اسلام کا سیاسی نظام‏

مخلص نے 'متفرقات' میں ‏جولائی 29, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    کوئی معقول انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا قیام جمہوریت کے ذریعے اور نفاذِ اسلام کے لیے عمل میں آیا۔۔بانیانِ پاکستان حضرت علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے پیش نظر بھی ایسی ریاست تھی جو مکمل طور پر اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا لیکن نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس ملک میں اسلام کا نفاذ نہ ہو سکا کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل پر توجہ نہیں دی۔ بدقسمتی سے اسلام کے علمبرداروں نے بھی کما حقہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا۔ چنانچہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے عوام کو اسلام کے اصل سیاسی نظام سے روشناس کروائیں کہ ماضی میں ملوکیت کو اسلام کا سیاسی نظام کا نام دے کر جہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے وہاں ساتھ ہی آمریت کے لیے دروازے کھولے جاتے رہے جس نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصانات پہنچائے۔ حالانکہ اسلام کا بے مثال شورائی (جمہوری) نظام، آمریت‘ بادشاہت‘ فوجی حکمرانی اور ہر اس ظالمانہ نظام کو مسترد کرتا ہے جس کی بنیاد جمہوریت یا شورائیت نہ ہو۔
    اسلام کے جمہوری نظام کے اصول کتاب و سنت میں محفوظ ہیں جس کی تفاصیل کتب تفسیر‘ حدیث نبوی اور مستند کتب سیرت و تاریخ میں ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ دنیا کے سامنے انسانی زندگی کے اہم ترین پہلو یعنی نظام سیاست و حکومت کے خدوخال بالکل واضح ہو جائیں اور اسلام کا جمہوری نظام عمل نبوت سے گزر کر ایک اسوہ حسنہ کی صورت میں سامنے آ جائے۔ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ احترام آدمیت دراصل جمہور کی آزادانہ رائے کے اظہار اور اسے تسلیم کرنے اور گوارا کرنے میں ہی مضمر ہے۔ رسالت و ریاست کے اجتماع و یک جائی سے جمہوری نظریہ سیاست کی بنیاد پر مدینہ منورہ میں دنیا کی اولین اسلامی جمہوری (شورائی) ریاست قائم ہوئی ۔ اس ریاست کا حکمران باہر سے آیا مگر کسی فوجی فتح کے نتیجہ میں اس کا داخلہ نہ ہوا تھا بلکہ یہ داخلہ تو فاتحانہ ہی تھا۔ جو دلوں کو محبتوں اور عقیدتوں سے مسخر کر گیا تھا۔ اس ریاست میں بسنے والے مختلف مذاہب کے پیروکار بھی تھے اور مختلف اجناس و اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی۔ مگر سب نے باہم پر امن رہنے کے لیے مساویانہ حقوق شہریت کی بنیاد پر ایک دستور مرتب کیا تھا۔ جسے تاریخ کا اولین تحریری دستور ہونے کا شرف حاصل ہے یہ دستور ان ”دو رکعت کے اماموں“ کو دعوتِ فکر بھی دیتا ہے جو ”قوموں کی امامت“ سے نا آشنا ہیں اور یہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اسلام میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی انتظامی دستور بنانا یا تحریر کرنا حرام اور کفر ہے اور یہ کفر یہ نظام ”جمہوریت“ کا خاصہ ہے۔ حالانکہ شورائی نظام (جمہوریت) مقصود خدائے بزرگ و برتر اور آئین فطرت بھی ہے کہ روز ازل میں اللہ تعالیٰ کے حضور ملائکہ کا جمہوری مشورہ کہ تقدس و تسبیح کے لیے جب ملائکہ کافی ہیں تو سافک الدماءانسان کو خلافتِ ارضی کے لیے پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن خدا کا یہ جواب کہ علام الغیوب کے علم میں جو کچھ ہے اسے ملائکہ نہیں جانتے۔ درحقیقت ہمارے لیے یہ پیغام تھا کہ مشورہ سب سے لیا جائے مگر علم میں بلند تر اور دانش میں نمایاں تر کی بات ہی درست اور صائب ہو گی۔
    فطرت کا دستور بھی گویا جمہوریت کا آئینہ دار ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے دنیا موروثی بادشاہت اور ولی عہدی کے سوا اور کسی انداز و اسلوب حکمرانی یا نظام حکومت سے آشنا نہ تھی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا جانشین مقرر نہ کرنا بلکہ اسے اللہ کی حکمت اور اہل ایمان کی رائے کے سپرد فرما دینا‘ پھر خلفائے راشدین اربعة کا ولی عہد مقرر کرنے سے احتراز کرنا اسی بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ولی عہد کا تقرر یا موروثی بادشاہت اسلام کا منشا و مقصد ہرگز نہیں ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قیصریت و کسراویت نے ملت اسلامیہ کو ملوکیت کے شکنجے میں جکڑ دیا اور افرادِ امت کا کام صرف آنکھیں بند کر کے اطاعت و تسلیم رہ گیا۔ شوریٰ اور جمہور کی رائے قصہ ماضی بن کر تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئی۔اب عوام کی رائے سے خلیفة یا صدر کا انتخاب باطل و کفر قرار پایا جو ایک مسلسل وبال بن کر ہمارا بیڑہ غرق کر رہا ہے۔ آج ہم بے قرار اور بے سکون صرف اس لیے ہیں کہ عدل و انصاف ناپید ہو چکا ہے جو جمہوری نظام کی بنیادی اساس ہوا کرتاہے۔ جمہوریت کا دوسرا کام آدمیت کا احترام و مساوات ہے جو عدل کے بغیر ممکن نہیں۔
    سرورِ کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ اکرامؓ کے مشوروں کو ہر حال میں اہمیت دی۔ اکثریت کی رائے کا مکمل احترام فرمایا اور جمہور کے فیصلوں کو اللہ پر توکل اور ایمان کے ساتھ نافذ کر کے امت کی جمہوری تربیت کے لیے بے مثال قابل عمل نمونے قائم فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو یہی حکم دے رکھا تھا۔ ابن قتیبہ کا کہنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بھی مشورہ لیا کرتے تھے اسی طرح صحاح سة میں یہ حدیث بھی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مشاورت کا پابند کسی اور کو نہیں دیکھا۔
    خلفائے راشدین کے انتخاب اور طرزِ حکمرانی میں جو جمہوری انداز اپنایا گیا تھا وہ بعد کے ادوار میں نہ صرف پس پُشت ڈال دیا گیا بلکہ بعد میں آنے والے مسلم مفکرین کی توجہ کا مستحق بھی نہ رہ سکا۔
    اسلام میں شورائی (جمہوری)نظام کی اہمیت اور تقدس کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب مقدس قرآن مجید کی ایک مکمل سورت کا نام ہی ”سورة الشوریٰ“ ہے اور اس میں مسلمانوں کے شورائی (جمہوری) طرزِ حکمرانی کو عبادات اور اخلاق جیسے اوصافِ مومنانہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ کسی کی رائے سے اختلاف رکھنے والے کو مکمل طور پر برداشت کرنا‘ اس کی بات پر توجہ دینا‘ یعنی حزب اختلاف (اپوزیشن) کو مطمئن کرنا اور اکثریت کے فیصلے کا پورا پورا احترام کرنا اور از روئے قران و سنت اور آثارِ صحابہ واجب ہے۔ جبکہ سورة آلِ عمران کی 159نمبر آیت میں مشورہ لینے کے حکم کے ساتھ عزم اور توکل کے حکم میں بھی دراصل اشارہ اس بات کا ہے کہ اکثریت کی رائے سے جو فیصلہ طے ہو جائے اسے عزم بالجزم کے ساتھ نافذ کر دیا جائے اور نتائج کے سلسلے میں اللہ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کیا جائے اور یہی اسلامی جمہوریت کا امتیاز اور مطلوب و مقصود بھی ہے۔ اگر اسلام کا منشا قیام حکومت یا سیاسی نظام نہ ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے خلفائے راشدین ایک منفرد حکومت قائم کر کے دنیا بھر کی فتوحات اور تسخیر کے لیے قافلہ در قافلہ نہ نکلتے اور بادشاہانِ وقت کے ساتھ خارجی روابط اور دعوتِ اسلام کے لیے سُفراءاور رسائل نہ ارسال کرتے اور نہ ہی امت کو بالخصوص اصولِ حکمرانی تلقین فرمائے جاتے۔
    حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام جن سیاسی قدروں اور جس طرزِ حکمرانی کا علمبردار ہے وہ نہ صرف جمہوری اقدار اور جمہوری طرز کی حکمرانی ہے بلکہ وہ عصرِ حاضر کی صدارتی و پارلیمانی جمہوریت سے افضل اور انسانیت کے لیے زیادہ نفع بخش بھی ہے۔ اسلام کی جمہوری قدریں دراصل عادلانہ قدروں سے عبارت ہیں اور یہ عدل کو تقویٰ سے وابستہ کرتا ہے۔ عدل دراصل احترامِ آدمیت مساوات اور خدمت انسانیت کی زندہ و نمائندہ علامت ہے اسی لیے اسلام جن جمہوری اقدار کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ان میں عدل و انصاف کو اولیت حاصل ہے۔ چنانچہ اسلام کی (قرآن میں) اس ضمن میں کچھ خاصی اصطلاحات ہیں جنہیں ہم اسلامی اصطلاحاتِ جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں۔ ان اصطلاحات میں ملا¿ (کونسل) ایتمار (باہمی مشورہ)،خلیفہ (جائز نمائندہ) ، استفتاء(استصوابِ رائے یا ریفرنڈم)، مبایعت (عوامی تائید) شوریٰ (قومی اسمبلی) وغیرہ۔
    ان قرآنی اصطلاحات میں دورِ حاضر کی جدید ترین جمہوریت کے واضح خدوخال دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب سورة آل عمران میں رسولِ برحق کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ امور حکومت و مہمات طے کرتے وقت اپنے پیروکاروں کی جمہوری رائے اور مشوروں کو اہمیت دیں تو عام مسلمان حکمرانوں کے لیے جمہوری (شورائی) نظام عنداللہ کیا اہمیت رکھتا ہو گااور آمریت کی کہاں تک اسلام میں گنجائش نکلتی ہے۔ اندازہ لگانا نہایت آسان ہے۔
    حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے مغرب کی شُتر بے مہار جمہوریت پر تنقید کی تھی کہ۔
    جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
    بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
    جبکہ اسلام کا عطا کردہ جمہوری نظام آج کے ان تمام جمہوری نظاموں سے ممتاز اور ارفع ہے کہ یہاں بندوں کو گننے کے ساتھ ساتھ انہیں تولنے کا استحقاق بھی دیا گیاہے۔
    اسی طرح اسلام کی جمہوریت میں حاکمیت (یعنی قانون ساز) صرف اللہ کی ہے۔ ”حکم تو سراسر اللہ تعالیٰ کا ہی ہے“ کے قرآنی حکم رو سے عوام کوئی نیا دستور حیات مرتب نہیںکر سکتے البتہ آواز خلق خدا تسلیم کرتے ہوئے عوام اپنی مرضی سے جمہوریت کے ذریعے اپنے لیے ایک ایسا سرپرست چُن سکتی ہے جو احکامِ الٰہی کے نفاذ اور خلقِ خدا کے تحفظ کی ضمانت دے سکے۔ مملکتِ خدادا پاکستان کے بانی محمد علی جناحؒ کا اپنا نظریہ بھی یہی تھا۔ چنانچہ جب اُن سے یہ سوال کیا جاتا کہ پاکستان کا دستور کیا ہو گا تو وہ یہی جواب میں فرمایا کرتے کہ ہمارا دستور صرف اور صرف قرآن کریم ہو گا۔
    اسلام کے جمہوری نظام کے حوالے سے اسلام کی اولین قومی اسمبلی ”دارِ ارقم“ کے متعلق تاریخی ماخذ اور مصادر کے گہرے مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔ قریش مکہ کے پارلیمنٹ ہاﺅس ”دارالندوہ“ کے مقابلے میں امتِ مسلمہ اسلام اسمبلی ہال ”دارارقم“ ہی میں دین و دنیا کی متوازن زندگی کی عملی تربیت کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی تھی جس کے نتیجے میں امت مسلمہ نے اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر دنیا میں ہمہ گیر عالمی انقلاب کی قیادت و علمبرداری کا فریضہ سرانجام دیا۔
    اسی مسلم اسمبلی میں طویل مشاورت کے بعد پہلی ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ ہجرتِ مدینہ کو بھی اسی ”دارارقم“ میں اسلامی مجلس مشاورت میں زیر بحث لایا گیا۔ تبلیغ اسلام کے پروگرام بھی بنتے تھے۔ سوال و جواب کی نشستیں بھی ہو اکرتی تھیں۔ یہی دارِارقم مسلمانوں کا پہلا اسمبلی ہال تھا۔ جہاں ہر قسم کے امور و معاملاتِ زندگی باہم مشوروں سے نمٹائے جاتے تھے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی اور صفہ کی درسگاہ نے ”دارِارقم“ کی جگہ لے لی تھی۔ چنانچہ جب مدینہ منورہ کی قومی اسمبلی نے جب ”میثاق مدینہ“ جیسا تحریری دستور پاس کیا تو سب نے اُس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ باوجودیکہ جنگ احد میں آنحضرت کے خواب اور اسی کی تعبیر کے برعکس اکثریت (جمہور) کی رائے اور فیصلہ قابلِ قبول و قابل عمل قرار پایا جو نتائج کے اعتبار سے بہتر ثابت نہ ہوا مگر پھر بھی غزوہ احد کے بعد نازل ہونے والی آیات میں رسول اعظم کو امور مہمات و حکومت میں اپنے ساتھیوں کو مشورہ میں شریک کرنے کا حکم ربانی صادر ہوتا ہے کہ ”انہیں (حکومت کے) معاملات میں شریک مشورہ کیجیے۔ ہر فرد کو آزادی کے ساتھ اظہار رائے کی اجازت تھی، بعض اوقات صحابہ اکرامؒ کو یہ گستاخی کی طرف بڑھتی ہوئی معلوم ہوتی اور حضور کے سامنے معذرت کی نوبت آتی مگر انسانیت کا بول بالا کرنے والا رسول رحمت اور شورائی نظام (جمہوریت) کا علمبردار حکمران انہیں تسلی دیتا کہ یہ تمہارا پیدائشی حق تھا۔ گویا اسلام کا نظامِ سیاست وہ منفرد جمہوری نظام تھا جس نے آزادی پسند، خوددار، نڈر اور انصاف پسند افراد اور معاشرے کو جنم دیا۔ امام ترمذی (ابواب الجہاد 223:2) اور امام سیوطیؒ (الدر المنشور 90:2) نے حضرت ابوہریرہؓ کا یہ قول نقل کیاہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ لینے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا“ گویا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر جمہوری (شورائی) نظام پر عمل کرنے والا اور کوئی نہ تھا نہ ہو گا۔ حالانکہ آپ نبی مرسل تھے اور مامور من اللہ تھے مگر امت کو جمہوری روایات میں راسخ کرنا تھا۔ ابن قتیبہ (عیون الاخبار 27:1) نے نقل کیا ہے کہ سرور کائنات ہر چھوٹے بڑے مرد و عورت سے مشورہ لیتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے۔ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ اسلامی جمہوری ریاست کے سربراہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جس مسئلے کے لیے سب سے پہلی مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی) کا اجلاس طلب فرما رہے ہیں وہ اہل ایمان کو وقت پر مسجد میں با جماعت نماز کے لیے یک جا کرنے کا بلاوا ہے۔ تمام کتب حدیث و سیرت اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ نماز کی دعوت کے لیے کوئی حکم ربانی نازل نہیں ہوا اور یہ بھی کہ یہ معاملہ نبوی مجلس شوریٰ میں طے ہوا تھا۔ عہد نبوی میں عرب و عجم میں موروثی بادشاہتیں قائم تھیں۔ ظہور اسلام کا وقت انسانیت کے دکھ درد کی انتہا کا وقت تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے انسان کے سامنے حکمرانی کے جو نمونے موجود تھے ان میں سے کوئی بھی نہ تو انسان کے لیے عزت و آرام کی زندگی کا ضامن تھا اور نہ ہی یہ کسی کے علم میں تھا کہ حقیقی شورائی (جمہوری) نظام ہی عزت اور احترام کی زندگی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایسے وقت میں اسلام نے جو انوکھا جمہوری (شورائی) نظام پیش کیا اس کا طرہ امتیاز اور حقیقی روح یہ تھی کہ
    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز
    جمہوریت اگر ایسی حکومت کا نام ہے جو عوام کی ہو، عوام میں سے اور عوام ہی کے لیے ہو تو پھر اس روئے زمین پر صرف خلافت نبوی کامل اور اصل جمہوریت تھی، ایسی جمہوریت نہ کبھی دنیا میں کہیں قائم ہوئی اور نہ ہو سکے گی۔ البتہ اس بے مثال جمہوریت کی تقلید میں تمام انسانیت کی فلاح ہے۔ خلفائے راشدین کے تقرر اور انتخاب کے ضمن میں جو تین مختلف طریقے اختیار کیے گئے ان تینوں طریقوں میں جو باتیں مشترک نظر آتی ہیں وہ مشاورت ہے اور پھر عوام الناس کی تائید بذریعہ بیعت یا ووٹ جو آج کے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ یعنی اقتدار کی حقیقی غایت جمہور امت کی حمایت ہے۔ عوام الناس کی غالب اکثریت کا مینڈیت ہی اسلام کے شورائی جمہوری نظام کا اصل اصول ہے۔ گویا اسلام کی جمہوریت عوام کی وہ حکومت ہے جو عوام کے ذریعہ عوام کے لیے قائم ہوتی ہے اور عوام کی دسترس میں رہتی ہے۔ اس کی بہترین مثال فاروق اعظمؓ کی بے مثال عوامی فلاحی حکومت ہے آپؓ حج اور دیگر مواقع پر کھلی کچہریاں لگاتے جہاں عمال حکومت اور خود خلیفة المسلمین کو بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا تھا۔ حقیقی جمہوریت کی حقیقی روح سے مستفید ہونے کے لیے عالم اسلام اور خصوصاً اہلِ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ اسلام کے جمہوری نظام کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پھلنے پھولنے کے بڑے روشن امکانات ہیں کیونکہ پاکستان دراصل دو بنیادی عناصر کا مرہونِ منت ہے اور یہ دو عناصر ہیں اسلام اور جمہوریت۔ اندرونی اور بیرونی عناصر کی مفاد پرستی اور سازش نے پاکستان کے دونوں ستونوں کو یہاں کبھی پنپنے نہیں دیا۔ جمہوریت جاگیرداری، سرمایہ داری اور فوجی نوکر شای کے ہاتھوں کھلونا بنی رہی۔ اسلام ”دو رکعت کے اماموں“ کے ہاتھوں فرقہ پرستی کے نرغے میں رہا۔ آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسلامی جمہوریت کا نفاذ پاکستان کا قومی ہدف قرار پائے اور اس کے لیے ہمیں اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ اسلامی جمہوریت میں بندوں کے گننے کے ساتھ ساتھ بولنے کی بھی بھر پور گنجائش ہے اور تولنے کا پیمانہ صرف اور صرف ”تقویٰ“ ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ
    ابھی تو حسنِ ازل کا سنورنا باقی ہے
    ابھی تو عشق کا جاں سے گزرنا باقی ہے
    ابھی تو مہر ترقی ابھرنا باقی ہے
    ابھی تو کام بہت ہے جو کرنا باقی ہے
     
  2. مخلص

    مخلص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 24, 2009
    پیغامات:
    291
    جنت سے محرومی

    صحابی رسول جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لایدخل الجنة قاطع قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (البخاری الادب باب اثم القاطع 5984، مسلم، البر والصلة 2556)
    اسی طرح سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزرگی والا ہے۔ فمن قطعھا حرم اللہ علیہ الجنة جو آدمی قطع رحمی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ (احمد والبزار قال البانی صحیح، صحیح ترغیب 2532)
    ہمارے معاشرے میں اگر کوئی کسی سے ناراض ہو جائے تو کہتے ہیں اگر ہم مر گئے تو آپ ہمارے جنازے پر نہ آنا اور اگر آپ مر گئے تو ہم آپ کے گھر نہیں آئیں گے۔ یہ ساری شیطان کی بتائی ہوئی باتیں ہیں جو ایسا کرتا ہے اس کو دنیا میں ہی سزا مل جاتی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سزا دنیا کے اندر ہی دے دیتا ہے اور آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداﺅد، ابن ماجہ و وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2537 والصحیحہ918)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمان سے مشتق ہے اور عرش سے لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے۔ اے رب مجھے قطع کیا گیا، اے رب میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، اے رب مجھ پر ظلم کیا گیا۔ اے رب! اے رب! تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں اسے اپنی رحمت سے ملاﺅں جو تجھے ملائے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے۔ (احمد ج 2 ص 383، الحاکم ج 4 ص 179 وصححة الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2530)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے سب لوگوں کے اعمال شب جمعہ کو پیش کےے جاتے ہیں تو قطع رحمی کرنے والے شخص کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔ احمد، وحسنہ البانی ترغیب 2538 ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطع رحمی کرنا۔ (ابو یعلی صحة الالبانی الترغیب 2522)
    آج کل لوگ کہتے ہیں ہم تو صلہ رحمی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف سے قطع رحمی ہوتی ہے اس لےے ہم بھی نہیں کرتے۔ صحابی رسول عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جس سے قطع رحمی کی جائے تو پھر بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری، الادب باب لیس الواصل بالمکافی 5991)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن سے میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں، میں ان سے حوصلہ سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جاہلوں کا سا برتاﺅ کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہا تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ ڈالتا ہے اور جب تک تو اسی طرح کرتا رہے گا تیرے ساتھ اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک پشت پناہی کرنے والا رہے گا۔“ (مسلم 2557)
    ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی اور تاکیدی حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں چاہے میرے رشتہ دار مجھ سے منہ کیوں نہ موڑ لیں۔ (طبرانی، ابن حبان قال الیانی صحیح ترغیب 2525)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے عقبہ! صل من قطعک واعط من حرمک اس سے صلہ رحمی کرو جو تم سے قطع رحمی کرے اور اس کو دو جو تمہیں محروم رکھے۔ (احمد، حاکم قال البانی صحیح)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ماں باپ سے صلہ رحمی کرو، بہن اور بھائی سے، پھر جو تجھ سے رشتہ میں زیادہ قریبی ہو پھر جو تجھ سے رشتہ میں زیادہ قریبی ہو۔ (الحاکم ج 4 ص167)
    رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا دوگنا ثواب ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہی ہے جب کہ رشتہ دار پر خرچ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے۔ (صححہ البانی فی صحیح سنن ابن ماجہ 1494)
    ام کلثوم بنت عقبہرضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صدقہ کسی ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جس نے باطن میں دشمنی چھپا رکھی ہو وہ اجر میں سب صدقات سے افضل ہوتاہے۔ (المعجم الکبیر ج 3 ص 202 صححة الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2535)
    من کان یومن بااللہ والیوم الاٰخر فلیصل رحمہ (بخاری: 6138)
    ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ صلہ رحمی کرے۔“
    ابو ایوب الانصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے کہا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا اور نماز قائم کر، زکوٰة ادا کر اور صلہ رحمی کر۔ (بخاری:5983)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراوانی اور اس کی موت میں دیر ہو وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری۔ مسلم)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا نسب معلوم کر لو تا کہ صلہ رحمی کر سکو کیونکہ صلہ رحمی سے گھر والوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ مال میں اضافہ ہوتا ہے اور اجل میں تاخیر ہوتی ہے۔ (ترمذی، احمد، الحاکم، وصحہ البانی صحیح ترغیب 2520)
    صحابی رسول جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لایدخل الجنة قاطع قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (البخاری الادب باب اثم القاطع 5984، مسلم، البر والصلة 2556)
    اسی طرح سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزرگی والا ہے۔ فمن قطعھا حرم اللہ علیہ الجنة جو آدمی قطع رحمی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ (احمد والبزار قال البانی صحیح، صحیح ترغیب 2532)
    ہمارے معاشرے میں اگر کوئی کسی سے ناراض ہو جائے تو کہتے ہیں اگر ہم مر گئے تو آپ ہمارے جنازے پر نہ آنا اور اگر آپ مر گئے تو ہم آپ کے گھر نہیں آئیں گے۔ یہ ساری شیطان کی بتائی ہوئی باتیں ہیں جو ایسا کرتا ہے اس کو دنیا میں ہی سزا مل جاتی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سزا دنیا کے اندر ہی دے دیتا ہے اور آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداﺅد، ابن ماجہ و وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2537 والصحیحہ918)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمان سے مشتق ہے اور عرش سے لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے۔ اے رب مجھے قطع کیا گیا، اے رب میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، اے رب مجھ پر ظلم کیا گیا۔ اے رب! اے رب! تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میں اسے اپنی رحمت سے ملاﺅں جو تجھے ملائے اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے۔ (احمد ج 2 ص 383، الحاکم ج 4 ص 179 وصححة الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2530)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے سب لوگوں کے اعمال شب جمعہ کو پیش کےے جاتے ہیں تو قطع رحمی کرنے والے شخص کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔ احمد، وحسنہ البانی ترغیب 2538 ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطع رحمی کرنا۔ (ابو یعلی صحة الالبانی الترغیب 2522)
    آج کل لوگ کہتے ہیں ہم تو صلہ رحمی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف سے قطع رحمی ہوتی ہے اس لےے ہم بھی نہیں کرتے۔ صحابی رسول عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جس سے قطع رحمی کی جائے تو پھر بھی وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری، الادب باب لیس الواصل بالمکافی 5991)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن سے میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان سے حسن سلوک کرتا ہوں وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں، میں ان سے حوصلہ سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جاہلوں کا سا برتاﺅ کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہا تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ ڈالتا ہے اور جب تک تو اسی طرح کرتا رہے گا تیرے ساتھ اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک پشت پناہی کرنے والا رہے گا۔“ (مسلم 2557)
    ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی اور تاکیدی حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں چاہے میرے رشتہ دار مجھ سے منہ کیوں نہ موڑ لیں۔ (طبرانی، ابن حبان قال الیانی صحیح ترغیب 2525)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے عقبہ! صل من قطعک واعط من حرمک اس سے صلہ رحمی کرو جو تم سے قطع رحمی کرے اور اس کو دو جو تمہیں محروم رکھے۔ (احمد، حاکم قال البانی صحیح)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ماں باپ سے صلہ رحمی کرو، بہن اور بھائی سے، پھر جو تجھ سے رشتہ میں زیادہ قریبی ہو پھر جو تجھ سے رشتہ میں زیادہ قریبی ہو۔ (الحاکم ج 4 ص167)
    رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا دوگنا ثواب ملتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہی ہے جب کہ رشتہ دار پر خرچ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے۔ (صححہ البانی فی صحیح سنن ابن ماجہ 1494)
    ام کلثوم بنت عقبہرضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صدقہ کسی ایسے رشتہ دار کو دیا جائے جس نے باطن میں دشمنی چھپا رکھی ہو وہ اجر میں سب صدقات سے افضل ہوتاہے۔ (المعجم الکبیر ج 3 ص 202 صححة الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 2535)
    من کان یومن بااللہ والیوم الاٰخر فلیصل رحمہ (بخاری: 6138)
    ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ صلہ رحمی کرے۔“
    ابو ایوب الانصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے کہا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا اور نماز قائم کر، زکوٰة ادا کر اور صلہ رحمی کر۔ (بخاری:5983)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
    جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراوانی اور اس کی موت میں دیر ہو وہ صلہ رحمی کرے۔ (بخاری۔ مسلم)
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا نسب معلوم کر لو تا کہ صلہ رحمی کر سکو کیونکہ صلہ رحمی سے گھر والوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ مال میں اضافہ ہوتا ہے اور اجل میں تاخیر ہوتی ہے۔ (ترمذی، احمد، الحاکم، وصحہ البانی صحیح ترغیب
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں