پیغامِ معراج

میاں شاہد نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏جولائی 31, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. میاں شاہد

    میاں شاہد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2008
    پیغامات:
    221
    [FONT=&quot]پیغامِ معراج[/FONT]
    [FONT=&quot]از:داعیٔ قرآن حضرت مولانامفتی عتیق الرحمن شہید رحمة اللہ علیہ[/FONT]

    [FONT=&quot] دنیائے انسانیت نشان راہ گم کر چکی تھی اور اپنی منزل سے بھٹک کر توہمات کا شکار ہو چکی تھی بنی نوع انسان پر جادو ، جنات اور نجومیوں کی حکمرانی تھی ۔ وہ اپنی منزل سے نا آشنا ہو کر پستی وذلت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہی تھی ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] قدرت کو اس کی سادہ لوحی وبے بسی پر رحم آیا ۔ جبل نور کی فلک شگاف بلندی پر روشنی کا ایک مینار ظاہر ہوا ۔ عرب کے اندھیرے افق پر سراج منیر طلوع ہوا اورغار حرا کے دامن سے نکل کر اس کی کرنیں چاردانگ عالم کو منور کرنے لگیں ۔پھر اسی سراج منیر نے کوہ صفا کی چوٹی پر جلوہ افروز ہوکر تمام عالم کے انسانوں کو ” یا ایھا الناس قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا “ کا نعرہ حریت لگا کر آزادی وخود مختاری کا درس دیا۔ یہ نعرہ دراصل ” لات ومنات“ کی غلامی سے آزادی کا نعرہ تھا ۔ توہمات وخواہشات کی محکومی کے خلاف اعلان حریت تھا ۔ رسم ورواج کے چنگل سے نکل کر ایک وحدہ لاشریک کا بندہ بننے کی دعوت تھی کرہ ارض کی تنگ وتاریک وادیوں سے نکل کر فضا کی وسعتوں میں اپنی منزل تلاش کرنےکی دعوت تھی ۔ انسان کے لئے پیغام تھا کہ زمین پر رہتے ہوئے جن ستاروں کو تو اپنی قسمت کا محور سمجھتا ہے در حقیقت ان ستاروں کی قسمت تجھ سے وابستہ ہے اور اس عالم ہست وبود کی وسعت ان ستاروں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ [/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT][FONT=&quot] [/FONT]
    [FONT=&quot]ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں[/FONT]
    [FONT=&quot] تیری منزل صرف زر،زن،زمین ہی نہیں بلکہ [/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT]
    [FONT=&quot] پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی [/FONT]
    [FONT=&quot] ستارے جس کی گردراہ ہوں، وہ کارواں تو ہے [/FONT]
    [FONT=&quot] پھر کائنات دیکھتی ہے کہ ” منزل انسانیت“ کی نشاندہی کرنےوالا یہ عظیم انسان محسن انسانیت ﷺ نام نہاد انسانوں کے مجمع میں اجنبی وبیگانہ ہوجاتا ہے ۔ اسے مجنون ودیوانہ کہا جاتا ہے ۔ ساحر وکاہن بتایا جاتاہے اور منزل انسانیت کی نشاندہی ایک جرم بن جاتی ہے جس کی ” پاداش“ میں آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے طائف کا رخ کرنا پڑتا ہے لیکن وہاں بھی یہ ” نام نہادانسان“ تاریکی وجہالت کے خول سے باہر آنے کےلئے تیار نہیں ہوتا بلکہ محسن کی تواضع گالیوں اور پتھروں سے کرتاہے ۔ دوسری طرف وہ چچا جو ہر مشکل میں اور آڑے وقت میں اپنے بھتیجے کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتے تھے اور وہ رفیقہ حیات جو اپنے شریک حیات کے غم میں شریک ہی نہیں بلکہ انکی تسلی وتشفی کا سامان بہم پہنچاتی تھی ، یہ دونوں افراد اس دار فانی سے رخصت ہوچکے ہیں جس کا اثر نبی اُمی ﷺ پر ظاہر وآشکارا ہے مگر وہ عزم وہمت کا پہاڑ صاحب خلق عظیم اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہ کرنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہے اور خالق انسانیت کی طرف سے ” رہبر انسانیت“ بن کر اسے اپنی منزل کی طرف رواں دواں کرنے کا عزم لئے ہوئے ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] قوم کی سرد مہری اور طواغیت کفر کی ریشہ دوانی اپنا کام کرتی ہے اور راہ حق کے مسافر وں پر ظلم وستم کے پہاڑ ٹوٹنے لگتے ہیں۔ حق کو پھونکو ں سے بجھانے کےلئے پورا کفر ایڑی چوٹی کا زور لگادیتا ہے ۔ مگر وہ شمع فرزاں نور مجسم ﷺ کسی پہلو چین نہیں لیتے دن کو لوگو ں کے ظلم وستم کا تختہ مشق بنتے ہیں تو رات کو اپنے خالق کے دربار میں انہی گالیاں دینے والوں اور پتھر برسانے والوں کےلئے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں [/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT]
    [FONT=&quot]سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں [/FONT]
    [FONT=&quot] سب سہارے اٹھتے ہوئے دیکھ کر آپ رنجیدہ دل اور کبیدہ خاطر ہوکر اندر ہی اندر گھلنے لگتے ہیں صحت گرنے لگتی ہے حزن مسلسل اور کرب واندوہ کے اثرات جبیں مبارک پر نظر آنے لگتے ہیں بے کسی وبے بسی کاعالم ہے ۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں۔اسی اثناءمیں قدرت کی طرف سے پردۂ غیب سے ایک معجزہ ظہور میں آتاہے ۔اور ہجرت مدینہ سے ایک سال قبل ایک ایسی رات آتی ہے جس میں پوری کائنات دم بخود ہوکر رہ جاتی ہے ۔ زمیں وآسمان نجوم وقمر اس منظر کو دیکھنے کےلئے بے حس وحرکت ہو جاتے ہیں ۔ رحمت عالم محسن کائنات فخر موجودات ﷺ کو عالم بالا پر لے جانے کےلئے تیار کیا جارہا ہے دل کو آب زمزم سے دھوکر اسمیں معرفت الہیہ اور انوار وایمان کو بھر اجارہا ہے ۔ حضور علیہ الصلواة و السلام فرماتے ہیں کہ جنت سے لایا جانے والا طشت نور سے بھرا ہوا تھا جس کا تمام نور میرے سینے میں منتقل کردیا گیا گویا دل کی قوت کو بٹھانے کےلئے اسمیں طاقتور بیٹری ( [/FONT]Battery[FONT=&quot] ) لگائی جارہی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ خلائی سفر پر روانگی سے پہلے خلائی ذرات کے حملوں سے حفاظت کےلئے انوار وتجلیات الہٰیہ کو جذب کرنے کےلئے دل کو تیار کیا جارہا ہے اور جدید سائنس جو آج تک خلائی لباس کے بغیر سفر کرنا ناممکن سمجھتی ہے اسے تدبر وتفکر کے نئے افق سے روشناس کرایا جارہاہے اور جراحی قلب کا کامیاب آپریشن کیا جارہا ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] پھر آپ ﷺ کو وہ سواری پیش کی گئی جس کا قدم منتہائے نظرپر جاکر پڑ تا تھا اونٹ اور گھوڑے کے زمانہ میں نظر کی رفتار سے سفر کرنےوالی سواری کا تصور پیش کرکے مستقبل کی ترقی یافتہ سواریوں کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے اور اسی تصور نے آج کے انسا ن کو آواز سے زیادہ تیز رفتار طیارے بنانے کا حوصلہ دیا ۔ پھر مسجد اقصی سے آسمانوں پر لے جانے کےلئے آپ کوجو معراج (سیڑھی) پیش کی گئی اور چشم زدن میں اس نے آپ کو آسمانوں کی بلندیوں سے بھی آگے پہنچا،دیا اس سے جدید سائنس نے تیز رفتار برقی سیڑھی ([/FONT]Lift[FONT=&quot] ) کا تصور پیش کیا ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] آسمانوں پر نبی اُمی ﷺ عالم ملکوت کا مشاہدہ کرتے ہوئے اور قاب قوسین کے مرتبہ پر پہنچ کر عالم انسانیت کی یہ اعلیٰ ترین شخصیت جبین نیاز جھکادیتی ہے اور رب کائنات ” فاوحیٰ الیٰ عبدہ مااوحیٰ“ کے پیار بھرے الفاظ سے کائنات کے اسرار ورموز کھولتے ہوئے آپ ﷺ کو انسانیت کے اعلیٰ ترین منصب ” مقام عبدیت“ پر فائز کرتے ہیں ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] معراج کے موقع پر جنت کے مناظر آپ کے سامنے لاکر ترقی یافتہ انسان کا اعلیٰ نمونہ دکھلایا گیا ، جس کا راستہ دنیا میں ایمان کی جہد مسلسل اور اعمال صالحہ کے تدریجی مراحل ہیں جن سے تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ اور آخرت میں جنت اور اسکی نعمتیں اس کا مقدر بنتی ہیں ۔ اور جہنم کے مناظر سامنے لاکر پسماندہ انسان کا بدترین نمونہ دکھایا گیا جو دنیا میں ایمان کی محنت اور اعمال صالحہ کی نعمت سے محروم انسان کوآخرت میں مقدر ہے اور جنت کے مناظر میں آپ ﷺ دیکھتے ہیں کہ وہ انسان جسے برسوں کی محنت شاقہ سے اسکی منزل دکھائی گئی تھی ، جس کےلئے گالیاں اور پتھر کھائے تھے وہی انسان بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے روپ میں جنت کی سیر کررہا ہے[/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT]
    [FONT=&quot]بلال اک بے نوا تھا اور حبشہ کا رہنے والا تھا [/FONT]
    [FONT=&quot] سنا ہے شب اسرا وہ جنت کا اجالا تھا [/FONT]
    [FONT=&quot] آپ رب کائنات سے تحفۂ صلوٰة لےکر واپس ہوتے ہیں جس کے دامن میں معراج انسانیت کا راز ، آپ کا فرمان ہے : الصلواة معراج المومنین نماز مومنوں کی معراج ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اقرب مایکون العبد الی ربہ وھو ساجداً ۔ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے ۔ [/FONT]
    [FONT=&quot] معراج مصطفی، آپ ﷺ کے غمزدہ دل کی تسلی وتشفی کےلئے تھا کہ میرے نبی !اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو میں رب کائنات عرش معلی پہ آپکی رسالت کاڈنکا بجاؤں گا ۔ اگر یہ لوگ آپ کے اعزازو اکرام اور آپ کے مرتبہ کو نہیں پہچانتے تو کوئی بات نہیں ساری خدائی آپ کے استقبال کےلئے چشم براہ ہے ۔ معراج کے ذریعہ آپ کو تازہ دم کرکے ہجرت کے بعد شروع ہونےوالے دعوت کے نئے مرحلہ ” اور کفر کے ساتھ جدید معرکہ “کےلئے تیار کیا گیا ۔ [/FONT]
    [FONT=&quot] واقعہ معراج انسانوں کےلئے آزمائش تھی ۔ وماجعلنا الرءیا التی اریناک الافتنۃ للناس۔آپ ﷺ کو یہ مشاہدہ لوگوں کی آزمائش کےلئے کرایا گیا ۔یہ آپ ﷺکے ماننے والوں کا امتحان تھا ۔ اور اہل ایمان کی صفوں سے ان کالی بھیڑوں کو نکالنا مقصود تھا جو ذاتی مفاد کی خاطر اہل ایمان کی صفوں میں شامل ہورہے تھے ۔ یہی وہ معراج ہے جس کے انکار نے ابو الحکم کو ” ابو جہل “ بنا دیا اور جس کی تصدیق نے ابو بکر کو ” صدیق اکبر“ بنادیا ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] آج کے اس ترقی یا فتہ دور میں جبکہ انسان ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور زہر ہ ومریخ اور شمس وقمر کے فاصلوں کو سمیٹا جا رہا ہے ، معراج مصطفے کا منکر اپنے دامن میں ڈھٹائی اور تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں رکھتا ۔ میزائل وکمپیوٹر کے دور میں معراج کا انکار ، اونٹو ں اور پتھروں کے زمانہ کے انسان کی اندھی تقلید کی بدترین مثال ہے ۔ معراج مصطفے نے انسانیت کو تسخیر کائنات کا سبق دیا [/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT]
    [FONT=&quot] سبق ملا ہے یہ معراج مصطفے سے مجھے[/FONT]
    [FONT=&quot] کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں [/FONT]
    [FONT=&quot] واقعہ معراج کا گہرا اور معروضی مطالعہ ہمیں مستقبل میں ہونےوالی ترقیات وکمالات کےلئے مرکزی نقطہ اور بنیادی تصور فراہم کرتاہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ معراج خاتم المعصومین“ ﷺ کا اک معجزہ ہے جو اسباب اور وسائل کا محتاج نہیں اور انسانی ترقی وجدید کمالات کےلئے اسباب ووسائل درکار ہیں اور اگر اسی ترقی وکمالات کا رخ ” مادیت“ کے بجائے” روحانیت“ کی طرف موڑ کر ایمان وعمل میں مشغول ہوجائیں تو دنیائے فانی کی عارضی نعمتوں کی بجائے جنت کی ایسی لازوال نعمتیں ملیں گی کہ جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ، کسی کان نے سنا نہیں بلکہ کسی انسان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آئیں ۔[/FONT]
    [FONT=&quot] ہم آج اس رہبر انسانیت کو سلام کرتے ہیں جس نے انسان کو یہ سبق دیا کہ تجھ پر شمس وقمر اور نجوم وسماءکی حکمرانی نہیں ہے بلکہ سارا نظام فلکی تیرے لئے غبار راہ ہے اور اس نبی امی ﷺ کے جاں نثار غلام ” حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ“ کی عظمتوں کو سلام کرتے ہیں جس نے شب معراج میں یہ پیغام دیا کہ انسانیت کی فلاح وکامرانی اور ” تسخیرکائنات “ کا راز پیغمبر اسلام کی غلامی اور آپکی اطاعت میں پوشیدہ ہے[/FONT][FONT=&quot]؂[/FONT]
    [FONT=&quot]تیری معراج کہ تو لوح وقلم تک پہنچا [/FONT]
    [FONT=&quot] میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا[/FONT]
     
  2. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    السلام علیکم
    سب سے پہلے تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ واقعہ معراج اس تاریخ کو ثابت ہی نہیں
    بلکہ اس کی تا ریخ کا معلوم ہی نہین ہو سکا۔ ورنہ حوالہ دیں۔
     
  3. میاں شاہد

    میاں شاہد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2008
    پیغامات:
    221

    سبحان اللہ بلکہ ماشا للہ آپ نے بہت اچھا نکتہ اُٹھایا ہے لیکن میں‌جاننا چاہوں‌گا کہ میری مذکورہ پوسٹ میں کس جگہ معراج کی تاریخ‌لکھی ہوئی ہے ؟ کیا آپ حوالہ دینا پسند کریں گے؟ :00026: بٹن دباکے

    شکریہ
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,440
    جزاک اللہ خیر
    میرا خیال ہے چوں کہ آپ نے 27 رجب کو یہ تھریڈ لگایا ـ اس لیے السنہ بھائی نے پوچھ لیا کہ واقعہ معراج اس تاریخ کو ثابت ہی نہیں
    :00026::00026:
     
  5. میاں شاہد

    میاں شاہد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2008
    پیغامات:
    221
    جی بھائی مجھے بھی یہ ایک جذباتی رپلائی محسوس ہورہی تھی :00026: بٹن دباکے
     
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,021
    یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے حدیث‌ کی کسی بھی کتاب میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ، حتی کہ اس طرح کی کوئی ضعیف یا موضوع روایت بھی نہیں ملتی ، البتہ بعض اہل علم نے یہ بات کہی ہے مگر اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں‌ کیا ہے۔
    باقی مضون عمدہ ہے۔
    [/font]
     
  7. میاں شاہد

    میاں شاہد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2008
    پیغامات:
    221
    نشاندہی کا شکریہ میں‌اصل مضمون کو دیکھ کر انشا اللہ آج شام تک اگر ضروری ہوا تو تصحیح‌کردوں‌گا

    والسلام
     
  8. السعدی

    السعدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    465
    جزاک اللہ خیر
     
  9. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔Thanks......شکریہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں