ان شاء اللہ کیسے لکھا جائے؟

راسخ نے 'تعلیمات' میں ‏جون 26, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. راسخ

    راسخ -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 27, 2007
    پیغامات:
    59
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    (ان شاء اللہ)
    محترمین ومکرمین
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    امید ہے سب خیریت وعافیت سے ہوں گے۔
    پہلے بندہ خود ( ان شاء اللہ) کو(انشاء اللہ) کی صورت میں لکھا کرتا تھا۔ لیکن جب سے معلوم ہوا کہ املائی طور پر ایسا لکھنا غلط ہے تو ایسا لکھنا چھوڑ دیا ۔
    در اصل (ان) کو ملاکر لکھنے سے معنی بدل جاتا ہے۔ انشاء کے معنی غالبا اردو میں ’’تحریر ‘‘ کرنے کے آتے ہیں۔ جو کہ مقصود نہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد (ان شاء اللہ) کہنے سے ( اگر اللہ نے چاہا ) ہوتا ہے۔
    اور عربی زبان میں (انشاء) کے معنی ( بلڈنگ بنانے) میں آتا ہے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل عربی مثال اور اس کا ترجمہ ملاحظہ ہو
    (1) انشانا مصنعًا للملابس۔ ہم نے کپڑے بنانے کی فیکٹری تعمیر کی۔
    ( 2) ھذا الانشاء جمیل۔ یہ بلڈنگ خوبصورت ہے۔ بلڈنگ کو ’’عمارہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    امید ہے آئندہ تمام احباب اس بات کا خیال رکھیں گے۔


    یہ تو (ان شاء اللہ) لکھنے کا علمی روپ تھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ (ان شاء اللہ ) کی کس طرح ہم انسان ’’درگت ‘‘ بناتے ہیں۔
    (1) ایک تو (ان شاء اللہ) وہ ہوتا ہے جو انسان کسی بات پر دل سے کہتا ہے کہ واقعتا (اگر اللہ نے چاہا) تو یہ کام ضرور ہوگا یا یہ کام ضرور کروں گا۔ ایسے لوگ خود دار اور با اعتماد ہوتے ہیں۔
    (2) دوسری قسم (ان شاء اللہ) کی وہ ہے جو ہم بالعموم کسی کو ’’ٹرخانے‘‘ کے لئےاس بابرکت لفظ کا سہارا لیتے ہیں۔ کئی دفعہ دوست احباب آپس میں کسی بات پر اتفاق کرنے کے بعد یہ کہتے ہیں۔ انداز تکلم سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کس قسم کا (ان شاء اللہ) بول رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی لا یعنی شخص یعنی جو خومخواہ تنگ کرنے کا عادی ہو اور ہمیں چکرانے کی حد پر اتر آئے تو اسے کہتے ہیں: ( ان شاء اللہ) (ان شاء اللہ) خدا نے چاہا تو ضرور بضرور کچھ ہوگا۔ پھر واقعتا اسباب مہیا کئے بغیر خدا پر ڈوری ڈال دی جاتی ہے۔ اور جس کے لئے کام کرنا ہو تو اسکو (ان شاء اللہ) ایک دفعہ سناکر خوشخبری کے انتظار کا کہا جاتا ہے۔
    (3) یہ ایک ایسا ( ان شاء اللہ) ہے جو غیر ارادی طور پر منہ سے نکل پڑتا ہے۔ اس کا مقصد اگلے کو رد کرنا نہ اس کا کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔ ایسے لوگ کہہ کر بھول جاتے ہیں بلکہ یاد ہی کہاں رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 9
    • متفق متفق x 1
  2. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,351
    بہت خوب ۔ اللہ تعالی ہمیں پہلی قسم کے لوگوں میں ہی رکھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    419
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. محمّد زاہد نعیم

    محمّد زاہد نعیم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 13, 2016
    پیغامات:
    3
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. شرجیل احمد

    شرجیل احمد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جون 19, 2017
    پیغامات:
    56
    ماشاءاللہ بہت اچھا بیان فرمایا۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں