علامہ ابن قیم رحمہ اﷲ کی دوکتابوں ۔کتاب الطبقات اور قصیدہ نونیہ

جاء الحق نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏جولائی 9, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    بسم اﷲالرحمن الرحیم
    السلام علیکم

    !نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم . اما بعد

    یہ چند سطور جو اہم مسائل سے متعلق ہیں میں نے علامہ ابن قیم رحمہ اﷲ کی دوکتابوں ۔کتاب الطبقات اور قصیدہ نونیہ سے اختصار کے ساتھ اخذ کیے ہیں ۔اس امید کے ساتھ کہ مسئلہ زیر بحث کی وضاحت بہتر طریقے سے ہوسکے ان شاء اﷲ۔
    [الفصل اوّل]
    جاہل کافر ہوں یا مقلدین کا طبقہ اور ان کے پیروکارسب کے پاس اپنے افعال واعمال کی ایک ہی دلیل ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو اس طرح کرتے پایا لہٰذا وہی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اہل اسلام کو بھی چھوڑ دیتے ہیںالبتہ یہ اہل اسلام سے جنگ نہیں کرتے جیسا کہ محاربین کی عورتیں ،ملازمین وغیرہ ہوتے ہیںکہ وہ اس کام کے لئے خود کو کمر بستہ نہیں کرتے جس کام کے لئے محاربین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں یعنی اسلام کو اﷲکے نور کو ختم کرنے کے لئے اس کے دین کو ڈھانے کے لئے اس کے کلمات کو نیچا دکھانے کے لئے یہ مقلدین اور جاہل کفار چوپایوں کی طرح ہیںان کے لیے مندرجہ ذیل اصول وقواعد ہیں۔
    (پہلا قاعدہ)
    ابن قیم رحمہ اﷲفرماتے ہیں۔امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس طبقے کے لوگ کافر ہیں اگرچہ جاہل ہوں اپنے سرداروں اور اماموں کے مقلدہوں۔البتہ کچھ اہل بدعت ایسے ہیں جو ان کو جہنمی نہیں سمجھتے اور انہیں ان لوگوں کی طرح قرار دیتے ہیں جن تک دعوت نہیں پہنچی یہ رائے اہل بدعت کی ہے مگرائمہ مسلمین ،صحابہ کرام رضی اﷲعنہم اجمعین، تابعین ،تبع تابعین رحمہم اﷲمیں سے کسی نے بھی یہ رائے نہیں اپنائی (سوائے چند اہل کلام کے جو اسلام میں نئے امور ایجاد کرتے رہتے ہیں) نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم سے بروایت صحیح منقول ہے فرماتے ہیں۔ترجمہ :'' جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے ماں باپ اسے یہودی ،نصرانی ،مجوسی بنادیتے ہیں ''۔اس حدیث میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ بتارہے ہیں کہ ماں باپ بچے کو فطرت سے یہودیت نصرانیت مجوسیت کی طرف پھیرتے ہیں اس تبدیلی میں ماں باپ کے علاوہ کسی اور کا اعتبار نہیں کیا گیا ہے یعنی ماں باپ جس مذہب پرہوتے ہیں بچے کو اسی پرچلائے رکھتے ہیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔''جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوگا''۔
    (دوسرا قاعدہ)
    اس طرح کا مقلد مسلمان نہیں ہے حالانکہ وہ عاقل مکلف ہے اور عاقل مکلف کو اسلام یا کفر سے نہیں نکلتا۔
    (تیسرا قاعدہ)
    جس کو انبیاء کی دعوت نہیں پہنچی وہ ایسی حالت میں مکلف نہیں ہے بلکہ اس کو بچوں اور پاگلوں پرقیاس کریں گے۔
    (چوتھاقاعدہ)
    اسلام نام ہے ایک اﷲکی عبادت اس کی توحید اپنانے کا اس کے ساتھ کسی قسم کے شرک نہ کرنے کااﷲپراس کے رسول پر ایمان لانے اور اس کی لائی ہوئی شریعت کی اتباع کرنے کا ۔جو شخص یہ امور بجانہیں لاتا وہ مسلمان نہیں ہے اگرچہ وہ اسلام سے عناد رکھنے والا کافر نہیں ہے البتہ جاہل کافر ہے ان لوگوں کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جاہل کافر ہیں اسلام سے عناد رکھنے والے نہیں ہیں مگر ان کا اسلام سے بغض وعناد نہ رکھنا انہیں کافر کہلانے سے نہیں روک سکتا اس لیے کہ کافر اس کو کہاجاتا ہے جو اﷲکی توحید کا انکار کرے اور اﷲکے رسول کو جھٹلائے چاہے یہ کام عناد کی وجہ سے کرے یا جہالت کی بناپرہویااسلام سے عناد رکھنے والوں کی تقلید کرکے ان امور کا ارتکاب کرے۔اگرچہ اس کا مقصد اسلام سے بغض وعناد نہ ہو مگر عناد رکھنے والوں کی اتباع کرتا ہے۔اﷲنے قرآن کے متعدد مقامات پر کافر اسلاف کی پیروی کرنے والوں کو عذاب دینے کا تذکرہ کیا ہے۔
    رَبَّنَا ھٰؤُلَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلِّ ضِعْف وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۔
    اے ہمارے رب انہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیاتو انہیں دوگنا عذاب دیدے اﷲفرمائے گا سب کے لئے دوگنا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں۔ (الاعراف:٣٨)
    وَاِذْ ےَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَےَقُوْلُ الضُّعَفَآئُ لِلَّذِ ےْنَ اسْتَکْبَرُوْا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبْعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِےْبًا مِّنَ النَّارِ ، قَالَ الَّذِ ےْنَ اسْتَکْبَرُوْا اِنَّا کُلّ فِےْھَآ اِنَّ اﷲَ قَدْ حَکَمَ بَےْنَ العِبَادِ۔ (المؤمن:٤٧ـ٤٨)
    جب وہ جہنم میں جھگڑرہے ہوں گے کمزور لوگ متکبرین کوکہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم ہم سے آگ کی عذاب کا کچھ حصہ ہٹاسکتے ہو ؟تکبر کرنے والے کہیں گے ہم سب اسی عذاب میں ہیں اﷲنے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے۔
    وَلَوْ تَرٰی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَرَبِّھِمْ ےَرْجِعُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ الْقَوْلَ ےَقُوْلُ الَّذِےْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِ ےْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِےْنَ ، قَالَ الَّذِ ےْنَ اسْتَکْبَرُوْا لِلَّذِ ےْنَ اسْتُضْعِفُوْا اَ نَحْنُ صَدَدْنَاکُمْ عَنِ الْھُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآئَ کُمْ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِےْنَ ، وَقَالَ الَّذِےْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِ ےْنَ اسْتَکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّےْلِ وَالنَّھَارِ اِذْ تَأْ مُرُوْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاﷲِ وَنَجْعَلَ لَہ اَنْدَادًا۔ (سبا:٣١ـ٣٣)
    اگر آپ دیکھیں جب ظالمین کو ان کے پاس کھڑاکردیاجائے گا تو ایک دوسرے پر بات ڈالیں گے کمزور لوگ متکبرین سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے توہم ضرورمؤمن ہوتے ۔متکبرین ان کمزوروں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ہدایت اپنانے سے روکا تھا جب وہ تمہارے پاس آگئی تھی ؟حالانکہ تم خود مجرم تھے ۔کمزور لوگ متکبرین سے کہیں گے کہ دن رات کامکر تھا جب تم ہمیں کہتے تھے کہ ہم اﷲکے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک بنائیں ۔
    یہ اﷲکی طرف سے خبر بھی ہے تنبیہ بھی ہے اور ڈراوا بھی کہ تابعداری کرنے والے اور جن کی تابعداری کی جائے گی وہ سب عذاب میں مبتلاہوں گے ان کی تقلید ان سے عذاب کم یاختم نہیں کرسکے گی (یعنی تقلید وجہالت عذر نہیں بن سکے گا)مزید صراحت اس آیت سے ہوجاتی ہے۔
    اِذْ تَبَرَّاَالَّذِ ےْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِ ےْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُالْعَذَابِ وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ ، وَقَالَ الَّذِےْنَ ا تَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّئُ وْا (مِنَّا۔ (البقرة:١٦٦
    جب وہ لوگ جن کی تابعداری کی گئی بیزار ہوجائیں گے تابعداری کرنے والوں سے اور ان کے ذرائع واسباب ختم ہوجائیں گے ۔تابعداری کرنے والے کہیں گے کاش کہ دنیا میں دوبا رہ جانا ممکن ہوتا توہم بھی ان سے ایسے بیزار ہوجائیں گے جس طرح یہ ہم سے ہوگئے۔
    اس کی تائید میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث بھی ہے فرماتے ہیں۔(ترجمہ)''جس نے گمراہی کی طرف دعوت دی اس پر اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا کہ( اس گمراہی میں )اس کی تابعداری کرنے والے پرہوگاجبکہ ان گناہوں میں سے کچھ کم نہ ہوگا۔ان دلائل سے ثابت ہواکہ تابعداری اور تقلید کرنے والوں کا کفر ان کی تقلید اور تابعداری کی وجہ سے تھا۔
    (پانچواں قاعدہ مقلدین کے بارے میں کچھ وضاحت)
    مقلدین کے بارے میں ایسی تفصیل بیان کی جارہی ہے جس سے تمام اشکالات کا خاتمہ ہوجائے گا تفصیل حسب ذیل ہے۔
    1ـ ایک وہ مقلد ہے جس کے لئے علم اور حق کی معلومات دونوں حاصل کرنا ممکن ہو اس کے باوجود وہ اس سے اعراض کرتا ہے تو یہ شخص ایسی ذمہ داری کو چھوڑ رہا ہے جو اس پر واجب ہے لہٰذا اس کے لئے اﷲکے ہاں کوئی عذر معذرت نہیں ہے۔
    2ـ دوسرامقلد وہ ہے جس کے لئے ایسا کرنا کسی بھی مجبوری کی وجہ سے ممکن نہیں ہے اس کی مزید دوقسمیں ہیں۔
    اـ وہ مقلد جو ہدایت کا طلب گار ہواس سے محبت کرتا ہومگر اس کے حصول کی قدرت واستطاعت نہیں رکھتا یا اس کی ر ہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ملتا تو ایسے مقلد کا حکم اس شخص کی طرح ہے (جن تک انبیاء کی دعوت نہیں پہنچ سکی )ایسا شخص دعاکرتا ہے کہ اے اﷲجس دین پر میں کاربند ہوں اگر اس سے بہتر دین مجھے مل جائے تو میں اسے اپنالوں گااور اپنا دین چھوڑ دوں گا لیکن میں اس دین کے علاوہ جس پر میںہوں کسی اور دین کو جانتا نہیں اورنہ ہی میں قدرت واستطاعت رکھتا ہوں کہ کہیں سے دین کی معلومات حاصل کرلوں میری محنت وکوشش کی انتہاء یہیں تک تھی کہ میں نے یہ دین حاصل کرلیا ہے جس پر میں ہوں ۔اس شخص کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس تک دین نہ پہنچ سکا ہواور وہ دین تلاش کررہا ہومگر اسے مل نہیں رہا لہٰذا وہ اسی پر قناعت کربیٹھا جو کچھ دین کے نام پراسے ملاتھا ۔
    ب۔ دوسرا مقلد وہ ہے جو اعراض کرنے والاہے نہ اس کی خواہش ہے دین کے تلاش کی اور نہ ہی اس کے دل میں ا س دین کے بارے میں کچھ خیال آتا ہے جس پر وہ عمل پیرا ہے بلکہ اس پر راضی ہے اس پرکسی اور دین کو ترجیح نہیں دیتا نہ ہی اس کا دل کسی دین کو تلاش کرتاہے ایسے شخص کی مجبوری واستطاعت دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس تک دین نہ پہنچا ہوں مگر دین کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ شرک کی حالت میں مرجاتا ہے اگریہ تلاش کرتا تو پھر بھی دین ملتا کہ تھا ہی نہیں مگر یہ معذور ومجبور شمار ہوتا ۔
    لہٰذا ان دونوں قسم کے افراد میں فرق ہے اگرچہ دونوں دین تک رسائی سے محروم ہیں مگر ایک تلاش وجستجومیں ناکام ہوا کوشش کی تھی تو ایسا شخص مجبور ہے دوسرے نے تلاش نہیں کی لہٰذا وہ معذور یا مجبور نہیںہے۔اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اپنے حکم اور عدل کے ذریعے سے اور صرف اسی کو عذاب کرے گا جس پر رسول مبعوث کرکے حجت قائم کی گئی ہوگی۔اور حجت تمام مخلوق پرقائم ہوچکی ہے (اس امت پر حجت قائم ہوچکی کیونکہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس امت کے لئے رسول بناکر بھیجا گیا ہے) البتہ کسی مجبور شخص یا جس تک دین نہ پہنچا ہوتو اس پرحجت قائم ہے یا نہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ اﷲاور اس کے ان بندوں کے درمیان ہے اس میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔
    (چھٹا قاعدہ)
    ہرمسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ جس نے بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیارکیا تووہ کافر ہے۔یہ بھی عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اﷲتعالیٰ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں کرتا جب تک رسول بھیج کر حجت قائم نہ کرے ۔معین اور غیر معین اﷲکے علم وحکمت کے حوالے ہے کہ انہیں ثواب دے یا عذاب کرے۔
    (ساتواں قاعدہ)
    جہاں تک دنیا میں کسی پر حکم یا فتوی لگانے کی بات ہے تو اس کا فیصلہ ظاہری امورپرہوگا لہٰذا کفار کے بچے اورمجنون بھی کافر شمار ہوں گے دنیا میں ان پر وہی حکم لگے گا جو ان کے ساتھی کفا رکا ہے اس وضاحت کے بعد مذکورہ مسئلے میں موجودہ اشکال زائل ہوجاتا ہے۔اس مسئلے کی تفصیل اور خلاصہ چاراصولوں پرمبنی ہیں۔

    اﷲتعا لیٰ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں کرتا جب ۱)
    تک اس پر حجت قائم نہ کردے جیسا کہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
    وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِےْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُولًا۔ (بنی اسرائیل:١٥)
    ہم اس وقت تک عذاب نہیں کرتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔
    دوسری جگہ ارشاد ہے۔
    رُسُلًا مُّبَشِّرِےْنَ وَمُنْذِرِےْنَ لِئَلَّا ےَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اﷲِ حُجَّة بَعْدَ (الرُّسُلِ۔ (النسائ:١٦٥
    رسول (بھیجے )خوشخبری دینے والے خبردار کرنے والے تاکہ لوگوں کے پاس اﷲکے خلاف حجت نہ ہو۔
    کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِےْھَا فَوْج سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ ےَاْتِکُمْ نَذِےْر ، قَالُوْا بَلٰی قَدْجَآئَ نَا نَذِےْر وَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اُﷲ مِنْ شَیْ ئٍ۔ (ملک:٩)
    جب اس (جہنم )میں ایک گروہ کو ڈالا جائے گا تو جہنم کاداروغہ ان سے پوچھے گا کیا تمہارے پاس خبردار کرنے والے نہیں آئے تھے؟یہ کہیں گے آئے تھے مگر ہم نے ان سے کہا تھا کہ تم پر اﷲ نے کچھ نازل نہیں کیا ہے۔
    (فَاعْتَرَفُوْْا بِذَنْبِھِمْ فَسُحْقًا لِاَصْحَابِ السَّعِےْرِ۔ (ملک:١٠
    وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیں گے بربادی ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے۔
    ےَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ ےَاتِکُمْ رُسُل مِّنْکُمْ ےَقُصُّوْنَ عَلَےْکُمْ اٰےٰاتِیْ وَےُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ ےَوْمِکُمْ ھٰذَا قَالُوْا شَھِدْنَا عَلٰی اَنْفُسِنَا وَغَرَّتْھُمُ الْحَےَاةُ الدُّنْےَا وَشَھِدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کَافِرِےْنَ۔ ( (الانعام:١٣٠
    اے جن اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے کہ وہ تم پر میری آیا ت پڑھتے اور تمہیں اس دن کی ملاقات کے بارے میںآگاہ کرتے ؟وہ کہیں گے ہم خو د پرگواہی دیتے ہیں اور انہیں دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے وہ خود پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔
    (وَمَا ظَلَمْنَاھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا ھُمُ الظَّالِمِےْنَ ۔ (الزخرف:٧٦
    ہم نے ان پر ظلم نہیںکیا مگر وہ خود ظالم تھے ۔
    ظالم اس کو کہتے ہیں جو رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے واقف ہویا اس سے واقفیت کی کسی طرح بھی استطاعت رکھتا ہواور جو شخص رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت سے واقف نہ ہو اور نہ ہی واقفیت حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہوتو اسے ظالم کیسے کہا جاسکتا ہے؟اس طرح کی آیات قرآن میں کافی تعداد میں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کو عذاب کیا جائے گا جس کے پاس رسول آچکا ہے اس پر حجت قائم ہوچکی ہے (جس طرح اس امت پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آچکے ہیں)یعنی وہ شخص جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے۔
    [دوسرا اصول]
    عذاب دووجہ سے ہوتا ہے ۔

    ۱)حجت سے اعراض کرنا اس کے حصول کا ارادہ نہ کرنا اس پر اور اس کے تقاضوں پرعمل کی نیت نہ کرنا یہ کفر اعراض ہے۔
    ۲)حجت سے بغض وعناد رکھنا جب وہ قائم ہوچکی ہواور ا س کے تقاضو ں کے مطابق عمل نہ کرنے کا ارادہ کرنا یہ کفر عناد ہے۔
    کفرجہل یہ ہے کہ حجت قائم نہیں ہوئی اور نہ ہی حجت کی معرفت کی استطاعت ہے ایسے شخص سے اﷲنے عذاب کی نفی کی ہے جب تک اس پر رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کی حجت قائم نہ ہوجائے۔
    [تیسرا اصول]

    قیام حجت زمان ومکان کے لحاظ سے مختلف ہوتی رہتی ہے اور اشخاص کے لحاظ سے بھی اس میں اختلاف ہوتا ہے کفار پر بعض وقت حجت قائم ہوتی ہے اور بعض اوقات میں نہیں ہوتی ۔ایک علاقے میں قائم ہوتی ہے دوسرے میں نہیں ہوتی جیسا کہ ایک شخص پرقائم ہوتی ہے دوسرے میں نہیں ہو تی اس لیے کہ یا تو اس شخص میں عقل نہیں ہو تی جیساکہ بچہ اوردیوانہ ۔یا سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ حکم کو سمجھ نہیں پاتانہ ہی کوئی ایسا ترجمان ہوتا ہے جو اسے سمجھا سکے ایسے شخص کوبہروں میں شمار کیا جائے گا جو کچھ سن نہیں سکتے اور نہ سن سکنے کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتے سمجھنے کی کوئی صورت بھی نہیںہوتی ۔یہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو قیامت کے دن اﷲ کے سامنے اپنی بے گناہی کی دلیل پیش کرسکیں گے۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. جاء الحق

    جاء الحق -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2007
    پیغامات:
    90
    [چوتھا اصول]
    اﷲکے جتنے افعال ہیں وہ اس کی حکمت کے تابع ہیں اور اس کی حکمت ایسی ہے کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے کسی فعل میں کوئی خلل پیدانہیں ہوتا یہی حکمتیں اپنے قابل تعریف مقاصد کی وجہ سے مقصود ہوتی ہیںتمام طبقات میں یہی بنیادی اصول اور قاعدہ ہے سوائے چند لوگوں کے کہ ان کی کتب میں اور کچھ گروہ ہیں کہ ان کے ہاں کچھ دیگر اقوال ہیں اﷲ انہیں سیدھے (راستے کی طرف ہدایت فرمائے ۔(طریق الہجرتین۔ابن قیم
    سوال: اگر کوئی شخص اعتراض کرے کہ یہ قواعد واصول توکافروں کے بارے میں ہیں آپ انہیں اہل قبلہ پرکیسے لاگو کرتے ہیں؟
    جواب:جو بھی کافروں جیسا فعل وعمل کرے گا اسے انہی کے ساتھ ملایا جائے گا مزید تفصیل کے لیے کشف الشبہات ملاحظہ فرمائیں جس میں محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ نے اس سوال کا تسلی بخش جواب دیا ہے اور اس غلط فہمی کا مکمل ازالہ کیا ہے۔اسی طرح کتاب الحقائق فی التوحیدمیں بھی وضاحت کی گئی ہے جہاں باب باندھا گیا ہے کہ کافروں یہودیوں اور عیسائیوں جیسا عمل کرنے والے انہی میں شمار ہوں گے ۔
    اﷲتعالیٰ کافرمان ہے۔
    وَاِنْ اَقِمْ وَجْْھَکَ لِلدِّےْنِ حَنِےْفًا وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِےْنَ۔ ((یونس:١٠٥
    آپ اپنے آپ کو یکطرفہ دین پرقائم رکھو اور مشرکوں میں سے کبھی نہ ہونا ۔
    ارشاد ہے۔
    (وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِ ےْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَھُمْ لَاےَسْمَعُوْنَ. (الانفال:٢١
    ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو کہتے ہیں ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے ۔
    فرمان ہے۔
    وَمَنْ ےَّتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْھُمْ۔
    (المائدة٥١)
    تم میں سے جو بھی ان (کفار )سے دوستی کرے گاوہ انہی میں سے ہوگا۔
    ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے ۔
    (من تشبہ بقوم فھو منھم۔ (ابوداؤد
    جس نے کسی قوم کی شباہت اختیار کرلی وہ انہی میں سے ہے۔
    ابوسعید رضی اﷲعنہ سے روایت ہے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    (لتتبعن سنن من کان قبلکم ، فذکر الیھود والنصاری. (متفق علیہ
    تم ضرورتابعداری کروگے اپنے سے پہلے لوگوں کی یہود ونصاری کا آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے نام لیا۔
    جو لوگ ان آیا ت کو ان لوگوں کے ساتھ خاص کرتے ہیں جن کی وجہ سے وہ نازل ہوئی ہیں اور ان کی طرح کے اور لوگوں کو ان آیات کے ضمن میں شامل نہیں سمجھتے ان کے بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اﷲفرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ یہ بھی کہیں کہ ظہار کی آیت کا حکم صرف اوس بن صامت رضی اﷲعنہ کے لئے ہے ۔لعان کی آیت صرف عاصم بن عدی رضی اﷲ عنہ کے لئے ہے ۔کفا رکی مذمت کی آیتیں صرف کفار قریش کی مذمت میں ہیں ۔حالانکہ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا۔(الفتاوی ١٦/١٤٨)۔
    ابابطین رحمہ اﷲفرماتے ہیں ۔جو لوگ کہتے ہیں کہ مشرکین اولین کے بارے میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وہ صرف انہی کے لئے ہیں اگر کوئی اور ان جیسا عمل کرے تو یہ آیات اس کے لئے نہیں ہے ۔ایسا کہنا کفر عظیم ہے۔فرماتے ہیں(اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے )توپھر لازم آتاہے کہ قرآن وسنت میں جن حدود کا ذکر ہے وہ صرف انہی لوگوں کے لیے تھیں جن کے بارے میں نازل ہوئیں اور وہ لوگ اب مرچکے ہیں لہٰذا اب کسی زانی پر حد نہیں لگے گی اور نہ ہی کسی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گااس طرح قرآن کاحکم باطل (ہوجائے گا۔(الدرر١٠/٤١٨
    [فصل ثانی :اہل بدعت کے بارے میں ]
    ہم یہاں ابن قیم رحمہ اﷲکے قصیدہ نونیہ سے کچھ اشعار نقل کررہے ہیں جو ان اہل بدعت کے حکم سے متعلق ہیں جو غلو کرنے والے نہ ہوں اس لیے کہ غلو کرنے والوں کا حکم کچھ اور ہے یعنی ان غلو کرنے والوں پر مطلقاً کفر کا فتوی لگتا ہے اس میں مزید کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ ابن قیم رحمہ اﷲنے توتمام اہل بدعت کی بات کی ہے چاہے وہ غلو کرنے والے ہوں یا نہ ہوں ؟تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ ابن قیم کا کلام جو مختلف مواقع ومقامات پرکہا گیا ہے اس کویکجا کرکے دیکھنا چاہیے تب ان کا مقصد سمجھ میں آئے گا کہ کیا ان کا کلام عام ہے یا مقید ہے ؟مقید کلام قصیدہ نونیہ کے بجائے مدارج السالکین میں ہے جہاں وہ کہتے ہیںاعتقادی فسق ان اہل بدعت کے فسق کی طرح ہے جو اﷲاور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پرایمان لاتے ہیں(یعنی توحید کو اپنائے رکھتے ہیں)آخرت پر ایمان ہے اﷲ کے حرام کردہ کو حرام سمجھتے ہیںاس کے فرض کردہ کو فرض جانتے ہیں مگربہت سی ایسی باتوں کی نفی کرتے ہیں جنہیں اﷲاور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ثابت کیا ہے یہ کا م یا توجہالت کی وجہ سے کرتے ہیں یا تاویل کرکے یا تقلید کی بنا پر۔ اور وہ باتیں ثابت کرتے ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ثابت نہیں کی ہیںیہ لوگ خوارج ہیں جواسلام سے نکل چکے ہیںاور بہت سے روافض قدریہ ،معتزلہ اوربہت سے جہمیہ جو تجہم میں غلو نہیں کرتے جہاں تک غلو کرنے والے جہمیہ کی بات ہے تو وہ بھی غالی روافض کی طرح ہیں ان دونوں گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اسی لیے سلف کی ایک جماعت نے انہیں بہتر (٧٢)فرقوں سے خار ج قرار دیا ہے۔اب ہم ابن قیم رحمہ اﷲ کے وہ اشعار نقل کرتے ہیں جن میں ان اہل بدعت کا حکم مذکور ہے جو غلو کرنے والے نہیںہیں۔
    ترجمہ:ہم اﷲکا خوف کرتے ہوئے عادلانہ حکم لگاتے ہیں ہمارے نزدیک ان کی دوقسمیں ہیں ۔جہالت والے اور عناد کرنے والے یہ دوقسمیں ہوگئیں ۔یہ دونوں اگرچہ بدعت میں ایک ہیں مگر ان میں سے عناد کرنے والے کافر ہیں اور جو جاہل ہیں ان کی پھر دوقسمیں ہیں ایک تو وہ ہیں کہ جو علم اور ہدایت حاصل کرنے کے اسباب واستطاعت رکھتے ہیں لیکن جاہلوں کے علاقے اورملک میں ہمیشہ سے رہ رہے ہیں اور اندھوں کی طرح تقلید کو آسان سمجھ لیا ہے ۔حق کی تلاش میں کوشش نہیں کرتے اس کوشش نہ کرنے کو معمولی (گناہ)سمجھتے ہیں۔ان کے فسق میں کوئی شک نہیں ہے مگر کافر کہنے میں دواقوال ہیں البتہ میں ان کے بارے میں توقف کرتا ہوں نہ انہیںکافر کہتا ہوں نہ مؤمن ۔ان کے دل میں کیا ہے(نفرت یا محبت ہمارے لئے ) یہ تو اﷲجانتا ہے ہمیں چاہیے کہ ان سے اچھاتعلق رکھیں ۔یہ اﷲکے عذاب کے مستحق ہوں گے لازمی ہوں گے کہ یہ سرکش اور باغی ہیں جہالت کا عذر تو ہوتا ہے مگر ظلم وزیادتی کا عذر نہیں ہوتا رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین اور قول میں عیب نکالنا اور جھوٹی گواہی اوربہتان تراشی میں (عذر نہیں ہوتا)۔دوسرے قسم کے وہ ہیں جو حق تک رسائی نہیں رکھتے باوجود ارادے اور اﷲورسول پر ایمان کے ۔ان کی بھی دوقسمیں بنتی ہیں ۔ایک تو وہ کہ ان کا حسن ظن اپنے شیوخ کے بارے میں ۔اور چونکہ انہیں شیوخ کے اقوال کے اور کچھ ملابھی نہیں لہٰذا یہ ہدایت کی قدرت نہیں رکھتے ۔اگر یہ لوگ ظلم نہ کریں تو ان کایہ عذر قبول ہے۔البتہ جہل اور سرکشی کی بنا پر کافر کہلائیں گے ۔دوسرے جو ہیں وہ حق کی تلاش میں ہیں مگرحق کے حصول میں دوچیزیں ان کے لئے رکاوٹ ہیں ۔
    حق کو ایسی جگہ تلاش کرنا جہاں وہ ہے نہیں ۔.1
    ایسے راستے کو اختیار کرناجو حق اورایمان تک پہنچانے والانہیںہے ۔
    لہٰذا یہ دونوں باتیں ان پر اس طرح مشتبہ ہوگئی ہیں جس طرح کوئی راہ گم کردہ مسافر ہوتا ہے ۔ان میں جو بہترین لوگ ہوتے ہیںوہ بھی حیرت کے میدانوں میں یہ کہتے ہوئے گھومتے رہتے ہیں کہ ہمیں صحیح اور سیدھا راستہ نہیں مل رہا اس لیے کہ راستے بہت سارے ہیں ،ایسے لوگوں کے بارے میں توقف کرنا چاہیے کہ یہ اﷲاس کے دین ،کتاب ،رسول اور قیامت کے دن اٹھائے جانے اﷲسے ملاقات کرنے میں شک نہیں کرتے ۔ان کے گناہ گار ہونے یا اجر سے نوازے جانے کا معاملہ اﷲپرچھوڑا جانا چاہیے کہ وہ وسیع مغفرت والا ہے ۔ان کے بارے میں ہمارا فیصلہ دیکھ لو حالانکہ یہ نصوص کا اور قرآن کے تقاضوں کا انکار کرچکے ہیں ۔کافر قرار دینا اﷲاور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا حق ہے کہ وہ شریعت بنانے کے مجاز ہیں کسی کے کہنے سے کوئی کافر نہیں بن جاتا ۔جس کو اﷲاور اس کے بندے (رسول صلی اﷲ علیہ وسلم )نے کافر کہا ہوتووہی کافر ہے۔شیخ احمد بن ابراہیم بن عیسی رحمہ اﷲابن قیم رحمہ اﷲ کے ان اشعارکی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل جہل وتعطیل کی دوقسمیں ہیں۔
    ۱)وہ لوگ جو عناد وبغض والے ہیں ایسے لوگوں پر کفرکا حکم لگایا جائے گا جیسا کہ ابن قیم رحمہ اﷲکے اس قول سے ثابت ہے ۔عناد اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے منقول شریعت کو رد کردینے کے علاوہ کفر نہیںہے۔
    ۲)دوسری قسم ہے جاہل لوگوں کی ۔ان کی پھر دوقسمیں بنتی ہیں ۔
    ۱)جو علم اور ہدایت حاصل کرنے کی قوت واستطاعت رکھتے ہیں اس لیے کہ انہیں اس کے اسباب وذرائع میسر ہیں ۔مگر یہ پھر بھی تقلید وجہالت کی طرف مائل ہوگئے ہیں۔
    ۲)دوسری قسم ان جاہلوں یا ناواقفوں کی ہے جو حق تک رسائی سے عاجز ہیںباوجودیکہ وہ اﷲ،رسول اور اﷲکی ملاقات پر ایمان کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔یہ عاجز لوگ بھی دوقسم کے ہیں۔
    پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں کہ انہوں نے اپنے شیوخ اور ان کے خیال کے مطابق دیانتدار لوگوں کی باتوں کے بارے میں حسن ظن رکھا ان کے اقوال کے علاوہ انہیں کچھ بھی نہیں ملاتو یہ انہی پر راضی ہو گئے ۔
    ان عاجز لوگوں میں سے دوسری قسم ان لوگوں کی ہے انہوں نے حق کو تلا ش کیا مگر اس تک اس لئے نہ پہنچ سکے کہ انہوں نے غلط راستہ اختیا ر کیاکہ جو حق تک نہیں پہنچا سکتا تھالہٰذا صحیح راستے کی تلاش میں یہ ایسے الجھ گئے کہ حیران وسرگرداں رہے ۔
    اﷲسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
    وصلی اﷲ علی نبینا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں