رجب کے کونڈے تاریخ کے آئینے میں

مخلص نے 'ماہِ رجب المرجب' میں ‏مئی 29, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    [glow][/glow]اسلام مکمل ضابظہ حیات ھے جس میں اللہ تبارک وتعالی نے نسل انسانی کی فلاح و بہبود سے متعلقہ جتنی چیزیں بھی تھیں نازل فرما دیں اور یہ ایسا دین ھے جس کو پیغمبر آخرین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرما دینے کے بعد اللہ رب العزت نے تکمیل دین کی یہ مہر لگا دی ۔
    الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (المائدہ)
    شروع سے آج تک پوری ملت اسلامیہ کا اس بات پر اجماع ھے کہ پیارے پیغمبر نے رسالت کا حق ادا کردیا اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ نی کسی چیز کو چھپایا اور نہ اس کے اگے پہنچانے میں کوتاھی کی بلکہ ہر وہ کام اور طریقہ جو اللہ کے قرب کا باعث ھو سکتا تھا اس کی جانب رہنمائی فرما دی اور ہر وہ کام جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا تھا اس کی نشاندہی فرما دی ۔(جاری ھے)
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 30, 2009
  2. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    محترم بھائیو اور بہنو: یہ دین تو آسان ہی بہت تھا ایک قرآن اور دوسری نبی کی سنت اور بس۔
    لیکن ہم نے اسے آج مشکل کردیا ھے۔ اگر کہ دیا جائے تو بے جا نہ ھوگا کہ ھم میں سے بعض ان پڑھ مولوی حضرات نے اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے پیٹ کو بھرنے کے لئے دین مین بعض ایسی چیزوں کو شامل کردیا ہے ۔جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے نہ سنت سے اور نہ شریعت سے بلکہ ان کا تعلق محض پیٹ سے ھیں اور یہ کھبی نہیں سوچا کہ ھم نے اپنا پیٹ تو بھر لیا لیکن اس قدر مہنگائی کے دور میں بھولی عوام کو مشکل میں ڈال دیا ھے ۔گویا اللہ تعالی کی طرف سے یہ اعلان کر دینے کے باوجود کہ میں نے دین کو مکمل کردیا ھے ،ھم ان نئی چیزون کے زریعے سے اس بات کا اعلان کر رھے ھیں کہ نہیں اے ھمارے رب؛تیرا دین ابھی مکمل نہیں ھوا ھم زیادہ عقل مند ھیں ۔نعوذباللہ من ذالک ،،انہی ایجاد کردہ من گھڑت چیزوں میں سے ایک ھے ۔رجب کے کونڈے ،،ھر سال 22رجب کو عام و خاص بڑے تزک و اہتمام سے اس بدعت مذمومہ کو دہراتے ھیں۔
    جاری ھے
     
  3. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    رجب کے کونڈے؛تعجب کی بات ھے کہ بعض احباب اچھے خاصے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود اس توھمانہ رسم بد میں مبتلا ھیں جبکہ خود کو وہ بڑے فخر سے (
    Bright minded)کہتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی عقیدہ ھے کپ رجب کے مہینے میں کونڈوں کو نہ بھراگیا تو کاروبار میں نقصان ھو سکتا ھے اور کوئی آفت آسکتی ھے اور کونڈوں کا ختم دلانا مصائب کا حل ھے اور ایک گروہ ایسا بھی ھے جو سمجھتا ھے کہ یہ تفریح طبع کے لئے کھانے پینے کا سامان ھے اور بس ایسے دونوں گروہ ہی غلط فہمی کا شکار ھے اور رشد وہدایت کے سر چشمہ یعنی قرآن وحدیث کو چھوڑ کر اگر ایک طرف گمراہ ھوگئے تو دوسری طرف اپنے ہاتھوں دینی اقدار کا مزاق اڑا رہے ہیں
     
  4. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    طریقہ کار آیئے؛ پہلے اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کونڈے بھرنے کا طریقہ کار کیا ہے ۔کونڈے بھرنے کے لئے رجب کے مہینہ کی22 تاریخکو میدہ ،دودہ ،شکر اور مختلف میوہ جات کے خاص تناسب سے مخصوص مقدار میں پوڑیاں بنائی جاتی ھیں ،حلوہ تیار کیا جاتا ھے پھر اس پر ایک منظوم کتاب پڑھی جاتی ہے ،اس کے بعد امام جعفر کی فاتحہ کرواتے ہیں پھر عزیز و اقارب اور دوست احباب کو ایک ایک دو دو پوڑیاں کھلاتے ھیں ۔چند سال قبل جن دعوتی مہمانوں یا دوسرے لفظوں میں جن کونڈہ خوروں کو دعوت دی جاتی تھی ۔ان میں سے ہر ایک کو ساتھ ہدایت کر دی جاتی کہ یہ کونڈے چونکہ گھر کے اندر پکتے اور تیار ھوتے ہیں اور اسی چھت کے نیچے ان کو کھایا جاتا ہے ۔اس لئے کونڈے کی کسی چیز کو باہر نہیں لے جایا جا سکتا لیکن اس سے مولوی صاحب کے گھر کچھ نہیں آتا تھا کونڈے کی پوڑیاں اور حلوہ وغیرہ وہین ختم ہو جاتا ۔مولوی صاحب بھی اسے باہر نہیں لے جا سکتے تھے ۔کیونکہ ایسا کام کرنا کونڈوں کے آداب کے منافی تھی۔
    لہذا مولوی صاحب نے یہ حکم بھی دے دیا کہ اسی حلوہ پوری کو گھر سے باہر لے جائیں تو کوئی حرج والی بات نہیں خیر اب یہ سامان گھر سے باہر بھی کھایا جاتا ھے اور بعض علاقوں میں صرف اسی چھت کے نیچے۔
    اب دیکنا یہ ھے کہ ان کو اس طرح دعوت کرنے کا حکم کس نے دیا ہے۔ ان کونڈوں کی شرعی حیثیت کیا ھے۔ ان کی بنیاد قرآن وحدیث میں کس نص یا فقہ کے کس اصول پر ہے اور یہ بات کہاں تک درست ہے کہ اس ختم کے دلانے سے مصائب دور ہوجاتے ہیں ۔(جاری ھے)
     
  5. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    کونڈوں کی بنیاد[glow][/glow] کونڈے بھرنے کاپور ے احادیث کے ذخیرہ میں کہیں بھی ثبوت نہیں ملتا نہ ان کی بنیاد قرآن پاک کے کسی حکم پر ہے نہ پیارے رسول کے کسی فرمان پر اور نہ ان کی پاکیزہ زندگی سے اس کا ثبوت ملتا ھے ۔کتب فقہ میں بھی ان کا ذکر نہیں ۔ اس کی بنیاد ایک گمراہ کن فرضی داستان پر ہے جو داستان عجیب کے نام سے مشہور ہے اور اسے امامیہ مسلک کے ایک شیعہ افسانہ نگار نے بطور مثنوی نظم کے لکھا تھا اور اسے امام جعفر کی کرامت قرار دیا کونڈوں کی رسم بد کا تعلق بھی شیعہ سے ہے لیکن اس داستان عجیب کو اس طرح مذہبی رنگ میں پیش کیا گیا کہ آہستہ آہستہ دوسرے ممالک کے لوگوں میں بھی پھیل گئی ۔لیکن اب وائے اس اندھی عقیدت کہ حقیقت سے آنکھ بند کرلیا گیا بلکہ حقیقت خرافات میں کھو گئی۔ (جاری ھے)
     
  6. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    کتاب داستان عجیب کا خلاصہ


    حقیقت تک رسائی کے لئے من گھڑت داستان کا خلاصہ بھی پیش کرتے ھیں جس پر رسم کونڈہ کی بنیاد ھے ۔
    یہ اس زمانے کی بات ھے جب امام جعفر حیات تھے ۔ان کے دور میں مدینہ منورہ میں ایک لکڑہارہ رہا کرتا تھا ۔اس بے چارے کی اولاد زیادہ تھی اور آمدن کم ، اسکا ذریعہ معاش بس اتنا ہی تھا کہ جنگل میں جاتا لکڑیاں کاٹتا اور بازار میں لے جا کر بیچ دیتا جو تھوڑی بہت آمدن ہوتی تنگی ترشی سے وقت پاس کرتا ۔اس بھوک اور تنگدستی سے وہ اکتا گیا ۔چنانچہ کسی دوسرے ملک میں جانے کا سوچا اور چل دیا ۔اس طرح گھر بار چھوڑ کر پردیسی ھو گیا ۔لیکن مقدر نے ساتھ نہ دیا وہاں بھی بھوک اور تنگدستی۔
    دیار غیر میں اسی حال میں اس نے زندگی کے بارہ سال ھزارے ۔پردیس میں گھر بھی یاد آتا تھا، بیوی بچے بھی یاد آتے تھے لیکن شرمسار تھا بے چارہ کہ آج تک بارہ سال گزر چکے گھر والوں کو کچھ بھیجا نہیں شرمندگی اور ندامت سے خالی ھاتھ جاتا نہیں تھا کہ لوگ کیا کہیں گے یہ آدمی باہر کے ملک گیا اور خالی ھاتھ واپس آگیا۔
    (جاری ھے)
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 29, 2009
  7. راہی سیدھی راہ کا

    راہی سیدھی راہ کا -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 23, 2009
    پیغامات:
    26
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

    السلام علیکم

    اللہ کے بندے سنت کے مطابق کچھ بھی لکھنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! لکھا کرو۔
     
  8. فرحان دانش

    فرحان دانش -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 3, 2007
    پیغامات:
    434
    رجب کی فاتحہ: (کونڈے)

    پیارے مسلمان بھائیو! رجب المرجب کی22تاریخ کو دنیا بھر کے مسلمان حضرت سیدنا امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کے لئیے پوریاں اور کھیر پکاتےہیں جنہیں کونڈے شریف کہا جاتا ہے-اس میں ثواب ہے لیکن اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے بڑی شدومدکے ساتھ اس کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں زہر بھر اجاتا ہےاورمعاز اللہ اس طرع کی باتیں کی جاتیں ہیں۔ مثلاً (1)کونڈے کی شرعی حیثیت کچھ نہیں(2) کونڈے بدعت ہیں (معازاللہ)وغیرہ وغیرہ اعتراضات کئیےجاتے ہیں۔ یاد رکھیں کونڈے جائز ہیں اور اس میں ثواب ہے یہاں مختصراً کونڈے جائز ہونے پردلا ئل پیش کئےجاتے ہیں۔

    کونڈے جائز ہیں:

    پیارے مسلمان بھائیو! کونڈوں کی فاتحہ ہویا اور کوئی ہر ایک کی اصل ایصال ثواب ہے۔یعنی کونڈے بھی ایصال ثواب ہی کی ایک قسم ہے-اور ایصال ثواب قرآن اور احادیث سے ثابت ہے- ایصال ثواب دعا کے ذریعے بھی کیاجاسکتا ہے اور کوئی کھانا پکا کر اس پر فاتحہ دلا کر بھی کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا۔

    والذین جاء ومن بعدھم یقولون ربنااغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالا یمان۔
    ترجمہ:اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب ہمیں بحشدنے اور ہمارے بھا ئیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔(کنزالایمان)

    اس آیات سے معلوم ہوا دعا کے ذریعے ایصال ثواب جائز ہے۔

    حدیث سے ثبوت:

    حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے نبی کریم سےعرض کی کہ اگر میں اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کروں تواس کونفع دیگا؟ آپ نے فرمایا ہاں!توحضرت سعد نے کہاکہ فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔(بخاری نسائی)

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال کے ذریعے بھی ایصال ثواب کیاجاسکتاہے۔اور یہ جائزہے-لہذا کونڈے بھی مالی ایصال ثواب میں شامل ہوتےہیں۔لہذاجائز ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:رجب شریف کےمہینے کی22 تاریخ کو خضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ تعا لٰی علیہ کی فاتحہ یعنی کو نڈے کرنے سے بہت سی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ (اسلامی زند گی صفحہ نمبر69)
     
  9. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    گذشتہ سے پیوستہ
    ادھر لکڑہارے کے چلے جانے سے گھر والوں کا واحد سہارا ان سے چھن گیا ۔آخر لکڑ ہارے کی بیوی وذیر کی بیوی کی خادمہ بن گئی گھر جھاڑو دے دیتی کچھ روپے پیسے مل جاتے پھر ایک دن ھوا کیا ؟
    لکڑھارے کی بیوی اسی وزیر کی بیگم کے محل کے صحن میں جھاڑو دے رہی تھی کہ اچانک وہاں سے امام جّفر کا گذر ھوا جب اس محل کے صحن میں پہنچے تو اچانک رک گئے اور اپنےعقیدت مندوں سے پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ھے اور آج کون سی تاریخ ھے ۔عقیدت مندوں سے ایک بڑھا اور دست بستہ عرض کی حضور یہ رجب کا مہینہ ھے اور آج رجب کی 22تاریخ ھے ۔پھر پوچھا کیا تمھیں معلوم ھے کہ رجب کی بائیس تاریخ کی کیا فضیلت ھے ؟
     
  10. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    عرض کی حضور ہی بہتر جانتے ھوں گے ۔امام صاحب نے فرمایا ،او میرے مریدان خاص ۔آئیے پھر سن لیجئے ؛اس دن کی فضیلت ھے اگر کوئی شخص مصیبت اور پریشانی میں گرفتار ھو تو اسے چاہیے کہ وہ رجب کی 22 تاریخ کو میرے نام کے کونڈے بھرے ۔اس کا طریقہ کار کیا ھوگا ؟وہ بازار سے نئے کورے کونڈے خرید کر لاے انہیں گھی میں تلی ھوئی میٹھی خستہ پوریوں سے بھرے ،پھر چادر بچھاکر کونڈوں کو اس چادر پر رکھے اور پورے اعتقاد کے ساتھ میرا ختم دلائے پھر میرا ھی وسیلہ پکڑ کر اللہ سے دعا کرے تو اس کی ہر حاجت اور ہر مشکل حل ھو جائے گی اور پھر اس طرح کے عمل سے کسی کی مراد پوری نہ ھو تو وہ قیامت کے دن میرا دامن پکڑ سکتا ھے اور مجھ سے اس کی باز پرس کر سکتا ھے ۔حضرت نے یہ سب کچھ فرمایا اور پھر اپنے ہمراہیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔
     
  11. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    لکڑہارے کی خستہ حال بیوی جو وہاں جھاڑو دے رہی تھی ،اس کو جب حضرت جعفر کی زبان سے گردش روزگار اور مصیبتوں سے نجات کا یہ گر معلوم ھوا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی تمام کام چھوڑ کر اس نے حضرت کے کونڈوں کا اہتمام کیا اور دعا کی کہاے اللہ؛امام صاحب کے صدقے میری تمام مصیبتیں دور کردے ،میرا شوہر خیریت سے گھر لوٹ آئے اور اپنے ساتھ کچھ مال و دولت بھی لائے۔ (جاری ھے)
     
  12. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    اس نے کونڈوں کا ختم دلایا اور فارغ۔ ادھر لکڑھارا بارہ سال سے تنگ دستی کا زمانہ گزار رہا تھا لیکن حضرت کی کرامت دیکھئے جیسے ہی مدینے میں لکڑہارے کی بیوی نے کونڈے بھرے ویسے ہی لکڑھارے کے پردیس مین دن پھے گئے ۔
    کس طرح؟ ایک دن لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک کلہاڑی گرنے سے زمین پر دھماکہ سا ھوا اس سے لکڑہارے نے اندازہ لگایا کہ یہاں کہکی زمین اندر سے خالی ھے نیچے اترا زمین کھودنا شروع کر دی زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ وہاں سے ایک شاہی خزانہ مل گیا ۔
     
  13. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    [glow]زرو جواہر مال و دولتاور سونا و چاندی وغیرہ سے بھر پور ۔اب اس نے آہستہ آہستہ خزانہ گھر منتقل کرنا شروع کردیا ۔پھر ایک دن یہ تمام مال ودولت اونٹوں اور گھوڑوں پر لاد کر مڈینہ منورہ اپنے مکان پر پہنچا۔گھر پہنچ کر لکڑہارے نے وزیر کے مھل کے سامنے ایک عالی شان محل تعمیر کیا اور نوابوں کی طرح وہاں رہنا شروع کر دیا ۔ایک دن اتفاق سے وزیر کی بیگم اپنے محل کے بالا خانے پر چڑھی تو سامنے ایک عالی شان اور خوبصورت محل دیکھ کر حیران رہ گئی۔اپنی خادماؤں سے پوچھا یہ کس کا مکاں ھے ؟ سب نے بیک زباں کہا، اس لکڑہارے کا جس کی بیوی آپ کے گھر جھاڑو دیا کرتی تھی ۔یہ سن کر اس نے ایک خادمہ کو حکم دیا کہ میری نوکرانی کو ذرا بلا کر تو لاو۔لکڑہارے کی بیوی آئی اس سے پوچھا ،اری کل تک تو دو وقت کی روٹی کو ترستی تھی ،اور آج یہ ٹھاٹ باٹھ اس کی کیا وجہ ھے؟[/glow]
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 30, 2009
  14. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    لکڑہارے کی بیوی نے امام جعفر کے اشارے کے مطابق کونڈے بھرنے اور ایک بڑا خزانہ ہاتھ لگنے کی داستان بیان کردی۔ یہ سن کر وزیر کی بیوی نے اس کا مذاق اڑایا اور کہا ،لگتا ھے تیرا شوہر ڈاکہ ڈال کر مال لے آیا ھے اور نام رکھ لیا ھے کونڈوں کا ۔وزیر کی بیوی جب کونڈوں کی فضیلت پر ایمان نہ لائی تو شوہر پر غیب سے ایک مصیبت نازل ھوئی اس پر ملکی خزانہ لوٹنے اور کرپشن کا الزام لگا اور اسے برطرف کرنے کے ساتھ جلاوطن بھی کردیا گیا۔ جو کل تلک وزیر تھا آج ملک چھوڑ کر جارہا تھا ۔راستے میں چلتے ھوئے اس نے ایک خربوزہ خرید لیا کہ بھوک کے وقت کھا لیں گے ۔
    اب دیکھئے ؛جس دن وہ معزول ھوا اسی دن بادشاہ کا شہزادہ شکار پر گیا اور شام کو گھر نہ آیا مشیروں میں سے کسی نے کہا ،عالی جاہ ؛ھوسکتا ھے اسے معزول وزیر نے قتل کروادیا ھو۔ حکم صادر ھوا کہ اس وزیر کو پکڑکر ابھی دربار میں پیش کیا جائے۔اس بیچارے نے ابھی آدھا سفر طے نہیں کیا تھا ۔کہ دوبارہ گرفتار ھو کر بادشاہ کے سامنے پیش ھوا۔وزیر کے ہاتھ میں رومال میں بندھا ھوا خربوزہ تھا۔بادشاہ نے پوچھا ۔یہ کیا ھے ؟عرضکی حضور؛خربوزہ ھے۔
     
  15. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    لیکن جب رومال کھول کر دیکھا تو خربوزے کی بجائے شہزادے کا خون سے لتھڑا ھوا سر تھا ۔وزیر بھی حیران تھا کہ یہ خربوزہ شہزادہ کیسے بن گیا ۔حکم ھوا کہ ان دونوں کو جیل بھیج دیا جائے اور صبح سویرے انہیں پھانسی دے دی جائے ۔اب جیل میں میاں بیوی نے سوچا ،ہم سے ضرور کوئی غلطی سرزد ھوئی ھے جس کی سزا ہمیں مل رہی ھے آخر وزیر کی بیگم کو یاد آگیا کہ کافی دن ہوئے میں امام جعفر کے کونڈوں کے عقیدے پر ایمان نہ لائی تھی پھر دونوں نے رو رو کر اپنے گناہ کی معافی مانگی اور پختہ عزم کیا کہ اگر اس مصیبت سے نجات مل جائے تو ہم ضرور امام صاحب کے کونڈے بھریں گے۔
     
  16. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    اب جیسے ہی بیگم نے عقیدت سے کونڈے بھرنے کا ارادہ کیا حالات نے پلٹہ کھایا ۔بادشاہ کا گمشدہ شہزادہ کونڈوں کی برکت سے صحیح سلامت واپس آگیا ۔بادشاہ بہت خوش ھوا فورآ قیدیوں کو بلانے کاحکم دیا رومال کھول کر دیکھا تو وہاں شہزادہ کے سر کی بجائے خربوزہ تھا ۔بادشاہ نے معزول وزیر سے پوچھا بتا تو سہی آخر وجہ کیا ھے۔کہا حضور؛میری بیوی کونڈوں کے عقیدے پر ایمان نہیں لائی تھی۔پھر لکڑہارے سے لیکر پوری داستان بیان کر دی ۔بادشاہ بڑا متاثر ھوا۔وزیر کو دوبارہ اس کا عہدہ عطا کردیا اور مزید خلعت فاخرہ سے نوازا۔پھر شاہی محلات سے لے کر وزیر کے محل تک بڑی دھوم دھام اور اہتمام کے ساتھ کونڈے بھرنے کی "رسم بد''ادا کی گئی اوروزیر کی بیگم تو زندگی بھر ہر سال عقیدت کے ساتھ حضرت امام جعفر کے کونڈے بھرتی رہی۔۔۔۔(جاری ھے)
     
  17. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    [glow]داستان عجیب پر ایک نظر[/glow]

    داستان عجیب جس پر کونڈوں کی بنیاد ھے سراسر من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی افسانہ ھے۔
    اس کزب بیانی پہ ذرا غور فرمائیے۔
    1۔اس افسانے میں کہا گیا ھے کہ امام جعفر صادق نے اس قسم کے عمل کرنے پر گارنٹی اور ذمہ داری کے ساتھ دعوی کیا ھے کہ اگرکونڈے بھرنے کے بعد کسی کی حاجت پوری نہ ھوں تو قیامت کے دن میرا دامن پکڑلے ۔ایک لمحہ سوچئے ؛کہ کیا امام جعفر صادق کی ذبان سے کسی ایسی رسم کے متعلق ایسے الفاظ نکل سکتے ہیں جس کو ان کے جد امجد حضرت علی نے نہ کیا ہو تاجدار مدینہ نے نہ کیا ھو خلفائے راشدین اور صحابہ نے بھی نہ کیا ھو۔
    2۔لکڑہارے کی بیوی بارہ سال تک وزیر کی بیگم کے ہاں ملازمت کرتی رہی جب اس کا خاوند مالدار ھو کر واپس لوٹا تو بیوی نے ملازمت کو ترک کر دیا اور وزیر کی بیوی کو ملازمت چھوڑنے کی خبر تک نہ ھوئی حالانکہ ملازم جو اتنی دیر سے کہیں نوکری کررہا ھو مالک اس کے گھریلو حالات سے بھی واقف ھو جاتا ھے ۔اتنا شاندار محل بننے میں کئی نماہ صرف ہوئے ھوں گے ۔ایک یا دو دن کی تو بات ہی نہیں ھے لیکن وزیر کی بیوی کو اس وقت پتہ چلتا ھے جب وہ اتفاقآ بالا خانے پر جاتی ھے حالانکہ محلہ یا بستی میں کوئی معمولی سی تعمیر بھی ھو تو محلہ والوں کو پتہ چلتا ھے۔(جاری ھے )
     
  18. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    یا اخ مخلص

    نصیحہ

    پلئیز یہ جنی سائز نا رکھا کریں فونٹ کا

    پڑھنے سے پہلے ڈر لگتا ہے اس کو دیکھ کر:00002:

    پلئییییز سائز چھوٹا رکھا کریں

    یقین نہیں پکا یقین ہے بھیا ناراض نہیں ہونگے

    میری بات سے​

    اللہ یجزاک الخیر

    بھیا شکریہ علم میں اضافہ کے لئے

    واللہ زندگی میں پہلی بار آپ سے ان کونڈوں کا ذکر سنا ہے


    ماشاء اللہ ہر بے ھودہ بدعت پاکستان میں پائی جاتیں ہیں

    جس کا نا سر ہے نا پیر

    فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ



    بھائی اب یہ سب سن کر اور پھر اس بدعت کے لئے بھی

    رحمن کی آیات کو جب دلیل بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے

    تو واللہ آگ لگ جاتی ہے مجھے

    پھر اگر غصہ نکالوں تو آپ منع کرتے ہیں

    اب آپ خود اس شخص کو مناسب جواب دیں ورنہ
    میں بھڑک گئی تو آپ منع نہیں کرنا
     
  19. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    سسٹر حوصلہ رکھیں جب تک میرا یہ مضمون مکمل ھوگا اس وقت تک جواب بھی آجائے گا انشاء اللہ
     
  20. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    سسٹر اپ نے کہا کہ امید ھے ناراض نہیں ھوں گے تو سسٹر پہلی بات تو یہ ھے کہ میں آج تک کسی سے ناراض نہیں ھوا پھر دوسری بات یہ ھے کہ کیا کوئی شخص جس کو بھائی یا بہن کھے اس سے ناراض ھو سکتا ھے ۔یقینآ بلکل نہیں تو پھر مین آپ سے کیوں ناراض ھوں گا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں