کتاب التوحید کاعلمی جائزہ

الطحاوی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 14, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    کتاب التوحید کاعلمی جائزہ
    امام ابن خزیمہ کے نام سے شاید ہی کوئی حدیث کا طالب علم ناواقف ہوگا۔ان کی حیات کے چند گوشے اوران کی کتاب ’کتاب التوحید کا ایک طالب علمانہ جائزہ لیاجاتاہے۔
    نام :محمد بن اسحاق بن خزیمہ بن المغیرہ بن صالح بن بکر السلمی النیشاپوری۔
    کنیت ابوبکر
    القاب وآداب :الحافظ الحجۃ الشافعی امام الائمہ وصاحب التصانیف
    مولدومنشا:آپ صفر المعظم کے مہینہ میں223ہجری کو نیشاپور میں پیداہوئے۔ اورصغرسنی سے تحصیل علم حدیث میں مشغول ہوئے۔ چنانچہ آپ نے خراسان کے عالم اورمحدث اسحاق بن راہویہ متوفی238سے بھی احادیث سنی اورمحمد بن حمید الرازی متوفی230سے بھی احادیث کی سماعت کی ہے۔ لیکن آپ نے ان دونوں سے حدیث کی روایت نہیں کی ہے کیونکہ آپ نے بچپنے میں ان سے سناتھا جس وقت کہ فہم اوربصیرت جیسی ہونی چاہئے تھی وہ نہ تھی۔
    صفات
    تقویٰ اورزہد :ابوعثمان الحیری کہتے ہیں جب میں کوئی کتاب تصنیف کرناچاہتاہوں تواولاً میں نماز پڑھناشروع کرتاہوں اوراستخارہ طلب کرتاہوں۔اورخدا کی جانب سے دونوں میں سے کوئی ایک بات دل میں جب جم جاتی ہے توتصنیف کی ابتداء کرتاہوں۔
    ابوبکر محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن خزیمہ سے سناان سے پوچھاگیا تھا کہ آپ کو یہ علم کہاں سے نصیب ہواتوانہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ ماء زمزم لماشرب لہ یعنی زمزم کا پانی جس مقصد اورنیت سے پیاجائے وہ مقصداورنیت پوری ہوتی ہے۔ اورجب میں نے زمزم کا پانی پیاتواللہ سے علم نافع کا سوال کیاتھا۔
    سخاوت اورسیرچشمی:آپ سخاوت اورسیرچشمی میں بھی مشہور تھے اوراس سلسلے میں آپ کا حال یہ تھا کہ اپنے کپڑے تک سائل کو دے دیاکرتے تھے ۔
    ان کے پوتے محمد بن فضل کہتے ہین کہ میرے دادا ابوبکر کوئی چیز ذخیرہ کرکے نہیں رکھتے تھے بلکہ جوکچھ ہوتااس کو اہل علم پر خرچ کردیاکرتے تھے اوروزن کرنا بھی نہیں جانتے تھے اورنہ ہی دس اوربیس کے درمیان فرق کرنا جانتے تھے یعنی دنیاوی امور سے انہیں کوئی مطلب نہ تھا۔امام حاکم نقل کرتے ہیں کہ امام ابن خزیمہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی دعوت کی جس میں شہر کے تمام فقیروں اورامیروں تمام افراد کی دعوت کی اوران کے مختلف اقسام کے طعام سے ضیافت کی۔ اس دعوت میں اتنی خلق کثیرجمع تھی کہ ایسی دعوت کا اہتمام صرف بڑے بادشاہ سے ہی ممکن ہوسکتاتھا۔یہ بات 309جمادی الاولی ٰ کی ہے۔
    شجاعت وبہادری:آپ حق بات کہنے میں کسی امیر اورسلطان سے خوف نہ کھاتے تھے اورحق بات ان کے منہ پر برملااوربے باکی سے کہہ دیاکرتے تھے۔ابوبکر بن بالویہ کہتے ہیں میں نے ابن خزیمہ سے سنا وہ فرمارہے تھے’میں ایک مرتبہ امیر اسماعیل بن احمد کے پاس تھے۔ اس نے اپنے والد سے ایک روایت بیان کی جس کی سند میں اسے وہم ہواتومیں نے اس کو جواب دیااوراس حدیث کے متعلق صحیح سند بتائی۔ جب میں وہاں سے نکلاتو ابوذر قاضی نے مجھ سے کہاکہ ہم بیس سال سے یہ جانتے تھے کہ وہ اس حدیث کے بیان کرنے میں غلطی کرتاہے لیکن ہم میں سے کسی نے اسے ٹوکنے کی ہمت نہیں کی ۔میں نے ان سے کہا میرے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ میں رسول اللہ کی حدیث سنوں جس میں کوئی خطا یاتحریف ہو اوراس کا جواب نہ دوں۔
    وفات:311ہجری،ماہ ذی قعدہ دوسرے ہفتہ میں کی رات میں89سال کی عمر میں آپ نے دارفانی سے کوچ کیا۔
    کتاب التوحید:آپ کی تصنیفات میں ایک توصحیح ابن خزیمہ اوردوسرے کتاب التوحید مشہور ہے اس میں آپ نے اللہ رب العزت کے اسماء وصفات کی روایات نقل کی ہیں۔آپ کامسلک اس بارے میں تثبیت کا ہے۔یعنی اللہ رب العزت کے اسماء وصفات میں جتنی بھی روایات ہیں ان کی تاویل نہ کی جائے اورانکے ظاہر معنی کو باقی رکھاجائے۔یہی مسلک محدثین کا بھی رہاہے۔دوسری جانب اشاعرہ کا مسلک اس بارے میں تاویل کا رہاہے۔وہ جناب باری میں ایسے صفات جواحادیث یاقرآن میں واردہوئی ہیں جن سے مخلوق کے ساتھ مشابہت ہوتی ہو اس کی تاویل کرتے ہیں اوراس کے حقیقی معنی کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔اس کو تفویض کہاجاتاہے۔
    دونوں مکتب فکر کے اپنے دلائل اورایک دوسرے کے دلائل پر رد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابن خزیمہ پر ماضی میں مشہور مفسر امام رازی نے اوردور حاضر میں علامہ زاہد الکوثری نے تنقید کی ہے ۔لیکن اس کے بھی جوابات دیئے گئے ہیں۔اوراس کے بھی ہردور میں جوابات دیئے گئے ہیں۔ سردست ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں۔ہمارامقصود صرف یہ ہے کہ ہم کتاب التوحید لابن خزیمہ کا علمی جائزہ لیں۔
    مولف کا منہج :ابن خزیمہؒ نے اس کتاب میں محدثین کا طریقہ کار اختیار کیاہے۔ ہر روایت کو وہ سند کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ جیساکہ سابقہ محدثین کا بھی طریقہ کار رہاہے کہ مخالفین کے شبہات کا قرآن کی آیت اوراحادیث رسول اورآثار صحابہ اورتابعین کو سند کے ساتھ مختلف عنوانات کے ذریعہ جس سے ان کے موقف کی وضاحت ہو ،ذکر کرتے ہیں۔
    اس میں کبھی کبھار وہ مخالفین اورفریق کے بھی دلائل کو ذکرکرتے ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب کی ابتداء اس عنوان سے کی ہے۔ فاول مانبدابہ من ذکر صفات خالقناجل وعلافی کتابناھذا،ذکرنفسہ جل ربناعن ان تکون نفسہ کنفس خلقہ وعز ان یکون عدمالانفس لہ)اس عنوان کے بعد وہ یہ آیت کریمہ لائے ہیں۔ واذاجاء ک الذین یومنون بآیاتنافقل سلام علیکم ،کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ)
    اس کے بعد انہوں نے اس تعلق سے احادیث کاذکر کیاہے۔
    بسااوقات وہ ایساکرتے ہیں کہ ایک حدیث کو کئی ابواب میں ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس حدیث سے ان تمام عنوانات پر دلیل قائم ہوتی ہے۔کبھی کبھار وہ ان احادیث کے درمیان تطبیق بھی واضح کردیتے ہیں جن کے درمیان بظاہر تعارض کاشبہ ہوتاہے۔ان کے طریقہ کار کے تتبع سے پتہ چلتاہے کہ یہ کتاب انہوں نے املاکرایاتھا۔کیونکہ اپنی کتاب میں انہوں نے کئی مرتبہ املا کا لفظ استعمال کیاہے۔چنانچہ وہ مقدمہ میں کہتے ہیں۔وقدبدات کتاب القدر فأملیتہ وھذاکتاب التوحید)اسی طرح صفحہ29میں کہتے ہیں۔
    قداملیت طرق ھذاالحدیث فی ابواب الوصایا۔صفحہ33میں کہتے ہیں ۔قداملیت طرق ھذاالحدیث فی صبرالامام علی اذی الرعیۃ
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 14, 2009
  2. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    کتاب کی علمی قدروقیمت:
    یہ کتاب محدثانہ طرز پر عقائد کی ایک بیش قیمت کتاب سمجھی جاتی ہے۔کیونکہ اس کے مولف تیسری صدی ہجری کے علماء اورمولفین میں سے ہیں۔وہ اپنی کتابیں متصل سند کے ساتھ جورسول پاکﷺ تک پہنچاہو احادیث ذکرکرتے ہیں اوراسی میں سے یہ کتاب بھی ہے۔چونکہ مصنف یامولف نے امام بخاری اورامام مسلمکے شیوخ کا بھی زمانہ پایاہے۔ چنانچہ وہ امام بخاری اورامام مسلم کے شیوخ سے بھی روایت کرتے ہیں۔
    اس کتاب کی ایک اورعلمی قدرقیمت یہ بھی ہے کہ امام ابن خزیمہ بہت سی روایتیں کتب ستہ کے مولفین کے علاوہ دوسری طریق سے نقل کرتے ہیں۔
    کتاب التوحید کاایک نا قدانہ جائزہ:
    وہ علماء جن کے علم کی گہرائی اورگیرائی کی ایک دنیا معترف ہو،ان کی کسی بات پرتنقید کرناایک مشکل امر ہے۔لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ انسان کے ہر کام میں خطا اورغلطی کا امکان رہتاہے۔اسی لئے کسی بھی عالم کامقام اورمرتبہ خواہ کتناہی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن بہرحال غلطی اورخطاکاامکان ضرور رہتاہے۔لیکن اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ کسی عالم یامحدث پر نقد کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ اس ے استفادہ نہ کیاجاسکے۔
    اس پر تنقید دواعتبار سے ہوسکتی ہے۔ایک توایک فنی اعتبارسے اوردوسرے علمی اعتبار سے۔
    فنی اعتبار سے تنقید یہ ہوسکتی ہے کہ مصنیف نے بسااوقات ایک موضوع کیلئے بہت سارے ابواب قائم کئے ہیں۔مثال کے طورپر اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے ’ید‘(ہاتھ) ثابت کرنے کیلئے انہوں نے متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔بسااوقات ایسابھی ہوا ہے کہ انہوں نے ایک ہی حدیث کیلئے الگ باب قائم کیاہے۔مثال کے طورپر
    انہوں نے سب سے پہلے یہ عنوان قائم کیاہے۔’’باب ذکراثبات الید للخالق جل وعلا‘‘اوراس کے بعد انہوں نے متعدد آیات کو جوموضوع سے تعلق رکھتی تھیں ذکر کیا۔پھراس کے بعد انہوں نے دوسراباب یہ قائم کیا۔باب ذکر البیان من السنۃ ﷺ علی اثبات یداللہ جل وعلا‘‘اوراس کے تحت حضرت موسی اورحضرت آدم کے درمیان مکالمہ والی حدیث کو تیرہ طرق سے نقل کیا۔ پھر یہ باب قائم کیا۔باب ذکر قصۃ ثابتۃ فی اثبات یداللہ جل ثناؤہ بسنۃ صحیحۃ عن النبیﷺ بیاناًان اللہ خط التوارۃ لکلیمہ موسی،وان رغمت انوف الجہمیہ‘‘اوراس میں پھر دوبارہ حضرت آدم اورحضرت موسی علیہماالصلاۃ والسلام کی حدیث نقل کی ہے۔اوراس کے ساتھ ساتھ حدیث شفاعت بھی ذکر کی ہے کہ لوگ شفاعت کیلئے حضرت آدم کے پاس آئیں گے اورعرض کریں گے ’’انت ابوالبشر خلقک اللہ بیدہ‘‘۔پھراس کے بعد ایک اورباب باندھاہے۔(باب سنۃ ثالثۃ فی اثبات الید للہ الخالق الباری )اوراس کے تحت دوطرق سے یہ حدیث نقل کی ہے۔(لماخلق اللہ الخلق کتب بیدہ علی نفسہ ان رحمتی تغلب غضبی)
    پھر باب قائم کیا۔ (باب ذکر سنۃ رابعۃ مبینۃ لیدی خالقناعزوجل) اوراس کے ایک حدیث ذکر کیاہے۔پھر اسی طرح انہوں نے باب ذکر سنۃ خامسۃ ،باب ذکر سنۃ سادسۃ،باب ذکر سنۃ سابعۃ ،اسی طرح ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آخری باب یہ باندھا(باب ذکر السنۃ الثالثۃ عشرۃ فی اثبات یدی اللہ عزوجل۔جب کہ یہ تمام امور ایک باب کے تحت لائے جاسکتے تھے۔ہاں وہ چاہتے تواس کیلئے الگ سے فصول اورمباحث قائم کرسکتے تھے۔اسی طرح انہوں رویت باری تعالی کے اثبات اورشفاعت کے اقسام اوراس کے مستحقین کے بیان میں متعدد ابواب قائم کئے ہیں۔
    ایسابھی نہیں ہے کہ انہوں نے ہرجگہ ایساہی کیاہے بلکہ بعض اوقات انہوں نے قائم کردہ موضوع کوایک یادوباب میں ذکر کرتے ہیں۔ جیساکہ انہوں نے صفۃ الوجہ، صفۃ النزول، والعلو الاستواء رویۃ النبیﷺ لربہ کے عنوانات میں کیاہے۔
    شاید اس باب میں ان کا اورمتقدمین محدثین اورمولفین کا عذر یہ ہو کہ وہ طلباء کیلئے کتاب تالیف کرنے سے زیادہ یہ چاہتے تھے کہ طالب علموں کیلئے زیادہ سے زیادہ علمی گنجینہ اورخزانہ یکجاکردیں۔انہوں نے کتاب کی تقسیم ،تنسیق اوراورابواب وفصول کی طرف چنداں توجہ نہ تھی۔
    علمی اعتبار سے تنقید
    علمی اعتبار سے ان پر یہ تنقید ہوسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں یہ شرط رکھی کہ وہ اس میں تمام روایات ثقات عادل روایوں اورمتصل سند سے ہی ذکر کرین گے۔ جیساکہ انہوں نے متعدد مواقع پر بیان بھی کیاہے۔ چنانچہ وہ اسی کتاب کے صفحہ51میں کہتے ہیں۔
    ولست احتج فی شی من صفات خالقی الا بماھومسطور فی الکتاب ،اومنقول عن النبیﷺ بالاسانید الثابتۃ الصحیحۃ۔
    اسی طرح صفحہ399میں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اومنقول عن النبیﷺ بالاسانید الصحیحۃ الثابتۃ۔صفحہ137میں لکھتے ہیں۔ لانحتج بالمراسیل ولابالاخبار الواہیۃ ،ولانحتج ایضاً فی صفات ربنابالآراء والمقاییسصفحہ137میں ہی کہتے ہیں۔لانالانصف معبودنا الابماوصف بہ نفسہ فی کتابہ او علی لسان رسولہ ﷺ بنقل العدل عن العدل موصولاً الیہ۔سابقہ بیان کئے گئے امام ابن خزیمہ کے بیانات سے واضح ہوتاہے کہ انہوں نے اپنی اس تالیف میں صحیح روایات کا اہتمام کیاہے اورتمام روایات ثقہ اورعادل راوی اورمتصل سند سے ہی ذکر کی ہے۔لیکن اس کتاب کا تفصیلی مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مکمل طورپر درست نہیں ہے۔ اورمزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں کئی ایسی روایتیں ایسی راویوں سے موجود ہیں جن پر وہ خود کلام کرچکے ہیں۔چنانچہ خود انہوں نے کہاہے جس کی روایت ابوبکر بن محمد بن جعفر شیخ الحاکم نے کی ہے کہ میں شھر بن حوشب ،حریز بن عثمان اس کے مذہب کی وجہ سے،مقاتل بن حیان،اشعث بن سوار،علی بن زید بن جدعان،عاصم بن عبداللہ اورابوحذیفہ النہدی کو قابل حجت نہیں سمجھتا۔ان کے الفاظ ہیں لست احتج، جیساکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس فہرست میں انہوں نے کئی افراد کی احتجاج کی سند سے باہر نکال دیاہے۔ باوجود اس کے انہوں نے کتاب التوحید میں مذکورہ راویوں کی سند سے روایت نقل کی ہے۔جیساکہ شہر بن حوشب کی روایت رقم نمبر109،اشعت بن سوار کی رقم رقم نمبر138اورعلی بن زید بن جدعان کی روایت رقم نمبر198میں دیکھی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ بھی انہوں نے متعدد ضعیف راویوں سے روایت نقل کی ہے۔
    سالم بن سالم البلخی رقم نمبر337،
    ہلال بن ابی ہلاک479،
    عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی438،
    رشید بن کریب462،
    ابراہیم بن مجاہر بن مسمار236۔
    عبدالرحمن بن عثمان البکراوی280۔
    المصعب بن ابی ذئب 200۔

    مذکورہ راویوں میں سے بیشتر بلکہ کل ایسے ہیں جن کے ضعف پر اہل علم اورمحدثین کا اجماع ہے۔
    اسی طرح امام ابن خزیمہ نے اپنی تالیف کتاب التوحید میں مجہول راویوں سے بھی روایت نقل کی ہے۔
    عقبہ بن ابی الحسناء337۔
    عبداللہ بن قیس الاشعری471۔
    درج ذیل متروک راویوں سے بھی انہوں نے روایت نقل کی ہے۔
    بشر بن حسین ابومحمدالاصبہانی336۔
    خارجہ بن مصعب 337۔
    زیاد،اوزیادہ بن محمد الانصاری199۔
    اشعت بن سعید الانصاری265۔
    عمربن حفص بن ذکوان236۔
     
  3. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    ابن خزیمہ کا اس کتاب میں متعدد مواقع پر یہ طرز رہاہے کہ انہوں نے ضعیف راوی کے ضعف کی جانب اشارہ کیاہے ۔چنانچہ وہ صفحہ193میں کہتے ہیں واناابرأ میں عھدۃ شرحبیل بن حکم وعامر بن نائل وقد اغنانااللہ ۔۔۔عن الاحتجاج فی ہذا الباب بامثالھما۔صفحہ545میں وہ کہتے ہیں۔ہذا الشیخ سعید بن سوید لست اعرفہ بعدالۃ ولاجرح ،وعبدالرحمن بن اسحاق ھذا ھوابوشیبہ الکوفی ضعیف الحدیث،اسی طرح وہ صفحہ562میں کہتے ہیں۔لوکنت ممن استحل الاحتجاج بخلاف اصلی واحتججت بمثل مجال۔اسی طرح صفحہ1063میں وہ کہتے ہین۔ لیس ہذاالخبر من شرطنا ولاخبرنبیط عن جابان،لان جابان مجہول ،وقد اسقط من ھذاالاسناد نبیطاً ۔
    جیساکہ آپ نے مشاہدہ کیاکہ متعدد مواقع پر انہوں نے راوی کے ضعف اورسند کی کمزوری کی جانب اشارہ کیاہے لیکن اوپر ذکر کئے گئے رواۃ کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں کہااوران کی روایات بطور دلیل اوررواۃ کی تضعیف کی جانب اشارہ کئے بغیر کیا۔
    شاید اس باب میں ان کے پاس یہ عذر ہو کہ وہ روایتیں جو ضعیف اورمجہول الحال راویوں سے مروی ہیں بطور متابعت اوراستشہاد اورتقویت کیلئے ذکر کی گئی ہیں یا پھر یہ کہ یہ رواۃ ان کی نظر اورتحقیق میں ثقہ اورصادق وعادل ہوں۔اوران کی رائے ان رواۃ پر جرح کے سلسلے میں دوسرے ائمہ جرح وتعدیل کی رائے سے مختلف ہو۔اسی کے ساتھ یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ان کااصول یہ ہے کہ اصل ہرمسلمان کے اندر عدالت ہے۔توجب تک کسی کے بارے میں کوئی جرح یا ایسی بات نہ معلوم ہوجس کی بناء پر وہ تضعیف کے لائق ٹھہرتاہو تووہ ان کے نزدیک قابل احتجاج رہتاہے۔شاید اسی اصول کی بناء پر انہوں نے مجہول الحال راویوں سے روایت کی ہے۔یہی اصول ایک دوسرے محدث ابن حبان نے بھی اختیار کی ہے اوربہت سارے مجہول الحال راویوں کو ثقہ قراردیاہے یہی وجہ ہے کہ ابن حبان کے مجہول الحال راویوں کو ثقہ قراردینے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ کیونکہ جمہور محدثین اورفقہاء کے یہاں مجہول الحال والصفات راوی قابل احتجاج نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصواب
    بعض روایات میں تاویل:
    محدثین کا مسلک یہ رہاہے کہ وہ صفات باری تعالی میں وارد ہونے والی آیات اوراحادیث کی تاویل نہیں کرتے ہیں اوران کوظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں۔یہی مسلک امام ابن خزیمہ کا بھی ہے اوراسی کے اثبات کیلئے انہوں نے زیربحث کتاب بھی لکھی ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ بعض اوقات انہیں بھی تاویل کا سہارالیناپڑا اورانہوں نے احادیث صفات وذات میں تاویل کی ہے۔ مثلاً
    مشہور حدیث ’’ان اللہ خلق آدم علی صورتہ‘‘ میں انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ اس میں صورتہ کی ضمیر آدم کی جانب لوٹتی ہے اوراس حدیث کا مطلب یہ ہو اکہ اللہ نے آدم کو اپنی یعنی آدم کی صورت پر پیداکیاہے۔ابن خزیمہ اس حدیث کی تاویل میں کہتے ہیں۔(الھاء فی ھذالموضع کنایۃ عن اسم المضروب والمشتوم)
    اس کے بعد ’’لاتقبحواالوجہ فان ابن آدم خلق علی صورۃ الرحمن ‘‘میں وہ کہتے ہیں۔ ان اضافۃ الصورۃ الی الرحمن فی ھذاالخبر انما ہو من اضافۃ الخلق الیہ۔
    انتہائی ضعیف اورواہی روایات:
    حالانکہ یہ کتاب عقائد کے باب میں لکھی گئی ہے اس کا تقاضا یہ تھا کہ کہ اگر خبرآحاد کو عقائد کے باب میں بھی قابل احتجاج مان لیاجائے تو پھرصرف صحیح حدیثوں کا ذکر کیاجائے مگر افسوس کہ ایسانہ ہوسکا۔
    یہ توآپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ انہوں نے ضعیف اورمجہول اورمتروک راویوں سے روایت کی ۔اس کتاب میں انتہائی ضعیف اورواہی روایتیں بھی آگئی ہیں۔ مثلاً رقم نمبر33
    میں’’ان دون الرب یوم القیامۃ سبعین الف حجاب،حجاب من ظلمۃ۔۔۔۔۔۔‘‘بعض علماء نے اس کو موضوعات میں شمار کیاہے۔ چنانچہ ابن جوزی نے اس حدیث پر موضوع ہونے کا حکم لگایاہے لیکن دیگر علماء نے اس سے اختلاف کیاہے۔ چنانچہ حافظ سیوطی نے اس کے موضوع ہونے سے اختلاف کیاہے اورحافظ ذہبی کی رائے یہ ہے کہ اس کوموضوعات کی فہرست میں رکھنے کے بجائے واہی احادیث کے خانے میں رکھاجائے۔
    اسی طرح رقم 204میں مسلمانوں کے ہجرت حبشہ کے موضوع والی ایک حدیث ذکر کی ہے جس کے مضمون میں یہ بھی کہ ہجرت حبشہ کے دوران ہی عمروبن العاص اسلام لائے تھے جب کہ تمام اصحاب سیر اورمغازی اس پر متفق ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص فتح مکہ کے وقت اسلام لائے۔
    اسی طرح رقم نمبر595میں ’’ان اللہ خلق الارض علی حوت والحوت علی النون،والحوت فی الماء والماء علی صفاۃ۔۔۔۔۔۔الخ‘‘یہ اثر بیشتر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوف ہوتی ہے۔ اور اس حدیث کے مشتملات ایسے ہیں جس سے یہ واضح ہوتاہے کہ یہ اسرائیلیات سے اخذکردہ ہے۔
    آیت کی تفسیر:بعض اوقات انہوں نے آیت کی ایسی تفسیر کی ہے جو جمہورعلماء اورائمہ کی تفسیر کے مختلف ہے۔راجع صفحہ557
    بعض اوقات احادیث کے حکم میں اختلاف اورتردد
    بعض اوقات ایسا بھی ہو اہے کہ ایک حدیث پر ایک جگہ وضع اورکذب کاحکم لگانے کے دوسری جگہ اسی حدیث کے سلسلہ میں متردد اورمتحیر نظرآتے ہیں۔ مثلاً صفحہ583پر ایک حدیث بیان کرکے انہوں نے کہاکہ ’’ھذاالخبر کذب موضوع باطل وضعہ بعض الجھمیۃ‘‘جب کہ دوسری جانب اسی حدیث کے سلسلہ میں صفحہ586میں وہ متردد نظرآتے ہیں اورکہتے ہیں ’’ولوثبت ھذاالخبر ۔۔۔لکان عندنالہ معنی صحیحاً لاکماتوھمہ الجھمی‘‘پھراس کے بعد انہوں نے اس کی تاویلات اوردورازکار معنی تراشے ہیں۔
    تاویلات بعیدہ:
    بعض اوقات انہوں نے حدیث کے معنی اورمفہوم بیان کرنے میں دورازکار معانی بیان کئے ہیں جس کے بارے میں اتناکہاجاسکتاہے لاطائل تحتہ مثلاً صفحہ775پر
    ’’لن یوافی عبدیوم القیامۃ وھویقول لاالہ الااللہ یبتغی بذلک وجہ اللہ الاحرم علی النار‘‘وہ اس آیت کی تاویل میں کہتے ہیں۔’’انماارادبقولہ فی ھذاالخبر’’حرم علی النار‘‘ای حرم علی النار ان تاکلہ لاانہ حرم علی النار ان توذیہ اورتمحشہ ،اوتمسہ ،لان النار اذا اکلت مابقی فیہایصیرالماکول ناراً ،ثمارمادا،واھل التوحید وان دخلواالنار بذنوبہم وخطایاھم لاتاکلھم الناراکلاً یصیرون جمراثم رماداً بل یصیروں فحما کماذکرنافی الاخبار التی قدمناذکرھا‘‘جیساکہ ہرسمجھ سکتاہے کہ ابن خزیمہ کابیان کردہ یہ مطلب دورازکار اورجمہور محدثین اورفقہاء کے بیان کردہ تشریح اورفہم کے خلاف ہے۔کیونکہ جمہور محدثین اورفقہاء نے اس حرمان عل النار کے معنی عدم دخول، تحریم الملازمۃ والخلود یاکلمہ طیبہ کوصدق دل سے کہنے اوراس کے واجبات وشرائط پر عمل کرنے والے کے لئے ہے۔
    تردید واثبات:کبھی ایسا بھی ہو اکہ ایک جگہ جس بات کی نفی کرچکے ہیں دوسری جگہ اسی کو ثابت کیاہے مثلاً صفحہ214میں وہ کہتے ہیں کہ لفظ ’’قط‘‘(حدیث کا ایک حرف)نہیں پایاہے نہ قاف کے نصب اورنہ خفض کے ساتھ ۔پھر دوصفحہ کے بعد اسی تعلق سے وہ کہتے ہیں۔ ھکذا قال لنا محمد بن یحیی ثلاثاً بنصب القاف
    لیکن کوئی اس سے یہ نہ سمجھے کہ اس کتاب کی علمی قدرقیمت ختم ہوگئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کتاب کی علمی قدرقیمت بہت زیادہ ہے جیساکہ سابق میں ذکر کیاجاچکاہے۔اورکے استناد کیلئے اتناہی کافی ہے کہ ہم کہہ دیں کہ اس کے مصنف امام ابن خزیمہ ہیں۔ جن کو ان کے معاصر محدثوں نے شاندار الفاظ میں یاد کیاہے۔ویسے بھی انسانی کتاب میں غلطی اوربھول چوک کاامکان بلکہ واقعہ ہرحال میں ہوتاہی ہے۔
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    یہ مضمون درحقیقت کتاب التوحید واثبات صفات الرب عزوجل لابن خزیمہ کے محقق ڈاکٹر عبدالعزیز بن ابراہیم الشہوان کے مقدمہ کا ترجمہ ہے۔ کہیں کہیں راقم الحروف نے اپنی جانب سے بہت تھوڑا اضافہ کیاہے۔دوسری بات مصنف نے اس باب میں صفات باری تعالی میں اثبات کے مسلک کو جہاں جہاں سلف صالحین کی جانب منسوب کیاہے میں نے اسے محدثین سے بدل دیاہے۔چونکہ اشاعرہ بھی اپناانتساب سلف ہی کی جانب کرتے ہیں اورصفات باری تعالی میں تفویض کے مسلک کو سلف صالحین سے منسوب کرتے ہیں۔ اسلئے میں نے بہتر سمجھاکہ درحقیقت دونوں گروہ جس مسلک کو مانتے ہیں انہیں کاذکرکردیاجائے۔واللہ اعلم بالصواب
     
  5. مسلم

    مسلم Guest

    اس عمدہ شیئرنگ کیلئے۔۔ جزاک اللہ و خیرجمشید بھائی
     
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    پسند کرنے کا شکریہ مسلم بھائی
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    میں مجلس كى انتظاميہ كى توجہ اس جانب مبذول كروانا چاہوں گی۔

    كہ ريسرچ ميتھڈالوجی اور ٹیکسٹ ايڈیٹنگ كے اصولوں كے مطابق مترجم، محشى يا ايڈیٹر وغيرہ كسى مصنف كى تحرير ميں ايسى قطع وبريد يا اضافہ نہیں كر سكتے۔
    بلكہ ان كے تحفظات ، تبصرے يا حاشیے فٹ نوٹ میں لکھے جاتے ہیں تا كہ مصنف كى اصل عبارت اصل شكل ميں برقرار رہے۔
    اسى ليے ايسے اضافوں يا تشريحات كو اصل كتاب كے متن كےدرميان قوسين ميں ذكر كرنا بھی معيوب سمجھا جاتا ہے، كہ اس سے اصل متن برقرار نہیں رہتا۔
    جب کہ مصنف كى استعمال كردہ اصطلاحات سے اپنا اختلاف بھی صرف حواشی میں ہی ذکر کیا جا سکتا ہے۔
    جب کہ یہ تحریر خود مجلس کےاقتباس کے قوانین پر بھی پوری نہیں اترتی ۔
    كيوں كہ اس میں كوئى فٹ نوٹ، يا مصنف كے اصل متن اور مترجم كے اضافوں يا تبديليوں كا فرق ظاہر كرنے كی كوئى علامت كثلا: قوسين، ان ورٹڈ كاماز وغيرہ دكھائی نہیں دے رہیں۔
    اميد ہے تھریڈ پوسٹر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جائے گی۔
     
  8. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    624
    السلام علیکم
    محترمہ عین کا اعتراض نہایت معقول اور دیانت دارانہ ہے۔
    جمشید صاحب سے گذارش ہے کہ یا تو اسی تھریڈ میں ردّ و بدل کر لیں یا علیحدہ سے اصل تحریر پوسٹ کریں۔
    ان کے جواب کے بعد یہ تھریڈ اعلیٰ انتظامیہ سیکشن میں منتقل کر دیا جائے گا !
     
  9. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    فی الوقت میرے پاس مذکورہ کتاب نہیں ہے وہ لائبریری واپس کردی گئی ہے۔اس لئے فی الوقت ردوبدل سے قاصر ہوں۔چند دنوں میں جب کتاب واپس آئے گی توپھرردوبدل کردوں گا۔انشائ اللہ۔
    محترمہ عین کا شکریہ کہ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی ۔یہ توصحیح ہے کہ اپنے الفاظ مصنف کے الفاظ سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے مگر جہاں تک یہ بات ہے کہ اپنی بات حاشیہ میں ہی ذکر کی جائے تویہ کتابوں اورمقالات کی حد تک درست ہے ۔فورم کی دنیا میں عمومابریکٹ میں ہی اپنے خیالات کااظہار کیاجاتاہے میرے علم کی حد تک۔
     
  10. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,974
    چند دنوںکو چاہیے اک "طحاوی" عصر ہونے تک

    پتہ نہیں موصوف کے چند روز کب مکمل ہوں گے۔

    ایک سال تو گزر گیا ہے۔
     
  11. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    نالۂ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر
    اب جگر تھام کر بیٹھو میری باری آئے​

    قریبا100 صفحات پر مشتمل مقدمہ کا ترجمہ "راقم الحروف" یعنی طحاوی دوراں" نے قریبا 10 صفحات میں کردیا وہ بھی "اپنی جانب سے اضافہ کے ساتھ" واہ! مان گئے ہم طحاوی دوراں کی لیاقت کو! اردو کو عربی سے بھی جامع زبان بنا دیا۔ اردو ادب میں "الطحاوی" کا نام سنہرے حروف سے لکھا جانا چاہئے! لیکن اہل السنۃ والجماعۃ اس حرکت "علمی خیانت" سے تعبیر کرتے ہیں!!
    آپ کی کیا ہی بات ہے! آپ نے تو مصنف کے الفاظ کو ہی تبدیل کیا ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کے الفاظ کو بھی تبدیل کرتے ہو۔ جیسے کہ "ید" کے بجائے "قدرت" آپ کے اس ظلم و ستم سے مصنف کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں! آپ اپنی سمجھ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا کریں۔ اور جو بات جیسی ہو ویسے ہی بیان کر دیا کریں۔ اہل السنۃ والجماعۃ اس حرکت کو "دجل" سے تعبیر کرتے ہیں!
    کتاب ہم آپ کو مہیا کر دیتے ہیں، ایسی کون سی بڑی بات ہے! ڈاؤنلوڈ لنک حاضر خدمت ہے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]کتاب التوحید واثبات صفات الرب عزوجل لابن خزیمہ محقق ڈاکٹر عبدالعزیز بن ابراہیم الشہوان

    اب آپ اس مقدمہ کا ترجمہ پیش کردہ بلا قطع وبريد يا اضافہ کے تاکہ "اردو مجلس" کے صارفین کو حقیقت حال واضح ہو جائے !
    ہم سے پوچھو تو کہانی اور ہے
    پر "الطحاوی" کی زبانی اور ہے​
    [/FONT]
    یہ ایک نئی بات سامنے آئی ہے کہ فورم کی دنیا میں"علمی خیانت" اور "دجل" جائز ہے۔ ممکن ہے کے "اہل باطل" فورم کا یہ قاعدہ ہو!! مگر آپ نے یہ تحریر اہل باطل فورم پر پیش نہیں کی، اردو مجلس پر پیش کی ہے۔

    آپ کی اس پوری تحریر کا آپریشن ہونا بھی باقی ہے!
    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا​



    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    ہمارے" طحاوی دوراں" شرک و بدعت کی دعوت دینے کے لئے بہت لمبے چوڑے مضمون لکھ کر بہت سے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تھریڈ میں بھی انہوں نے ایسا ہی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ان شیطانی شبہات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اللہ سے دعا ہے کہ وہ توفیق دے او ر قبول فرمائے ۔ آمین!
    اس جملہ میں "طحاوی دوراں" نے اپنے اکابیرکی تقلید کرتےہوئے تحریف کی ہے، جس کا اعتراف وہ خود کر چکے ہیں در حقیقت یہی مسلک سلف الصالحین یعنی اصحاب رسول رضی اللہ عنہم ، تابعین وتبع تابعین رحمۃاللہ علیہم کا ہے۔
    جی جناب یہ مسلک معترلی جہمی بدعتیوں کا ہے، اور اشاعرہ کا مسلک بدعتی مسلک ہے۔ جس کا اعتراف اشرف علی تھانوی صاحب نے بھی کیا ہے ۔
    ثبوت کے لئے مندرجہ ذیل تھریڈ کا مطالعہ کریں:
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - دور حاضر كے احناف جہمی عقیدہ رکھتے ہیں

    قرآن و حدیث سے دلائل صرف مسلک سلف الصالحین و محدثین کےہی ہیں، اشاعرہ کےپاس سوائے "حجت بازی" کے کچھ بھی نہیں!

    ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ پر "مشہور مفسر امام رازی" یعنی فخرالدین رازی کی تنقید معتزلی ، جہمی و متکلمین کی بے جا حجت بازی و کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ فخرالدین رازی کے کچھ اقوال ملتے ہیں جس سے ان کا سلف الصالحین و محدثین کے منہج کی جانب رجوع کا اشارہ ملتا ہے!
    رہی بات "علامہ زاہد کوثری" کی تو ایسے جھوٹے کذاب وبدعتی کی تنقید کی اہل العلم کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں۔ یہ صاحب اپنی جہالت میں "علامہ" کہلانے کے مستحق ہیں!
    مندرجہ ذیل تھریڈ کا مطالعہ کریں:
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - علامہ الکوثری کے بدعی افکار

    جوابات صرف مسلک اہل سلف الصالحین و محدثین کے حامل علماء ہی دیا کرتے ہیں ، اور یہ معتزلی، جہمی و اشاعرہ کے مسلک کے حامل زاہد کوثری جیسے "جہلا" صرف حجت بازی ہی کیا کرتے ہیں،۔ سوائے اس کے ان کے پاس اور کچھ ہے ہی نہیں!

    الطحاوی صاحب! اگر آپ کو اس سےکوئی بحث نہ تھی تو کو اس کا تذکرہ کرنا ہی نہ تھا۔ اب جب تذکرہ آپ نے کیا ہے تو آپ کو بھگتنا بھی پڑے گا!

    جی بالکل جناب الطحاوی صاحب!اہل البدعۃ والضلال کو دنیا کا ہی خیال ہوتا ہے۔ انہیں محبت بھی دنیا سے ہوتی ہے اور خوف بھی دنیا کا! اہل السنۃ والجماعۃ دنیا کو کسی کھاتے میں نہیں لاتے، وہ برملا حق بات کہتے ہیں۔ اس حق گوئی سے "ایک دنیا" اہل السنۃ والجماعۃ کی دشمن ہوجاتی، مگر اہل السنۃ و الجماعۃ حق گوئی پر قائم رہتے ہیں۔ اب آپ دیکھئے کہ "نعمان بن ثابت الکوفی" کو اہل السنۃ والجماعۃ برملا ڈنکے کی چوٹ پر ضعیف کہتے اور لکھتے ہیں۔ حالانکہ اہل البدعۃ والضلال کی "ایک دنیا" انہیں اپنا "امام اعظم" مانتی ہے!

    اسی بات کا خیال مقلدین کو اپنے "اماموں " کے بارے میں اور بالخصوص مقلدین احناف کو اپنے "امام اعظم" کے بارے میں رکھنا چاہیئے ! کیونکہ ان کے "امام اعظم" کا علمی مرتبہ بھی کچھ زیادہ بلند نہیں، وہ حدیث میں ضعیف، ان کی فقہ کے رد میں امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں باقاعدہ ایک کتاب لکھی [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]"کتاب الرد علی ابی حنیفہ"
    ثبوت کے لئے کتاب کا لنک حاضر خدمت ہے:
    [FONT="_PDMS_Saleem_QuranFont"]مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الرَّدِّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ[/FONT]
    (جواب جاری ہے)


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
    [/FONT]
     
  13. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    موصوف یعنی ابن دائود اپنی سابقہ تحریروں کی طرح کیاکہناچاہ رہے ہیں اس کی وضاحت سے قاصر رہے ہیں۔سمجھ نہیں نہیں آتاکہ ان کااعتراض کس بات پر ہے۔100صفحات کی تحریر کو دس صفحات میں خلاصہ کرنے پر،عربی کاترجمہ اردو میں کرنے پر،یاکچھ اپنی جانب سے بڑھانے پر ۔
    یہ بھی سابقہ پریشان خیالی کی ایک اورمثال ہے۔

    یہ ایک اچھاکام کردیا جس سے اورواضح‌ہوجائے گاکہ کتنااورکہاں‌کہاں حذف واضافہ کیاگیاہے اور ابن دائود صاحب خود اپنے دام میں پھنس میں جائیں گے۔یعنی حقیقت حال اورواضح‌ہوکر سامنے آسکے گی۔
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    ایک صاحب گزرے ہیں سعودی عربیہ میں،ان بے چارے کابھی اعتراض یہی ہواکرتاتھاکہ شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کیوں چھوٹی موٹی کتابوں کو اپنی تعلیقات سے وزنی بنادیاکرتے ہیں اوردوسری بات یہ کہ ان کی کتابیں کلیات اورجامعات میں اصول حدیث کے طورپر کیوں نصاب میں شامل ہیں۔اب جس کو جلناہے جلتارہے۔
    اب جس ’’جاہل‘‘کویہی پتہ نہیں ہو کہ تحریف اوراصطلاح میں کیافرق ہے اوہ وہ اپنی علمی قابلیت کارعب جھاڑے تو یہ بڑاعجیب سالگتاہے تحریف توتب ہوتی جب میں نے خود واضح‌نہیں کیاہوتا۔جب میں نے ابن دائود کے اعتراض اورمجلس پر آمد سے قبل ہی واضح کردیاہے کہ میراطرزعمل یہ ہوگا توپھر کسی اعتراض کی گنجائش کہاں بچتی ہے یہ تومیری جانب سے میری تحریر میں ایک اصطلاح ہے جسے میں نے اختیار کیاہے اورلامشاحۃ فی الاصطلاح
    اوراگرجانناہوتو تحریف کسے کہتے ہیں تو وہ نام نہاد سلفیوں کا طرزعمل دیکھئے ۔امام نووی کی کتاب الاذکار میں جہاں امام نووی کے الفاظ تھے
    فصل فی زیارۃ قبررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    اس کو بدل کر اپنی جانب سے کردیا
    فصل فی زیارۃ مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
    جس پر اس کتاب کے محقق نے اس تحریف سے اپنی برات کااظہار کیاہے اورمزید اپنے ’’اخوان‘‘کی تحریفات جاننے کیلئے دیکھئے
    ??????? ??? ?????? ??????? ??? ????? ????? - ????? ?????? ????????
    شیخ زاہد الکوثری کے بارے میں کہاگیاہے ’’یہ صاحب اپنی جہالت میں علامہ کہلانے کے مستحق ہیں‘‘اس کے بارے میں دیکھئے کیافرماتے ہیں البانی صاحب کے ذہبی العصر یعنی علامہ معلمی اورالبانی کا اعتراف دیکھئے اورابن دائود صاحب کی ’’جہالت‘‘پر ہم دومنٹ کاسوگ منالیں۔
    وهذه الشهادة من باب من فمك ندينك فهذا رد على كل من يتبع الألباني ويقدح في الإمام الكوثري رحمه الله

    يقول الألباني في مقطع صوتي متحدثًا عن الإمام الكوثري رحمه الله :
    ((الذي أقوله آسفا أني لا أعلم له مثيلا في عصره في سعة اطلاعه على كتب الحديث المخطوطة))
    في الدقيقه الخامسة
    تفضل بالتحميل والاستماع

    يقول عصام موسى هادي تلميذ الألباني في كتابه
    (( محدث العصر الامام محمد ناصر الدين الالباني كما عرفته)) ص66-67مانصه:
    ((قلت للشيخ -اي الالباني- يا شيخنا اظن ان احمد بن الصديق الغماري رغم انحرافاته اوسع اطلاعا في الحديث من أحمد شاكر ، فاني اراه يستحضر للاحاديث من الشواهد والمصادر والنقول الشيء الكثير بل تراه في ابحاثه كما في " فتح الملك العلي" مع اختلافنا معه يأنتي بنقول يتعجب الواحد فيها من شدة استحضاره مما يدل على سعة في الاطلاع.
    قال شيخنا: من يقول هذا؟ قلت: أنا ، قال: كيف لو رأيت زاهدا الكوثري فهو أوسع اطلاعا منهما.)

    وفي تقديم المعلمي لكتاب: «تقدمة الجرح والتعديل» لابن أبي حاتم (ص: كو) قال:
    «وقد كان لفضيلة العلامة الكبير الأستاذ محمد زاهد الكوثري، مدَّ الله في أيامه، فضل كبير بتنبيهه على وجود نسخة (التقدمة) في مكتبة مراد ملا وإرشاده إلى نسخ كثير من الكتب،هذا مع حسن عنايته بمطبوعات الدائرة، شكر الله سعيه».
    وقد كتب المعلمي هذا الكلام في 23 شوال سنة 1371هـ، أي قبل وفاة العلامة الكوثري بقرابة الشهر فقط.

    ونقل الأستاذ محمد أمين، وهو من تلاميذ العلامة الكوثري، عن بعض أحبابه أنهم دخلوا على المعلمي قبل وفاته بشهر
    «وعنده بعض أهل العلم من علماء الهند، وجرى ذكر الكوثري في أثناء الكلام؛ فترحّم عليه وقال: كان، رحمه الله، ناقداً لا يُجارى في معرفة الإسناد، ودقيق النظر فيما يستدل به جرحاً وتعديلاً، ونحن نجله ونحترمه، وقلَّما رأينا مثله في العصور الأخيرة».
    انظر: «الدر النضيد شرح النظم العتيد»، تأليف: محمد أمين، 53،

    مندرجہ ذیل تھریڈ کا مطالعہ کریں:
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - علامہ الکوثری کے بدعی افکار
    اس تھریڈ کا تودنداں شکن جواب دیاجاسکتاہے لیکن شاید مجلس کے ارباب اسے شائع ہی کرنے سے انکارکردیں۔

    لیکن جہلاء کی حجت بازی کامظاہرہ توآپ کررہے ہیں اوردلیل کے نام پر ٹائیں ٹائیں فش ہے ۔
    دنیاکاخیال نہیں ہوتا بلکہ خود کوعقل کل نہیں سمجھتے جس طرح ایک مخصوص فرقہ ناشئہ سمجھتی ہے یعنی جوبات ان کی عقل شریف کے تنگنائے میں نہ سماسکے وہ مردود اورناقابل التفات ہے کبھی یہ غورکرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہوسکتاہے کہ ان کی اپنی عقل شریف ہی قابل رد ہو۔

    امام اعظم کاعلمی مقام ومرتبہ تواتنازیادہے کہ البانی صاحب کوبھی اعتراف کرناپڑاہے اورحافظ ذہبی کی زبان میں کہناپڑا اماالفقہ ودقائقہ فمسلمۃ الی ھذاالامام
    ولیس یصح فی الاذہان شیء
    اذااحتاج النہارالی دلیل
    اورحافظ ذہبی اوردیگر حفاظ حدیث نے ان کاتذکرہ حفاظ حدیث اورائمہ جرح وتعدیل میں کیاہے رغم انوف الحاسدین والحاقدین علیہ
    اورجہاں تک بات حافظ ابوبکربن ابی شیبہ کے رد کی ہے تواس کیلئے اس کتاب کا مطالعہ کیجئے ۔
    ??? ((????? ??????? ?? ?????? ?? ???? ??? ??? ???? ??? ??? ?????))?????? ??????? - ????? ?????? ????????
    مناقشہ جاری
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484

    السلام عليكم
    بہتر ہے كہ اس تھریڈ ميں طويل،لايعنى اور موضوع سے ہٹ کر نئى بحثيں چھیڑنے كى بجائے صرف ان سوالات كا جواب ديجيے کہ:
    1- كسى كى تحرير ميں سے اس كى استعمال كردہ اصطلاحات كو ہٹا كر اپنی اصطلاحات كا پیوند لگانا كيا كہلاتا ہے؟
    2- كسى كى تحرير كا ترجمہ كرتے وقت اصل تحرير ميں اپنے جملے ٹانکتے چلے جانا اور متن مصنف سے كوئى فرق نہ ركھنا، كيا كہلاتا ہے؟
    ياد رکھیے كہ اس حركت كا اعتراف يہاں كيا جا چکا ہے۔
    تحريف اور اصطلاح ميں فرق بيان كرتے ہوئے جو علمى موشگافياں كى جا رہی ہیں ان پر صرف ہنسا ہی جا سكتا ہے۔ محاورہ ہے کہ چورى اور سينہ زورى ، اور يہ محاورہ يہاں پوری طرح صادق آتا ہے۔
    يہ بھی خدا كى قدرت ہے كہ ايك جاہل ، ڈاكٹر الشہوان كے مقدمے كے ترجمے كے نام پر تحريف، تغيير، ردو بدل اور اضافہ كرتا ہے اور پھر مصر ہے كہ يہ تحريف نہیں اصطلاح ہے اور اس جاہلانہ دعوے كے بعد دوسروں كو جاہل قرار ديتا ہے۔
    ذرا وضاحت فرمائيے کہ تحريف كى كون سى تعريف ميں یہ لکھا ہے كہ تحريف كو اس وقت تحريف نہ كہا جائے گا جب محرف خود واضح كر دے كہ اس نے تحريف كى ہے؟
    تحريف تحريف ہی ہے چاہے محرف مانے يا نہ مانے۔چوری كو چوری ہی كہا جاتا ہے چاہے چور اس كو كچھ كہے۔

    تحریف كى تعريف ملاحظہ کیجیے:
    I'mHalal Results
    ياد رہے كہ محرف نے اس تحريف كو نہ صرف خود تسليم كيا تھا بلكہ اس مضمون كے اندر بحث علمى كے اصولوں کے تحت تبديلياں كرنے كا وعدہ كيا تھا ، اب سال بھر گزرنے كے بعد حضرت كو ياد آيا ہے كہ یہ تحريف نہیں یہ تو اصطلاح ہے۔ ماشاء اللہ دروغ گو را حافظہ نباشد ۔گزشتہ سال کی یہ پوسٹ دیکھیے:
    16-10-09, 10:43 AM

    فورمز كى دنيا ميں بہت تعليم يافتہ اور سلجھا ہوا علمى ذوق ركھنے والے افراد اور ادارے موجود ہیں جو بہت معيارى كام كر رہے ہیں۔يہ تو انسان كى اپنی كمزورى ہے كہ وہ اعلى معيار كو چھوڑ كر پست معيار اختيار كرے۔
    اگر صاحب موضوع واقعى علمى تحقيق اصول تحقيق نامى شے سے واقف نہیں تو ان روابط كےمطالعے سے افاقہ ہو گا۔
    I'mHalal Results
    I'mHalal Results
    I'mHalal Results
    I'mHalal Results
    علامہ كوثري كے علمى مرتبے کے تعين كے ليے ايك نيا تھریڈ ضرور كھول ليجيے،( اگر چہ ان كى كتابوں ميں موجود ان كا اپنا لب ولہجہ اور اخلاقى معيار ان كے علمى مقام كا تعين بخوبى كر چکا ہے۔ كسى بيرونى شہادت كى كيا ضرورت؟) موضوع سے فرار كا اچھا طريقہ ہے كہ لا يعنى اور غير متعلق تھریڈز كے دندان شكن جوابات كے دعوے كيے جائيں۔
    يہ ظن وتخمين چھوڑیں اردو مجلس پر بہت سی شطحيات شائع كروا كر خفت اٹھا چکے ہیں، یہ مضمون بھی ضرور ارسال كرديں۔ ان شاء اللہ نتيجہ مختلف نہ ہو گا۔
     
  16. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
    کون بےکاریہاں ہے جو سنے کام کی بات

    ڈاکٹر کلیم عاجز کی غزل کے اس مطلع سے آگے بڑھتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ یہاں پر کن" بے کار "لوگوں نے "بے فائدہ "بات چھیڑ رکھی ہے۔
    آج سے تقریباایک سال قبل جب حافظ ابن خزیمہ کی کتاب التوحید زیر مطالعہ تھی اس وقت ذہن میں آیاکہ مقدمے کا تلخیص کے ساتھ ترجمہ کردیاجائے چنانچہ اس ارادہ کو عملی شکل میں ڈھالایاگیااورپھر مجلس پر پوسٹ کردیاگیا۔
    اس کے تقریباایک ماہ کے بعد محترمہ نے اعتراض کیاکہ جہاں جہاں اپنی جانب سے اضافہ کیاگیاہے اس کو حاشیہ میں دیاجائے ۔میں نے کہاکہ فورم میں عمومابریکٹ میں یہ کام کیاجاتاہے اورفی الوقت وہ کتاب میرے پاس نہیں ہے۔
    اس کے بعد کافی عرصہ تک خاموشی رہی اورپھر میرابھی اس مکتبہ میں جانانہیں ہوا۔محترمہ نے ایک دومرتبہ بطور تعریض ایک دومرتبہ توجہ اوریاددہانی بھی کی لیکن فرصت کار نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام نہ ہوپایا۔
    اب ایک دوہفتے سے کچھ لوگوں کو پھر سے "خارش"ہونے لگی ہے اور وہ اس سنجیدہ موضوع پر بھی مذاکرہ سے زیادہ مجادلہ چاہتے ہیں۔ان کا جواب دیناضروری ہے اوراگرکہیں لفظوں اورجملوں میں تلخی اورشدت نظرآئے تومشفقان من اپنے ہی مراسلوں کا ردعمل سمجھیں ۔
    محترمہ اپنے حالیہ مراسلہ میں فرماتی ہیں
    بہتر ہے كہ اس تھریڈ ميں طويل،لايعنى اور موضوع سے ہٹ کر نئى بحثيں چھیڑنے كى بجائے صرف ان سوالات كا جواب ديجيے کہ:
    جس وقت مضمون لکھاگیاتھااس وقت محترمہ کاصرف ایک اعتراض تھا اور وہ یہ کہ
    جس کو تسلیم کرتے ہوئے میں نے لکھاتھا
    اب وقت گزرنے کے ساتھ محترمہ کے اعتراض میں ایک اوراعتراض کا اضافہ ہوگیاہے اور وہ کہ میں نے جو جوکہاتھا۔
    یہ بھی درحقیقت تحریف ہے
    چنانچہ وہ فرماتی ہیں
    یہ ان کاتازہ اورنیااعتراض ہے جس کے ورود اورنزول کو زیادہ دن نہیں گزرے پہلے ان کی عقل شریف میں صرف ایک ہی اعتراض آیاتھا۔اب چونکہ مجلس پر ابن داؤد نے یہ راگ الاپاہے توپھرُسرسےُسرملایاجارہاہے۔
    جہاں تک پہلے اعتراض کی بات ہے تو ابن داود نے کتاب التوحید کاربط دے دیاہے اب عربی سے واقف کوئی بھی بچشم خود دیکھ سکتاہے کہ میرے ترجمہ میں اورڈاکٹر شہوان کے مقدمہ میں کتنی مطابقت یامخالفت ہے۔اورترجمہ میں کہاں کہاں غلط بیانی ہوئی ہے ۔محترمہ نے نہ پہلے اورنہ اب کسی ایسی مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں بقول ان کے ترجمہ یاترجمانی میں کوئی تغیر یاتبدل کیاگیاہو۔اورنہ انشاء اللہ کرپائیں گی۔
    نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں​

    ترجمہ میں کون خیانت اورامانت علمی سے ہٹ کر کام لیتاہے اس کی میں کئی مرتبہ وضاحت کرچکاہوں اورمحترمہ کوبھی اچھی طرح معلوم ہے بار بار حوالہ دے کر شرمندہ نہیں کرناچاہتا۔لیکن اس اظہار میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اردو مجلس پر بہت سارے ترجمہ کنندگان کی تحریف اورصلات کاخیال رکھے بغیر عربی سے ترجمہ کرنے والوں سے کچھ اچھاہی ترجمہ کرتاہوں۔
    اب آتے ہیں ان کے دوسرے اعتراض کی جانب یعنی میں نے مضمون کے ساتھ ہی جس کااظہار کردیاتھاکہ اس میں مصنف کے ساتھ میں نے یہ طریقہ کار اختیار کیاہے یہ تحریف کے زمرے میں آتاہے بلکہ تحریف ہی ہے۔
    کیاکسی کتاب میں جس کی تلخیص ایک شخص کررہاہو اسمیں اگر وہ وضاحت کردے کہ وہ مصنف سے فلاں فلاں مقامات پر اختلاف کرے گا اورفلاں فلاں لفظ کو بدل دے گا توکیایہ تحریف کے زمرے میں آتاہے اس پر ایک سنجیدہ نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
    میرے کوتاہ اورمحدود علم کی حد تک ابھی تک ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ تلخیص کرنے والے نے مصنف سے اپنے اختلاف کی وضاحت کردی ہو اوراس کے باوجود اس پر تحریف کاالزام عائد کیاگیاہو۔
    تعجب کی بات یہ ہے کہ ماضی میں محترمہ کاوکی پیڈیا کے تعلق سے جوموقف تھا وہ شاید تبدیل ہوگیاہے پہلے توکہاں وہ وکی پیڈیا کوقابل اعتبار ریفرنس ہی نہیں سمجھتی تھیں اوراب وکی پیڈیاکاحوالہ دیاجارہاہے۔دوسری بات ان کے پیش کردہ روابط میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ اگرایک شخص پہلے ہی وضاحت کردے کہ وہ مصنف کے ان الفاظ کوتبدیل کردے گا تواس کے باوجود اسے تحریف کہاجائے گا۔اگرایساہے تو کوئی قابل اعتماد حوالہ میسر فرمائیں۔
    اورتیسری قابل غور چیز یہ ہے کہ ایک شے ہے کسی کتاب کی تحقیق کرنا،اس کے اصول وضوابط الگ ہیں۔ایک ہے کسی کتاب کا حوالہ دینااورایک ہے کسی مضمون کا ترجمہ کرنا اوراس میں مصنف کے الفاظ کو وضاحت کرکے اس سے الگ اصطلاح قائم کرنا،محترمہ کی نگاہ شاید ان میں موجود فرق کی جانب قطعانہیں گئی ہے اوروہ تینوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی روادار ہیں۔انہیں اپنے اس جاہلانہ یاغیرعالمانہ موقف پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
    جہاں تک علامہ کوثری کے علمی مقام ومرتبہ کا تعلق ہے توناصرالدین البانی صاحب اورعلامہ معلمی کے بیانات جس کے لنک میں نے پیش کئے ہیں وہ واضح کرنے کیلئے کافی ہے کہ الفضل ماشھدت بہ الاعداء،
     
  17. سیف اللہ

    سیف اللہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 1, 2008
    پیغامات:
    195
    فضیلۃ الشیخ، قاطعِ شرک و بدعت حضرت ہلاکو خان کے ورودِ مسعود کے عظیم الشان اور تاریخی موقع پر بھی علمائے کرام کچھ ایسے ہی علمی و فقہی مباحثوں، مناقشوں اور مجادلوں میں مصروف تھے کہ ظالم، کم بخت نے آکر فتح و شکست کا فیصلہ کرڈالا۔ اور علماء کی علمی محنتوں پر پانی پھیر دیا۔

    بیڑہ غرق ہوجائے اس کا۔
     
  18. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333

    بھای طحاوی سے غلطی سے
    سلف صالحين كى جگہ محدثین استعمال ہو گیا ہے
    اور غلطى سے اشاعرہ كو سلف صالحين ميں داخل كر گئے ہیں
    اور غلطى سے ترجمے كے دوران ۔۔۔كہیں کہیں ۔۔۔ بہت تھوڑا اضافہ ہو گیا ہے (زور كس پہ ہے ؟ كہیں کہیں پہ :00026: اور بہت تھوڑے پہ:00026:
    اميد ہےمحقق كتاب التوحيد ڈاکٹر عبدالعزیز بن ابراہیم الشہوان اپنے مقدمے ميں طجاوى كا اپنی جانب سے كہیں کہیں تھوڑا بہت اضافہ مائنڈ نہیں كريں گے ۔
    بھائی بڑے بڑے آدمى ان چھوٹی چھوٹی غلطيوں كى پرواہ نہیں كرتے ۔۔۔ :00026:
    کیا پتہ ڈاکٹر عبدالعزیز بن ابراہیم الشہوان خوش ہوں اپنے مقدمے ميں اتنے قيمتى اضافے ديكھ كر :00026:
    اب اتنى چھوٹی چھوٹی غلطيوں پر كيا بحث كرتے ہو
    فورمز كى دنيا ميں۔۔۔ اتنى اتنى غلطياں تو ہوتی رہتی ہیں :)
    كيا كيا جائے آخر طحاوى صاحب علم كى كتنى معراج پہ ہوں انسان ہیں ! :00026:
    کہہ تو رہے ہیں كتاب آجائے تو ردوبدل كر دوں گا ۔ اب كتاب آنے میں سال بھر كى دیر كوئى دير تو ہے نہیں :00016: فورمز كى دنيا ميں اتنى دير تو ہوتی رہتی ہے :00026:
     
  19. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333

    قبلہ طحاوى اپنے پسندیدہ فورم والى خارشى زبان ادھر ہی چھوڑ كر آيا كريں يہ اردو مجلس ہے، یہاں یہ زبان نہیں چلے گی۔:00038:وہاں آپ گالیاں بکنے والے ملنگوں كے ساتھ جس زبان ميں سُر سے سُر ملاتے ہیں وہ سب كو پتہ ہے ۔
    اندھا تعصب - URDU MAJLIS FORUM
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    علامہ زاہد الكوثرى كى اپنی زبان اس كى كتاب تبديد الظلام ميں ديكھیں
    فقد رمى ابن القيم بـ: (الكفر): (ص / 22-, 24, 28, 30, 36, 66, 170, 182) . و(الزندقة): (ص / 182) .
    و(أَنه: ضال مضل): (ص / 9, 10, 22, 23, 37) .
    (زائغ): (ص / 9, 16, 17, 22, 28, 35, 37) .
    (مبتدع): (ص / 8) .
    (وقح): (ص / 47, 168) .
    (كذاب): (ص / 41, 57, 168) .
    (حشوي): (ص / 13, 14, 39) .
    (بليد): (ص / 66) .
    (غبي): (ص / 10) .
    (جاهل): (ص / 25, 60) .
    (مهاتر): (ص / 27) .
    (خارجي): (ص / 28) .
    (تيس حمار): (ص / 28, 59) .
    (ملعون): (ص / 37) .
    (لا يزيد عنه في الخروج على الإِسلام والمسلمين لا الزنادقة ولا الملاحدة ولا الطاعنون في الشريعة: (ص / 57). (من إِخوانه اليهود والنصارى): (ص / 39).
    (منحل من الدين والعقل): (ص / 63) .

    حوالہ ���� ��� ������ ������ �������� - ��� ������ ����� - ������������������ �������� ���� ���������������������������� �������������������
    يعنى امام ابن قيم رحمت اللہ عليہ اس شخص نام نہاد علامہ كوثرى كے مطابق يہ سب ہیں۔ اس غلاظت كا ترجمہ طحاوى صاحب خود ہی کر دیں آخر ان كے علامہ كى زبان ہے :00026: ويسے طحاوى كيا خيال ہے آپكو ايك نام بڑا پسند آيا تھا، اس كا نام وہی رکھ لیں ؟ قاموس شتائم الكوثري
    علامہ كوثرى كے نزديك امام ابن تيميہ، امام ابن قيم،امام دارمى، امام عبد اللہ بن الامام احمد بن حنبل رحمت اللہ عليہ سب كے سب كافر ہیں۔۔۔۔
    يہ ہے وہ علامہ جس كى تعريف ميں طحاوى صاحب زمين آسمان كے قلابے ملا رہے ہیں !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں