حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی پر ایک تحریر

دانیال ابیر نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏اکتوبر، 4, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    میں نے مسلم شخصیات کے تھریڈ کا مطالعہ کیا مگر مجھے یہاں کافی کمی محسوس ہوئی کیونکہ یہاں مسلم شخصیات کا تذکرہ تو تھا مگر عظیم شخصیات کا تذکرہ نہیں تھا سو میں اس تھریڈ میں ایک عظیم شخصیت کا اضافہ کر رہا ہوں اور وہ ہیں

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ

    میری کوشش ہوگی کہ میں جتنا بھی لکھ سکتا ہوں ضرور لکھوں
     
  2. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہجری سال شروع ہونے سے چالیس سال پہلے 583ع یا 584ع میں شہر مکہ میں پیدا ہوئے ان سے تیرہ سال قبل رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لا چکے تھے

    نام اور کنیت :

    ماں باپ نے نام عمر رکھا لیکن پچپن میں ان کو پیار سے عمیر یا عمیرہ کہہ کر بھی پکارا جاتا تھا

    حضرت عمر رض کی کنیت ابو حفص تھی لیکن یہ کنیت زیادہ مشہور نہیں ہوئی لوگ اکثر انہیں عمر یا ابن خطاب کہہ کر ہی پکارتے تھے

    لقب :

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا لقب "فاروق" تھا اس کا مطلب "حق و باطل یا سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا" ہے یہ لقت آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا تھا

    نسب :

    کعب
    عدی
    رزاح
    عبداللہ
    ریاح
    عبدالعزی
    نفیل
    خطاب
    عمر رضی اللہ تعالی عنہ

    آٹھویں پشت پر آپکا کا نسب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے جو مندرجہ ذیل ہے

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
    عبداللہ
    عبد المطلب
    ہاشم
    عبد مناف
    قصی
    کلاب
    مرہ
    کعب

    ان نسب ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم مرہ بن کعب کی اولاد سے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مرہ کے بھائی عدی بن کعب کی اولاد سے

    خاندان :

    جس زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آنکھ کھولی، مکہ پر مدتوں سے قبیلہ قریش کی سرداری اور خکومت چلی آرہی تھی یہ قبیلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد سے تھا، سارے عرب میں اس قبیلے کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ عربوں کی سب سے عزت کی جگہ کعبہ شریف کی دیکھ بھال، حفاظت اور حاجیوں کی خدمت قریش قبیلے کی ذمہ داری تھی، اس قبیلے میں مختلف وقتوں میں دس ایسے نامی گرامی سردار پیدا ہوئے کہ ان کی اولاد کے جدا جدا چھوٹے قبیلیے یا گھرانے بن گئے اور ہر گھرانا اسی سردار کے نام سے مشہور ہو گیا جس کی یہ اولاد تھا ان سرداروں کے نام یہ ہیں

    عدی، یتم، سہم، مخزوم، اسد،جمح، عبدلدار، نوفل، امیہ، ہاشم


    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  3. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    عدی کی اولاد کو بنو عدی، تیم کی اولاد کو بنو تیم اوراسی طرح دوسرے سرداروں کی اولاد کو بھی ان کے نام کی نسبت سے پکارا جاتا تھا جس طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ اسی طرح حضرت عمر رض کا تعلق بنو عدی سے تھا، اس خاندان کے لوگ عدی کی نسبت سے عدوی کہلاتے تھے، عدوی خاندان کے سپرد دو کام تھے، ایک یہ کہ جب قریش کو کسی دوسرے قبیلے کے پاس ایلجی بھیجنا ہوتا تھا تو یہ ایلچی بنو عدی سے ہوتا تھا اس کام کو سفارت کار کہا جاتا تھا اور دوسرا یہ کہ جب برابر کے دو رئیسوں یا دو گروہوں میں اس بات پر جھگڑا ہو جاتا کہ ان کون عزت والا ہے تو بنوعدی ہی کے سردار کو پنچ بن کر اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا ہوتا

    بنو عدی کے مکانات کعبہ شریف کے قریب صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان تھے حضرت عمر رض یہیں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ۔

    والد :

    حضرت عمر کے والد خطاب اپنے خاندان بنو عدی کے سردار تھے ، علم انساب اور شاعری میں ماہر تھے "حرب فجار" میں شریک ہوئے اور بنو عدی کی سپہ سالار تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا خطاب فوت ہو چکے تھے ۔

    والدہ :

    والدہ کا نام حنتمہ تھا جو ہاشم بن مغیرہ کی بیٹی تھیں، اور ساتویں پشت یعنی مرہ پر ان کا سلسلہ نسب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے، حضرت خالد بن ولید رض چچا زاد بھائی تھےاس لحاظ سے حضرت عمر رض حضرت خالد بن ولید رض کے بھانجھے بھی تھے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  4. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملتے، صرف اتنا معلوم ہے کہ جب وہ ذرا سیانے ہوئے تو باپ نے اونٹ چرانے کا کام ان کے سپرد کردیا، وہ مکہ سے چند میل دور ضبحنان کے جنگل اور میدان میں سارا دن اونٹ چراتے رہتے، جب کبھی تھک کر بیٹھ جاتے تو باپ کے ہاتھ سے مار کھاتے تھے، سالہا سال کے بعد اپنی خلافت کے زمانے میں ایک دفعہ ان کا ضبحناں کی طرف سے گزر ہوا تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور فرمایا :

    "اللہ اکبر ! ایک زمانہ وہ تھا کہ میں نمدے کا کرتا پہنے یہاں اونٹ چرایا کرتا تھا، تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ کے ہاتھ سے مار کھاتا تھا، آج یہ دن ہے کہ اللہ کے سوا میرے اوپر کوئی حاکم نہیں"۔

    جوانی کی عمر کو پہنچے تو لکھنا پڑھنا سیکھ لیا، اس زمانے میں یہ بڑی خوبی اور کمال کی بات تھی، قریش کے لوگ عام طور پر ان پڑھ تھے اور بہت کم آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، کہا جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبی ہونے کا اعلان فرمایا تو قریش کے سارے قبیلے میں صرف 17 آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، لکھنے پڑھنے کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے باپ سےانساب کا علم بھی سیکھا اس کے علاوہ سپہ گری نیزہ بازی، تیغ زنی،تیر اندازی اور گھڑ سواری اور پہلوانی کے تمام کرتب سیکھے
     
  5. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ،
    بھائی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں کوئی کتاب نیٹ پر موجود ہے تو پلیز بتائیے۔
     
  6. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اسلام لانے سے قبل

    جس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبی ہونے کا اعلان فرمایا اور لوگوں کو اللہ کے دین "اسلام" کی طرف بلانا شروع کیا، حضرت عمر رض کی عمر ستائیس برس تھی، وہ قریش میں بہت اونچی حیثیت رکھتے تھے، اور مکہ کے معزز اور معتبر لوگوں میں شمار ہوتے تھے، ان کے بڑے بھائی حضرت زید رض بن خطاب، بہن فاطمہ رض بنت خطاب، بہنوئی سعید رض بن زید رض اور خاندان کے کئی دوسرے لوگوں نے تو جلد ہی اسلام قبول کر لیا لیکن حضرت عمر رض نہ صرف اپنے باپ دادا کے مذہب پر سختی سے قائم رہے بلکہ قریش کے اکثر بڑے لوگوں کی طرح انہوں نے زور و شور سے اسلام کی مخالفت شروع کردی، جس شخص کی نسبت انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے اس کے دشمن بن جاتے اور طرح طرح سے اس کو ستاتے، کہا جاتا ہے کہ اپنے خاندان کے بعض مسلمانوں کو وہ رسیوں سے باندھ کر پیٹا کرتے۔ ان میں بنو عدی کی ایک کنیز لبینہ رض بھی تھیں ان کو مارتے مارتے تھک جاتے لیکن وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی ان کی سختیاں بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ سہتے رہے اور اسلام کو چھوڑنے پر کسی صورت میں تیار نہ ہوئے اس طرح چھ سال گزر گئے مگر وہ کسی ایک شخص کو بھی اسلام سے نہ پھیر سکے اس عرٍصہ میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے وہ سخت الجھن میں پڑ گئے کبھی تو ان کا دل نرم ہو جاتا اور وہ اسلام کے طرف مائل ہو جاتے اور کبھی ان کے دل میں مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی کے آگ بھڑک اٹھتی تھی قریش کے کافروں نے مشہور کر رکھا تھا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم شاعر و جادوگر ہیں۔ حضرت عمر رض کے کانوں میں بھی یہ چھوٹی باتیں پڑتی رہتی تھیں اسی لئے وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     
  7. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اسی زمانے میں ایک دن انہوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حرم شریف کے اندر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی سورہ الحاقہ بلند آواز سے پڑھ رہے تھے اللہ کا کلام سن کر ان پر بہت اثر ہوا اور ان کو یقین ہوگیا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو شاعر ہیں اور نہ جادوگر۔۔

    اب ان کے اندر اسلام کے لئے نرمی پیدا ہوگئی مگر پھر وہ باپ دادا کا دین چھوڑنے کو تیار نہ تھے، کچھ مدت بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مظلوم مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حبش چلے جائیں جہاں ایک نیک دل بادشاہ کی حکومت ہے اور اس کے ملک میں وہ امن سے رہ سکیں گے، چنانچہ دو سال کے اندر بہت سے مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے حبش چلے گئے ان مسلمانوں میں حضرت عمر رض کی ایک رشتہ دار خاتون ام عبداللہ لیلی رض اور ان کے شوہر عامر رض بن ربیعہ بھی تھے،۔ حضرت لیلی رض بیان کرتی ہیں کہ میں حبش جانے کے لئے سامان باندھ رہی تھی اور میرے شوہر عامر رض بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اتنے میں عمر رض آ گئے ابھی وہ اسلام نہیں لائے تھے اور ہم ان کے ہاتھوں بہت تکلیفیں اٹھا چکے تھے وہ کچھ دیر مجھے سامان باندھتے دیکھتے رہے پھر بولے "عبداللہ کی ماں ! کیا اب چلنے کی تیاری ہے ؟ میں نے کہا "ہاں جب تم لوگوں نے ہمیں بہت ستایا اور ہم پر ظلم کیا تو اب ہم اللہ کی زمین میں کہیں نکل جائیں گے جہاں اللہ ہمارے لئے اس مصیبت سے بچنے کی کوئی صورت پیدا کر دے گا ۔ اس پر عمر رض نے کہا اللہ تمہارے ساتھ ہو۔ اس وقت میں نے ان کو بہت غمگین پایا ان کے جانے کے بعد میرے شوہر گھر آئے اور میں نے ان کو بتایا کہ عمر رض ابھی یہاں سے گئے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے وطن چھوڑنے پر ان کو بہت دکھ ہوا ہے میرے شوہر نے کہا کہ کیا تمہیں اس کے مسلمان ہونے کی امید ہوگئی ہے؟ میں نے کہا ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بولے "مجھے تو اس کے اس وقت تک مسلمان ہونے کی امید نہیں جب تک خطاب کا گدھا مسلمان نہ ہو جائے" ۔ ۔ ۔

    حضرت عامر رض کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عمر رض کی طبیعت میں بہت سختی ہے اس لئے وہ اپنے باپ دادا کا مذہب کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے۔ مگر اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اس واقعہ کے تھوڑے عرصہ بعد ہی حضرت عمر رض کا دل بالکل موم ہوگیا اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جا گرے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  8. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اسلام لاتے ہیں


    کچھ کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رض تقریبا چھ سال تک اپنے خاندان کے مسلمانوں پر بہت سختیاںکرتے رہے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان میں سے کسی نے بھی اسلام نہیں چھوڑا اور ان کی تمام سختیاں صبر کے ساتھ برداشت کیں تو ان کا دل نرم ہوگیا اور پھر جب ان کو اللہ کا کلام سننے کا اتفاق ہوا تو ان پر ایسا اثر ہوا کہ ایک دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کر لیا لیکن ان کے اسلام قبول کرنے کا جو قصہ زیادہ مشہور ہے اور جسے بہت سی کتابوں میں تقل کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن ان کی طبیعت نے جوش مالا اور انہوں نے ارادہ کر لیا کہ جس ہستی کی وجہ سے وہ اتنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں ، اس کو قتل کر دیں جنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی غرض سے تلوار لیکر گھر سے نکل کھڑے ہوئے راستے میں اپنے قبیلے کے ایک مسلمان حضرت نعیم رض بن عبداللہ رض مل گئے انہوں نے دریافت کیا "خیر تو ہے اتنے غصے میں کہا جار ہے ہو"؟ حضرت عمر رض نے جواب دیا "میں نیا دین لانے والے اس شخص کو قتل کر دینا چاہتا ہوں جس نے قریش میں پھوٹ ڈالی ہے ہم سب کو بےوقوف ٹہرایا ہے ہمارے دین کو غلط کہا ہے اور ہمارے بتوں کی برائی کی ہے"

    حضرت نعیم رض نے کہا "اے عمر رض ! خدا کی قسم تم دھوکے میں پڑ گئے ہو کیا تم سمجھتے ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے بعد ان کے خاندان والے تمہیں زندہ چھوڑیں گے، تم ذرا پہلے اپنے گھر والوں کی خبر تو لو"
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  9. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضرت عمر رض نے کہا "میرے گھر والے کون ؟

    حضرت نعیم رض نے کہا "تمہاری بہن فاطمہ رض اور تمہارے بہنوئی سعید رض بن زید دونوں مسلمان ہو چکے ہیں اور انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کر لی ہے۔ ۔ ۔یہ سن کر حضرت عمر رض الٹے پاؤں پھرے اور بہن کے ہاں پہنچے ، اس وقت ان کے گھر میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پیارے ساتھی حضرت خباب رض بن ارت بھی موجود تھے، ان کے پاس ایک چھوٹی سی کتاب تھی جس میں سورہ طحہ لکھی ہوئی تھی اس قسم کی کتاب کو صحیفہ کہا جاتا ہے،
    حضرت خباب رض حضرت فاطمہ رض کو اس صحیفے سے سورہ طحہ پڑھا رہے تھے اور حضرت سعید رض بھی ان کے پاس بیٹھے تھے۔ حضرت عمر رض نے دروازہ کھٹکھٹیا تو حضرت خباب رض گھر کے ایک حصے میں چھپ گئے۔ اور حضرت فاطمہ رض نے صحیفے کے ورق چھپا دیئے ۔ لیکن حضرت عمر رض پہلے ہی دروازے میں سورہ طحہ پڑھے جانے کی آواز سن چکے تھے انہوں نے اندر پہنچ کر بہن اور بہنوئی سے پوچھا "تم ابھی کیا پڑھ رہے تھے"

    دونوں نے کہا "تم نے کچھ نہیں سنا"

    حضرت عمر نے کہا "نہیں میں نے سنا ہے مجھے خبر ملی ہے کہ تم دونوں اپنے باپ دادا کے مذہب سے پھر گئے ہو

     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  10. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    یہ کہہ کر انہوں نے اپنے بہنوئی کو پیٹنا شروع کیا حضرت فاطمہ رض سوہر کو بچانے کے لئے آگے بڑھہیں تو حضرت عمر رض نے ایک لگڑی سے ان کو بھی مارا جس سے ان کا سر پھٹ گیا اور وہ لہولہاں ہو گئیں اس وقت دوبوں میاں بیوی کی زبان سے نکلا "ہاں ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور اللہ کے رسول سلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہیں تم جو چاہو کر لو اسلام ہمارے دل سے نہیں نکل سمکتا ۔ ۔ حضرت عمر رض نے بہن کو خون بہتے دیکھا تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ۔ ۔ کہنے لگے تم جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی لاکر دکھاؤ"

    بہن نے کہا "ہمیں ڈر ہے کہ تم اسے بھی ضائع کر دوگے"

    حضرت عمر رض نے کہا "نہیں میں اپنے خداؤن کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ پڑھ کر اسے واپس کر دونگا "

    حضرت فاطمہ رض نے کہا "بھائی اس صحیفے کو پاک آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے جب تک تم غسل نہیں کروگے ہم یہ صحیفہ تمہارے ہاتھ میں نہیں دینگے، حضرت عمر رض نے اٹھ کر غسل کیا اور حضرت فاطمہ رض نے صحیفہ ان کے ہاتھ میں دے دیا جب انہوں نے سورہ طحہ پڑھنی شروع کی تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا

    "واہ کیا عمدہ اور اعلی درجے کا کلام ہے"

    حضرت خباب رض نے ان کی یہ بات سنتے ہی باہر نکل آئے اور کہا "اے عمر رض ! مجھے امید ہے کہ اللہ نے تم کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا پورا ہونے کے لئے چن لیا ہے میں نے کل ہی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الہی ! ابوالخکم بن ہشام (ابو جہل( یا عمر بن خطاب کے ذریعہ سے اسلام کو قوت اور عزت دے۔۔ پس اے عمر ! اللہ کی طرف آؤ، اللہ کی طرف آؤ، حضرت عمر نے کہا "مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ میں مسلمان ہو جاؤن"
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  11. علمدار

    علمدار محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2008
    پیغامات:
    814
    جزاک اللہ دانیال بھائی- مزید تحریر کا انتظار ہے-
     
  12. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    جی کچھ وقت درکار ہےمیری کوشش ہوگی جلد از جلد مکمل کروں
     
  13. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضرت خباب رض نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھی اس وقت صفا کی پہاڑی کے قریب ایک مکان "دار ارقم" میں موجود ہیں"

    حضرت عمر رض کمر سےتلوار باندھے سیدھے دار ارقم پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے ساتھیوں میں ایک نے دروازے کی جھری سے باہر جھانگا تو دیکھا کہ عمر رض تلوار باندھے کھڑے ہیں انہوں نے گھبرا کر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر عمر رض تلوار باندھے کھڑا ہے، خدا جانے وہ کس ارادے سے آیا ہے

    آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کےچچا حضرت حمزہ رض بھی مکان میں موجود تھے وہ بڑے طاقت ور اور بہادر آدمی تھے گرج کر بولے "اسے اندر آنے دو اگر نیک ارادے سے آیا ہےتو خیر ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی کا سر اڑا دونگا"

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اسے آنے دو"

    چنانچہ دروازہ کھولا گیا اور حضرت عمر رض اندر داخل ہوئے ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور ان کی چادر مٹھی میں دبا کر زور سے کھینچتے ہوئے فرمایا "خطاب کےبیٹے، تم کس ارادے سے یہاں آئے ہو ؟

    حضرت عمر رض نے عرض کیا : "اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائےکے ئے حاضر ہوا ہوں"

    اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے "اللہ اکبر" فرمایا اور مکان میں موجود سارے مسلمانوں کو پتہ چل گیا کہ عمر رض مسلمان ہوگئے ہیں ۔ سب کو بے انتہا خوشی ہوئی اور انہوں نے بھی اس زور سے "اللہ اکبر" کا نعرہ مارا کہ مکہ کے پہاڑ گونج اٹھے

    اب حضرت عمر رض نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں خواہ مریں یا جیئیں ؟

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو خواہ جیو یا مرو ۔ ۔

    حضرت عمر رض نے عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم حق پر ہیں اور کافر غلط راستے پر تو پھر ہم اپنا دین کیوں چھپائیں ؟

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے عمر رض ہماری تعداد تھوڑی ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کن حالات سےگزر رہے ہیں "

    حضرت عمر رض نے عرض کیا "اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا میں اسلام لانے سے پہلے جن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا اب مسلمان ہوکر ان کے سامنے جاؤن گا "

    اس پر تمام مسلمان دار ارقم سے دو صفیں بنا کر نکلے اور کعبے کی طرف روانہ ہوئے ایک صف میں حضرت عمر رض اور دوسری صف میں حضرت حمزہ رض ۔ ۔ ۔ سب نے مسجد حرام میں داخل ہوکر نماز ادا کی۔ ۔ قریش کے کافروں نے جب یہ واقعہ دیکھا تو ان کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے حضرت عمر رض کو جب وہ اکیلے تھے گھیر لیا اور مارنا شروع کیا ۔ حضرت عمر رض نے بھی انکا ڈٹ کر مقابلہ کیا آخر کافروں کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے کافروں کو یہ کہہ کر پیچھے ہٹا دیا کہ اس کو چھوڑ دو، اس کے خاندان کے لوگ کبھی یہ برداشت نہیں کریںگے کہ تم اس کو مار ڈالو۔ یہ واقعہ ایک دوسرے صورت میں بھی بیان کیا گیا ہےوہ اس طرح کہ بے شمار کافروں نے حضرت عمر رض کے مکان کو گھیر لیا تاکہ جب وہ باہر نکلیں تو ان کو ماردیں۔ بنو سہم کے سردار عاص بن وائل کا بنو عدی کے ساتھ دوستی کا مہاہدہ تھا ۔ وہ حضرت عمر رض کے پاس گیا اور ان سےکہا کہ تم گھر میں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نےکہا "تمہاری قوم مجھے قتل کرنا چاہتی ہے کیونکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا "کوئی تم پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا کیونکہ میں تمہیں اپنی پناہ میں لے چکا ہوں۔ ۔ پھر وہ باہر نکلا اور مکان کا گھیراؤ کرنے والے لوگوں سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟

    انہوں نے کہا "ہم ابن خطاب کو باپ دادا کے دین سے پھر جانے کا مزہ چکھانا چاہتے ہیں "

    عاص نے کہا "عمر پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا وہ میری حمایت میں ہے " اس پر سب چلے گئے

    حضرت عمر رض کے اسلام لانے کا واقعہ نبوت کے چھٹےسال کا ہے، بعض نے ساتواں سال بھی بتایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ چھٹے سال کے آخر یا ساتویں سال کے شروع میں اسلام لائے ہوں ۔ حضرت عمر رض کی عمر اس وقت تقریبا تینتیس برس تھی

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  14. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    مکہ سے ہجرت

    حضرت عمر رض نے اسلام قبول کرنے کے بعد چھ سال سے کچھ زیادہ عرصہ مکہ میں گزارا یہ زمانہ رسول اکرم سلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں کے لئے بڑے دکھوں اور مصیبتوں کا زمانہ تھا ، کافر مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لئے نت نئے طریقے تلاش کرتے تھے لیکن مسلمان تمام تکلیفیں اور مصیبتیں بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ جھیلتے رہے اور کبھی کسی کے دل میں اسلام سےپھر جانے کا خیال تک نہ آیا نبوت کے گیارھویں سال یثرب سے چھھ نیک آدمی حج کے لئےمکہ آئے، اتفاق سے ان کی ملاقات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی آپ سلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو وہ فورا مسلمان ہو گئے ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  15. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    جزاک اللہ دانیال بھائی!
    بہت ہی اچھا جا رہے ہیں۔
    اگر آپ ان اوپر والی تحریروں کو تھوڑا خوبصورت کردیں (کلرفل) تو مزہ دوبالا ہوجائے گا بھائی-:00032:
    والسلام علیکم
     
  16. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    یثرب مکہ سے چار سو اکیس کلو میٹر دور ایک پرانا شہر تھا جہاں عربوں کے دو بڑے قبیلے اوس ا ور خزرج اور بہت سے یہودی آباد تھے، مسلمان ہوجانے والے چھہ آدمی واپس اپنے شہر یثرب گئے تو انہوں نے کچھ اور لوگوں کو بھی مسلمان کر لیا چنانچہ اگلے سال بارہ آدمی مکہ آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ان کی درخواست پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک پیارے ساتھی حضرت مصعب رض بن عمیر کو یثرب بھیجا ان کی تبلیغ سے اوس و خزرج کے گھر گھر میں اسلام پھیل گیا نبوت کے تیرھویں سال یثرب سے پچھتر آدمی مکہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ لوگ یثرب تشریف لے آئیں ہم آپ کی دل و جان سے حفاظت کریں گے ۔ ۔ ۔ ان نیک لوگوں کو اسی لئے "انصار" یعنی مددگار کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست کو قبول کر لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مناسب وقت کا وعدہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ انصار کے واپس جانے کے بعد اپنے ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ مکہ سے ہجرت کر کے یثرب چلے جائیں جہاں اللہ تعالی نے ان کے لئے مددگار پیدا کر دیئے ہیں اور ان کو ایسا شہر مل گیا ہے جہاں وہ امن سے رہ سکتے ہیں

     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2008
  17. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ملتے ہی مسلمان دو دو چار چار کر کے یثرپ کے طرف ہجرت کرنےلگے کافروں کو پتہ چلا تو یہ خیال کر کے ان کے سینے پر سانپ لوٹ گیا کہ یثرب میں ان کے ظلم کا ہاتھ مسلمانوں تک نہیں پہنچ سکے گا ، انہوں نے مسلمانوں کو ہجرت سے روکنے کی بہت کوشش کی، بعض کو قید کر لیا، بعض کو زبردستی روک لیا گیا، کسی کا سامان چھین لیا، کسی کے بیوی بچوں کو روک لیا پھر بھی اکثر مسلمان چھپ چھپا کر مکہ سے ہجرت کر کے یثرب پہنچتے میں کامیاب ہوگئے، لیکن حضرت عمر رض کی شان نرالی تھی وہ اعلانیہ بیس مسلمانوں کو ساتھ لے کےنکلے ان میں ان کے بھائی زید رض، بہنوئی سعید رض، اور داماد خنیس رض بھی شامل تھے، چلنے سے پہلے انہوں نے کمر میں تلوار باندھی ، کندھے پر کمان رکھی، گلے میں تیروں کا ترکش لٹکایا، ہاتھ میں نیزہ پکڑا اور کافروں کے سامنے سے گزر کر کعبہ پہنچے ، نہایت اطمنناں سے طواف کیا، نماز پڑھی پھر فرمایا، ان لوگوں کا بھلا ہو جو پتھر کے ٹکڑوں کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اس وقت وہاں بہت سے کافر جمع تھے، حضرت عمر رض نے ان سے مخاطب ہو کر بلدد آواز سے فرمایا :

    "میں آج مکہ سے جا رہا ہوں، میرے ساتھ میرے بھائی، بہنوئی، داماد اور بہت سے دوسرے مسلمان ہیں، جس کو مقابلہ کرنا ہو اور اپنے بیٹے کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ بنانا ہو وہ مکہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرے "

    لیکن کسی کو جرات نہ ہوئی کہ ان کو روک سکے یا راستے میں جا کر ان کو نقصان پہنچا سکے یوں وہ خیر و عافیت کے ساتھ اپنے ہمراہیوں سمیت قبا پہنچ گئے جو یثرب سے دو میل ادھر ایک چھوٹا سا گاؤن تھا جس میں انصار کے قبیلہ اوس کی ایک شاخ "یعنی عمرو بن عوف" کے لوگ آباد تھے، اس قبیلے کے ایک مسلمان حضرت ابو لبابہ رفاعہ رض بن عبد المنذر نے ان کو اپنا مہمان بنایا تھوڑے ہی عرصہ کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رض بھی مکہ سے ہجرت فرما کر قبا پہنچ گئے ۔ ۔ ۔

    رسول پاک سلی اللہ علیہ وسلم نے قبا میں چودہ دن قیام فرمایا اس دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ ملکر وہاں ایک مسجد بنائی جو "مسجد قبا" کے نام سے مشہور ہوئی، یہ مسجد بناتے وقت حضرت عمر رض رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر مٹی، گارا اور انینٹیں ڈھوتے رہے۔

    چودہ دن بعد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم یثرب تشریف لے گئے اس دن سے اس شہر کا نام "مدینتہ النبی" یعنی "نبی کا شہر" مشہور ہوگیا جو مختصر ہوکر "مدینہ" رہ گیا، شروع میں کچھ عرصہ حضرت ابولبابہ رفاعہ رض بن عبدالمنذر کے مکان میں قیام کیا پھر بنو سالم کے سردار حضرت عتبان رض بن مالک کے مکان میں چلےگئے جو قبا کے قریب بنو سالم کے محلے میں تھا، بنو سالم، قبیلہ خزرج کی ایک شاخ تھی۔ قبا اور بنو سالم کا یہ گاؤن یا محلہ خاص شہر مدینہ سے تقریبا دو میل کے فاصلے پر تھے، لیکن ان کو مدینے ہی میں شامل سمجھا جاتا تھا یہ قدرے بلندی پر واقع تھا اس لئے ان کو عوالی کہا جاتا تھا عوالی کا مطلب ہے بلند جگہیں ۔ ۔ ۔ ۔

    جاری ہے
     
  18. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    مدنی زندگی

    ہجرت کے وقت حضرت عمر رض کی عمر تقریبا چالیس برس تھی، اس کے بعد وہ تیئیس برس تک اس دنیا میں رہے یہ سارا زمانہ انہوں نے مدینہ میں گزارا اس لئے اس زمانے کو ان کی مدنی زندگی یا زندگی کا مدنی دور کہا جاتا ہے، اس دور کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے

    پہلا ہجرت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یعنی دس سال

    دوسرا حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت کا زمانہ یعنی دو سال تین مہینے گیارہ دن

    تیسرا خود حضرت عمر رض کی خلافت کا زمانہ یعنی دس سال چھ مہینے پانچ دن



    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 21, 2008
  19. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    خواب میں اذان سنی

    مدینہ پہنچ کر جب مسلمان آزادی اور اطمنناں سے نماز اور دوسرے فرائض ادا کرنے لگے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری سمجھا کہ مسلمانوں کو نماز کے وقت بلانے کا کوئی انتظام ہونا چاہیئے کیونکہ جو لوگ مسجد میں نماز پڑھنے آتے تھے، ان میں کوئی پہلے آجاتا تھا اور کوئی بعد میں، اس لئے وقت کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے جماعت میں شریک ہونے سے رہ جاتے تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں اپنے پیارے ساتھیوں سے مشورہ کیا تو بعض نے رائے دی کہ کسی بلند جگہ پر آگ جلا کر نماز کی خبر دی جائے، بعض نے عرض کیا کہ نماز کے وقت کے قریب مسجد پر چھنڈا بلند کر دیا جائے، بعض نے مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی طرح نماز کے وقت سنکھ بجایا جائے جس کی آواز پر سب لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں ابھی اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہ ہوا تھا کہ دوسرے دن صبح سویرے مدینہ کے رہنے والے ایک صحابی حضرت عبداللہ رض بن زید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم "مجھے خواب میں ایک شخص نے تلقین کی ہے کہ تم لوگوں کو یہ الفاظ پکار کر نماز کے لئے بلایا کرو" پھر انہوں نے تمام الفاظ دہرائے جو اذان میں کہے جاتے ہیں

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "یہ سچا خواب ہے تم بلال رض کے ساتھ کھڑے ہو کر ان الفاظ کو دہراؤ جو تم نے خواب میں سنے ہیں ، اور وہ ان ہی الفاظ میں اذان پکاریں کیونکہ ان کی آواز تمہاری آواز سے بلند ہے"

    حضرت بلال رض جب ازان دے چکے تو حضرت عمر رض اپنے گھر سے چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو عرض کیا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاک ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا میں نے ویسا ہی خواب دیکھا ہے، جیسا عبداللہ بن زید نے دیکھا اور وہی الفاظ سنے ہیں جو عمداللہ بن زند نے سنے "

    یہ سن کر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اپنے پیارے دو ساتھیوں کے اس اتفاق پر اللہ کا شکر ادا کیا اس دن سے آج تک انہی الفاظ میں اذان دے جا رہی ہے اور قیامت تک دی جاتی رہے گی ہاں اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت عمر رض نے فجر کی نماز میں یہ الفاظ بڑھا دیئے تھے "الصلوۃ خیر من النوم" "نماز نیند سے بہتر ہے" اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ صبح کی میٹھی نیند کسی مسلمان کو نماز سے غافل نہ کر پائے اور وہ اذان سنتے ہی نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ ۔ ۔

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔




    ---------------------------------------------------------------------------
    نوٹ: الصلوة خير من النوم کے الفاظ کا اضافہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہیں فرمایا۔
    تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔
    الصلوة خير من النوم - URDU MAJLIS FORUM
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 3, 2012
  20. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    جزاک اللہ خیر بھائی،
    عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت مجھے بیحد پسند ہے، میں نے انکے بارے میں بہت بچپن میں ایک کتاب پڑھی تھی شاید جب میں 8th کلاس میں تھی، اسکے بعد کوئی مکمل کتاب پڑھنے کو نہیں ملی۔ آپ کی اس بہترین کوشش نے مجھے پھر سے اس عظیم ہستی کے بارے میں پڑھنے کا موقع دیا۔ اللہ سبحانہ تعالی آپکو اسکا اجر عطا فرمائیں۔ آمین۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں