رجب کے کونڈوں کی بدعت

رحیق نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 19, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    رجب کے کونڈوں کی بدعت
    دین میں بدعت ایک ایسا کام ہے ۔ جو دین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے اور وہ دین جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اس میں اضافہ کر دیتا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین اسلام مکمل ہو گیا اور اسمیں کسی قسم کی کمی نہیں رہ گئی حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین کی خوش خبری سنائی

    چنانچہ ارشاد فرمایا ۔
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ( المائدہ )
    ” آج میں نے دین اسلام کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت قرآن پاک کی بھی تکمیل کر دی اور اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند فرمایا ۔ “

    جب شریعت کے محل کی تکمیل ہو گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بھی باقی نہیں رہی تو پھر جو شخص اس میں اپنی طرف سے اینٹ لگانے کی کوشش کرے گا ۔ تو وہ بہت بڑا مجرم ہو گا ۔ گویا کہ اس کے نزدیک وہ دین جو اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھلایا اور حکم دیا کہ اپنی امت کو اس کی تبلیغ کرےں نامکمل ہے اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اس طریقے سے وہ ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اس صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہے کہ آپ نے شریعت کو نامکمل چھوڑ دیا یا پھر شریعت کے بعض احکام جن کا آپ کو علم تھا قصداً لوگوں تک نہیں پہنچائے ( نعوذ باللہ من ذالک ) حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مکمل شریعت نازل کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل شریعت لوگوں تک پہنچا دی ۔

    حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ الاھل بلغت ۔ لوگو ! کیا میں نے تم کو اللہ کے احکام پہنچا دئیے سب نے کہا ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” شرا الامور محدثاتھا “ سب سے برا کام دین میں نئے امور جاری کرنا ہے ایک موقعہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا ، ایاکم ومحدثات الامور دین میں نئے کام ایجاد کرنے سے بچو.... تو گویا کہ بدعت بہت برا کام ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے اور بدعتی کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے ملک میں جس قدر بدعات اور رسومات کو فروغ حاصل ہے ۔ اتنا شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر سال صرف دو تہوار عیدالفطر اور عیدالاضحی منائے ہیں لیکن آج شکم کے پجاریوں نے خدا جانے کتنے تہوار بنا رکھے ہیں بڑے پیر کی گیارہویں تو ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو کھیر پکا کر ضرور کرتے ہیں اس کے علاوہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ اسلام میں نئی عید ایجاد کر کے اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی مول لیتے ہیں عوام کالا نعام کو کیا علم ہوتا ہے وہ تو علما سو اور پیٹ پرست مولویوں کے کہنے پر سب کچھ کرتے ہیں ۔

    اسی طرح ہمارے ملک میں ایک بدعت حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے کونڈوں کی بھی جاری ہے جو 22 رجب کو کی جاتی ہے گیارہویں کی طرح یہ بھی علماءسو کے لیے شکم پروری کا بہانہ ہے ۔ اس موقعہ پر خوب حلوہ پوڑی کھاتے ہیں ۔ کونڈے بھرنے والوں کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام بدعت اور ناجائز ہے تو وہ ایک بے بنیاد اور من گھڑت داستان جو لوگوں سے سنی سنائی ہوتی ہے بیان کرتے ہیں جس کا کوئی ثبوت ہے نہ سند ۔

    یہ داستان منشی جمیل احمد کا منظوم کلام ہے اس میں ایک لکڑ ہارے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو مدینہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کرتا تھا اور کے بیوی بچے اکثر فاقے کرتے تھے وہ بارہ سال تک در در دھکے کھاتا رہا لیکن فقر و فاقہ اور تنگدستی کی زندگی ہی گزارتا رہا.... یہ لکڑ ہارا ایک دن وزیر کے محل کے پاس سے گزرا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے گزرے وہ وزیر کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں ؟ آج کونسی تاریخ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس 22 تاریخ ہے امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا اگر کسی حاجت مند کی حاجت پوری نہ ہوتی ہو یا کسی مشکل میں پھنسا ہو اور مشکل کشائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہئیے کہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے روز میرا دامن پکڑ سکتا ہے ۔

    یہ ایک بالکل من گھڑت قصہ ہے ۔ جو شکم کے پجاریوں اور علماءسوءنے اپنے کھانے کا بہانہ بنا رکھا ہے اس کی کوئی سند اور ثبوت نہیں اور کسی مستند کتاب میں بھی اس کا ذکر نہیں اس کے جھوٹے اور غلط ہونے پر کئی دلائل ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں کبھی بادشاہ ہوا ہے نہ وزیر ۔

    حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش 22 رجب کو نہیں ہوئی بلکہ ایک روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں ہوئی دوسری روایت کے مطابق 17 ربیع الاول 83ھ کو ہوئی ۔ ان کی وفات 15 شوال 148ھ کو ہوئی ۔ ان کی زندگی کے تقریبا 52 سال بنو امیہ کے دور میں گزرے اور ان کا دارالخلافہ بغداد تھا لوگ مدینہ منورہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں بنا بریں یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور جھوٹا ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ 22 رجب حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش کا دن ہے نہ وفات کا بس یونہی لوگوں نے ان کی طرف منسوب کر دیا تاریخ حوالہ جات کے مطابق اس دن حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اہل تشیع نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دن خوشی سے منایا تھا بعد ازاں انہوں نے حضرت جعفر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا کہ یہ ان کی پیدائش کا دن ہے پس ان کی اس رسم کو آہستہ آہستہ اہلسنت کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنا لیا ۔

    بہرحال یہ قصہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کا سر ہے نہ پاؤں پیٹ پرست اور شکم پروری کرنے والے علماءنے اسے خوب رواج دیا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے دین کا اہم جزو تصور کیا اور رزق کی کشائش اور فقر و تنگدستی دور کرنے کا بہترین نسخہ تصور کیا ۔ چنانچہ اکثر تنگدست لوگ اپنی تنگدستی اور فقر و فاقہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے رجب کے کونڈے کرتے ہیں ۔ اگر بالفرض ہم یہ بات درست مان لیں کہ اسی دن امام جعفر رحمہ اللہ پیدا ہوئے تو پھر بھی یہ کام ناجائز اور شرک کے زمرہ میں آتا ہے کیونکہ مشکل کشاءاور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ ۔ بنابریں ان کا وسیلہ بھی جائز نہیں مکہ کے مشرک بتوں کو خدا نہیں مانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارش کنندہ ہیں ۔ ہم ان کو خدا تصور نہیں کرتے ہم تو صرف ان کے وسیلہ سے اللہ سے مانگتے ہیں ۔

    جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ۔

    ويعبدون من دون اللہ ما لا يضرہم ولا ينفعہم ويقولون ھولآء شفعآونا عند اللہ ( یونس : 18 )

    ” یہ ( مشرکین عرب ) اللہ کے سوا ایسے لوگوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو ان کے نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں وہ اس بات کا خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہم ان کو خدا نہیں سمجھتے تمام امور کا کرنے والا اللہ ہی ہے لیکن یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ “

    قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تمام کائنات کا خالق اور پروردگار ہے وہ سمجھتے تھے کہ اللہ وہ واحد ہستی ہے ۔ جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر اور تصرف ہے اس کے باوجود قرآن پاک ان کو مشرف کہہ رہا ہے ۔

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کو اپنا خالق و رازق اور مالک تسلیم کرتے ہیں تو ان کو مشرک کیوں کہا گیا ؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے شرک کی حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب نے اللہ کے ماسوا جن ہستیوں کو معبود اور دیوتا بنایا ہوا تھا وہ ان کو اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہی تسلیم کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ہم جو کچھ مانگتے ہیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں لیکن ان کے وسیلہ سے مانگتے ہیں ہم ان کی پوجا پاٹ نہیں کرتے اور نہ ہم ان کو خدائی اختیارات کے حامل تصور کرتے ہیں بلکہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔

    الغرض رجب کے کونڈوں کا کوئی ثواب نہیں بلکہ یہ بدعت اور شرک کے زمرہ میں آتے ہیں کونڈوں کا قصہ جو امام جعفر کی طرف منسوب ہے بالکل غلط ہے اس میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہے کہ آپ نے لوگوں کو اس نیکی کے کام سے آگاہ نہیں کیا ۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ خالق توحید کے داعی تھے ۔ وہ ایسی بات جس میں شرک کی بو آئے یا بدعات کے زمرہ میں شمار ہو بھلا کب لوگوں کو کہہ سکتے ہیں ۔

    میرے بھائیو ! اس قبیح رسم اور بدعت سے باز آجاؤ کونڈوں کا حلوہ پوڑی مت کھاؤ اپنے لیے حلال کی روزی تلاش کرو اور صرف اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دو غیر اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دے کر اپنی نیکی مت ضائع کرو ۔ کتاب و سنت کے مطابق نذر و نیاز دو تا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہو جائیں ۔ جب ان کی رضا حاصل ہو گئی تو پھر کسی ولی بزرگ اور امام کے وسیلہ اور رضا کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق دے ۔
     
  2. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,593
    علماءدین کا متفقہ فیصلہ :
    سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ 22 رجب کو اکثر جگہ پر کونڈوں کا رواج ہے ان کے متعلق شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے ؟ کونڈوں کی اصلیت کیا ہے ؟ کیا اہل سنت و جماعت کو یہ رسم ادا کرنی چاہئیے ؟ اس میں شرکت کرنی کیسے ہے ؟

    امید ہے کہ علماءدین شرع محمدی کے مطابق اس رسم کی اصلیت تفصیل سے بیان فرما کر اہل سنت والجماعت کی راہنمائی فرمائیں گے ؟

    فتویٰ :

    الجواب وھو الموفق للصواب
    کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہلسنت والجماعت میں محض بے اصل خلاف شرع اور بدعت محدثہ اور ممنوعہ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔

    صحابہ کرام ، تابعین اور ائمہ اسلام سے بھی اس کے متعلق کچھ منقول نہیں ۔ یہ صحابہ کرام کے خلاف بغض رکھنے والوں اور معاندین کی ایجاد کردہ ہے کیونکہ 22 رجب کو حضرت امام جعفر کی پیدائش ہے نہ کہ وفات ۔ ان کی ولادت صحیح روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں یا 82ھ میں ہوئی اور وفات ماہ شوال 148ھ میں ہوئی ۔ اس تاریخ کو یعنی 22 رجب کو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے کیا خاص مناسبت ہے ؟ ہاں البتہ 22 رجب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ۔ ( تاریخ طبری ، البدایہ والنہایہ ، ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ )

    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رسم کو محض پردہ پوشی کے لیے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ۔ ورنہ درحقیقت یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے جس وقت لکھنو¿ میں یہ رسم ایجاد ہوئی ۔ اس وقت اہلسنت والجماعت کا غلبہ تھا اس لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی علانیہ تقسیم نہ کی جائے تا کہ راز فاش نہ ہو سکے ۔ دشمنان حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں یہ شیرینی کھالیں اور اس طرح اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کریں جب اس کا چرچا ہو اور راز طشت ازبام ہونے لگا تو اس کو حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کر کے اور ایک لغو روایت گھڑ کر حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ پر تہمت لگائی کہ انہوں نے خود 22 رجب کو اپنی فاتحہ دینے کا حکم دیا ہے حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں ۔

    لہٰذا برادران اہلسنت والجماعت کو اس لغو رسم سے دور رہنا چاہئیے اپنے دوسرے بھائیوں کو اس رسم کے پاس پھٹکنے نہ دیں ۔ نہ خود اس رسم کو کریں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہو کر گناہ کے مرتکب ہوں ۔ اسی فتویٰ پر تمام مکاتب فکر کے جید علماءکے دستخط ہیں ۔
     
  3. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  4. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,262
    جزاک اللہ خیر
     
  5. فرحان دانش

    فرحان دانش -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2007
    پیغامات:
    434
    کونڈے جائز ہیں چاہے کوئی مانے یا نا مانے
     
  6. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
    [qh]{خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ} (7) سورة البقرة[/qh]
     
  7. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    :00038:
    کونڈے بدعت ہیں چاہے کوئی مانے یا نا مانے
    :00003:
     
  8. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  9. فرحان دانش

    فرحان دانش -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2007
    پیغامات:
    434
    کونڈے شئعہ اور سنی دونوں کرتے ہیں
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 27, 2008
  10. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    بھائی یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر یہ جائز ہے تو پھر آپ کوئی دلیل پیش کریں۔ :00003:

    ویسے جاہل لوگ بھی دونوں‌میں‌ہیں۔۔۔:00038:
     
  11. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    اقتباس:
    میراموبائل نے لکھا ہے ۔۔
    کونڈے شئعہ اور سنی دونوں کرتے ہیں


    بھایئ شیعہ اور سنّی اور بہت سے کام کرتے ہیں تو آپکی نظر میں وہ تمام صحیح ہیں؟

    کیا کسی بھی عبادت کرنے کیلئے یہ دیکہا جایگا کہ یہ شیعہ اور سنّی کرتے ہیں یا نہی؟

    ٹھنڈے دل سے سونچیں آپکو جواب مل جایگا ان شا اللہ
     
  12. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,808
    اس طرح کے جملے اور اس سے ملتے جملے ہم اور بھی سن چکے ہیں کہ شیعہ سنی بھائی بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بھائی بھائی کیسے ہوسکتے ہیں۔ ان کے مابین کفر اور اسلام کا فرق ہے ۔ ہاں البتہ یہاں پرجو لفظ " سنی " استعمال ہوتا ہے وہ ان شیعہ کے ہم عقیدہ بھائی مبتدعین ومشرکین حضرات ہیں۔ نہ کہ اصل
     
  13. خالو خلیفہ

    خالو خلیفہ محسن

    شمولیت:
    ‏مارچ 3, 2008
    پیغامات:
    217
    السلام علیکم۔
    جناب میرا موبائل جائز اور ناجائز کا فیصلہ آپ کی بات کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا جائے گا دین کسی بھی مسئلے پر مسلمانوں کی رائے پر عمل کرنے کا نام ہرگز نہیں ہے۔ دین تو خالص اللہ کے نازل کئے ہوئے احکامات پر مسلمانوں کے عمل (اتباع) کرنے کا نام ہے اس لئے کوشش کیجئے کہ اللہ کے احکامات کو پڑھیئے اور ساتھ ہی ساتھ یہ دُعا بھی کیجئے کہ اے اللہ میرے سینے کو اپنے دین کے لئے کھول دے جیسا کہ ارشاد ہوا۔

    أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
    (اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)۔
     
  14. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    934
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​


    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ وبعد!۔
    محترم میرا موبائل صاحب۔۔۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔۔۔

    جیسا کہ اللہ وحدہ لاشریک نے فرمایا۔۔۔
    لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ
    کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے

    اور اگلی ہی آیت میں اللہ تعالٰی وحدہ نے مزید ارشاد فرمایا کہ اُس نے انسان کو بہت بدصورت بنادیا ہے۔۔۔

    ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ
    پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا۔۔۔

    یعنی ایک تصویر کے دو رُخ ہیں ایک طرف انتہائی خوبصورت اور دوسری طرف انتہائی بدصورت ایک طرف بہت پُر کشش تو دوسری طرف بہت خوفناک ۔۔۔

    تو بھائی انسان أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ بنتا ہے اللہ کی مان کر اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مان کر۔۔۔ أَسْفَلَ سَافِلِينَ بنتا ہے نفس کی مان کر شیطان کے پیچھے چل کر۔۔۔اب سوال یہ ہے کیا وہ بھی کوئی انسان ہے جو طماع کا غلام بن جائے؟؟؟۔۔۔ کیا وہ بھی کوئی انسان ہے جو اپنی خواہشات کی لذتوں کا غلام بن جائے۔۔۔ کیا وہ بھی کوئی انسان ہے جو اپنے نفس کا غلام بن جائے؟؟؟۔۔۔

    محترم میرا موبائل صاحب!۔ دنیا میں نفس کی غلامی سے بڑھ کر دوسری کوئی غلامی نہیں ہے۔۔۔ اور جو انسان اپنے نفس کا غلام بنا وہ دنیا کا سب سے بدترین انسان ہے۔۔۔ أَسْفَلَ سَافِلِينَ اور أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ یہ دو قسم کے انسان ہیں جو وجود میں آتے ہیں دو زندگیوں کی وجہ سے مگر وجود میں آنے کے بعد جب یہ اپنی من مانی پر آتا ہے اپنی زبان کو آزاد کردیتا ہے۔۔۔ اپنی سوچ اور اپنی فکر کو آزاد کردیتا ہے۔۔۔ تو اسطرح یہ اپنے نفس اور شیطان کے پیچھے ہو کر چلتا ہے تو پھر یہ أَسْفَلَ سَافِلِينَ کی طرف سفر کررہا ہے۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب لکھا جارہا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا۔۔۔

    مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

    جو یہ بولے گا وہ لکھا جارہا ہے۔۔۔ تو کیوں کر یہ سب جانتے بوُجتے انسان اُس رستے پر چل پڑا ہے جس پر اُس کے ساتھی شیطان اور اُس کا اپنا نفس ہے۔۔۔ آج جو بات زبان سے نکل گئی اور لکھنے والے نگہبان نے لکھ لی تو پھر کل جب اللہ کے حضور پیشی ہوگی تو کیا اُس وقت بھی آپ اس ہی طرح کا جواب اپنی صفائی میں پیش کریں گے ‘‘ کونڈے جائز ہیں چاہے کوئی مانے یا نا مانے‘‘ انسان یہ کیوں بھول جاتا ہے کے اُس وقت اللہ انسان کو حکم نہیں دے گا بلکہ اُسکی زبان کو اُسکی انگلیوں کو حکم دے کے بولو اور گواہی دو ایک ایسے شخص کے بات پر
    جس سے میرے (اللہ کے) اُتارے ہوئے دین اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی شریعت کے خلاف بات کی۔۔۔

    بھائی ابھی بھی وقت ہے اصلاح کر لیجئے۔۔۔ کیونکہ اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ
    فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَى وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى
    سو جہاں تک نصیحت (کے) نافع( ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا اور (بےخوف) بدبخت پہلو تہی کرے گا جو (قیامت کو) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہو گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئےگا۔۔۔

    جیسا میں اکثر کہتا ہوں کہ دین کو اُتنا ہی سمجھیں جنتا حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا اور آخر میں اپنی بات اللہ کے اس حکم کے ساتھ اختتام کرتا ہوں کہ!۔

    وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
    اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔۔۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

    شکریہ اردو مجلس۔۔۔​


     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 1, 2008
  15. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    ہاں ؛؛جو بدعتی لوگ ہیں اور خود کو سنی کہلاتے ہیں ،ان کے عقائد شیعائوں سے زیادہ ملتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ شیعوں کے شانہ بشانہ بدعات محرم میں شریک ہوتے ہیں اور جلوس ملوس بھی ایک ساتھ نکالتے ہیں
    ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛اللھم احفظ جمیع المؤمنین من شرھم؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
     
  16. زاہد محمود

    زاہد محمود -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 5, 2007
    پیغامات:
    179
    اسلامُ عیلکم! کونڈے ایک بدعت ہے اور یہ شیعہ رافضی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات پر پکاتے ہیں اور بچنے کے لیے اس کو نام دیا جاتا ہے حضرت جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کے کونڈے۔حالانکہ ایسی بات نہیں ہے اور یہ کافر لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بغض میں کرتے ہیں اور جو سنی کرتے ہیں وہ بھی ان کے بھائی ہیں وہ بدعتی اور مشرک لوگ ہیں۔
     
  17. پیاسا

    پیاسا -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2008
    پیغامات:
    324
  18. حافظ اختر علی

    حافظ اختر علی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏فروری 16, 2008
    پیغامات:
    98
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے محترم بھائیو!دین اور دنیا وجود کے اعتبار سے الگ الگ ہیں لیکن اصل دین ہے-اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیا اسی وقت صحیح سمت میں چلے گی جب وہ اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند سمجھیں گے ورنہ جنگل کا قانون والی بات بن جاتی ہے-اس لیے کون سی چیز دین ہے اور کون سی نہیں اور دنیا میں رہتے ہوئے کون سے کام کس طریقے سے کیے جا سکتے ہیں اس حوالے سے ایک اصول پیش خدمت ہے ان شاء اللہ بہت سے مقامات پر راہنمائی کرے گا-
    دین کا مسئلہ:
    دین کے معاملے میں یہ اصول یاد رکھیں کہ کوئی بھی کام ثواب یا دین کا حصہ اس وقت بنے گا جب اس میں دو باتیں پائی جاتی ہوں-
    1-اس کام کا ثبوت دین سے ملتا ہو:یعنی شریعت اس کام کے کرنے کا جواز مہیا کرتی ہو
    2-ترکیب بھی دین سے ہو:یعنی کام کا جواز ملنے کے بعد اس کو سرانجام کیسے دینا ہے یہ راہنمائی بھی دین سے ہی لینی پڑے گی-یعنی سجدہ کرنا ثواب ہے اور بندہ سجدے کی حالت میں اللہ تعالی کے انتہائی قریب ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق بندہ رحمن کے قدموں میں سجدہ کرتا ہے-اب کوئی شخص نفل ادا کرے اور شریعت اس کو اس وقت میں نوافل کی ادائیگی کی اجازت دیتی ہے لیکن اب چونکہ سجدہ بڑی اہم چیز ہے اس لیے وہ ایک ایک رکعت میں تین تین اور چار چار سجدے شروع کردے تو عبادت اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اس کی ترکیب دین سے نہیں لی گئی –

    دنیا کا مسئلہ:
    دنیا داری کے بارے میں اصول یہ یاد رکھیں:
    1-ثبوت دین سے ملتا ہو
    2-ترکیب اپنی استعمال کر لیں:اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اگر گوشت پکا کر کھانا چاہتا ہے تو وہ پہلے دین سے ثبوت لے گا کہ وہ جو گوشت استعمال کر رہا ہے اس کا دین اس کو استعمال کی اجازت دیتا ہے؟اب پکانا کیسے ہے یہ وہ اپنے ماحول کے مطابق کرے گا –دین پکانے میں اس پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگاتا-

    اس لیے ہمیشہ دین اور دنیاوی مسائل کو سمجھنے کے لیے اس اصول کو سامنے رکھیں ان شاء اللہ اللہ تعالی سمجھ عطا فرمائیں گے-اللہ تعالی مجھے اور آپ کو دین حنیف پر عمل کرنے کو توفیق عطا فرمائے-آمین

    آپ کا بھائی:حافظ اختر علی
    www.KitaboSunnat.com
     
  19. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔Thanks......شکریہ
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    یاددہانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں