27 ویں رجب : شبِ معراج ۔۔۔ ؟؟!

باذوق نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 26, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    محدثین و مورخین کی تالیف کردہ کتب کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 27ویں شب کے "شبِ معراج" قرار پانے سے پہلے خود ماہِ رجب کے ماہِ معراج ہونے پر بھی علمائے تاریخ کا اتفاق نہیں ہے !

    معروف مفسر و مورخ امام ابن کثیر رحمة اللہ نے اپنی ضخیم کتاب "البدایہ و النہایہ" کے تیسرے جز میں اسراء و معراج کا واقعہ نقل کرنے سے پہلے متعدد روایات بیان فرمائی ہیں۔

    حافظ ابن کثیر رحمة اللہ نے امام بیھقی رحمة اللہ کے حوالے سے امام ابوشہاب زہری رحمة اللہ کا قول نقل کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں :
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرتِ مدینہ سے ایک سال پہلے سفرِ معراج کرایا گیا۔
    یہی قول عروہ رحمة اللہ کا ہے۔
    امام حاکم رحمة اللہ کے حوالے سے انہوں نے حضرت سدی رحمة اللہ کا قول بھی ذکر کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں :
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت سے سولہ (16) ماہ قبل معراج کرایا گیا۔
    لہذا امام زہری اور عروہ کے قول کے مطابق ماہ معراج ، ربیع الاول بنتا ہے اور حضرت سدی کے قول کے مطابق معراج کا واقعہ ماہ ذی القعدہ میں بنتا ہے۔
    بحوالہ : البدایہ و النہایہ

    ماہ ربیع الثانی ، ماہ رجب اور ماہ ذی الحج میں معراج کرائے جانے کی روایات بھی ملتی ہیں۔
    اور جب ماہِ معراج پر ہی اتفاق نہیں ہے تو تاریخِ معراج کی تعین کیسے متفق علیہ ہو سکتی ہے؟
    یہ بات بھی حکمتِ الٰہی سے خالی نہیں کہ ماہ معراج اور تاریخِ معراج پر اتفاق نہ ہو سکا تاکہ طرح طرح کی بدعات وجود میں لانے والوں کو یہ بنیادی چیز ہی متفق علیہ نہ ملے ورنہ اللہ تعالیٰ سے کیا بعید تھا کہ تمام مورخین کا اتفاق ہو جاتا۔

    اگر مشہور روایت کے مطابق ماہ رجب اور ماہ رجب کی بھی 27 تاریخ کو ہی "شبِ معراج" مان لیا جائے تو ۔۔۔۔
    تو اس رات میں چراغاں کا اہتمام کرنے ، دن کو روزہ رکھنے اور رات کو نوافل پڑھنے کی شرعی حیثیت کا تعین کیا جانا چاہئے۔
    اس سلسلہ میں سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم ، ائمہ اربعہ رحمہم اللہ ، علمائے دین اور سلف صالحین میں ، کسی سے بھی یہ مروجہ امور ثابت نہیں جنہیں "جشنِ معراج" کے نام سے برپا کیا جاتا ہے۔
    امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اس عظیم معجزہ کے بعد ایک طویل مدت تک صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کے مابین موجود رہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو خود یہ کام کئے اور نہ ہی کسی کو ان کو کرنے کا حکم فرمایا۔

    ان جشنوں ، جلسوں یا اجتماعات کی شرعی حیثیت کے تعیین کے بارے میں سعودی عرب کے سابق مفتی علامہ عبدالعزیز بن باز رحمة اللہ نے ایک تفصیلی فتویٰ صادر کیا تھا ، جس میں وہ کہتے ہیں :

    اسراء و معراج کی رات کا حدیثوں میں کوئی تعین نہیں اور جو کچھ بھی اس کے تعیین کے متعلق مذکور ہے وہ سب من گھڑت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ثابت نہیں اور اگر بالفرض اس کا تعیین ثابت بھی ہو جائے تو بھی اس دن کو عبادت کے لئے خاص کرنا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ اگر اس روز جشن منانا ثواب کا کام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے قولی یا فعلی طور پر اس کی ضرور وضاحت فرما دیتے۔
    [qh]بحواله : فتاوي مهمه لعلمة الامه[/qh]

    تحقیق : محمد منیر قمر ، اردو نیوز سپلیمنٹ " روشنی " ، 25۔جولائی۔2008ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    صرف اتنا ہی کیوں آپ تو معراج کا بھی انکار کرسکتے ہیں دوسرے کئی لوگوں کی طرح
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں