یہ دل ہی تو ہے

ابوعکاشہ نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏مئی 1, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    دل یہ انسان کے تمام اعضاء وجوارح کا ہیڈماسٹر اور دائریکٹر ہے ، جسم کے سارے اعضاء اسی کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫ألا وان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد کلہ، واذا فسدت فسد الجسد کلہ، ألا وہی الکلب ،،٫٫سنو! جسم کے اندر ایک خون کا لوتھڑا ہے جب وہ صحیح رہتا ہے تو سارا جسم صحیح رہتا ہے ، اور جب وہ خراب ہوجا تاہے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے .سنو! وہ دل ہے،، (بخاری کتاب الایمان باب:٣٩حدیث:٥٢)

    اچھے دل

    اللہ کے ذکر سے ڈرنے والادل،ارشاد باری تعالی ہے (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ ِاذَا ذُکِرَ اللّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ )٫٫پس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالی کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں ،،(سورئہ انفال :٢)
    اللہ کے ذکر سے مطمئن ہونے والا دل،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے (الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُم بِذِکْرِ اللّہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) ٫٫جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں،یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے ،،(سورئہ رعد:٢٨)
    اللہ کے ذکر سے نرم ہونے والادل،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(أَلَمْ یَأْنِ
    لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَق)
    ٫٫کیا اب تک ایمان والوں کیلئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہوجائیں،،(سورئہ حدید:١٦)
    اطاعت گزار دل، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(مَنْ خَشِیَ الرَّحْمَن بِالْغَیْْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِیْب)٫٫جو رحمن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایاہو،، (سورئہ ق:٣٣)یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والااور اس کا اطاعت گزار دل.
    قلب سلیم،اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(اِلَّا مَنْ أَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ )٫٫لیکن فائدہ والاوہی ہوگا جو اللہ تعالی کے سامنے بے عیب دل لے کرجائے،، (سورئہ شعراء :٨٩)یعنی وہ دل جوکفر وشرک کی گندگیوں سے پاک ہو .
    شکرگزار دل،نبی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫ لیتخذ أحدکم قلبا شاکرا، ولسانا ذاکرا، وزوجة مؤمنة ، تعین أحدکم ،علی أمر الآخرة،،
    ٫٫تم میں سے ہر شخص کو شکر گزار دل،ذکر کرنے والی زبان ، اور مومنہ بیوی اپنانا چاہئے، یہ تینوں تمہارے لئے آخرت کے معاملے میں مددگار ثابت ہوں گے،،(ابن ماجہ کتاب النکاح باب:٥حدیث:٨٣٣٨)

    بے کار دل

    مھر ثبت شدہ دل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(خَتَمَ اللّہُ عَلَی قُلُوبِہِمْ )٫٫اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر مہر لگادیا ہے ،،(سورئہ بقرہ:٧)یعنی کفر ومعصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہو چکی ہے .کفر وضلالت پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے ،پھر فسق وفجور اور گمراہی اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے .اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ)٫٫جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو( اور) ٹیڑھا کر دیا،، (سورئہ صف:٥)
    بیمار دل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے( فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَض فَزَادَہُمُ اللّہُ مَرَضاً)٫٫ان کے دلوں میں بیمار ی تھی اللہ تعالی نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا ،،(سورئہ بقرہ:١٠)بیماری سے مراد کفر ونفاق اور معصیت کی بیماری ہے اگر اس کی اصلاح نہ کی جائے تو یہ مرض بڑھتا چلا جاتاہے.
    سخت دل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(وَلَا یَکُونُوا کَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ)٫٫اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے قبل کتاب دی گئی ، لیکن مدت گزرنے پر ان کے دل سخت ہوگئے،،(سورئہ حدید:١٦)سخت دلی یہ یہود ونصاری کی صفت ہے ،اور مسلسل برائیوں میں لگے رہنا یہ سنگ دلی کی سب سے بڑ ی یہچان ہے .نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ٫٫ وان أبعد الناس من اللہ القلب القاسی،،٫٫اللہ کی (رحمتوں) سے سب سے زیادہ دور سنگدل ہے،،( ترمذی کتاب الزہد باب:٦٢ حدیث:٢٤١١)
    زنگ لگا ہوا دل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ)٫٫یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ(چڑھ گیا)ہے ،، (سورئہ مطففین:١٤)یعنی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے دلوں پر پردے پڑگئے ہیں، اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں ، ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:٫٫ ان العبد اذا أخطأخطیئة نکتت فی قلبہ نکتة سودائ، فاذا ہو نزع واستغفر وتاب سقل قلبہ، وان عاد زید فیہاحتی تعلو قلبہ وہو الران الذی ذکر اللہ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِم مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ)٫٫بندہ جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کرکے گناہ سے باز آجاتاہے تو اس کا دل پہلے کی طر ح صاف شفاف ہوجاتا ہے ، اوراگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گنا ہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطئہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھاجاتا ہے اور یہی وہ ٫٫ران ،، ہے جسکا ذکر قرآن مجید میں ہے،، (سنن ترمذی کتاب التفسیرباب:٨٣حدیث:٣٣٣٤)
    بے سمجھ دل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(لَہُمْ قُلُوب لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا)٫٫ان کے دل ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں،،(سورئہ اعراف:١٧٩)
    توحید الہی سے چڑنے والادل ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے(وَِاذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَحْدَہُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ)٫٫جب ایک اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے،،(سورئہ زمر:٤٥) آج بھی منحرفین کا یہی حال ہے، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ صرف ٫٫یا اللہ المدد،،کہو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو سیخ پا ہوجاتے ہیں ، لیکن جب ٫٫یا علی المدد،،٫٫یارسول اللہ المدد،،اور ٫٫یا عبد القادر جیلانی شیئا للہ،، وغیرہ کہا جائے تو پھر ان کے دل خوشی سے کھل اٹھتے ہیں.
    زنا کار دل ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:٫٫القلب یزنی ، وزنا القلب التمنی، والفرج یصدق ما ہنالک أو یکذبہ،،٫٫ دل زنا کرتا ہے اور دل کا زنا (برائی کی) تمنا کرنا ہے،پھر شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ،،( مسند احمد ج٢/٣٢٩حدیث:٨٣٣٨)

    دل کی ثابت قدمی کیلئے دعائیں:
    ١۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے (رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ ِاذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَةً اِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّاب)٫٫اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقینا توہی بہت بڑی عطا دینے والاہے ،،(سورئہ آل عمران:٨)
    ٢۔٫٫اللہم مصرف القلوب ، صرف قلوبنا علی طاعتک،،اے دلوں کے پھیر نے والے !تو ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے،،
    (مسلم کتاب القدر باب:٣حدیث:١٧)
    ٣۔ ٫٫ یا مثبت القلوب ثبت قلوبنا علی دینک ،،٫٫ اے دلوں کو ثابت رکھنے والے ! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ،،(ابن ماجہ مقدمہ١٣حدیث:١٩٩)
    ٤۔ ٫٫اللہم اجعل فی قلبی نورا،،٫٫ اے اللہ! تو میرے دل میں نور پیدا کردے ،،(بخاری کتاب الدعوات باب:١٠حدیث:٦٣١٦)
    ٥۔ ٫٫اللہم عافینی من شر قلبی ،، ٫٫اے اللہ !تو ہمیں ہمارے دل کے شر سے محفوظ رکھ،،( نسائی کتاب الاستعاذة باب: ١١ حدیث:٥٤٥٣) اللہ تعالی ہم سب مسلمانوں کو دلوں کے شر وفساد سے محفوظ رکھے آمین۔
     
  2. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    زبردست ما شاء اللہ

    اللہ یزید مثلک
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    جزاک اللہ خیر
    بھائی ، یہ تحریر تو اس مراسلے کا شافی جواب ہے۔ یقیناَ قرآن و حدیث میں انسانی عقل کے بمقابل انسانی دل کے متعلق زیادہ بیان ہوا ہے۔
     
  4. sjk

    sjk -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 8, 2007
    پیغامات:
    1,753
    جزاک اللہ خیرا ابو عبداللہ بھائی پانچویں دعا اتنی ہی ہے؟
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں