حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی پر ایک تحریر

دانیال ابیر نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏اکتوبر، 4, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    شکریہ بہنا

    اس میں کوئی شک نہیں حضرت عمر رض کی شخصیت ایک انتہائی مکمل شخصیت تھی اور آج وقت ہمیں یاد دلا رہا ہے پھر ان جیسی کوئی شخصیت ہی ہمارے لئے بہت ضروری ہے میں کوشش کرونگا کہ جلد از جلد اپنے مضمون کو مکمل کر سکوں
     
  2. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    بدر کی لڑائی

    ہجرت کے دوسرے سال رمضان کے مہینے میں بدر کی لڑائی پیش آئی، بدر مدینہ سے 148 کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا گاؤں تھا چونکہ اسی گاؤن کے قریب کافروں اور مسلمانوں کا مقابلہ ہوا اس لئے اس کو بدر کی لڑائی کہا جاتا ہے، اس لڑائی میں مکہ کے قریش ایک ہزار آدمی لے کر آئے تھے جن میں سو سواروں کا ایک رسالہ بھی تھا، ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 بلکہ اس سے بھی کم تھی، اور ان کے پاس ہتھیار بھی بہت کم تھے، ان مجاہدوں میں حضرت عمر رض بھی شامل تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جاں نثاروں کو ساتھ لے کر مدینہ سے بدر کی طرف روانہ ہوئے راستے میں ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کے بارے میں ان سے مشورہ کیا تو کئی بہادروں نے اٹھ کر بڑی جوشیلی تقریریں کیں جن مین کہا کہ ہم کافروں سے آخری دم تک لڑیں گے اور پیچھے قدم نہیں ہٹائیں گے۔ حضرت عمر رض نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش میں ان کے بڑے بڑے سردار شامل ہیں اور ان کو اپنی طاقت پر برا گھمنڈ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور لڑیں گے ان کے گھمنڈ کو توڑنا بہت ضروری ہے اس کے لئے ہماری جانیں حاضر ہیں، لڑائی شروع ہوئی تو حضرت عمر رض اپنے ساتھ بارہ مجاہدوں کو لے کر شریک ہوئے ان میں کچھ خاندان "بنو عدی" کے لوگ تھے اور کچھ دوست - - - یہ سب دوسرے مجاہدوں کی طرح بڑے جوش سے لڑے ، حضرت عمر رض کے ہاتھوں قریش کا ایک نامی بہادر عاص بن ہشام قتل ہوا، جو رشتے میں آپ کا ماموں بھی تھا یعنی آپ کی والدہ کا چچا زاد بھائی تھا، لیکن اللہ کی راہ میں آپ نے رشتے کی کچھ پرواہ نہیں کی، اللہ تعالی نے لڑائ میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی قریش کے ستر آدمی مارے گئے جن میں ابو جہل بھی شامل تھا جبکہ چودہ مسلمان شہید ہوئے، قیدیوں کے متعلق سوال پر حضرت ابو بکر صدیق رض نے مشورہ دیا کہ ان کو چھوڑ دینا چاہیئے جبکہ حضرت عمر رض کا موقف یہ تھا کہ ان کو قتل کر دینا چاہیئے، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رض کے مشورے پر ان قیدیوں کو چھوڑ دیا گیا اس موقع پر اللہ تعالی کا حکم نازل ہوا کہ "بہتر یہ ہوتا کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جاتا" اس سے ظاہر ہوگیا کہ اللہ تعالی کے نزدیک حضرت عمر رض کی رائے درست تھی۔ ۔ ۔ ۔

    اس لڑائی میں ایک خاص بات یہ دیکھنے آئی کہ حضرت عمر رض کی ہجرت کے بعد بھی ان کا رعب اپنے قبیلے کے کافروں پر قائم رہا وہ اس طرح ہاں اور سب خاندانوں کے کافر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے آئے وہاں بنو عدی کا ایک شخص بھی لڑائی میں شریک نہ ہوا اور سب کے سب مکہ ہی میں رہے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  3. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    احد کی لڑائی

    اگلے سال قریش بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ بدر کی لڑائی کا بدلہ لینے کےلئےمدینۃ پر جڑھ آئے اس لشکر کی تعدار تین ہزار تھی ان میں سات سو سپاہی ایسے تھے جو لوہے کی زرہیں پہنے ہوئے تھے اور سو سواروں کا ایک رسالہ بھی تھا، مدینہ سے چار کلومیٹر دور احد ایک پہاڑ ہے اس کے قریب مسلمانوں سے کافروں کا مقابلہ ہوا اسلامی لشکر میں صرف سات سو مجاہد تھے، جن میں حضرت عمر رض بھی شامل تھے، لڑائی سے پہلے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کے ایک درے پر پچاس تیر انداز کھڑے کر دیئے تاکہ دشمن اس درے سے گزر کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ نہ کردے ۔۔ ۔

    لڑائی میں مسلمانو‌ں ا س بہادری سےلڑے کہ دشمن کےپیر اکھڑ گئے، کافروں کےبھاگتے دیکھ درے پر موجود تیر اندازوں سے وہ تاریخی غلطی سرزد ہوئی جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان ہوا، حضرت ہمزہ رض سمیت ساتھ ستر مسلمان شہید ہوئے، ایک مقام پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھوڑے سے مجاہد رہ گئے پاقی سب ادھر ادھر بکھر گئے اسی دوران میں دو کافروں نے پھتر پھینک کر اور تلوار کا وار کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کر دیا

    جاری ہے ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 24, 2008
  4. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    دانیال بھائی، اگلے حصے کا شدت سے انتظار ہے۔
     
  5. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اس وقت یہ خبر اڑ گئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں نے یہ خبر سنی تو ان میں سے بعض تو تلواریں سونت کر یہ کہتے ہوئے کافروں کی صفوں میں گھس گئے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے اور باقی صدمے سے نڈھال ہو کر اپنی جگہ پر کھڑے کے کھڑے رہ گئے، حضرت عمر رض کا یہی حال ہوا۔ وہ اسی حالت میں لڑائی کے میدان میں کھڑے تھے کہ ایک صحابی کی آواز ان کے کانوں میں پڑی جو بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ و سلامت ہیں اب حضرت عمر رض اور کئی دوسرے صحابہ دوڑ کر رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیکر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اتنے میں خالد بن ولید جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے۔ فوج کے ایک دستے کے ساتھ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف بڑھے۔ اور پہاڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس صحابہ موجود تھے، خالد کو آتا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الہی یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں" ۔ حضرت عمر رض نے فورا چند صحابہ کرام رض کے ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا اور ان لوگوں کو مار بھگایا۔ تھوڑی دیر بعد قریش کے سپہ سالار ابوسفیان جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے۔ پہاڑ کے درے کے قریب پہنچے اور وہاں سے پکار کر کہا :

    " تم لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا نہیں‌؟ "

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ کوئی جواب نہ دے۔ اب ابو سفیان نے حضرت ابوبکر رض اور حضرت عمر رض کے نام لیکر پوچھا کہ یہ دونوں تم میں موجود ہیں یا نہیں ؟ اب بھی ادھر سے کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان نے بلند آواز سے کہا "ضرور یہ لوگ مارے گئے "

    حضرت عمر رض اب تک چپ تھے اب ان سے رہا نہ گیا اور گرج کر بولے :

    "اے اللہ کے دشمن ہم سب زندہ ہیں "

    ابوسفیان نے کہا : "اے ہبل تیری بڑائی ہو" ہبل ایک بت کا نام تھا جسے قریش پوچتے تھے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رض سے فرمایا :

    "تم اب جواب دو ' اللہ بلند اور برتر ہے"

    حضرت عمر رض نے اسی طرح جواب دیا۔ اس کے بعد چند کافروں نے پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے پتھر لڑھکا کر اور تیر برسا کر انہیں بھگا دیا

    اس لڑائی میں مسلمانوں کا نقصان تو بہت ہوا لیکن پھر بھی کافروں پر ان کا رعب ایسا چھایا کہ انہیں خاص شہر مدینہ کی طرف بڑھنے کی جرات نہ ہوئی اور وہ وہیں سے واپس مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ دوسرے دن مسلمانوں نے آٹھ میل تک ان کا پیچھا کیا لیکن کافروں نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور مکہ کی طرف بھاگتے چلے گئے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  6. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی رشتہ قائم ہوگیا

    حضرت عمر رض کی پیاری بیٹی حضرت حفصہ رض کی شادی کئی سال پہلے حضرت خنیس رض بن حذافہ سے ہوئی تھی ۔ بدر کے لڑائی میں ان کو کچھ ایسے زخم آئے جو بعد میں بگڑ گئے اور ان کی وجہ سے وہ وفات پا گئے اس طرح حضرت حفصہ رض بیوہ ہو گئیں۔ چند ماہ بعد شعبان 3 ھ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر حضرت عمر رض نے حضرت حفصہ رض کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ یوں حضرت حفصہ رض کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی یا ام المومنین کا درجہ حاصل ہو گیا اور حضرت عمر رض کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر بننے کی عزت حاصل ہوئی

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  7. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    بنو نضیر سے لڑائی

    مدینہ میں یہودیوں کے جو قبیلے آباد تھے ان ایک قبیلہ بنو نضیر تھا ، ظاہر میں تو اس قبیلے کے لوگوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی تھی لیکن دل سے وہ مسلمانوں کے سخت دشمن تھے۔ احد کی لڑائی کے بعد 4 ھجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رض اور حضرت عمر رض کو ساتھ لیا اور کسی معاملے پر گفتگو کرنے کے لئے بنو نضیر کے محلے میں تشریف لے گئے۔ ان لوگوں نے ایک شخص عمرو بن حجاش کو تیار کیا کہ چھت پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر پتھر کی بھاری سل یا چکی کا پاٹ گرا دے۔ وہ چھت پر چڑھ چکا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو لیکر واپس آگئے۔ اور بنو نضیر کو پیغام بھیجا کہ تم لوگ دس دن کے اندر اندر مدینے سے نکل مگر وہ مقابلے پر اتر آئے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو لڑائی کے لئے تیار کیا اور ان کو ساتھ لیکر بنو نضیر کے قلعے کو گھیر لیا۔ پندرہ دن بعد ان لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس شرط پر مدینہ سے نکلنے کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے تمام ہتھیار چھوڑ جائیں اور جتنا سامان اونٹوں پر لاد کر لے جا سکتے ہیں لےکر بال بجوں سمیت چلے جائیں۔ چنانچہ وہ چھ سو اونٹوں پر اپنا سامان اور بال بچے لاد کر مدینہ سے نکل گئے۔ ان میں سے کچھ شام چلے گئے اور کچھ خیبر میں جاکر آباد ہوئے

    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  8. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    مریسیع کی لڑائی

    ہجرت کے پانجویں سال شعبان کے مہینے میں مریسیع کی لڑائی پیش آئی۔ مریسیع مدینہ سے تقریبا ڈیڑھ کلو میٹر دور جنوب مغرب میں ایک چشمہ تھا۔ جس کے قریب قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ "بنو مصطلق" آباد تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ اس قبیلے کا سردار حارث بن ابی ضرار مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کا ایک لشکر ساتھ لیکر "بنو مصطلق" کے سر پر پہنچ گئے۔ اس لشکر میں حضرت عمر رض بھی شامل تھے۔ بنو مصطلق نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ اس معرکے کو بنو مصطلق کی لڑائی بھی کہا جاتا ہے۔ لڑائی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع کے چشمے کے قریب چند روز کے لئے ٹہر گئے۔ ایک دن پانی کی تقسیم پر ایک مہاجر حضرت جہجاہ ڑج بن مسعود غفاری اور ایک انصاری سنان رض بن دبر میں جھگڑا ہو گیا۔ حضرت جہجاہ رض حضرت عمر رض کے ملازم تھے۔ اور ان کا گھوڑا سنبھالا کرتے تھے۔ جھگڑتے ہوئے حضرت جہجاہ رض نے حضرت سنان رض کو ایک لات رسید کی اس پر انہوں نے انصار کر پکارنا شروع کر دیا کہ میری مدد کو پہنجو۔ ادھر جہجاہ رض نے بھی مہاجرین کو بلانا شروع کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شور و غل سنا تو خیمہ مبارک سے باہر تشریف لائے اور دونوں فریقوں کو سمجھایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو یہ بہت بری بات ہے۔ اس پر دونوں طرف کے کچھ بزرگ آگے بڑھے اور جہجاہ رض اور سنان رض میں صلح کرادی۔ لشکر میں مدینہ کے منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی بھی موجود تھا وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا لیکن حقیقت میں اسلام کا دشمن تھا۔ اس کو اس معاملے کا اس طرح دب جانا اچھا نہیں لگا۔ اس کے کچھ اور ساتھی بھی لشکر میں موجود تھے اس نے انکے درمیان بیٹھ کر مہاجروں کے خلاف بہت بری بری باتیں کیں جن میں ایک یہ تھی کہ ہم میں جو عزت والا ہے وہ ذلیل لوگوں کو مدینے سے باہر نکال دے گا۔ اس مجلس میں اتفاق سے ایک سچے مسلمان بھی تھے۔ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ بات بتائی کہ عبداللہ بن ابی نے یہ بکواس کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر پوچھا کہ تم نے یہ باتیں کی ہیں ؟ وہ صاف مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہرگز نہیں کہیں ۔ لیکن اسی موقع پر یا واپسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر "سورہ منافقون" نازل ہوئی جس میں اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ منافقوں نے ایسی باتیں کہی ہیں

    حضرت عمر رض کو عبداللہ بن ابی کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا اور انہوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا "

    "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس منافق کا سر اڑا دوں اور اگر آپ یہ مناسب نہ سمجھیں تو انصار میں سے کسی کو حکم دین کہ وہ اس کو قتل کر دے"

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "نہیں ایسا مت کرو ورنہ لوگ یہ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کا قتل کرا رہا ہے"

    عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ رض تھا۔ وہ بڑے پکے مسلمان تھے۔ ان کو بھی باپ کی حرکت بری لگی اسلامی لشکر جب واپس مدینہ ہوا تو انہوں نے تلوار سونت لی اور باپ کا راستہ روک لیا اور کہا کہ

    "جب تک تم اقرار نہ کروگے کہ تم خود ذلیل ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں، میں تمہیں شہر میں داخل نہ ہونے دونگا"

    اس پر عبداللہ بن ابی شور مچانے لگا کہ دیکھو میرا بیٹا ہی مجھے شہر میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ رض کو حکم دیا "ان کو چھوڑ دو اور گھر آنے دو"۔ ۔ ۔ ۔ اب حضرت عبداللہ یہ کہہ کر باپ کے راستے سے ہٹ گئے

    "رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے تو اب تم شہر میں داخل ہو سکتے ہو"

    جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  9. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    غزوہ خندق


    ہجرت کے پانچویں سال شوال یا ذیقعد کے مہینے میں خندق کی لڑائی پیش آئی۔ اس میں مکہ کے کافروں نے کئی دوسرے کافر قبیلوں اور خیبر کے یہودیوں کے ساتھ ایکا کر کے مدینہ پر چڑھائی کر دی، ان کے لشکر کی تعداد دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ تھی، مدینہ کے تین اطراف تو اتنےباغات اور مکان تھی کہ دشمن کے لئے ان میں سے گزر کر مدینہ میں داخل ہونا بہت مشکل تھا البتہ چوتھی جانب کھلی تھی۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے ساتھیوں سے مشورہ کیا تو یہ صلاح ٹہری کہ اس طرف ایک گہری اور چوڑی کھائی یا خندق کھودی جائے تاکہ کافر شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔ زمین بڑی سخت اور پتھریلی تھی تاہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رض نے دن رات ایک کر کے خندق کھود ڈالی۔ حضرت عمر رض بھی خندق کھودنے میں شریک تھے۔ کافروں کا لشکر مدینہ کے قریب پہنچا ت اس خندق نے ان کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اب انہوں نے مہاصرہ کر لیا اور تین ہفتوں تک شہر کو گھیرے رکھا۔ کافر کبھی کبھی خندق کو پار کے کے مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن مسلمان بہادر ان کو مار بھگاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے ادھر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بڑے بڑے صحابہ رض کی ماتحتی میں فوج کے دستے مقرر کر رکھے تھے۔ تکہ دشمن جب کبھی بھی حملہ کریں۔ ان کو روک لیں۔ خندق کے ایک حصے کی حفاظت حضرت عمر رض کے سپبرد تھی۔ آگے چل کر یہاں ان کے نام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ ایک دن کافروں نے بڑے زور کا حملہ کیا۔ حضرت عمر رض نے اپنے ساتھیوں‌ کے ساتھ ان کا زبردست مقابلہ کیا اور ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ لڑائی میں مشغول ہونے کی وجہ سے ان کی عصر کی نماز قضا ہوگئی۔ چنانچہ وہ کافروں کو برا بھلا کہتے ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :

    "یا رسول اللہ ! آج کافروں نے نماز تک نہیں پڑھنے کا موقع نہ دیا "

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    "میں نے بھی ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی"

    پھر سب نے ملکر عصر کی نماز پڑھی پھر مغرب کی

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 4, 2008
  10. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    شہر میں خوراک کا سامان بہت کم تھا۔ اس لئے مسلمانوں پر کئی کئی دن کے فاقے گزرتے تھے۔ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین تین دن بھوکے رہے۔ جب محاصرے کو تین ہفتے گزر گئے تو ایک رات اس زور کی آندھی چلی کہ کافوں کے خیموں کی رسیاں ٹوٹ گئیں اور ہانڈیاں چولہوں سے نیچے جا پڑیں۔ کافر جو اپنے کئی بہادروں کے مارے جانے سے پہلے ہی بددل ہورہے تھے۔ آندھی کا زور دیکھ کر ایسے گھبرائے کہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ یوں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح دی اور ان پر سے ایک بہت بڑا خطرہ ٹال دیا

    اس لڑائی کو احزاب کی لڑائی بھی کہا جاتا ہے۔ "احزاب" حزب کی جمع ہے جس کا مطلب ہے گروہ۔ چونکہ اس لڑائی میں کافروں کے کئی گروہوں نے مل کر حملہ کیا تھا اس لئے اس کو احزاب کی لڑائی کہا گیا

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  11. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    بیعت رضوان

    ہجرت کے چھٹے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کی زیارت کا ارادہ کیا اور ذیقعد کے مہینے میں اپنے چودہ سو ساتھیوں کے ہمراہ مکہ کے لئے روانہ ہوئے ان ساتھیوں میں حضرت عمر رض بھی شامل تھے۔ چونکہ لڑائی کا ارادہ نہیں تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے چلتے وقت حکم دیا کہ کوئی شخص ہتھیار نہ باندھے۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ ایک مقام ہے، وہاں پہنچ تو حضرت عمر رض نے عرض کیا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! معلوم نہیں آگے کیا حالات ہوں اس لئے ہتھیاروں کے بغیر چلنا مناسب نہیں ۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے ہتھیار منگوا لئے۔ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں ان کے بہت سے گھڑ سوار جوان مسلمانوں کو روکنے کے لئے مکہ سے چل پڑے ہیں شاید راستے میں ان سے مقابلہ پیش آجائے جونکہ آپ سلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ چنگ کا نہیں تھا اس لئے عام راستہ چھوڑ کر ایک اور راستے سے حدیبیہ پہنچ کر رک گئے جو مکہ سے چند میل کے فاصلے پر ہے "آج کل اسکو شمیسیہ یا شمیسی کہاجاتا ہے" ۔ قریش کے فیصلے کی خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خضرت عمر رض کو الچی بنا کر قریش کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ مسلمان لڑنے کے لئے نہیں بلکہ کعبہ کی زیارت کے لئے آنا چاہتے ہیں

    حضرت عمر رض نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قریش میرے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں اور مکہ میں میرا کوئی حامی موجود نہیں اس لئے میرے جانے سے ہوسکتا ہے کہ معاملہ اور بگڑ جائے۔ مناسب ہوگا کہ عثمان رض کو الچی بنا کر بھیجا جائے کیونکہ ان کے کنبے کے بہت سے لوگ مکہ میں موجود ہیں۔ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رض کی رائے سے اتفاق کیا ۔

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  12. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    حضرت عثمان رض جب مکے پہنچے تو قریش نے انکو روک لیا ادھر یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت عثمان رض کو شہید کر دیا گیا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ سلی اللہ علیہ وسلم نے ببول کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تمام صحابہ رض سے اس بات کی بیعت لی کہ ہم مکہ کے کافروں کے خلاف جہاد کریں گے اور حضرت عثمان رض کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اپنی جانیں قربان کر دینگے اس بیعت کو "بیعت رضوان" کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں شریک ہونے والوں کو اللہ تعالی نے کھلے الفاظ میں اپنے راضی ہونے کی خوش خبری دی ۔ رضوان کا مطلب راضی ہونا یا خوش ہونا ہے ۔ قرآن مجید کی سورہ فتح میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے

    لقدر رضی اللہ عن المومنین اذ یبا یعونک تحت ا لشجرۃ

    یعنی اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب "اے نبی" وہ تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے

    ان بیعت کرنے والے صحابہ کو اصحاب شجرہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ایک شجر یعنی درخت کے نیچے بیعت کی تھی

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  13. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    جزاک اللہ خیر دانیال بھائی۔ بہت بہترین سلسلہ ہے۔
     
  14. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    تھوڑی ہی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان رض کی شہادت کی خبر غلط تھی لیکن مسلمانوں کے جوش و حوصلے کو دیکھ کر قریش ہمت ہار گئے اور ان شرطوں پر مسلمانوں سے دس سال کے لئے صلح کرنے پر تیار ہوگئے

    1۔ مسلمان اس سال واپس جائیں ۔ اگلے سال صرف تین دن کے لئے آئیں اور کعبہ کی زیارت کرلیں۔ ان کے پاس نیام میں ڈالی ہوئی تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہ ہوگا

    2۔ عرب کے ہر قبیلے کو اختیار ہوگا کہ وہ قریش یا مسلمانوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں، دوستی کا مہاہدہ کر لیں

    3۔ قریش کا کوئی آدمی مسلمان ہوکر مدینہ جائے تو اسے قریش کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا اور اگر کوئی مسلمان مدینہ چھوڑ کر مکہ آجائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا

    ان میں تیسری شرط سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف اور کافروں کے حق میں ہے۔ حضرت عمر رض یہی خیال کر کے بے چین ہوگئے اور حضرت ابو بکر رض کے پاس جاکر کہنے لگے ۔ اے ابو بکر ! ہم اس طرح کیوں صلح کریں ؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے ہیں ٹھیک ہی کرتے ہیں اسی میں بہتری ہوگی

    جاری ہے ۔ ۔ ۔
     
  15. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اس جواب سے حضرت عمر رض کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے رسول پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ اس طرح گفتگو کی :

    حضرت عمر رض : یا رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں ؟

    حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : بے شک میں اللہ کا رسول ہوں

    حضرت عمر رض : کیا ہمارے دشمن اللہ کے شریک ٹہرانے والے نہیں ہیں ؟

    حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ضرور ہیں ۔

    حضرت عمر رض : پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کریں اور اس طرح دب کر کیوں صلح کریں ؟

    حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : میں اللہ کا پغمبر ہوں اور اللہ کے "حکم" کے خلاف نہیں کرتا ۔ ۔ ۔

    اب حضرت عمر رض خاموش ہوگئے اور جب صلح کا مہاہدہ لکھا گیا تو مسلمانوں کی طرف سے انہوں نے بھی اس پر دستخط کئے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  16. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    نوٹ : عرض کردوں کہ یہاں لائٹ بہت زیادہ جا رہی ہے اس لئے میں طویل تحریر پوسٹ کرنے سے گریز کر رہا ہوں مگر چونکہ کل کافی کچھ لکھا ہوا لائٹ کی وجہ سے ضایع ہوگیا اس لئے میں اس بار محتاط ہوں ۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے ایک قاری کو پڑھنے میں تسلسل کا ٹوٹنا محسوس ہو تو برائے مہربانی اس کو مجبوری سمجھ کر نظر انداز کر دیجیئے گا کیونکہ ابھی کم از کم 200 صضحات باقی ہیں جو مجھے پوسٹ کرنے ہیں‌

    شکریہ
     
  17. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے مدینے کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں سورہ فتح نازل ہوئی جس میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا، ہم نے تجھے کھلی فتح عطا فرمائی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رض کو بلاکر اللہ تعالی کا یہ ارشاد سنایا اور ساتھ ہی فرمایا، مجھ پر آج ایسی سورہ نازل ہوئی ہے جو مجھکو تمام دنیا سے زیادہ پیاری ہے

    تھوڑی ہی مدت بعد سب کو کو معلوم ہوگیا کہ حیدیبیہ کی صلح واقعی اسلام کی کھلی فتح تھی۔ صلح کے بعد خیبر کے یہودی اور مکہ کے کافر ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ پہلے یہ آپس میں مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ پھر کافروں اور مسلمانوں کا میل جول بڑھا اور کافروں نے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھا تو ان کے دل میں اسلام کی طرف کھنچنے لگے یوں عرب میں اسلام تیزی سے پھیلا۔

    حضرت عمر رض نے حدیبیہ میں جو گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی وہ نیک نیتی پر مبنی تھی پھربھی انہیں ساری عمر افسوس رہا کہ میں نے اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں اس طرح کے سوال جواب کئے اس کے بدلے انہوں نے بہت سے روزے رکھے۔ کئی غلام آزاد کئے اور بہت نفل نمازیں پڑھیں

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  18. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    ساتویں ہجری سال کے شروع میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
    نےتقریبا ڈیڑھ ہزار سحابہ رض کے ساتھ خیبر پر چڑہائی کی ان صحابہ رض میں حضرت عمر رض بھی شامل تھے۔ "خیبر" عرب میں یہودیوں کا گڑھ تھا۔ اور وہاں انہوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے۔ یہ لوگ ارد گرد کے قبیلوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اس لئے ضروری ہو گیاتھا کہ ان کی شرارتوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے دوسرے سب قلعے تو جلد ہی فتح ہوگئے لیکن "قموص" نام کا ایک قلعہ باقی تھا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
    کے حکم سے پہلے حضرت ابو بکر رض اور بعد میں حضرت عمر رض نے حملہ کیا مگر کامیابی نہ ہوسکی کیونکہ اللہ تعالی نے اس کی فتح حضرت علی رض کے ہاتھ لکھدی تھی۔ دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم
    نے حضرت علی رض کو بھیجا انہوں نے قموص کے حاکم مرحب کو قتل کرکے قلعہ فتح کر لیا۔مرحب کے مرتے ہی یہودیوں نے اطاعت قبول کرلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    نے خیبر کی زمین مسلمانوں میں بانٹ دی۔ حضرت عمر رض کو بھی زمین کا ایک زرخیز ٹکڑا ملا لیکن انہوں نے اسے اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔ اللہ راہ میں وقف کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس زمین کی آمدنی خود نہیں لینگے بلکہ اسے غریبوں، یتیموں، حاجت مندوں، مسافروں اور لوگوں کی بھلائی کےکاموں پر خرچ کیا جائے گا

    جاری ہے
     
  19. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    تربہ کی مہم


    شعبان 7 ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قبیلہ ہوازن کےکچھ لوگ تربہ کے مقام پر جمع ہیں اور قبیلہ غطفان کے ساتھ ملکر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کا ارادہ کر رہے ہیں تربہ مکہ کے جنوب مغرب میں چالیس پچاس میل دور ایک پہاڑی مقام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رض کو 30 سواردے کر ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ حضرت عمر رض طوفان کی طرح ان لوگوں کے سر پر جا پہنچے لیکن ان کو مقابلہ کی ہمت نہ پڑی اور وہ مسلمانوں‌ کو دیکھتے ہی بھاگ گئے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     
  20. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    عمرہ "ذیقعدہ 7 ہجری"

    حدیبیہ میں قریش سے جو صلح ہوئی تھی اس میں فیصلہ ہوا تھا کہ مسلمان اگلے سال تین دن کے لئے مکہ آ کر عمرہ کر سکیں گے چنانچہ ذیقعدہ 7 ہجری میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دو ہزار نفوس کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ روانہ ہوئے ۔ حضرت عمر رض بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ مسلمان مکہ پہنچے تو قریش شہر سے باہر نکل گئے اور مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش اور دلی خوشی کے ساتھ عمرہ ادا کیا۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی مہار حضرت عبداللہ رض بن رواحہ انصاری نے پکڑ رکھی تھی اور بڑے جوش سے اپنے کچھ شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمررض نے ان کو ٹوکا کہ تم اللہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو شعر پڑھتے ہو ؟

    رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے عمر میں سن رہا ہوں ، اللہ کی قسم ان کے شعر کافروں پر تیروں کا کام کرتے ہیں‌"

    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ رض بن رواحہ کو کچھ اور جملے بتائے اور فرمایا کہ ان کو پرھو ۔ انہوں نے وہ پڑھے تو دوسرے صحابہ نے بھی ان کی آواز کے ساتھ ملا کر یہ جملے پڑھے جس سے مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ شرط کے مطابق تین دن کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر مکہ سے واپس مدینہ روانہ ہوئے

    جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں