کیا نبی نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟؟

فتاة القرآن نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اپریل 11, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    کیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنےرب کودیکھا ہے
    کیانبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےجس دن جنت اورجہنم کودیکھااپنے رب کوبغیرکسی پردہ کےدیکھا ؟
    اگرجواب ہاں میں ہوتومیں آپ سےگزارش ہےکہ آپ کتاب وسنت سےاس کی دلیل ارسال فرمائیں ۔



    الحمدللہ

    اکثرصحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم کایہ مسلک ہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اللہ تعالی کوبعینہ نہیں دیکھا ۔


    عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سےیہ ثابت ہےان کابیان ہے : آپ کواگرکوئی یہ حدیث بیان کرےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودیکھاہےتووہ جھوٹاہےاوراللہ تعالی کاتویہ فرمان ہے
    { اسےآنکھیں نہیں پاسکتیں ۔۔۔۔۔}
    صحیح بخاری ( التوحیدحدیث نمبر 6832)

    اورابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکیاآپ نےاپنےرب کودیکھاہےتوانہوں نےفرمایا : نورکومیں کیسےدیکھ سکتاہوں ۔
    صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر (261)

    اورابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ { دل نےجھوٹ نہیں کہاجسے (پیغمبرنے) دیکھااسےتوایک مرتبہ اوربھی دیکھا } ابن عباس فرماتےہیں کہ اسےآپ نے دومرتبہ دل کےساتھ دیکھا ۔صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر (258)

    ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں کہ :

    عثمان بن سعیدالدارمی نےاپنی کتاب الرؤیہ میں صحابہ اکرام کااجماع بیان کیاہےکہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمعراج کی رات اپنےرب کونہیں دیکھا ، اوربعض نےابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکواس سےمستثناکیا ہے ۔

    ہمارےشیخ کاکہناہےکہ اس میں حقیقتاکوئی اختلاف نہیں کیونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم نےیہ نہیں کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے ۔

    امام احمدرحمہ اللہ تعالی نےایک روایت میں اسی پراعتمادکرتےہوئے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ عزوجل کودیکھاہےلیکن یہ نہیں کہاکہ آنکھوں سےدیکھاہے اورامام احمدرحمہ اللہ تعالی کےالفاظ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکےہی الفاظ ہیں ۔

    ہمارےشیخ کاقول صحیح ہونےکی دلیل ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری حدیث کا مسنی ہےجس میں یہ ہےکہ اس کاحجاب نور ہےاوریہ نور اللہ ہی جانتا ہےکہ وہی نور ہےجو کہ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں مذکورہےکہ میں نےنور دیکھا ۔

    دیکھیں کتاب : اجتماع الجیوش الاسلامیۃ جلدنمبر۔(1۔صفحہ نمبر ۔12)

    اورشیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے :

    فصل : اور رؤیت کےمسئلہ میں بخاری میں جوابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ثابت ہےکہ انہوں نےکہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کودومرتبہ دل سےدیکھاہے اورعائشہ رضی اللہ تعالی عنہمانےرؤیت کاانکارکیاہےتوکچھ لوگوں نےان دونوں کےدرمیان جمع کرتےہوئےکہاہےکہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاآنکھوں کی رؤیت کاانکارکرتیں ہیں اورابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانےرؤیت قلبی کوثابت کیاہے ۔

    تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سےثابت شدہ الفاظ مطلق ہیں اور یا پھر مقید ہیں کبھی تووہ یہ کہتےہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کو دیکھا اور کبھی کہتےہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےدیکھا ۔

    تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسےصریح الفاظ ثابت نہیں جن میں یہ ملتا ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےرب کواپنی آنکھوں سےدیکھاہے ، اورایسےہی امام احمدرحمہ اللہ تعالی بھی کبھی مطلق رؤیت ذ کرکرتےہیں اورکبھی یہ کہتےہیں کہ اپنےدل کےساتھ دیکھااورکوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اس نےامام احمدرحمہ اللہ تعالی سےیہ سناہوکہ انہوں نے یہ کہاہونبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے ۔

    لیکن کچھ لوگوں نےان سےیہ مطلق کلام سنی اوراس سےآنکھوں کی رؤیت سمجھ لی جس طرح کہ بعض لوگوں نےابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی مطلق کلام سن کرآنکھوں کی رؤ یت سمجھ لی ۔


    تودلائل میں کوئی ایسی دلیل نہیں رؤیت عین کاتقاضا کرتی ہواورنہ ہی یہ ثابت ہےجیساکہ صحیح مسلم میں ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سےحدیث مروی ہےوہ بیان کرتےہیں کہ میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھاکیاآپ نےاپنےرب کودیکھاہےتوانہوں نےفرمایا : نورکومیں کیسےدیکھ سکتاہوں ۔

    اوراللہ تبارک وتعالی نےتویہ فرمایاہے :

    { پاک ہےوہ اللہ تعالی جواپنےبندےکورات ہی رات میں مسجدحرام سےمسجداقصی تک لےگیاجس کےآس پاس ہم برکت دے رکھی ہےاس لئےکہ ہم اسےاپنی قدرت کےبعض نمونےدکھائیں }
    ۔

    تو اگراللہ تعالی نےبعینہ اپنےآپ کو دکھایا ہوتات واس کاذ کر بطریق اولی ہوتااوراسی طرح اللہ تبارک وتعالی کایہ فرمان بھی ہے :

    { کیاتم جھگڑاکرتےہواس پرجو ( پیغمبر ) دیکھتےہیں اسےتوایک مرتبہ اوربھی دیکھاتھا سدرۃ المنتہی کےپاس اسی کےپاس جنتہ الماوی ہےجب کہ سدرہ کو چھپائےلیتی تھی وہ چیز جو اس پرچھارہی تھی نہ تونگاہ بہکی اورنہ حدسےبڑھی یقینا اس نےاپنےرب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سےبعض نشانیاں دیکھ لیں }۔

    تواگرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبعینہ دیکھا ہوتا اس کاذ کر بطریقہ اولی ہوتا ۔

    توشیخ الاسلام کہتےہیں کہ : اورصحیح نصوص اورسلف کےاتفاق سےبات ثابت ہے کہ دنیامیں اللہ تعالی کواپنی آنکھوں سےکو‏ئي بھی نہیں دیکھ سکتا مگریہ کہ جس میں ان کا جھگڑاہےکہ آیانبی صلی اللہ علیہ وسلم نےدیکھاہےکہ نہیں اس خاص مسئلہ میں اختلاف ہے۔

    اوراس پراتفاق ہےکہ قیامت کےدن مومن اللہ تعالی کوواضح طورپردیکھیں گےجس طرح کہ وہ سورج اورچاندکودیکھتےہیں ۔



    مجموع الفتاوی جلدنمبر ۔( 6 ۔صفحہ نمبر ۔51 ۔ 50)




    یھاں میں اپنے علم کے مطابق یہ جواب دینا چا ہوں گی
    اس سوال کے جواب کے لیے ہمارے لئے ایک ہی آیت کافی ہے


    ناممکن ہے کہ کسی بشر سے اللہ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو چاہے وحی کرے ، بے شک وہ برتر ہے حکمت والا
    (سورہ الشوری51)
     
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    نایس انفرمیشن
    جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔
    سیاق و سباق سے اور حوالہ جات سے تو آپکی بات مان لینے یعنی میں کوئی حرج محسوس نہیں‌ہوتا۔۔۔واللہ اعلم
    اللہ ہمیں دین کا فہم و شعور عطا فرما۔۔۔آمین
     
  3. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    پرانے جھگڑے اٹھانے سے کیافائدہ بھائی۔یہ تنازع توعہدہ صحابہ سے چلاآرہاہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رویت باری تعالی کاانکار کرتی ہیں جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ رویت باری تعالی کااثبات کرتے ہیں۔ کسی ایک کابھی دامن پکڑ لیجئے ۔بایھم اقتدیتم اھتدیم صحابہ میں سے جس کسی کی بھی پیروی کروے راہ راست پاجائوگے۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    اس میں ہمیں تنازع میں پڑنے سے کیا ملے گا؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ سبحانہ و تعالٰی کو دیکھنے یا نہ دیکھنے سے ہماری فضیلت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ یا نعوذ باللہ، افضل البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اس امر کے بغیر ادھوری ہے؟

    یقیناً نہیں، تو اس طرح کی بے کار بحث میں پڑنے سے بچنے کے لیے کیا اتنا مان لینا کافی نہیں کہ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابنِ عباس کی روایت متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کی روایت میں اضافہ ہیں!
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بھائی ! ذرا مہربانی فرما کر حوالہ تو دیں کہ قرآن و حدیث میں یہ بات کہاں‌ لکھی ہوئی ہے؟
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    السلام علیکم !
    اس کے علاوہ اور آپ کیا کہ سکتے ہین ۔۔ کیونکہ اکابرین دیوبند بھی یہی کہتے ہیں کہ '' اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر اللہ کا دیدار کیا '' جبکہ یہ قرآن اور احادیث کے مخالف ہے ۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ میں کوئی تنازع نہیں ۔۔۔ ساری بات فہم کی ہے ۔۔
    واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات
     
  7. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    ماشآاللہ فتاتہ بھن کافی عالمانہ بحث کرتی ھے اللہ علم وعمل میں برکت دے تمام دوستوں کو سلام
     
  8. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    پلیز مجھے ذرا بتایاجائے کہ باذوق بھائی نے حضرت عائشہ اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی واقعہ معراج کے سلسلہ میں توضیح کرتے لاہور اورپنچاب کی مثال دی ہے وہ کہاں ہے۔
     
  9. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بھائی ! مراسلہ پوسٹ کرنے سے قبل ذرا پروف ریڈ بھی کر لیا کریں تو دوسروں پر بلا ثبوت کوئی الزام لگانے سے آپ بچ جائیں گے۔
    ذرا میری اُس پوسٹ کا لنک تو دیں جہاں بقول آپ کے :
    میں‌ نے واقعہ معراج کے سلسلہ میں توضیح کرتے لاہور اورپنچاب کی مثال دی ہے ؟؟؟
     
  10. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    بھائی اسی لئے تومیں نے وہ پوسٹ دیکھنے چاہاہے تاکہ اس کے بعد کچھ لکھ سکوں۔ جہاں تک مجھے خیال ہے کہ آپ نے کہاہے کہ حضرت ابن عباس کے رویت سے مراد رویت قلبی ہے اوریہ حضرت عائشہ کی روایت کے منافی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی کہے کہ میں پنچاب گیاتواس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ لاہور نہیں گیا تاوقتیکہ وہ کوئی ایسی تصریح نہ کردے کہ میں لاہور نہیں گیا
     
  11. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    بھائی ! جہاں تک مجھے یاد ہے مجلس پر میری کوئی ایسی پوسٹ نہیں ہے جس میں حضرت ابن عباس کے رویت سے کسی قسم کی کوئی تصریح کی ہو اور لاہور / پنجاب کے حوالے دئے ہوں۔
    آپ نے کہاں دیکھ لی ہے میری کوئی ایسی پوسٹ ؟؟
     
  12. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    توپھرہوسکتاہے کہ مجھ کو ہی غلط فہمی ہوئی ہو معذرت کاخواستگارہوں اس تکلیف کیلئے
     
  13. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    جہاں تک مجھے یاد ہے، ایسی چيز میں نے بھی پڑھی تھی، مگر کس نے لکھی تھی اور کہاں لکھی تھی وہ یاد نہیں آرہا۔
    شاید باذوق نے لکھی ہو یا شاید کسی اور نے۔ واللہ اعلم
    مگر یہ حقیقیت ہے کہ یہ چيز میں نے پڑھی ضرور تھی-
    والسلام علیکم
     
  14. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
  15. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    نہیں رفی بھائی وہاں بھی دیکھ لیا ایسی کوئی بحث وہاں نہیں ہے۔ لیکن پڑھنا ضروریاد ہے۔
     
  16. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    جی رفی بھائی باکل یہ ہی تھریڈ ہے جہاں میں نے یہ چيز پڑھی ہے-
    جمشید بھائی یہ اوپر والا جملہ باذوق بھائی نے ہی لکھا ہے مگر اس تھریڈ میں نہیں بلکہ رفی بھائی کے دیے گئے تھریڈ میں لکھا ہے، آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
    کوئی بات نہیں بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ :00003:
    والسلام علیکم
     
  17. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    کیوں باذوق بھائی اب کیاکہیں گے آپ
     
  18. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جمشید بھائی ذرا میرے دیئے گئے ربط پر موجود تھریڈ کو غور سے پڑھیئے، اس میں اصولِ تفسیر پر بحث کی گئی ہے نہ کہ واقعہ معراج یا کسی اور موضوع پر۔ بہر حال آپ کو حق ہے اعتراض جڑنے کا سو جڑیئے! اور اس کا جواب تو باذوق بھائی ہی دیں گے۔
     
  19. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    جمشید بھائی! باذوق بھائی نے درست کہا کہ اس نے ایسا کوئی بھی جملہ یہاں نہیں لکھا۔
    تو یہ صحیح ہے کہ اس تھریڈ میں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ کسی اور تھریڈ میں مگر آپ نے اسی تھریڈ کے بارے میں یہ بات کی تھی۔
    ویسے بھی ان چھوٹی چھوٹی او فضول باتوں میں پڑ کر ہم اسلام کے بارے میں علم نہیں حاصل کرسکتے۔
    امید کرتا ہوں کہ آپ اس بات کو ادھر ہی رہنے دیں اور علمی طریقے سے آگے بڑھیں گے۔ ان شا ءاللہ
    والسلام علیکم
     
  20. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    میں باذوق بھائی سے یہ سوال کرنا چاہتاہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ کاانکار مطلقآ ثابت ہے اورقاعدہ ہے کہ جب کوئی بات مطلق ذکرکی جائے تو وہ اپنے اطلاق پر ہوتی ہے۔اس کیلئے اصول فقہ کی کوئی بھی کتاب دیکھی جاسکتی ہے۔
    دوسرے کیا حضرت ابن عباس کی روایت میں رویت قلبی کا ذکرہے یادونوں روایتوں کے مابین تطبیق کیلئے تاویل کی گئی ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں