کیا پس پردہ موسیقی حرام تصور ہوگی؟

منہج سلف نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏مئی 11, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    ایک سوال کرنا چاہتا ہوں جس کے جواب کی شدت سے ضرورت ہے۔

    کیا پس پردہ موسیقی حرام تصور کی جائے گی؟
    میں اپنے سوال کو واضح طور پر بیان کروں گا کہ جواب دینے والے کو صحیح نمونے پتہ چل سکے۔ ان شاءاللہ
    جیسا کہ آج کہ پوری دنیا میں میڈیا کا دور ہے اور ہر گھر میں چھایا ہوا ہے۔ :00002:
    اب تو اسلامی چینلس پر بھی بیک گراؤنڈ موسیقی آتی ہے۔
    ہر ڈرامہ یا ڈاکیومینٹری کے پیچھے آپ کو موسیقی ملے گی۔


    یہاں موسیقی کی دو قسمیں آپ کو بتاتا ہوں۔

    1- وہ موسیقی کو خاص طور پر سنی جائے مثلا گانے یا صرف اس کی موسیقی جو جان بوجھ کر لگاکر سنی جائے۔
    2- وہ موسیقی جو بیک گراؤنڈ آتی ہو، مثلا آپ کوئی ڈرامہ دیکھتے ہیں یا کوئی ڈاکیومینٹری فلم دیکھتے ہیں جانوروں یا کسی اور کے بارے میں اور اس کے پس پردہ آپ کو موسیقی کی آواز آتی ہو-

    مگر اس دوسری قسم میں آپ کا ارادہ موسیقی سننے کا نہیں بلکہ ڈرامہ یا ڈاکیومینٹری دیکھنے کا ہے۔

    تو اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا پس پردہ جو موسیقی کی آواز آتی ہے جس کے سننے کا ارادہ بھی نہ ہو توکیا وہ بھی حرام تصور کی جائے گی؟
    میں نے جس واضح طور پر آپ کو کھل کر سوال سمجھایا ہے امید کہ آپ بھی شرعی دلائل سے کھل کر جواب کو واضح کریں گے۔ ان شاءاللہ
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    اس کا ایک جواب تو یہ ہے:

    بعض مفيد پروگرام مثلا اخبارات كى سرخياں وغيرہ پر مشتمل پروگرام جن كے دوران موسيقى بھى ہو سننے كا حكم كيا ہے ؟


    الحمد للہ:

    اس كے سننے اور اس سے استفادہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن جب موسيقى شروع ہو تو ريڈيو كى آواز بند كر دى جائے حتى كہ موسيقى ختم ہو جائے، كيونكہ موسيقى آلات لہو ميں شامل ہوتى ہے، اللہ تعالى اسے ترك كرنے ميں آسانى پيدا فرمائے، اور اس كے شر سے عافيت بخشے.

    الاسلام سوال و جواب

    نوٹ: اگر آواز بند کرتے ہیں تو وہ ڈرامہ یا پھر ڈاکیمینٹری کی آواز سنائي نہیں دے گي، میرے خیال میں یہ جواب میرے سوال کے متعلق میں نہیں ہے۔ :00002:
     
  3. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    اس کا ایک جواب یہ بھی ہے:

    " آفس كے اندر اگر ٹيلى فون پر كسى سے بات كرنى ہو تو انٹر كام كے نظام ميں غير مسلموں نے انتظار كے وقت موسيقى لگا ركھى ہے تو كيا ميں بھى اس ميں گنہگار ہونگا ؟


    الحمد للہ:

    اگر تو آپ اس برائى كو ختم كرنے كا اختيار ركھتے ہيں تو اس برائى پر آپ كا مواخذہ كيا جائيگا، اور اگر يہ معاملہ آپ كے اختيار ميں نہيں تو پھر مواخذہ نہيں، ليكن اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ آپ جان بوجھ كر يہ موسيقى نہ سنيں، اور اس سے لذت و فرحت محسوس نہ كريں.

    كيونكہ موسيقى حرام ہے، اور اسى طرح گانے بھى حرام ہيں-

    اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے اس ميں فرق كرتے ہوئے كہا ہے كہ:

    " لذت اور سرور حاصل كرنے كے قصد و ارادہ سے سننا، اور بغير ارادہ اور قصد كے راہ جاتے ہوئے بغير اختيار كان ميں پڑنا ايك جيسا نہيں اس ميں فرق ہے، اس ميں كوئى گناہ نہيں، اور پھر اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت و طاقت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا "

    اس ليے اگر دوسرى جانب سے ٹيلى فون ميں انتظار كے وقت موسيقى لگا دى جائے تو آپ حسب استطاعت اسے سننے سے احتراز كريں اور آپ ان نغموں كو نہ سنيں، اور اللہ تعالى سے استغفار كرتے رہيں، يقينا اللہ تعالى بخشنے والا اور رحم كرنے والا ہے.
    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب

    نوٹ: اس میں میرے سوال کا کچھ حد تک جواب دے دیا گیا ہے مگر پھر بھی تفصیل کی ضرورت ہے جس سے میرے سوال کا واضح جواب ملے۔ ان شاءاللہ
     
  4. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    to kia drma dekhna halal hy?
     
  6. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    آپ کا کیا خیال ہے اس چيز کے بارے میں محترمہ؟
     
  7. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ :‌
    آپ کے سوال سے سے ظاہر ہے کہ آپ موسیقی کی دو قسمیں بنا رہے ہیں ایک وہ جو ہم جان بوجھ کر سنیں اور دوسری وہ جو ہمیں سنائی جائے ۔۔ یا وہ جسے ہم سننا نہ چاہتے ہوں اور نہ ہمارا ارادہ سننے کا ہو لیکن ضرورت کے لیے سننا پڑتا ہو ۔۔
    پہلی قسم یعنی یہ بات تو واضح ہے کہ ہم جو جان بوجھ کر موسیقی سنیں وہ حرام ہے ۔
    رہا دوسری قسم کہ خبروں میں جو موسیقی ہوتی ہے یا ڈرامہ اور ڈیکومینٹری میں تو بھائی وہ ہوتی تو موسیقی ہی ہے نا؟؟اگر آپ یہ کہیں کہ وہ موسیقی نہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حرام نہیں لیکن جب یہ بات متفق ہے کہ وہ موسیقی ہے تو اس پر حکم لگانے میں دیر کس بات کی؟
    موسیقی موسیقی ہے چاہے پس پردہ ہی کیوں نہ ہو ۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب موسیقی کی آواز سن کر راستہ بدلا تو اس بات سے ظاہر ہے کہ ان کا ارادہ موسیقی سننے کا نہیں‌ تھا لیکن پھر بھی انہوں نے راستہ بدل لیا۔
    دوسری بات کہ اسلامی چینیل میں‌ کبھی موسیقی نہیں آتی ۔۔ یا یہ کہہ لیں جن چینیلز میں موسیقی آتی ہے وہ اسلامی نہیں‌ ہوتے ۔ اسلامی چینیل مثلا المجد جو عربی میں ہے اور پیس ٹی وی اردو اور انگلش میں ان میں تو موسیقی نہیں آتی ۔۔
    ڈراموں میں‌ موسیقی کے علاوہ اور بھی بہت سے شرعی محظور ہوتے ہیں ۔اس لیے وہ تو ویسے ہی حرام ہیں ۔
    اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ دے ۔ اور ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ رکھے آمین [/center]
     
  8. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم بہنو!
    میں آپ کی باتوں کی تائید کرتا ہوں۔
    اگر آپ بغور میری اوپر والی تینوں پوسٹس پر نظر کریں گی تو آپ کو میرے جوابات میں بھی ابہام نظر آئے گا۔
    میں ابھی تک کسی نتیجہ پر صحیح نمونے نہیں پہنچا ہوں۔
    جو سوال میں نے اٹھایا ہے اس کا صحیح اور واضح جواب مجھے ابھی تک نہیں ملا۔
    میں پھر سے کوشش کرتا ہوں، جیسے ہی مجھے اس کے بارے میں علم ہوگا آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ ان شاءاللہ
    اگر آپ کے پاس میرے سوالوں کا واضح جواب ہے تو پیش کیجیے، بغیر دیر کے قبول کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    يہ كوئى عام معاملہ نہیں كہ ميں ذاتى رائے ظاہر كروں.
    در حقيقت يہ سوال ميں نے اپنے استاد محترم پروفیسر ڈاكٹر فضل الہی( حفظه الله تعالى) سے كيا تھا، تو انہوں نے فرمايا كہ وہ تو جھوٹ ہے!!!
    اس كے بعد مجھے كوئى شبہ نہیں رہا اس كے حكم كے بارے ميں.
    دوسرى بات مطالعہ حديث كے دوران ميرے سامنے آئى.
    كہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كسى كى نقل اتارنے كو سخت نا پسند فرمايا ہے۔ اور ايكٹنگ دراصل صرف اور صرف دوسروں كى نقل بلكہ نقالى ہے۔
    پھر ہر ڈرامے میں نامحرم کو دیکھنے سے لے کر ، بیک گراؤنڈ میوزک تک کئی برائیاں موجود ہوتی ہیں۔
    دراصل شیطان کچھ اعمال كو اتنا مزين كر كے پیش كرتا ہے كہ ہم اس كى خاميوں پر غور ہی نہیں کرتے۔
    حفظنا اللہ جميعا من مكايد الشيطان.
     
  10. اھل السنۃ

    اھل السنۃ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 24, 2008
    پیغامات:
    295
    جزاک اللہ بنت الاسلام
     
  11. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    ایک بار ڈاکٹر ذاکر نائیک سے یہ مسئلہ پیس ٹی وی پر سنا تھا۔ وہ لوگ پس پردہ آوازوں‌ کے لئے موسیقی نہیں‌ بلکہ قدرتی آوازیں‌استعمال کرتے ھیں‌۔ مثلا" بادلوں‌کی آواز' پانی گرنے کی آواز وغیرہ۔
    واللہ اعلم بالصواب
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں