‫تبلیغِ دین کی ذمہ داری - علماء پر یا عامی پر ؟

باذوق نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏نومبر 23, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    معروف داعی ڈاکٹر ذاکر نائک اپنی ایک کتاب
    Replies to the most common questions asked by non-muslims
    کی شروعات ہی میں لکھتے ہیں ‫:
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : کیا تبلیغِ دین کی ذمہ داری عام مسلمان کے ہاتھ میں دی جا سکتی ہے ؟ اگر ہاں تو پھر علمائے دین کی کیا ضرورت و اہمیت باقی رہ جائے گی ؟؟
    ایک عام مسلمان جب دین کے اہم عقائد و اصولوں کو جانے بغیر کسی تبلیغی مشن یا چِلے پر نکل پڑے تو کیا وہ دین کی خدمت کرے گا یا خود بھٹک کر دوسروں کو بھی بھٹکائے گا؟ یعنی : آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر ‫!

    شیخ ابوالوفاء محمد طارق عادل خان حفظہ اللہ نے اِس حقیقت کا ایک مختصر جائزہ اپنی ایک کتاب میں پیش فرمایا ہے جس کے اہم اقتباسات یہاں ملاحظہ فرمائیں ۔

    نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حجۃ الودع کے موقع پر خطبہ دیا اور پھر آخر میں فرمایا کہ ‫:
    [qh]فليبلغ الشاهد الغائب[/qh]
    اردو ترجمہ : اب جو یہاں موجود ہیں وہ ان تک بات پہنچادیں جو یہاں نہیں ہیں ۔
    ( صحیح بخاری ، کتاب الحج ، باب الخطبة ايام منى ، حدیث نمبر : 1766 )
    یہ حدیث بخاری ، مسلم ، ابن ماجہ ، مسند احمد اور دارمی وغیرہ میں مذکور ہے مگر کہیں بھی اس قسم کی کوئی صراحت موجود نہیں ہے کہ صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی تعمیل میں فوراً ہی پوری دنیا میں تبلیغ کے لئے پھیل گئے تھے ۔
    مزید برآں نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ الفاظ اس خطبہ میں کہے تھے جو ایام منیٰ کے دوارن یوم النحر کے دن آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیا تھا۔ اسی لئے امام بخاری(رحمہ اللہ) نے اس حدیث پر جو باب قائم کیاہے اسکا عنوان ہے ‫:
    الخطبۃ ایام منیٰ ، کتاب الحج
    اور سب جانتے ہیں کہ حج میں یوم النحر کے بعد کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ تین دن منیٰ میں قیام کرنا پڑتاہے چناچہ شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مع صحابہ کرام تین دن منیٰ میں قیام کیا تھا لہذا واعظین کا اس حدیث سے یہ استدلال غلط ہے کہ : صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی تعمیل میں فوراً ہی پوری دنیا میں تبلیغ کے لئے پھیل گئے تھے ۔
    صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) بخوبی جانتے تھے کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی اس ہدایت سے مراد اس دین کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے ۔
    تبلیغِ دین کے ضمن میں جو دوسری حدیث بڑے شد و مد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں ‫:
    [qh]ان النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏
    ’بلغوا عني ولو اية، وحدثوا عن بني اسرائيل ولا حرج، ومن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار‘[/qh]۔
    اردو ترجمہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : پہنچاؤ میری جانب سے خواہ ایک آیت ہی ہو اور روایت کرو یہودیوں سے اس میں کوئی حرج نہیں اور جس کسی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔
    ( صحیح بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب ما ذکرعن بنی اسرائیل ، حدیث نمبر : 3499 )

    اس حدیث کو بخاری کے علاوہ ترمذی ، مسند احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے اور محدثین نے اس پر جو ابواب قائم کئے ہیں ، وہ یا تو یہودیوں سے روایت بیان کرنے کی اجازت پر ہیں یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرنے پر جو وعید ہے اس پر موقوف ہیں ۔
    اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث تبلیغ کی اجازتِ عام پر نہیں بلکہ تبلیغ کی قیود پر مبنی ہے یعنی یہ حدیث تبلیغ کرنے والوں پر تین شرطیں عائد کرتی ہے ‫:

    اولاً : اس بات کا اطمینان کہ جو کچھ کہاجارہا ہے اس پر یہ یقین کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منقول ہے ۔
    ثانیاً : یہودیوں سے صرف ان روایات کو بیان کرنے کی اجازت جو دین اسلام کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے یعنی بیان کرنے والے کو دین کے بنیادی اصولوں کاعلم ہوناچاہیے
    ثالثاً : موضوع احادیث کوتبلیغ کی خاطر بیان کرنے سے مکمل پرہیز کرنا البتہ تردید کے مقصد سے کسی موضوع حدیث کو بیان کرنا پڑ جائے تو جائز ہوگا ۔
    مزید برآں اس حدیث میں ایک لفظ ’آیۃ‘ بھی ہے جو تشریح طلب ہے ۔
    کچھ مبلغین اس کا ترجمہ ’بات‘ کرتے ہیں یعنی ‫:
    ‫’ پہنچاؤ میری جانب سے خواہ ایک بات ہی ہو‘۔

    لیکن لفظ ’آیۃ‘ کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے ۔ لفظ ’آیۃ‘ کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر العسقلانی (رحمہ اللہ) صحیح بخاری کی اس حدیث کی شرح ’ فتح البار ی‘ میں لکھتے ہیں کہ ‫:
    [qh]الاية في اللغة تطلق على ثلاثة معان‏:‏ العلامة الفاصلة، والاعجوبة الحاصلة، والبلية النازلة‏ .
    فمن الاول قوله تعالى ‏:‏ ‏(‏ايتك الا تكلم الناس ثلاثة ايام الا رمزا‏)‏ ومن الثاني ‏(‏ان في ذلك لاية‏)‏ ومن الثالث جعل الامير فلانا اليوم اية‏ [/qh]۔


    اردو ترجمہ :
    لغت کے اعتبار سے لفظ ’آیۃ‘ کے تین معنی ہوتے ہیں ‫:
    اولاً : دوچیزوں یا حالتوں میں فرق کردینے والی علامت جیساکہ زکریاعلیہ السلام سے اﷲ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ : تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا بات نہیں کرسکو گے ۔۔۔ ( سورة آل عمران : 3 ، آیت : 41 )۔
    ثانیاً : حاصل ہونے والی کوئی عجیب چیز جیساکہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاکہ : اس میں نشانی ہے تمہارے لئے ۔۔۔ ( سورة البقرة : 2 ، آیت : 248 )۔
    ثالثاً : کسی پر نازل ہونے والی کوئی سزا یا مصیبت جیسا کہ کہاجائے کہ : آج امیر نے فلاں کو لوگوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا ۔


    یعنی آیۃ اس بات کو کہتے ہیں جو عام معمول سے ہٹ کر ہو ۔
    پس اس حدیث میں موجود حکم سے یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کو کوئی ایک حدیث بھی معلوم ہو تو وہ لوگوں کو پہنچانے نکل کھڑا ہو بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ علماء کو احادیث کے ذریعہ سے جب بھی کوئی ایسی بات معلوم ہو جو دین کے اعتبار سے بہت اہم اورغیرمعمولی نوعیت کی ہو تو اسے لوگوں تک ضرور پہنچائیں ۔
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم باذوق بھائي!
    میں آپ کی باتوں سے بالکل متفق ہوں۔۔۔اس لیے تو میں کہ رہا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب اپنی سوچ و منطق سے کام لیتے ہیں اور جو بات انہیں صحیح معلوم ہو وہ دین ہوجاتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے،
    ایک جگہ ڈاکٹر صاحب نے کہا جودعوت تبلیغ کا کام ہر مسلمان پر فرض ہے اگر وہ نہیں کرتا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اللہ اکبر
    اب مجھے یہ بتائيں کہ یہ جنت میں نہ جانے اور جہنم میں جانے کا فتوای انہوں نے کس حیثیت سے دیا؟
    ظاہر ہے ایک منطقی مقرر ہونے کے ناطے نہ کہ کسی عالم ہونے کے ناطے کیونکہ وہ عالم نہیں ہیں۔
    اللہ ہی انہیں ھدایت نصیب فرمائے۔ آمین
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں