جب جہنم کہیے گی ھل من مزید تو؟؟

فتاة القرآن نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اپریل 15, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    پیغامات:
    1,446
    مجھے یہ پوچھنا ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ ہم اھل حدیثوں کو اللہ کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کر کے تھوڑی سی بھی شرم نہیں آتی
    اور جب میں نے انسے وہ بات پوچھی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم لوگوں کی کتاب بخاری میں یہ حدیث نہیں ہے کہ جب جھنم بار بار کہے گی ھل من مزید تو اللہ تعالی اپنا پیر ڈال دینگے پھر جھنم کہے گی بس بس

    ان کی یہ بات تو مجھے بھی عجیب لگی ھم اللہ کے لئے ایسے الفاظ کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
    یہ بات صحیح ہے کہ وہ تو خالق ہے اور اسے اسکی مخلوق جھنم نقصان نہیں دے سکتی مگر کیا یہ الفاظ واقعی حدیث کے ہی الفاظ ہیں؟
    کیا اس حدیث کو کسی نے ضعیف نہیں کھا؟

    پلئیز اس بات کو واضح کریں
     
  2. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    پیغامات:
    768
    یہ روایت صحیح بخاری میں 3836 اور 6284 كتاب الأيمان و النذور باب الحلف بعزة الله و صفاته و كلماته نيز صحيح مسلم میں بھی ہے
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    پیغامات:
    5,624
    ان کی یہ بات تو مجھے بھی عجیب لگی ھم اللہ کے لئے ایسے الفاظ کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
    نہیں ! اللہ تعالیٰ کے لیے یہ الفاظ ہم اپنی طرف سے استعمال نہیں کر رہے ہیں۔
    بلکہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں :
    [QH]لا تزال جهنم تقول هل من مزيد حتى يضع رب العزة فيها قدمه فتقول قط قط وعزتك‏.‏ ويزوى بعضها إلى بعض[/QH]
    بخاری ، کتاب الایمان والنذور ، باب الحلف بعزة الله وصفاته وكلماته

    اردو ترجمہ داؤد راز :
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔

    علامہ داؤد راز تشریح میں لکھتے ہیں:
    حدیث میں جو لفظ "قدم" آیا ہے ، اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ اور "قدم" کی حقیقت پر بحث کرنا بدعت ہے اور اس کی حقیقت کو علم الٰہی کے حوالے کر دینا کافی ہے۔
     
  4. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم فتاۃ بہنا!
    شیعہ نے اس حدیث کا معنی پھیر کر آپ کو بتائے ہیں۔
    شیعہ نے کہا:
    مگر صحیح حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
    یہ لوگ فتنہ ہیں اور فتنہ پھیلانا ان کا کام ہے۔

    آپ ان کو یہ جواب دیتیں کہ میں اس پر تحقیق کرکے آپ کو بتاتی ہوں کہ آیا وہ ہی الفاظ لکھے ہوئے ہیں جو تم نے بتائے ہیں یا نہیں۔
    اگر نہیں تو تم غلط بیانی کررہے ہو اور اگر یہ ہی الفاظ ہیں اس حدیث میں تو میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتی ہوں کہ جو کچھ بھی اس میں لکھا ہے وہ برحق صحیح ہے۔

    جب بھی کوئی بات قرآن و صحیح حدیث کی ہو تو آپ نے ان کو تحقیق کا بتانا ہے اگر وہ ہی بات صحیح حدیث میں ہے اور آپ نے علماء سے اس کی تفسیر بھی معلوم کردی ہے تو پھر آپ نے اس پر ایمان لانا ہے اور اسے کہنا ہے کہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔
    والسلام علیکم
     
  5. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    پیغامات:
    1,446
    بھائی میں نے بھی ان شیعوں کو یھی جواب دیا تھا کہ میں علماء سے پوچھ کر بتاؤں گی

    اور رہی بات انکی بات ماننے کی تو الحمدللہ کچے عقیدہ کی مالک نہیں
    اس لئے کوئی اثر نہیں لیا


    یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک

    اگر یہ حدیث ہی کے الفاظ ہیں تو ایمان ہے اس پر
    ویسے انکی باتیں بڑی عجیب ہوتی ہیں
    اب میری ٹیچر نے مجھے منع کیا ہے ان سے بات بھی کرنے سے


    آپ کا شکریہ تفصیلی جواب دینے کا

    جزاک اللہ احسن الجزاء

     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں