ماہ رجب کے فضائل میزان میں

ابوعکاشہ نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 18, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    الحمد للہ و الصلاۃ والسلام على رسولہ و آلہ و صحبہ، وبعد:

    اللہ تعالی نے اپنی بالغ حکمت کے تحت بعض دنوں، راتوں اور مہینوں کو بعض پر فضیلت دی ہےتاکہ عبادت گزار لوگ نیکی کے کاموں میں جٹ جائیں اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال بجا لائیں، لیکن انس وجن کے شیاطین ان کو صحیح راہ سے روکنے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو اپنا شکار بنانے کے لئے ہر گھات میں بیٹھے ہوئےہیں تاکہ نیک لوگوں کے اور خیر کے کاموں کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کردیں، چنانچہ انہوں نے ایک گروہ کے سامنے یہ بات خوش نما کرکے دکھائی کہ فضل ورحمت کے موسم رحمت کے بجائے کھیل کود اور راحت پسندی کے میدان اور لذات وشہوات کے دنگل ہیں۔ نیز ایک دوسرے گروہ کو جس کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا، مگر وہ جہالت کا مارا ہوا ہے، یا جو دین ودنیوی چودھراہٹ اور مصلحت کے اسیر ہیں اور اپنی مصلحت اور اپنی ریاستی حیثیت کھوجانے کے خائف ہیں ، ان کو موسم خیر وسنت کے برعکس اس موسم بدعت پر اکساتے ہیں جس کی اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔

    حسان بن عطیہ فرماتے ہیں:
    "کوئی قوم اپنے دین میں بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اللہ تعالی اس سے اس جیسی سنت کو اٹھا لیتا ہے اور قیامت تک اس کو واپس نہیں لوٹاتا" ۔
    الحلیۃ: 6/73 ۔

    بلکہ ایوب سختیانی نے تو یہاں تک فرمایا:
    "بدعتی جتنا زیادہ بدعتی کاموں میں منہمک ہوتاجاتا ہے، اتنا ہی وہ اللہ تعالی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے"۔
    الحلیۃ: 3/9 ۔

    شاید ان بدعتی موسموں میں سب سے نمایاں وہ بدعات ہیں جو بہت سے ملکوں میں کچھ عباد وزہاد ماہ رجب میں انجام دیتے ہیں، ماہ رجب میں ایسی کوئی عبادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں‌۔ اور نہ ہی ماہ رجب کو دوسرے مہینوں پر کوئی فضیلت حاصل ہے ۔

    جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خود ماہ رجب کی ، نہ اس کے روزہ کی، نہ اس کے کسی خاص دن کی اور نہ اس کی کسی خاص رات کی فضیلت میں کوئی ایسی صحیح حدیث آئی ہے جو قابل حجت ہو، مجھ سے قبل یہی بات جزم کے ساتھ امام حافظ اسماعیل ہروی بھی کہہ چکے ہیں، ان کی نیز ان کے علاوہ دوسروں کی اس بات کی صحیح سند سے ہم نے روایت کی ہے"
    تبیین العجب فیما ورد فی فضل رجب لابن حجر ، ص6 ، دیکھئے: السنن والمبتدعات للشقیری، ص125 ۔

    یعنی ماہ رجب کی کوئی فضیلت مشروع نہیں‌ ۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو خیر ونیکی کے کاموں کی توفیق دے، وہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے ۔
     
  2. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,948
    جزاک اللہ خیر ۔
     
  3. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم

    ماہ رجب ان حرمت والے مہينوں ميں سے ايك ہے جن كے متعلق فرمان بارى تعالى ہے:

    ﴿يقينا اللہ تعالى كے ہاں كتاب اللہ ميں اسى دن سے جس دن سے اس نے آسمان و زمين كو پيدا كيا ہے مہينوں كى تعداد بارہ ہيں، اور ان ميں سے چار حرمت والے ہيں، يہى درست اور صحيح دين ہے، تم ان مہينوں ميں اپنے جانوں پر ظلم نہ كرو ۔ التوبہ ( 36 ).

    اور حرمت والے مہينے يہ ہيں:

    رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم.

    اور بخارى و مسلم رحمہم اللہ نے ابو بكرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث بيان كى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " سال ميں بارہ مہينے ہيں، ان ميں سے چار حرمت و ادب والے ہيں، تين تو مسلسل ہيں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، اور محرم، اور مضر كا رجب جو جمادى اور شعبان كے درميان ہے "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 4662 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1679)

    ان مہينوں كو دو وجہوں كى بنا پر حرمت والے مہينوں كا نام ديا گيا ہے:

    1 - ان مہينوں ميں دشمن سے جنگ كرنا حرام ہے، ليكن اگر دشمن خود ابتدا كرے تو جائز ہے.

    2 - كيونكہ ان مہينوں ميں حرمت پامال كرنى دوسرے مہينہ كو بنسبت زيادہ شديد ہے.

    اور اسى ليے اللہ سبحانہ وتعالى نے ہميں ان چار مہينوں ميں معاصى كے ارتكاب سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے فرمايا ہے:

    ﴿تم ان مہينوں ميں اپنى جانوں پر ظلم نہ كرو ﴾التوبہ ( 36 ).

    حالانكہ ان مہينوں كے علاوہ باقى مہينوں ميں بھى معاصى كا ارتكاب كرنا حرام ہے، ليكن ان مہينوں ميں اس كى حرمت اور بھى زيادہ شديد ہے.

    سعدى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    ﴿تم ان مہينوں ميں اپنى جانوں پر ظلم نہ كرو﴾.

    يہ احتمال ہے كہ اس كى ضمير بارہ مہينوں كى طرف جاتى ہو، اور اللہ تعالى نے بيان كيا ہے كہ اس نے ہى بندوں كى تقدير بنائى ہے، اور يہ كہ وہ اپنى عمر اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى اور اس كے انعامات كا شكر كرتے ہوئے زندگى بسر كريں، اور اسے بندوں كى مصلحتوں ميں بسر كريں، لہذا اس ميں تم اپنى جانوں پر ظلم كرنے سے اجتناب كرو.

    اور يہ بھى احتمال ہے كہ ضمير ان چار حرمت والے مہينوں كى طرف جاتى ہو، اور يہ ان كے ليے ان چار مہينوں ميں خصوصى طور پر ظلم كے ارتكاب كى نہى ہے، حالانكہ ہر وقت ظلم كرنے كى ممانعت ہے، اور ان چار مہينوں ميں ظلم و ستم باقى مہينوں كى بنبست زيادہ شديد ہے. ديكھيں: تفسير السعدى ( 373 ).

    اگر یہ 4 مہینے باقی 8 مہینوں سے افضل نہیں تو ان کے بارے میں حرمت کے مخصوص احکامات کیوں ؟
    کیا یہی وہ مہینہ نہیں‌جس کی شبِ‌معراج میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفرِ معراج عطا کیا گیا
    کیا یہی وہ مہینہ نہیں جس میں 5 نمازیں ملی جو کہ جنت کی ضمانت ہیں ؟
    اور اگر کوئی نفلی عبادت کر بھی لیتا ہے۔ تو وہ بدعت کیسے بن جاتی ہے ؟ کیا نفلی روزہ رکھنا بدعت ہے ؟ کوئی صحیح حدیث دکھا سکتے ہیں کہ نفلی روزہ رکھنا یا اللہ تعالی کے حضور نفلی قیام کرنا "بدعت" ہے ؟؟؟؟؟

    والسلام
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    وعلیکم السلام !
    اس ساری تحریر میں آپ نے ان چار مہینوں کی حرمت کو ثابت کیا ہے ، کہیں بھی آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بھی صحیح حدیث پیش نہیں کی جس سے رجب کے ایسی فضیلت ثابت ہوتی ہو یعنی رجب کے کونڈے ، صلاۃ رغائب كى بدعت وغیرہ
    والسلام
     
  5. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    768
    'برادر' کا جواب

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترم جناب ''برادر'' صاحب
    الحمد للہ آپ نے جو کچھ بھی لکھا اس میں آپ کی طرف سے ماہ رجب کی فضیلت پر بیان تو کیا گیا ہے لیکن تھوڑی سی بصیرت استعمال میں لائی جاتی تو مزید بہتر ہوتا کیونکہ کسی بھی چیز کی فضیلت قائم کرناشرعی نقطہ نظر سے اللہ کے بعد صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اختیار میں ہے (اگر چہ حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی شدہ ہوتا ہے ) تو عرض یہ ہے کہ آپ نے جو باتیں ذکر کی ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں کہ اس ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی اور اسی رات میں ہم پر 5نمازیں فرض کی گئی ،لیکن میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا معراج آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوئی تھی یا کسی اور کو اسی طر ح نمازیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر ہی فرض کی گئی تھیں تو اس رات کی فضیلت بیان کرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر فرض تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس رات کی فضیلت بیان نہیں کی تو ہم کونسے باغ کی مولی:00038: ہیں کہ آپ فضیلت کی ایک چیز بیان نہ کریں اور ہم ''کہاں کی اینٹ کہا ں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا'' :00039:کا مصداق بنتے ہوئے ادھر اُدھر کی ٹامک ٹویاں مار کر کسی چیز کی فضیلت بیان کریں،
    باقی رہی بات اس مہینے کی حرمت کی تو وہ باقی تین ماہ کی حرمت بھی اسی طرح ہے تو رجب کے مہینے کی اپنی کونسی فضیلت ہوئی؟؟؟لہذا عرض یہ ہے کہ ہمیں چاہئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دی ہوئی رہنمائی سے آگے مت بڑھیں و گرنہ ہم بھی اس آیت کی مخالفت کریں گے
    [ar]یا ایھا الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ و اتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم[/ar] [ar](الحجرات آیت نمبر: 1)[/ar]
    اور رہی بات کہ " نفلی روزے رکھنے سے کوئی بدعتی نہیں ہوتا"
    تو بھا ئی بات یہ ہے اگر آپ کسی خاص دن کو ترجیح دیں او راسکا ایک خاص ثواب مقرر کریں تو واقعی بدعت ہوگی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ''[ar]من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فہو رد''[/ar] ترجمہ: (کہ اگر کسی نے کو ئی عمل کیا او راس پر ہماری طرف سے کوئی حکم نہیں تھا تو وہ رد ہے ) (صحیح بخاری ،کتاب :کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ، باب نمبر: 20)
    اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق دے آمین
     
  6. خالو خلیفہ

    خالو خلیفہ محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2008
    پیغامات:
    217
    برادر بھائی کی جانب سے اس طرح کا رد عمل پہلی بار نہیں ہے وہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس طرح کی تنقیدی پوسٹ لگا چکیں ہیں جس سے محترم کے دل کا اندھا پن واضح نمایاں ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا۔

    فَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَـٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ۬ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئۡرٍ۬ مُّعَطَّلَةٍ۬ وَقَصۡرٍ۬ مَّشِيدٍ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِى ٱلۡأَرۡضِ فَتَكُونَ لَهُمۡ قُلُوبٌ۬ يَعۡقِلُونَ بِہَآ أَوۡ ءَاذَانٌ۬ يَسۡمَعُونَ بِہَا‌ۖ فَإِنَّہَا لَا تَعۡمَى ٱلۡأَبۡصَـٰرُ وَلَـٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ
    اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سُو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں (الحج ٤٥۔٤٦)۔

    تو محترم برادر اللہ اور اس کے رسولوں کے احکامات کی مخالفت کے نتیجے میں کتنی ہی ایسی اقوام ہیں جنہیں اللہ نے تباہ کر دیا ان کو ہلاک کرنے کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے شریعت کو طریقیت کے ضابطوں میں ڈھال کر ثواب کی نیب سے اللہ کے دین میں عقلی تاویلات کا دروازہ کھولا جو کسی ظلم سے کم نہیں۔

    جو شخص یا جو قوم کفر اور سرکشی ہی پر اڑی رہے، فتنہ گری سے باز نہ آئے، خود اپنے آپ میں کوئی تبدیلی نہ لائے ۔ الٹا احکامات شریعت ہی میں تحریف و تبدیلی کرنے لگے اور جب اسے صداقت کی دعوت دی جائے تو وہ اسے نہ مانے ، اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا تازیانہ عذاب حرکت میں آتا ہے اور سرکشوں کو خوفناک عذاب میں مبتلا کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے۔

    والسلام علیکم۔
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,375
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    جزاکم اللہ خیرا۔ درست فرمایا شیخ ۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے ۔ آمین ۔
     
  8. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    جزاک اللہ خیر ۔
     
  9. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔Thanks......شکریہ
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جزاک اللہ خیرا وبارک فیک۔
     
  11. بنت امجد

    بنت امجد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 6, 2013
    پیغامات:
    1,568
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں