محرمات پر تنبیہ

رفی نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏اپریل 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام علیکم!

    محرمات پر تنبیہہ "مدار الوطن پبلشرز" کی ایک مختصر کتاب ہے جس میں کتاب و سنت کے مطابق حرام امور کی وضاحت کی گئی ہے اس کتاب کو عربی زبان میں "التحذیر من المحرمات" کے نام سے جناب ڈاکٹر احمد بن عثمان المزید اور جناب ڈاکٹر عادل بن علی الشدی نے مرتب کیا ہے، جبکہ اس کا اردو ترجمہ جناب ظہیر احمد عبدالاحد نے کیا ہے۔

    اس کتاب کے مضامین کی فہرست درج ذیل ہے۔
    (ایک موضوع دیکھنے کے لیے موضوع کے اوپر کلک کریں)


    محرمات پر تنبیہہ (ابتدائیہ)
    1- اللہ کے ساتھ شرک
    2- قتل
    3 - نشہ آور چیزوں کا استعمال
    4 - زنا کاری
    5 - لواطت اور ہم جنس پرستی
    6 - جوا اور قمار
    7 - چوری
    8 - سود
    9 - رشوت لینا
    10 - دھوکہ دہی
    11 - اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونا
    12 - عورت سے لواطت کرنا
    13 - حالتِ حیض میں جماع کرنا
    14 - والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی کرنا
    15 - یتیموں کا مال کھانا
    16 - خود کشی کرنا
    17 - جھوٹ بولنا
    18 - ظلم کرنا
    19 - برا شگون لینا
    20 - ٹوہ میں رہنا
    21 - مردار، خون اور خنزیر کا گوشت کھانا
    22 - اولاد کا اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا
    23 - گالی گلوچ اور لعن طعن کرنا
    24 - عہد و پیمان توڑنا
    25 - خیانت اور بدکلامی کرنا
    26 - غیبت اور چغلخوری کرنا
    27 - نماز ترک کرنا
    28 - زکوٰۃ نہ دینا
    29 - روزہ نہ رکھنا
    30 - قدرت کے باوجود حج نہ کرنا
    31 - عورتوں کا بے پردہ ہونا
    32 - بلا کسی عذر عورت کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا
    33 - شوہر یا بیوی کے راز فاش کرنا
    34 - عورت کا اپنے شوہر کو مباشرت سے روک دینا
    35 - عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکانا

    یہ تمام مضامین ذیل میں ترتیب وار دیئے جا رہے ہیں۔


    والسلام!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​


    محرمات پر تنبیہہ​


    الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لانبی بعدہ و بعد:

    مسلمانوں کے لئے اللہ رب العالمین کی حدود کی معرفت اہم امور میں شامل ہے تا کہ انسان اسی حد میں رہے اور اس سے تجاوز نہ کرے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

    تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلاَ تَقْرَبُوهَا (البقرۃ:187)

    یہ اللہ کی حدود ہیں، تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔

    نیز ارشادِ ربانی ہے:

    وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ (النساء:14)

    اور جو شخص اللہ تعالٰی کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔

    اللہ تعالٰی کی حدود کی معرفت میں سے یہ بھی ہے کہ جسے اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اس سے بچیں اور یہ واجبات میں داخل ہے کیونکہ محرمات سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس سے وقت تک نہیں بچا جا سکتا جب تک کہ اس علم نہ ہو، عربی کا ایک قاعدہ ہے "وما لا یتم الواجب الا بہ فھو واجب" یعنی جس چیز سے واجب پورا ہوتا ہو وہ واجب ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

    جس چیز سے میں نے تمہیں روکا ہے اس سے رک جاؤ، اور جس چیز کے کرنے کا حکم دیا ہے اسے اپنی بساط کے مطابق پورا کرو۔ (مسلم)

    مسلمان کو پختہ ارادہ اور سچا عزم والا ہونا چاہئے تاکہ اللہ تعالٰی کے حرام اشیاء سے بچ سکے ورنہ سستی اور کمزور ارادہ کے سبب محرمات کا شکار ہو سکتا ہے۔

    مسلمانوں کو معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان پر وہی چیزیں حرام کی ہیں جو بری اور نقصان دہ ہیں یا اس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا:

    وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ (الاعراف: 157)

    اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔

    مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے یقیناً حلال و حرام اللہ تعالٰی کے حقوق میں سے ہیں اس لئے کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی رائے اور اپنی خواہشات کے مطابق کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال کر دے کیونکہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے:

    وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ (النحل: 116)

    کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ تعالٰی پر جھوٹ بہتان باندھ لو۔

    مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جن چیزوں کو رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام قرار دیا ہے اس کا حکم اللہ تعالٰی کے حرام کردہ چیزوں کے حکم کے مانند ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى o إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَى (النجم: 3-4)

    اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں، وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔

    ہم عنقریب اس کتابچہ میں کتاب اللہ و سنت نبوی کی روشنی میں بعض محرمات کو پیش کریں گے تاکہ مسلمان کے لئے واضح ہو جائے اور اس کے ارتکاب سے بچ جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    1- اللہ کے ساتھ شرک​


    شرک سب سے بڑا گناہ ہے ارشادِ ربانی ہے:

    إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء (النساء: 48)

    یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

    نیز ارشاد فرمایا:

    إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ (المائدۃ: 72)

    یقین مانو کہ جو شخص اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالٰی نے اس پر جنت حرام کردی ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہ گاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

    شرک کی اقسام میں سے یہ ہے:

    قبروں کی عبادت، اللہ تعالٰی کے علاوہ مُردوں سے مانگنا اور اللہ تعالٰی کی حرام کردہ چیز کو حلال یا حلال کو حرام کرنا۔ نیز اس بات کا اعتقاد رکھنا بھی شرک ہے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ بھی کسی کو کائنات میں تصرف اور سیاروں کو چلانے کا اختیار ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    2- قتل


    اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:

    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء: 93)

    اور جو کوئی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے، اسے اللہ تعالٰی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گناہ کبیرہ کا ذکر کیا تو فرمایا:

    اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور ناحق کسی کو قتل کرنا۔ (متفق علیہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    3 - نشہ آور چیزوں کا استعمال​


    ارشاد باری تعالٰی ہے:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ: 90)

    اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو جاؤ۔

    پس ہر وہ چیز جو نشہ، جنون، اور اختلال عقل کا سبب ہو وہ حرام ہے، اس حکم میں نشہ آور چیزیں اور سگریٹ کے تمام انواع شامل ہیں خواہ وہ کھانے پینے کے سبیل سے ہوں یا سونگھنے یا انجکشن یا چپکانے وغیرہ کے طور پر استعمال ہوں، یہ سب حرام ہیں۔
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    4 - زنا کاری

    ارشادِ ربانی ہے:

    وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاء سَبِيلاً (الاِسراء: 32)

    خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

    زنا کرنے والا زنا کے وقت مومن نہیں رہ جاتا۔ (مسلم)

    جس طرح زناکاری معاشرہ کو برباد کرنے اور اختلاطِ نسب کا سبب ہے ٹھیک اسی طرح مرد و عورت کے اندر شرم و حیا کے دور کرنے کا سبب بھی ہے، یہ بدن کو کمزور اور جسمانی و نفسیاتی امراض پیدا کردیتا ہے اور ان سب سے بڑھ کر خسارہ اللہ تعالٰی کی غضبناکی ہے۔
     
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    5 - لواطت اور ہم جنس پرستی

    ارشادِ ربانی ہے:

    وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الانعام: 151)

    اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ۔

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

    جسے تم قوم لوط جیسا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔ (اسے امام احمد نے روایت کیا اور علامہ البانی نے صحیح کہا ہے)۔

    لواطت: مرد کا اپنے جیسے ہی کسی دوسرے مرد سے جنسی خواہشات پوری کرنے کے لئے شادی کرنا۔

    سحاق: عورت کا اپنے ہم مثل عورت سے شادی کرنا۔

    عصرِ حاضر میں انسان میں ایسی گراوٹ آچکی ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو معدودے چند افراد کے فاسد حقوق کے لئے آواز اٹھاتے ہیں یہاں تک کہ یورپ کی پارلیمنٹ میں بھی ان کی بات سنی جاتی ہے، یہی نہیں بلکہ بعض پادری انہیں اپنے ہم مثل سے شادی کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور انہیں مبارکباد بھی دیتے ہیں۔
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    6 - جوا اور قمار


    ارشادِ باری تعالٰی ہے:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ: 90)

    اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو جاؤ۔

    جوا اور قمار کھیلنے کے لئے بہت سارے ملکوں میں کلب قائم ہو چکے ہیں، جیسا کہ انٹرنیٹ پر بھی ان کلبوں کے لئے خاص سائٹ ہیں، اکثر یہ کلب طوائف خانوں سے منسلک ہوتے ہیں، اس طرح سے بہت سی حرام چیزیں اور مہلک اشیاء ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں۔
     
  9. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    7 - چوری


    ارشادِ ربانی ہے:

    وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُواْ أَيْدِيَهُمَا جَزَاء بِمَا كَسَبَا نَكَالاً مِّنَ اللَّهِ (المائدۃ: 38)

    چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا عذاب اللہ تعالٰی کی طرف سے

    پس چوری کرنا گناہِ کبیرہ اور محرمات میں سے ہے، چوری امن و امان کو ختم کرتی ہے، اور لوگوں کے درمیان بدامنی اور خوف و ہراس پیدا کرتی ہے۔ پس کتنی جانیں ضائع ہوئیں اور کتنے جرائم رونما ہوئے ان سب کا محرک چوری ہے؛ اسی بنا پر اسلام میں چوری کرنے والے کی سزا بڑی سخت ہے، تاکہ لوگ اپنی جانیں، اموال اور گھر بار کے بارے میں مامون رہیں۔
     
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    8 - سود

    ارشادِ باری تعالٰی ہے:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ o فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ (البقرۃ: 278-279)

    اے ایمان والو! اللہ تعالٰی سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو، اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالٰی سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔

    رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے اور اس کے کھلانے والے اور لکھنے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت بھیجی ہے اور فرمایا:

    یہ سب کے سب گناہ میں برابر ہیں۔ (مسلم)
     
  11. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    9 - رشوت لینا

    ارشادِ ربانی ہے:

    وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبَرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدۃ: 2)

    نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔

    رشوت گناہ اور ظلم میں مدد کے قبیل سےہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

    رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہو۔ (اسے امام احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح کہا ہے)۔

    ملازم، قاضی اور تمام کام کرنے والے اس لعنت میں داخل ہیں جو اپنے کام کو بغیر رشوت لئے مکمل نہیں کرتے۔

    لعنت کا معنی اللہ تعالٰی کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔
     
  12. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    10 - دھوکہ دہی


    نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

    جس نے دھوکہ دیا وہ ہمارے دین سے نہیں ہے۔ (مسلم)

    دھوکہ دہی تاجروں اور لین دین کرنے والوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ حق گوئی سے کام لیں اور اپنے سامان کے عیبوں کو واضح کریں اور دھوکہ کی غرض اور زیادہ فائدہ کی خاطر اس کے عیبوں کہ نہ چھپائیں، کیونکہ یہ مسلمانوں کے اخلاق میں سے نہیں ہے۔
     
  13. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    11 - اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونا


    نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

    کوئی مرد (غیر محرم) کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح کہا ہے)۔
     
  14. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    12 - عورت سے لواطت کرنا


    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

    جو شخص اپنی عورت کے ساتھ لواطت کرتا ہے وہ ملعون ہے۔ (اسے احمد اور ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح کہا ہے)۔

    دبر: پائخانہ کرنے کی جگہ ہے۔
     
  15. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    13 - حالتِ حیض میں جماع کرنا

    اللہ تعالٰی نے ارشادِ فرمایا:

    وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ وَلاَ تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىَ يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ (البقرۃ: 222)

    آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وہ گندگی ہے، حالتِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔

     
  16. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    14 - والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی کرنا

    ارشادِ باری تعالٰی ہے:

    فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ o أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ (محمد: 22-23)

    اور تم سے بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد پیدا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

    کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ کر دوں، اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (متفق علیہ)

    نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

    قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا (متفق علیہ)

    قطع رحمی سے مراد اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لینا ہے۔

     
  17. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    15 - یتیموں کا مال کھانا

    ارشادِ ربانی ہے:

    إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (النساء: 10)

    جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے

     
  18. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    16 - خود کشی کرنا

    اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:

    وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا o وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (النساء: 29-30)

    اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالٰی تم پر نہایت مہربان ہے۔ اور جو شخص یہ (نافرمانیاں) سرکشی اور ظلم سے کرے گا تو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ تعالٰی پر آسان ہے۔

     
  19. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    17 - جھوٹ بولنا

    ارشادِ ربانی ہے:

    ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران: 61)

    پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔

    نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

    یقیناً جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ (متفق علیہ)

     
  20. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    18 - ظلم کرنا

    ارشادِ ربانی ہے:

    إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (القصص: 37)

    یقیناً بےانصافوں کا بھلا نہ ہوگا۔

    نیز ارشاد فرمایا:

    يَوْمَ لا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (غافر: 52)

    جس دن ظالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی، ان کے لئے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔

    آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

    ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم کرنے والا قیامت کے روز تاریکی میں ہوگا۔ (مسلم)

     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں