ بنتی ہے ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا اس حدیث پہ غور کریں جس میں حلال جانور کو ذبح کرنے میں تکلیف سے بچتے ہوئے آرام پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
    إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فاحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فاحسنوا الذبح وليحد احدكم شفرته، فليرح ذبيحته(صحيح مسلم:1955)
    ترجمہ:اللہ تعالی نے ہر چیز کے بارے میں احسان کا حکم دیا ہے ، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، نیز تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے ۔

    اس حدیث میں سب سے پہلے احسان کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم جانور کو ذبح کرو تو وہاں بھی احسان کو مدنظر رکھو یعنی چھری تیز کرکے اس طرح جانور ذبح کرو کہ اسے تکلیف نہ ہو۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ اسی اسی کبوتر کو ایک آدمی کے علاج کے لئے تڑپاتڑپاکر مارنا کسی بھی صورت جائز ہوسکتا ہے جبکہ اس بیماری کےلئے متعدد قسم کے علاج موجود ہیں؟۔

    اسے ضرورت کے تحت قتل نہیں کہیں گے بلکہ یہ سراسر جانور کا ناحق قتل ہے۔ یہ قتل حدیث میں موجود اس جانورکے قتل کے مشابہ ہے جسے باندھ کر قتل کرنا کہاگیا ہے، یا نشانہ لگانے کے لئے قتل کہاگیا ہے، یا ٹارگٹ کرکے قتل کرنا کہا گیا ہے ۔ آئیے ان احادیث کو ایک نظر دیکھتے ہیں ۔
    عن سعيد بن جبير ، قال: مر ابن عمر بنفر قد نصبوا دجاجة يترامونها، فلما راوا ابن عمر تفرقوا عنها، فقال ابن عمر : من فعل هذا؟ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من فعل هذا.(صحيح مسلم:1958)
    ‏‏‏‏ترجمہ: سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرے چند لوگوں پر جنہوں نے ایک مرغی کو نشانہ بنایا تھا اس پر تیر چلا رہے تھے، جب ان لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے الگ ہو گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کام کس نے کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو لعنت کی ہے اس پر جو ایسا کام کرے۔
    اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتل شيء من الدواب صبرا(صحيح مسلم:1959)
    ‏‏‏‏ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع کیا ہے۔
    ایک دوسری حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عذبت امراة في هرة، سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار، لا هي اطعمتها وسقتها إذ حبستها، ولا هي تركتها تاكل من خشاش الارض(صحیح مسلم:2242)
    ترجمہ:ایک عورت کو بلی کے مارنے کی وجہ سے عذاب ہوا، اس نے بلی کو پکڑ کر رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی پھر اسی بلی کی وجہ سے وہ جہنم میں گئی، اس نے بلی کو نہ کھانا دیا نہ پانی جب اس کو قید میں رکھا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھاتی۔
    یہ فرمان مزید واضح ہے کہ جس میں بھی جان ہے اسے ٹارگٹ اور ہدف بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
    لا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا(صحیح مسلم:1957)
    ترجمہ: جس چيز ميں بھى روح ہو اسے ٹارگٹ مت بناؤ۔

    ان ساری احادیث سے معلوم ہوا کہ کالے یرقان کے علاج کے لئے کبوتر کی جان لینا صریح قتل ہے بلکہ اس عمل کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ ہوسکتی ہے اور اس عورت کا حال بھی جان لئے جو بلی کے قتل کے سبب جہنم رسید ہوئی ۔
    حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ما من إنسانٍ يَقْتُلُ عُصْفُورًا فما فَوْقَها بغيرِ حَقِّها ، إلَّا سَأَلهُ اللهُ عَنْها يومَ القيامةِ قيل : يا رسولَ اللهِ ! وما حَقُّها ؟ قال : حَقُّها أنْ يذبحَها فَيأكلَها ، ولا يَقْطَعَ رَأْسَها فَيَرْمِيَ بِه(صحيح الترغيب:2266)
    ترجمہ:جو شخص چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے جانور کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:اسے ذبح کر کے کھائے۔ اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔
    اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:لتؤدن الحقوق إلى اهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء(صحیح مسلم:2582)
    ترجمہ: روز قيامت تم حقداروں كے حقوق ضرور ادا كرو گے حتى كہ بغير سينگ والى بكرى سينگ والى بكرى سے قصاص لے گى۔

    ان ساری احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ جب ایک بیماری کے لئے متعدد علاج موجود ہیں بلکہ سستی اور فری علاج بھی دستیاب ہیں توایسی صورت میں ایک آدمی کے لئےکیا درجنوں کبوتر کی تکلیف دہ صورت میں جان لینا درست ہے ؟ ویسے بھی یہ سائنسی طریقہ علاج نہیں ہے ، اسے عوام نے ایجاد ومشہورکررکھا ہے ۔ ایک ہوشمند آدمی کو علاج کے لئے خصوصا خطرناک بیماری کے واسطے مستند ڈاکٹر اور مستند اسپتال سے رجوع کرنا چاہئے نہ کہ ایرے غیرے کا نسخہ اپنانا چاہئے۔ ساتھ ہی جن لوگوں نے بھی بے قصور پرندوں کا علاج کرنے کے واسطے جان لیا ہے اسے توبہ کرنا چاہئے اور آئندہ اس عمل سے بچنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں ایک آخری بات یہ ہے کہ اگر علم طب وسائنس کا ماہر اس طریقہ کو مفید قرار دے اور کوئی کالے یرقان کا ایسا مریض ہو جس کی جان کا خطرہ ہو اور اس مرض کا کبوتری علاج کے ماسوا کوئی دوسرا علاج نہ ہو تب جان بچانے کی غرض سے اس طریقہ کو اپنانے میں حرج نہیں ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے ہیپاٹائٹس سی کا بےضررعلاج موجود ہےتوپھر کبوتر کا علاج کے واسطے جان لینا گناہ کا باعث ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    اس طرح سانپ کے ڈسنے پر مرغیوں کے ذریعہ زہر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔کیا یہ بھی قتل ہو گا ؟
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    اس کی کیا شکل ہے،مختصراً وضاحت کریں۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    مرغیوں کو اس وقت تک سانپ کے ڈسنے کی جگہ پر رکھ جاتا ہے ۔ جب تک مریض صحت یاب نہیں ہو جاتا ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    یعنی اس میں بھی وہی شکل ہے اور اس طرح سے مرغیوں کا قتل کیا جاتا ہے ؟ اگر مرغیوں کا قتل نہیں کیا جاتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہونا چاہئے اور اگر قتل کیا جاتا ہےتواس کا حکم بھی کبوتر والا ہی ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    اس مضمون پہ کئی جگہوں پر مجھ سے مختلف سوالات کئے گئے ، ان میں چند ایک یہاں بھی کاپی پیسٹ کردیتا ہوں۔
     
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    سوال :شیخ کچھ لوگ چڑیوں کو ائرگن یا غلیل وغیرہ سے مار کر اسے پکڑتے ہیں پھر اسے ذبح کرکے کھاتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے؟
    جواب :شکار کرنے کا مقصد کھانا ہوتا ہے اس وجہ سے ایرگن یا غلیل سے شکار کیا جا سکتا ہے تاہم اس سے بچنا بہتر ہے کیونکہ اس قسم کے آلے سے شکارکرتے وقت اگر شکار مر جائے تو نہیں کھا سکتے ہیں۔ شکار کے وقت صرف اسی مردہ جانور کو کھاسکتے ہیں جو تیزدھار سے شکار کیا گیا ہو۔
     
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    اشکال : ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں جب انسان کو کھانے کے لئے تو ان کا ذبح کرنا یا مارنا جائز ہے تو پھر اس کے مدمقابل علاج کے لئے تو اور بھی زیادہ ضروری ہوسکتا ہے کیونکہ کھانے کے لئے تو انسان اور دوسری چیز پر اکتفا کرسکتا ۔ یہ ایک اشکال ہے تنقید کے طور پر نہیں ہے تھوڑا وضاحت کردیں تو بہتر ہوگا۔
    اشکال کا جواب : اشکال پر کوئی حرج نہیں ہے.
    جانور ذبح کرنا اور جانور مارنا صرف الفاظ میں ہی زمین آسمان کا فرق ہے.اس فرق کو ایک بات سے ایسے سمجھیں کہ اگر حلال جانورمرجائے تو مردار ہے جس کا کھانا ہمارے لئے حلال نہیں ہے ۔
    کھانے کے لیے ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے مگر علاج کے لئے جانور مار نہیں سکتے ہیں. روح کا معاملہ ہے اور مضمون میں جانور مارنے سے متعلق کئی احادیث درج ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    ایک بھائی کا اس مضمون پر حسن اضافہ ،،،
    خزاك الله خیراً شیخ @مقبول احمد سلفی!
    ایک نکتہ یہ سمجھ آتا ہے کہ یہاں جو کبوتر سے علاج کا طریقہ بتلایا گیا ہے، اس میں علاج معلوم ہی نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو مرہض کا ٹیسٹ معلوم ہوتا ہے، کہ آیا مریض کو تا حال مرض لاحق ہے، یا نہیں!
    اور جب اس سے آسان اور بے ضرر ٹیسٹ موجود ہیں، تو خواہ مخواہ کبوتر کو تختہ مشق بنانا درست نہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    اس ضمن میں ڈاکٹر رضوان اسد خان کا مضمون

    آج ایک ویڈیو دیکھی جسکے مطابق میں جنگلی کبوتر کو بندے کی ناف پر رکھ کر دبایا جائے تو وہ ہیپٹائٹس سی کے وائرس کو کھینچ لیتا ہے اور خود مر جاتا ہے.
    کیسے کیسے ظالم اور فراڈئیے ہیں اس دنیا میں جو بیچارے معصوم جانوروں کو اپنے کرتبوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں..
    اور اوپر سے وہ ڈرامے باز کہتا ہے کہ یہ طریقہ قرآن سے اخذ کیا ہے جہاں اللہ نے پیدائش سے قبل رحم مادر میں تخلیق کے مراحل کا ذکر فرمایا ہے. موصوف کے فہم کے مطابق ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ سب سے پہلے بننے والی چیز ناف ہے، لہٰذا ناف کے ذریعے بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے...!!!
    اچھا میں نے مذید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ طریقہ سب سے پہلے 1896 میں پولینڈ کے ایک یہودی ڈاکٹر نے ایجاد کیا تھا اور اسکا بھی دعویٰ تھا کہ یہ تلمود سے اخذ کیا گیا ہے.
    جب گوروں نے تحقیق کی اور کبوتروں کا پوسٹ مارٹم کیا تو پتہ چلا کہ بیچارے دباؤ تلے تلی پھٹنے کی وجہ سے مارے گئے...!!!
    خدا کیلئے اپنی فنکاریوں کیلئے مذہب کا استعمال کرنا چھوڑ دو.
    نوٹ:
    یہ بھی اس حدیث کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے مطابق مسلمان یہود و نصارٰی کی ہو بہو پیروی کریں گے... سبحان اللہ و صلی اللہ علیہ وسلم..
    (ڈاکٹر رضوان اسد خان)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    یہاں ایک بھائی نے اعتراض کیا ہےکہ یرقان جونڈش کو کہتے ہیں ہیپائٹس کو نہیں کہتے جبکہ میں نے انٹرنیٹ پہ دیکھا ہے کہ ہیپائٹس کو یرقان بھی کہاجاتا ہےبلکہ ڈاکٹرکے بیانات میں بھی ایسا سنا ہوں ۔
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    مرغی والا علاج بزرگوں سے سنا ہے.کبوتر کا معلوم نہیں. پہلی بار پڑھا ہے.لیکن اقبال سلفی صاحب سمیت بعض علماء کبوتر کو مختلف بیماریوں، کینسر وغیرہ کے لئے جائز قرار دیتے ہیں.
     
  13. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    علاج کے لئے کبوتر کی جان لینا جائز نہیں ہے جبکہ متعدد ادویات موجود ہوں.
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    یہ الگ بات ہے کہ دوائیاں موجود ہیں. حکیم حضرات بھی دوائیاں تیار کرنے کے لیےجانوروں کی جان لیتے ہوں گے؟.اگر وہ جائز ہے تو بوقت ضرورت یہ بھی جائز ہونا چاہیے. آج بھی بہت سے ایسے علاقے ہوں گے جہاں جدید طبی سہولیات میسر نہیں.
     
  15. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    علاج کے لئے ضروری ہے کہ دوا بھی حلال ہو اور طریقہ بھی حلال ہو، اسلام نے ہمیں حرام چیزوں سے اور حرام طریقوں سے علاج کرنے کرنے سے منع کیا ہے ۔ کبوتری علاج اولا مشکوک ہے کہ واقعی ایسا ہوتا ہے ثانیا اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اسلام اس کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہاں جاندار کی روح تیزدھار سے نہیں تڑپا کر نکالی جاتی ہے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ حلال جانور کو شرعی طور پر ذبح کرکے اس کے مفید اشیاء سے بغرض علاج فائدہ اٹھایا جائے مگر حلال جانور سے علاج کے نام پر اس کو تڑپاکر مارا نہیں جاسکتا ہے۔ اور آج کل ایک جگہ سے دوسری جگہ دوا منگوانا معمولی کام ہے یوں سمجھیں چٹکی کا۔
    ضرورت کے وقت ناجائز چیز بھی جائز ہوجاتی ہے تاہم ہمیں ضرورت کو سمجھنا پڑے گا ، ضرورت کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ مٹی سے تیمم جائز ہے مگر پانی کے موجود ہوتے ہوئے مٹی سے تیمم کرنا جائز نہیں ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    اس سلسلے میں ایک مفید مضمون کا لنک
     
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    اتنا استثناء بھی آپ کے مضمون میں ہوتا تو کافی تھا. اور ضرورت کے وقت حرام چیز بھی حلال ہو جاتی ہے. یعنی ایسی صورت میں جائز ہے. اور بھی کئی ایسے حالات ہو سکتے ہیں.
    ابتسامہ. شیخ ،ھند میں ایسا ممکن ہو گا. سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تک ہماری رسائی نہیں. ابھی تک وہ علاقے کئی قسم کی جدید سہولتوں سے محروم ہیں..
     
  18. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    772
    یہ تو استثناء ہے ہی نہیں کیونکہ یہاں پر حلال جانور کو حلال طریقے سے ذبح کرنے کی بات کہی گئی ہے ، استثناء تو اصل مضمون میں ہے جس پہ آپ نے دھیان نہیں دیا۔
    اس کے بعد اعتراض کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی ہے ۔
    سعودی عرب ترقی یافتہ ملک ہوکر بھی خود دوسرے ممالک کی سہولیات کا محتاج ہے، وہ فقط منی ٹرانسفرکردےہم اپنی سہولیات خود مہیاکرلیں گے ۔ ابتسامہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,436
    یہ تو خاص حالت ہے. اس سے انکار نہیں. لکن عوام الناس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں
    شیخ ،یہاں اعتراض نہیں کیا گیا. کچھ علماء نے جائز قرار دیا ہے.اس لیے سوال کیا.
    آپ کے پاس اس حوالے سے مزید کوئی تحریر یا تحقیق ہو تو شیئر کردیں.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں