برصغیر کی مشہور مسلم شخصیات

الطحاوی نے 'مسلم شخصیات' میں ‏مئی 1, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,826
    نام شیخ علی حبیب پھلواروی والد کانام ابوالحسن ،نسب کے اعتبار سے جعفری ہاشمی،
    25رمضان کو پٹنہ میں پیداہوئے۔
    کتابوں سے شغف تھا۔ اورکتابوں کابڑی گہرائی اورگیرائی سے مطالعہ کرتے تھے۔ مسلک احناف پر بڑی وسیع اطلاع تھی احنان کے قرآن وحدیث کے دلائل پر گہری نظرتھی۔
    آپ غالی حنفی نہ تھے بلکہ نہایت کھلے دل کے ساتھ اپنے مسلک کا جائزہ لیتے اورجوباتیں قرآن وحدیث کے خلاف نظرآتیں ان سے رجوع کرلیتے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ حنفی مسلک کے برخلاف قنوت نازلہ کو جائز سمجھتے تھے اورتشہد میں رفع سبابہ کے قائل تھے۔سری نمازوں میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا جائز سمجھتے تھے۔
    آپ کے زمانے میں جوبدعات رائج تھے قبروں پر چراغاں کرنا،قبروں کا طواف کرنا، ان سے حاجب روائی کرناقبروں سے مرادیں مانگنا۔ان سب کاآپ نے ردکیا۔
    آپ نے اپنی نوجوانی میں النعمۃ العظمی فی بعض المسائل لکھاتھا لیکن احادیث واآثار سے واقفیت کے بعد کھلے عام بعض مسائل سے آپ نے رجوع کرلیا۔
    تصفنیفات حسب ذیل ہیں۔ شواہد الجمعۃ فی ابطال الشرعیہ السطان لاقامۃ الجعمۃ کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہورہاہے کہ حنفیہ کے نزدیک جوکچھ شرائط جمعہ جمعہ کے قیام کیلئے ہیں ان کے قائل نہیں تھے۔
    الاسوۃ الحسنہ فی تفضیل الخلفائ الراشدین خلفائ راشدین کے مناقب اوران کی سوانح بیان کی گئی ہے۔
    ؎وفات:بروز پیر 27ربیع الاول 1395میں آپ کا انتقال ہوا۔
     
  2. ابو محمد

    ابو محمد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 24, 2008
    پیغامات:
    129
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اس ویب سائیٹ سے شیخ بدیع الدین شاہ رحمہ اللہ کا یہ جامع تعارف نقل کررہا ہوں امید ہے پسند آئے گا:

    علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کی حیات وخدمات

    نام : سید بدیع الدین شاہ

    کنیت : ابو محمد

    ذات : سید

    تاریخ پیدائش: بدھ 29/10/1344،مطابق 12/5/1926ع

    مقام پیدائش : گوٹھ فضل اللہ شاہ (پرانا پیر جھنڈا ) نزد نیو سعید آباد ،ضلع مٹیاری ،(سابقہ ضلع حیدر آباد ) سندھ

    خاندانی پس منظر : علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رح کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے ،بدیع الدین بن احسان اللہ بن رشد اللہ بن رشید الدین بن سید محمد یاسین بن سید راشد شاہ الحسینی ۔

    قاضی فتح محمد نظامانی تفسیر مفتاح رشد اللہ(1/24،27) میں سید راشد شاہ رحمہ اللہ کا نسب نامہ سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے ملایا ہے ۔ اسی طرح علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی اپنی چالیسویں پشت میں جناب امام حسین رضی اللہ عنہ سے ملتےہیں ۔

    جناب سید راشد شاہ کی اولاد کو راشدی حسینی کہا جاتا ہے سید راشد شاہ کے بڑوں میں سید علی مکی عراق کے شہر کاظمین سے ہجرت کر کے موجودہ ضلع دادو میں لکی شاہ صدر کے پاس آکر ٹھرے ،ان کی اولاد کو لکیاری سادات کہا جاتاہے ۔راشدی لکیاری سادات میں سے ہیں ۔ سیدراشد شاہ کے خاندانی اور دینی جانشینی کے لحاظ سے اولاد میں دو سلسلے چلے ۔

    1- پیر پگاروخاندان 2- پیر جھنڈو خاندان۔ علامہ سید بدیع لادین شاہ الراشدی کا تعلق پیر جھنڈو خاندان سے تھا ۔

    پیر جھنڈو خاندان کا علمی مقام بلند رہا ہے ۔سید رشید الدین شاہ الراشدی کو چودہویں صدی ہجری کا مجدد کہا گیا ہے ۔ جس نے عمل بالحدیث کو ترجیح دی اور تصوف کے بعض غلط مسائل کا رد کیا ،اس کے فرزند سید رشد اللہ شاہ سید نذیر حسین دھلوی اور امام شاکانی کے تلمیذ رشید علامہ حسین بن محسن الانصاری الیمانی کے شاگردتھے، انہوں نے حدیث کی خدمت کی اور مسلک اہل حدیث کی تائید میں، اور مخالفین کے رد میں بیشتر کتابیں لکھی ہیں۔

    تعلیم وتربیت : علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے اپنے خاندانی مدرسہ ”دار الرشاد“میں تعلیم حاصل کی اور شروع میں اپنے والد احسان اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کے زیر تربیت رہے، ان کے والد ماجد محب السنۃ اور سلفی العقیدہ عالم دین تھے۔ 1938ع میں سید احسان اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے وفات پائی، اس وقت آپ کی عمر چودہ یا پندرہ سال تھی۔

    اساتذہ: علامہ سید محب اللہ شاہ الراشدی، شیخ محمد اساعیل بن عبدالخالق سندھی، شیخ ولی محمد بن عامر کیریو، شیخ محمد نور عیسی خیل، شیخ بھاؤ الدین جلال آبادی، شیخ محمد مدنی، شیخ عبداللہ بن عمر بن عبدالغنی، شیخ محمد بن خلیل بن محمد سلیم رحمہم اللہ علیہم اجمعین۔

    سند اجازہ: تعلیم حاصل کرنے کے بعد علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ درج ذیل علماء کرام سے سند اجازت حاصل کی۔

    علامہ ابوالوفاء ثناء اللہ امر تسری۔ شیخ حافظ عبداللہ روپڑی امرتسری۔ محدث ابوسعید شرف الدین الدھلوی۔ شیخ محدث ابو اسحاق نیک محمد۔ شیخ محدث ابو محمد عبدالحق بھاولپوری رحمہم اللہ علیہم اجمعین۔

    قوت حافظہ: اللہ تعالی نے شاہ صاحب رحمہ اللہ کو بڑی قوت حافظہ سے نوازا تھا۔ آپ نے تین مہینوں میں قرآن مجید حفظ کیا اور بے شمار احادیث کے حافظ اور لاتعداد صفحات کتب کے مستحضر تھے۔ کاتبوں کو املاء کراتے وقت محسوس ہوتا تھا کہ آپ مکتبہ راشدیہ کے حافظ ہیں۔

    اس وقت سندھ کے سیاسی اور مذھبی حالات: شاہ صاحب رحمہ اللہ کے ابتدائی دور میں برصغیر میں برطانوی تسلط تھا۔ انگریز استعمار کا معروف نسخہ لڑاؤ اور حکومت کرو اس کی وجہ سے سندھ پر انگریزوں کے نمک خوار پیر اور جاگیردار مسلط تھے۔ شرک، تصوف اور تقلید کا راج تھا، عمل بالقرآن والحدیث اور سلفیت کا دور دور تک نام ونشان ہی نہیں تھا۔ عقیدۂ توحید اور عمل بالحدیث کی دعوت دینا، شرک اور تقلید کا رد کرنا، موت کو پکارنے کے برابر تھا۔

    علامہ سید بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ کے کارنامے

    دعوت توحید وردشرک وبدعت: اوپر ذکر کئے ہوئے ماحول میں شاہ رحمہ اللہ نے سندھ میں کام شروع کیا۔ وہ وقت تھا جب سندھ میں جماعت اہل حدیث کی ایک مسجد بھی نہیں تھی جب کے آپ کی وفات کے وقت سندھ میں زیر نظم 800 مساجد اہل حدیثوں کی تھیں۔ وہ سب اللہ رب العالمین کے فضل وکرم سے اور پھر شاہ صاحب رحمہ اللہ کی محنت کا نتیجہ تھا۔ (اللہم زد فزد) شاہ صاحب رحمہ اللہ نے توحید وسنت کی دعوت وتبلیغ کیلئے درج ذیل طریقے استعمال کئے۔

    (1) خطابت: شاہ صاحب رحمہ اللہ ایک خطیب تھے، سندھی، اردو، اور عربی میں خطابت کی برابر مہارت حاصل تھی، شاہ صاحب رحمہ اللہ کے تقریر کے اہم موضوع توحید اور شرک وبدعت اور اتباع سنت اور ردِ تقلید تھے۔ اپنی جوانی کے دور میں شاہ صاحب رحمہ اللہ 3 سے 4 گھنٹے تک تقریر کرتےتھے اور قرآن کو میٹھی آواز اور اچھے انداز میں پڑھا کرتے تھے۔ ان کی تقریر پر بھی استدلال اور مناظرے کا انداز غالب تھا، لوگ کبھی بھی ان کی تقریر سے اکتاہٹ اور بیزاری محسوس نہیں کرتے تھے، شاہ صاحب رحمہ اللہ حرمین شریفین میں بھی کافی سال قیام پذیر رہے، بیت اللہ شریف میں روزانہ درس دیا کرتے تھے، وہاں عربی کے ساتھ ساتھ اردو اور سندھی میں درس اور تقاریر ہوا کرتی تھیں۔

    (2) مناظرہ: شاہ صاحب رحمہ اللہ نے جس ماحول میں سندھ کے اندر کام شروع کیا تھا وہاں مخالفت اور مناظرہ ہونا لازمی امر تھا۔ شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اثبات حق اور ردِ باطل کے لئے بہت سارے مناظرے کئے، رموز راشدیہ میں بھی شاہ صاحب رحمہ اللہ کے کافی مناظروں کی تفصیل آئی ہے، ان کے علاوہ شاہ صاحب رحمہ اللہ نے تحریری مناظرے کئے جن میں سے کچھ مطبوع اور کچھ غیر مطبوع ہیں۔

    (3) تالیف وتصنیف: توحید وسنت کی دعوت عام کرنے کیلئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے سندھی اردو اور عربی زبان میں تقریباً 150 کتابیں تصنیف فرمائیں، ان کی تصانیف میں سے قرآم مجید کی تفسیر ”بدیع التفاسیر“ایک عظیم خدمت اور نمایاں کارگردگی ہے، یہ تفسیر قرآن مجید کی سورۂ الحجر کی ابتدائی آیات تک لکھی جاسکی ہے جو کہ ایک مقدمہ اور دس جلدوں پر مشتمل مطبوع ہے۔ بدیع التفاسیر میں عقیدۂ سلف اور اتباع السنۃ کی دعوت اور دفاع حق کا بہترین کارنامہ ہے، مسئلہ توحید اسماء وصفات اور التوسل والوسیلہ کے موضوع پر اردو زبان میں یہ کتاب ”توحید خالص“ایک مثالی تصنیف ہے۔ اور سندھی زبان میں ”توحید ربانی“کے نام سے عقیدۂ توحید کو عام فھم انداز سے سمجھانے کیلئے یہ کتاب لکھی گئی تھی۔

    (4) تدریس: شاہ صاحب رحمہ اللہ ابتداء میں اپنے مدرسہ ”المدرسہ المحمدیہ“میں پڑھایا، 1974ع سے 1978ع تک مکۃ المکرمہ میں قیام پذیر رہے، وہاں حرم شریف میں حدیث اور تفسیر کی کتابیں پڑھاتے تھے جہاں دنیا کے کونے کونے سے بیشمار طلباء وعلماء نے آکر ان سے استفادہ کیا، اس ساتھ ہی کچھ عرصے تک ”دار الحدیث الخیریہ“میں مدرس کی حیثیت سے رہے، پاکستان واپسی آنے کے بعد ملک اور بیرون ممالک سے طلباء آکر استفادہ کیا کرتے تھے اسی لئے ان کو شیخ العرب والعجم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

    (5) تلامذہ: آپ کے شاگردوں نے دنیا کے کونے کونے میں توحید وسنت کی دعوت عام کی، آپ کے شاگردوں کی تعداد بیشمار ہے۔ جن میں سے علامہ مقبل بن ھادی ، شیخ عاصم عبداللہ، شیخ حسن حیدر یمنی، شیخ محمد موسی افریقی، شیخ عمر بن محمد بن عبداللہ السبیل،شیخ محمد شاہ الراشدی، شیخ عبدالقادر بن حبیب اللہ السندی المدنی، شیخ حسن سعودی، شیخ محمد رفیق الاثری ، شیخ عبداللہ ناصر الرحمانی، وغیرہم شاہ صاحب رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سےہیں۔

    جماعت اہل حدیث سے محبت: شاہ صاحب رحمہ اللہ کی جماعت اہل حدیث سے بڑی محبت تھی، آپ نے اپنا مال اور عمر اللہ کی راہ میں صرف کردی، جماعت کے ہر فرد کے بڑے خیر خواہ تھے، ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ شاہ صاحب رحمہ اللہ دوسروں سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔

    وفات: 8 جنوری 1996ع کی رات بعد نماز عشاء موسی لین لیاری کراچی میں شاہ صاحب کی روح اللہ تعالی کے حکم سے پرواز کرگئی(اناللہ وانا الیہ راجعون) 9 جنوری کو جامع مسجد فردوس آزاد پیر جھنڈو نیو سعید آباد میں نماز جنازہ ہوئی، نماز جنازہ کے بعد گوٹھ پیر جھنڈو نزد نیو سعید آباد میں اپنے والد ماجد اور بڑے بھائی علامہ محب اللہ شاہ الراشدی رحمہم اللہ علیہم کے ساتھ دفن کئے گئے۔ اللہم اغفر لہم وارحمہم ۔
     
  3. محمد ثاقب صدیقی

    محمد ثاقب صدیقی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 12, 2009
    پیغامات:
    90
    امام شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی اور ان کے عرب تلامذہ

    امام شمس لاحق عظیم آبادی 1273ھ بمطابق 1857ئ کو رمنہ ( عظیم آباد ، پٹنہ ) میں پیدا ہوئے ۔ ان کا شمار اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے عرب و عجم کے جید علمائے حدیث و تفسیر سے علم کی تحصیل کی ۔ جن میں سید نذیر حسین محدث دہلوی ، قاضی بشیر الدین قنوجی ، شیخ حسین بن محسن یمانی ، شیخ احمد بن عیسیٰ نجدی ، امام ابو البرکات نعمان بن محمود آلوسی ، شیخ محمد بن سلیمان حسب اللہ شافعی ، امام محمد بن فالح مہناوی مدنی ، شیخ عبد الرحمان بن عبد اللہ السراج مکی وغیرہم شامل ہیں ۔
    امام عظیم آبادی نے غایۃ المقصود شرح سنن ابی داود (23 جلد ) ، عون المعبود شرح سنن ابی داود (4 جلد ) ، التعلیق المغنی علیٰ سنن الدارقطنی (2 جلد ) ، اعلام اھل العصر باحکام رکعتی الفجر ، رفع الالتباس عن بعض الناس جیسی بلند پایہ تصانیف رقم فرمائیں ۔
    امام عظیم آبادی کا انتقال 1329ھ بمطابق 1911ئ کو ڈیانواں ( پٹنہ ) میں ہوا۔
    اصحاب علم کی ایک بہت بڑی تعداد ان کے فیض علم سے مستفید ہوئی ۔ جن میں ہند و بیرون ہند کے علمائ کی ایک کثیر تعداد شامل ہے ۔ عرب ممالک کے جن علمائے عالی مرتبت نے امام عظیم آبادی سے شرف تلمذ حاصل کیا ان میں :
    (1) قاضی صالح بن عثمان نجدی : انہیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں فریضہ امامت کی ادائیگی کا شرف بھی حاصل ہے ۔ 1350ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔

    (2) شیخ عبد الحفیظ الفاسی المراکشی : مراکش کے محکمہ قضائ سے وابستہ تھے ۔ ’معجم الشیوخ ‘ ان کی مشہور کتاب ہے ۔ 1383ھ میں وفات پائی ۔

    (3) علامہ سید اسماعیل بن ابراہیم خطیب ازہری قاہری : امام شوکانی کی ’ ارشاد الفحول ‘ کی ایک طباعت اپنی تحقیق کے ساتھ کی ۔

    (4) الشيخ صالح بن إبراهيم بن رشيد المحيميد : 1300ھ میں پیدا ہوئے اور 1370ھ میں وفات پائی ۔ ان کا شمار علمائے قضاۃ میں ہوتا ہے ۔
     
  4. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    الحمد للہ رب العالمین و‌صل اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد و‌علٰی ال وصحبہ اجمعین

    مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ تعالٰی

    حكيم محمد عمر فاروق شيخ حفظه الله


    حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کی پیدائش مورخہ چار اپریل ١٩٣٤ء کو بیکانیر، ضلع گنگا نگر (جو اب بھارت کا حصہ ہے) میں ہوئی، آپ رحمہ اللہ کی پیدائش اور علمی محققانہ طرز زندگی حضرت مولانا سید شمس الحق رحمہ اللہ (فاضل دار العلوم دیوبند) [*] کی دعاؤں کا ثمرہ ہے اور انہوں نے ہی حضرت کا نام محمد امين تجویز فرمایا تھا اور بڑے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر آپ رحمہ اللہ کے والد محترم ولی محمد سے فرمایا: "یہ لڑکا مولوی بنے گا، مناظر بنے گا!" چناچہ الله تعالٰی نے حضرت سید صاحب رحمہ اللہ کی دعاء قبول فرماتے ہوۓ آخر کار حضرت کو ماسٹر محمد امین سے مناظر اسلام، محقق حنفیت، وکیل اہل سنت والجماعت مولانا محمد امین صفدر بنا دیا۔

    تحقیق و‌تحریر میں حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ چونکہ میرے شیخ و‌مرشد امام اہل سنت والجماعت پیر طریقت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتهم سے متاثر تھے، اس لۓ صفدر کہلاتے ہوۓ ان کی جانب نسبت ظاہر فرماتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں تاحال دو ہی صفدر گزرے ہیں، تقریر میں حضرت مولانا محمد امين صفدر اوکاڑوی اور تحریر میں حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتهم۔

    حضرت اوکاڑوی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں ہی حاصل کی، وہاں چونکہ اہل حق دیوبندی مکتبۂ فکر کا کوئی مدرسہ تھا نہ مسجد اس لۓ عقیدۀ توحید سے مناسبت کی وجہ سے ان کے والد محترم نے انہیں غیر مقلدین کی مسجد میں تعلیم کیلۓ حافظ محمد رمضان کے سپرد کر دیا، بعد ازاں مولانا عبد الجبار کنڈیلوی سے کچھ درسی کتب پڑھیں، جس کے نتیجے میں کافی عرصہ تک احناف کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ پاکستان بنے کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ ضلع اوکاڑہ کے چک نمبر١-٢/٥٥ تشریف لے آۓ اور مستقل طور پر یہاں سکونت اختیار کرلی۔

    ١٩٣٥ء میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالٰی کے شاگرد رشید، حضرت مولانا محمد عبد الحنان رحمہ اللہ (فاضل دیوبند) اور حضرت مولانا عبد القدیر (فاضل دیوبند) جب اوکاڑہ تشریف لاۓ تو آپ رحمه الله کے استاذ مولانا عبد الجبار کنڈیلوی نے حضرت اوکاڑوی کو ان سے بحث و‌مباحثہ کرنے کیلۓ بھیج دیا۔ ان سے بحث میں نہ صرف کہ حضرت اوکاڑوی ہار بیٹھے بلکہ ان کی ناصحانہ باتوں کے اثر سے، غیر مقلدی برین واشنگ بھی اتر گئی اور یوں وہ اپنے مسلک سے تائب ہو کر اهل السنة والجماعة احناف میں شامل ہو گۓ۔ اس بارے میں حضرت اوکاڑوی کا اپنا مضمون "میں حنفی کیسے بنا؟" مطبوعہ مجموعہ رسائل صفدری، نہ صرف انتہائی دلچسپ ہے بلکہ قابل دید ہے۔

    حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسوری رحمہ اللہ کی تلقین سے آپ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ سے بیعت ہوۓ اور حضرت لاہوری کی خصوصی توجہات کا مرکز بنے۔ والدین کی تربیت، طبعی نفاست پسندی اور سب سے بڑھ‌ کر حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی شفقت و‌محبت اور خصوصی تعلق نے آپ کی روحانیت میں نہ صرف کہ نکھار ہی پیدا کردیا تھا بلکہ حنفیت کے میدان میں ایسا سکہ جمایا کہ تاحال مسلک حنفية کی ترویج و‌اشاعت اور تحفظ و‌خدمت کے میدان میں آپ کا ثانی نہیں ہے۔

    آپ کے روز و‌شب خدمت دین حنیف میں گزرتے۔ کثرت درود و‌اتباع سنت کی وجہ سے عشق رسول صلى الله عليه وسلم بحظ وافر نصیب ہوا تھا، چنانچہ میرے والد محترم (عمر الدین قریشی صاحب) کو حضرت اوکاڑوی نے خود فرمایا کہ حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی دعاؤں اور کثرت درود اور الله تعالٰی کے محض فضل وکرم سے مجھے خواب میں نبی اقدس صلى الله علیه وسلم کی زیارت ہوئی تو میں نے دربار نبوی میں عرض کیا کہ حضور! میں مسائل یاد کرتا ہوں، احدیث پڑھتا ہوں، آپ کی ہدایات کو یاد کر کے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں مگر یاد نہیں رہتیں! تو ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اقدس صلى الله علیه وسلم نے اپنا لعابِ دہن میرے ہونٹوں پر لگاتے ہوۓ فرمایا کہ "انشاء الله اب ایسا نہیں ہوگا"۔

    حضرت مولانا اوکاڑوی رحمہ اللہ بعض حالات کی وجہ سے مجبوراً پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوۓ تاہم یہ ان کا اصل مشغلہ نہیں تھا۔ الحمد لله اسکول سے فراغت کے بعد وہ باقی وقت عربی و‌فارسی دینی کتب کا مطالعہ اور تبلیغ دین میں مصروف رہتے چنانچہ آپ نے اپنے گاؤں میں دو مرتبہ مکمل قرآن حکیم کا درس بھی دیا ،حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی دعاؤں اور توجہات نے حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ کو دین حنیف کا سپاہی بنا دیا۔ فرق باطلہ...خصوصاً مرزائیوں اور عیسائیوں و‌روافض اور منکرین فقہ کے ساتھ کراچی سے خیبر تک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو سے زائد مناظرے کۓ جن میں الله تعالٰی نے حضرت اوکاڑوی کو ہر جگہ سرخرو کیا جس سے ہزاروں لوگ اہل باطل کے دام فریب سے نکلنے میں نہ صرف کامیاب ہی ہوۓ بلکہ حضرت نے تعمیری تنقید کا ایک نیا اسلوب متعارف کروا کر معاشرے کو تقریب پسند اور تفرقہ باز جماعتوں کے گھناؤنے اثرات سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔[*]

    مدارس عربیہ، علوم اسلامیہ کی نشر و‌اشاعت کے مراکز اور اسلام کا قلعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دین حنیف کو یلغار باطل سے محفوظ رکھنے کیلۓ ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ رحمہ الله کو مدارس دینیہ کے اجراء، سرپرستی اور تعاون کا ذوق اپنے اکابر سے ورثہ میں ملا تھا، آپ نے اپنے گاؤں میں ذاتی زمین پر ایک مکتب قرانی تعمیر کروایا، خود حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب کے حکم پر اسکول کی نوکری چھوڑ کر ایک طویل عرصہ تک جامعة العلوم الاسلامية علامہ سيّد محمد یوسف البنوري ٹاؤن کراچی میں درس و‌تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کے وصال کے بعد جامعہ خير المدارس ملتان کے رئيس حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری دامت بركاتهم کے بار بار اصرار پر ١٤١٤‌ھ میں ملتان تشریف لے گۓ اور تاحیات جامعہ خير المدارس ملتان میں شعبہ تخصص في الدعوة والارشاد کے رئیس رہے۔ علاوہ ازین شعبان و‌رمضان کی سالانہ چھٹیوں میں ملک و‌بیرون ملک دیگر مدارس اسلامیہ میں دورہ پڑھانے اور وقتاً فوقتاً مناظروں اور جلسوں سے خطاب کے لۓ تشریف لے جاتے۔

    حضرت اوکاڑوی اصول و‌فروع میں اپنے اکابر علماء دیوبند پر اعتماد کو اس دور پرفتن میں ہر فتنہ کا علاج سمجھتے ہوۓ ہمیشہ اس کی اہمیت و‌افادیت بیان فرماتے۔ اگرچہ تعمیری تنقید اور حنفیت کی تحقیق میں وہ مجتہدانہ شان کے مالک تھے تاہم عجز و‌انکسار کا پیکر مجسم تھے اور اپنی زندگی کے آخری دور میں میرے شیخ و‌مرشد، امام اہل السنت، شیخ الحديث مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتهم العاليه (گوجرانوالہ) کی تحقیقات اور علمی کاوشوں سے بڑی حد تک متأثر تھے۔ ان سے آپ رحمہ اللہ کا بڑا گہرا روحانی تعلق بھی تھا۔ مولانا اوکاڑوی اس دور کے نزاعی مسائل میں اکابر کی تحقیق کو حرف آخر سمجھتے اور تحقیق کے نام پر اس سے انحراف کو انتہائی بری نظر سے دیکھتے تھے۔ والد محترم عمر الدین قریشی صاحب سے چونکہ ان کی بچپن سے دوستی تھی اس لۓ اکثر دونوں میں بے تکلفانہ گفتگو رہتی بلکہ مولانا امین صفدر اکثر والد صاحب کو مناظروں میں بھی ساتھ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ والد صاحب نے ان سے عرض کیا؛ "امین صاحب! کبھی جناب نے سونچا بھی ہے کہ اتنا بڑا منصب (کہ جناب بڑے بڑے علماء کرام و‌مفتیان عظام کے استاذ بنے بیٹھے ہیں) آپ کو کس وجہ سے ملا؟" تو برکلا ارشاد فرمایا؛ "حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی دعاؤں، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کی شفقت، اپنے اکابر پر اعتماد اور علماء کرام کی محبت سے!"

    آپ نے ماہنامہ بینات کراچی، ماہنامہ الحنفیہ جام پور، ماہنامہ الخیر ملتان وغیرہ میں حنفیت کی ترویج و‌اشاعت و‌تحفظ میں بے شمار مضامین لکھے اور بہت سی کتب بھی تصنیف فرمائیں جن کو اکابر و‌اصاغر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور رہتی دنیا تک علماء و‌طلبہ ان سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

    آپ نے نہایت بے تکلف اور سادہ زندگی گزاری، حتٰی کہ تقریروں اور مناطروں میں بھی بات کرنے کا انداز بالکل سادہ مگر محققانہ تھا۔ کھانے پینے، لباس، نشست و‌برخاست میں بھی کسی تکلف و‌امتیاز کے روادار نہ تھے۔

    نقاہت اور بیماری کے آثار ایک طویل عرصہ سے نمایاں تھے، علاج جاری تھا کہ ٣ شعبان المعظم ١٤٢١‌ھ بمطابق ٣ اکتوبر ٢٠٠٠‌ء کو طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات نو بجے کے قریب اپنے آبائی گاؤں (اورکاڑہ) میں دین حنیف کے عالمی ترجمان نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔
    انا لله وانا اليه راجعون


    Link of Source
     
  5. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    الحمد لله رب العالمين وصل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى ال وصحبه أجمعين


    شاه ولي الله كے افكار كے امين

    حافظ الحديث مولانا عبد الله درخواستي


    مولانا سيّد محمد حسين شاه (حفظه الله تعالى)

    سرزمين پاك وہند ميں بے شمار علماء گزرے ہيں جنہيں ديكھ كر يوں معلوم هوتا تھا كہ كوئي نوراني فرشته انساني صورة ميں زمين پر اتر آيا ہے. انہيں ہستيوں ميں الله كے دين كے خادم، قافلۂ شاه ولي الله كے جرنيل حافظ القرآن والحديث شيخ الاسلام حجة الله على الارض مولانا عبد الله درخواستي رحمه الله كي ذات گرامي ہے، جن كا نام سنتے ہي آنكھوں ميں ايك وجيه ممتاز پرنور خوبصورت، خوب سيرة، خوش پوشاك، شيريں بيان، خوش الحان شيخ كا ہنستا مسكراتا چہرہ گھوم جاتا ہے. جن كا شمار ماضي كي برگزيده ہستيوں ميں كيا جاتا ہے جنہوں نے اپني زندگي اور توانائيوں كا استعمال نہ صرف مملكة خدا داد كي ترقي وخوشحالي بلكہ مسلم امة كے اتحاد ويكجہتي اور اپنے پيغام محبة كو اعلٰی انساني اقدار كے فروغ كيلئے استعمال كيا، پاك وہند ميں آپ كا نام محتاج تعارف نہيں بلكہ آپ كے نام نامي سے تو امة مسلمه خوب واقف ہے. تحريك آزادي ہند ميں دين پور شريف جدوجہد آزادي كي پہلي فوجي چوكي كي حيثية سے تاريخ ميں سنہري حروف سے محفوظ ہے. سلسلۂ دين پور كے يہ عظيم مجاهد 1324 هجري، محرم الحرام، جمعة المبارك كے دن اپنے آبائي گاؤں درخواست ميں پيدا هوئے. ابتدائي تعليم اپنے والد محترم كي نگراني ميں حاصل كي. دس سال كي عمر ميں حفظ القرآن كي سعادة سے مشرف هوئے. اعلى ديني تعليم كيلئے مشهور ديني وعلمي مركز دين پور (ضلع رحيم يار خان) تشريف لے گئے. اٹھارہ سال كي عمر ميں سند حديث حاصل كي. شيخ العارفين پير ومرشد خليفه محمد رحمه الله نے اپني دستار ان كے سر پر ركھي اور انہيں رندگي بھر قرآن وسنة كي تعليمات عام كرنے كي تلقين فرمائي.

    آپ رحمه الله نے اپنے محبوب شيخ اور استاذ كي دستارِ ارشاد كا خق اس طرح ادا كيا كہ ساري زندگي قرآن وسنة، درس وتدريس كي ترويج واشاعة، جگہ جگہ ديني مدارس كے قيام، عقيدۀ ختم نبوة كے تحفظ، باطل فتنوں كے تعاقب، نظام مصطفٰی كے نفاذ وبالادستي كے لئے خود كو وقف كرديا. پاكستان، بنگلہ ديش، آزاد قبائل، كشمير وافغانستان، عرب وافريقي ممالك كا كوئي خطه ايسا نہيں جہاں حضرة درخواستي رحمه الله كے قدم مبارك نہ پہنچے هوں اور اس عظيم الشان مشن كے حوالے سے آپ كي آواز نہ گونجي هو. 1954ء ميں خان پور ضلع رحيم يار خان ميں ديني مركز جامعه مخزن العلوم كي بنياد ركھي، صرف اسي ايك ديني مدرسے كي نہيں بلكہ سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب ملك بھر ميں جہاں جهالة وگمراہي كي تاريكياں چھائي هوئي تھيں، لوگ دين اور كلمے سے نابلد تھے وہاں جا كر ديني مدارس اور علمي مراكز كي بنياد ركھي، مساجد تعمير كرائيں، وطن عزيز ميں پانچ سو سے زائد ديني وعلمي، روحاني درسگاہيں، خانقاہيں اور جامعات كي سرپرستي شيخ الاسلام حضرة درخواستي رحمه الله تعالى بنفس نفيس خود فرمايا كرتے تھے. وہ عظيم المرطبة انسان تھے الله تعالى نے علم وعمل كي دولة اور قوة خافظه سے انہيں نوازا تھا. انيس سال كي عمر ميں صحيح البخاري شريف كے حافظ بن گئے. ہندوستان كي مشهور علمي شخصية علامه طالوت اپني تصنيف ميں رخم طراز ہيں كہ:

    "تاريخ اس بات پر گواه ہے كہ علامه سيّد انور شاه كشميري رحمه الله كے بعد اس قدر انتهائي قوة حافظه كا مالك شخص حضرة درخواستي رحمه الله تعالى كے علاوه شايد ہي كوئي اور گزرا هو".

    آپ جيد عالم دين، عظيم محدث، محقق اور بلند پايہ سياستدان تھے، بر صغير پاك وہند كے علماء ومشائخ ہي نہيں، بر اعظم افريقه، عرب دنيا كے علماء كو ديكھا كہ حضرة كے سامنے دوزانو هو كر بيٹھتے تھے. اسلام كے پيغام امن واتحاد كے فروغ كے لئے آپ نے مشرق ومغرب كے طويل سفر كئے، مختلف حكومتوں اور سربراہان مملكة نے آپ كے لئے ديدۀ دل فرش راه كئے. مسلم دنيا كے سربراہان مملكة اور زعماء واكابرين حضرة درخواستي سے فيض حاصل كرنے ميں فخر وانبسات محسوس كرتے تھے.

    آپ نے ھر ميدان ميں كارہائے نمايا سرانجام دئے. جدوجہد آزادي ميں مقتدر علماء كے ساتھ شريك سفر رہے. قيام پاكستان كے بعد مولانا شبير احمد عثماني, مولانا احمد علي لاهوري، مولانا عبد الحق رحمهم الله اور ديگر اكابر علماء كے ہمراہ دين كي سربلندي كے لئے ہمہ تن جدوجہد ميں مشغول رہے، وطن عزيز كي كوئي ديني وسياسي تحريك ايسي نہيں جس كي قيادة وسرپرستي حضرة درخواستي رحمه الله نے نہ كي هو، آپ جميعة علماء اسلام پاكستان كے تا حياة مركزي امير رہے. آپ كي جلائي هوئي شمع آج بھي روشن ہے، آپ كے ديني علمي، روحاني مشن كو پھيلانے كے لئے آپ كے جانشين مولانا فدا الرحمٰن درخواستي مولانا فضل الرحمٰن درخواستي، مولانا مطيع الرحمٰن درخواستي اور آپ كے خانوادے كے ديگر حضرات جدوجہد ميں مصروف ہيں اس كے علاوه آپ كے فيض يافتہ ہزاروں شاگرد مكه مكرمه اور مدينه منوره سميت دنيا بھر ميں آپ كے پيغام كو پھيلا رہے ہيں (حفظهم الله تعالى). آپ نے 1415 هجري تك زندگي كے آخري لمحات جامعه مخزن العلوم ميں تشنگان علوم نبوة كو سيراب كرتے هوئے گزارے. 11 ربيع الاول مطابق 28 اگست 1994ء كو اتوار صبح ساڑے سات بجے جامعه ميں آپ كا انتقال پرملال هوا. لاكھوں عقيدتمند، شيدائي خان پور پہنچ كر اپنے پير ومرشد كي نماز جنازه ميں شريك هوئے، آپ كے فرزند مولانا فضل الرحمٰن درخواستي نے نماز جنازه پڑھائي اور جسد خاكي لحد ميں اتارا، آپ اپنے پير ومرشد خليفه غلام محمد اور تحريك ريشمي رومال كے بطل جليل مولانا عبيد الله سندھي اور ديگر اكابر علماء وصلحا ومجاهدين كے ہمراہ دين پور شريف كے قبرستان ميں ابدي نيند سو رہے ہيں. رحمه الله تعالى


    Link of Source
     
  6. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    تذكره مولانا عبيد الله سندهي رحمه الله



    مولانا عبيدالله جو سندهي مشهور ہيں, في الواقع پنجابي الاصل ہيں اور 1872ء ميں سيالكوٹ كے مردم خيز خطّے ميں پيدا هوئے. ان كي نشونما زياده تر مشرقي پنجاب ميں هوئي اور يہاں كے صوفيانه ماحول نے انہيں بڑا متاثر كيا. وه ايك سكهـ خاندان كے چشم وچراغ تهے ليكن باره برس كي عمر ميں انہوں نے ايك آريہ سماجي دوست كے پاس مولوي عبيد الله رحمه الله كي كتاب "تحفة الهند" ديكهي اور ان كو اسلام كي صداقة كا احساس هوا. اس كے كچهـ عرصه بعد آپ نے حضرت شاه اسماعيل شهيد رحمه الله كي "تقوية الايمان" اور مولوي محمد صاحب لكهوكهوي رحمه الله كي "احوال الآخرة" پڑهي اور اسلام اختيار كرنے كا فيصله كر ليا. 1887ء ميں جب آپ مڈل كي تيسري جماعة ميں پڑهتے تهے, آپ نے اظهارِ اسلام كے لئے گهر چهوڑ ديا اور "تحفة الهند" كے مصنف كے نام پر اپنا نام "عبيد الله" اختيار كيا.

    تركِ وطن كے بعد آپ سندهـ چلے گئے اور مشهور روحاني پيشوا سيد العارفين حضرت حافظ محمد صديق صاحب برچونڈوي رحمه الله كي خدمة ميں حاضر هوئے. ان سے آپ نے قادري راشدي طريقة الاصلاح ميں بعية كي اور ان كي كشش سے سندهـ ہي ميں سكونة اختيار كر لي. ابهي اسلامي تعلمات كے ابتدائي اثر كو چار سال كا مختصر عرصه ہي هوا تها كہ آپ علم كي پياس بجهانے مشهور روحاني وانقلابي بستي دين پور (ضلع رحيم يار خان) تشريف لے گئے. يہاں آپ نے قطب الاقطاب خواجه غلام محمد صاحب دين پوري رحمه الله كے پاس ديني كتب كي تعليم شروع كي. 1888ء ميں آپ ديوبند پہنچے. جامع الترمذي آپ نے شيخ الهند مولانا محمود الحسن ديوبندي رحمه الله سے پڑهي اور سنن ابي داؤد كا درس فقيه الهند حضرت مولانا رشيد احمد گنگوہي رحمه الله سے ليا.

    مولانا عبيد الله سندھي بلا كے ذهين اور بے مثال حافظه كے مالك تهے. دہلي كا روزنامه اتحاد 12- مارچ 1938ء كے دور غلامي نمبر ميں لكهتا ہے:

    "جب آپ تحريكِ آزادي كيلئے دوسري سلطنتوں ميں جاتے تو ايك ايك رات ميں اس ملك كي زبان سيكهـ كر دوسرے روز اسي زبان ميں اپنا پروگرام پيش كيا كرتے تهے."

    خود آپ كے استاذ حضرت شيخ الهند رحمه الله نے فرمايا:

    "ميں نے عبيد الله اور انور شاه (كشميري رحمه الله) جيسا ہونہار شاگرد ديكها نہ سنا"

    تكميل تعليم كے بعد آپ پهر سندهـ چلے گئے اور وہاں امروٹ (ضلع سكهر) اور گوٹهـ پير جنڈو (موجوده نيو سعيد آباد ضلع حيدر آباد كے نزديك) ميں تعليم وتعلم جاري ركها. اسي دوران آپ كي شادي هوگئي اور آپ نے اپني والده كو بهي اپنے پاس بُلا ليا, جو اپني وفاة تك آپ كے پاس رہيں اور اخير عمر تك سكهـ دين پر قائم تهيں. 1901ء ميں آپ نے مولانا راشد الله رحمه الله كي مدد سے پير جهنڈو ميں مدرسه "دار الارشاد" قائم كيا جسے آپ سات سال تك چلاتے رہے اور جہاں امتحان لينے كے لئے حضرت شيخ الهند رحمه الله بهي تشريف لائے. 1909ء ميں شيخ الهند مولانا محمود الحسن رحمه الله كے حكم سے دار العلوم ديوبند پہنچ كر نوجوانوں كي ديني وانقلابي تنظيم جمعية الانصار كي قيادة سنبهالي, جس كا مقصد علي گڑهـ كے عصري تعليم يافته نوجوانوں كو دين كي طرف لانا اور ان ميں حرية كا جزبه بيدار كرنا تها. آپ نے چار سال تك جمعية الانصار كي قيادة كي اور اسے مضبوط بنيادوں پر استوار كيا پهر جب انگريزوں نے جميعة الانصار پر پابندي عائد كردي تو آپ نے 1913ء ميں دہلي منتقل هوكر نظارة المعارف قائم كيا جس كے ذريعے عصري تعليم يافته لوگوں كو قرآن حكيم كے حقائق ومعارف سے شناسا كرنے اور ان ميں اسلامي غيرة وحمية پيدا كرنے كي كوشش كي. اسي دوران واقعهء بلقان وطرابلس نے آپ كي اثر پزير طبيعة كو بڑا متاثر كيا اور آپ نے برتانوي سامراج كے خلاف سياسي سرگرميوں ميں بڑهـ چڑهـ كر حصه لينا شروع كيا. يہ وه دور تها كہ انگريز كے خلاف زبان كهولنے سے بڑے بڑوں كا پتہ پاني هو جاتا تها.

    اسي زمانے ميں حضرت شيخ الهند رحمه الله نے ايشياء سے برتانوي سامراج كا خاتمه كرنے كے لئے تحريك ريشمي رومال كي بنياد ركهي. آپ كو تحريك كا سيكرٹري جنرل بنايا گيا. 1915ء ميں آپ شيخ الهند رحمه الله كے حكم سے كابل چلے گئے. اِدهر هندوستان ميں برٹش گورنمنٹ نے آپ كي غير معينه مدت تك جلاوطني كا اعلان كرديا. آپ كا مقصد امير افغانستان حبيب الله خان كو انگريز كے خلاف جنگ ميں شريك كرنا تها. اس مقصد ميں آپ كو كاميابي حاصل نہ هو سكي, ليكن آپ نے سردار امان الله خان سے مل كر تحريك كے بہت سے رضاكاروں كي بهرتي اور تربية كي. اسي دوران تحريك كا راز افشاں هوا اور باني تحريك حضرت شيخ الهند بمع مولانا حسين احمد مدني, مولانا عزيز گل, مولانا وحيد احمد فيض آبادي اور حكيم سيد نصرت حسين رحمهم الله حجاز سے گرفتار هو كر مالٹا ميں نظربند كرديئے گئے. مولانا عبيد الله سات سال كابل ميں رہے پهر روسيوں كو انگريز كے خلاف جنگ كرنے پر آماده كرنے كي خاطر ماسكو چلے گئے, وہاں بڑے بڑے كميونسٹ ليڈروں سے ايشياء كي آزادي كي صورة حال پر بات چيت كي. روس كے دورے كے بعد مولانا عبيد الله سندهي تركي تشريف لے گئے, وہيں سے آپ نے "منشور آزادي" جاري كيے , تين سال آپ تركي ميں رہے پهر وہاں سے اٹلي, سوئٹزرلينڈ اور جرمني هوتے هوئے 1924ء ميں حجاز پہنچے.ان سب ملكوں ميں آپ كي كوشش يہي رہي كہ ان كي حكومتوں كو جدوجهدِ آزادي ميں امداد پہنچانے كيلئے راضي كيا جائے. 1938ء كے آخير ميں آپ كو هندوستان واپس آنے كي اجازة ملي اور 7 مارچ 1939ء كو چوبيس سال كي صحرانوردي كے بعد يہ غريب الوطن هندوستان كے ساحل پر اُترا. ايك بار مولانا رحمه الله نے پوچهنے پر بتايا كہ انہوں نے اپني غريب الوطني كے زمانے ميں ايك رات بهي ارام ميں نہيں گزاري.

    هندوستان ميں مولانا نے دہلي ميں قيام كيا. جب آپ دہلي پہنچے تو كئي لوگ آپ كے استقبال كيلئے سٹيشن پر موجود تهے, لوگوں كي نظريں ايك جبه ودستار پہنے, شان وشوكة والے كپڑوں ميں ملبوس شخصية كي تلاش ميں تهيں, جب كچهـ وقت گزر گيا اور ايسا كوئي شخص نظر نہ آيا تو لوگوں نے پہلے اور دوسرے درجوں كي كوچوں ميں تلاشي شروع كي, تهوڑي دير بعد كهدر كے سفيد كرتے ميں ملبوس ايك بزرگ تيسرے درجے كي ايك كوچ سے نكلے, جو لوگ اُن كو پہچانتے تهے وه اُن كي طرف دوڑے كہ يہي مولانا عبيد الله سندھي تهے, لوگ ان كا سامان اٹهانے كي سعادة حاصل كرنے كيلئے ادهر ادهر ان كا سامان تلاش كرنے لگے, معلوم هوا كہ ان كے پاس كوئي سامان نہيں, جو كچهـ ان كے بدن پر ہے وہي ان كي كل پونجي ہے. دہلي پہنچ كر مولانا جامعه مليه ميں درس وتدريس وتصنيف وتاليف ميں مشغول هوئے. 1944ء ميں آپ اپني بيٹي كے ہاں دين پور تشريف لے گئے اور وہيں 22 اگست 1944ء كو آپ كا انتقال هوا.


    Link of Source
     
  7. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمٰن الرحيم
    الحمد للہ رب العالمین وصل اللهم وبارك وسلم علٰی عبدك ورسولك محمد وعلٰی اٰله وصحبه اجمعين

    یا اللہ مدد

    مولیٰنا محمد اعظم طارق شہید رحمہ اللہ تعالٰی

    اے محمود

    اسے امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا غیور و‌باوفا بیٹا کہوں یا ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باب پر ہمہ وقت چوکس کھڑا رہنے والا پہریدار؟ اسے ابن العربی کا روحانی بیٹا کہوں یا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کا علمی وارث؟ اسے حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا ترجمان کہوں یا امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ کا فیضان نظر؟ اسے علامہ دوست محمد قریشی رحمہ اللہ کی شعلہ نوائی کی بازگشت کہوں یا مشن جھنگوی (رحمہ اللہ) کا بہادر پاسبان؟ اسے حق کا بے باک داعی کہوں یا سرکش باطل کے لئے ننگی تلوار؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں یہ سب کچھ تھا۔ اگرچہ اس نے ابھی تک زندگی کے کٹھن سفر کی صرف بیالیس منزلیں طے کی تھیں۔ گویا عقلاء کے نزدیک اسے عاقل ہوئے ابھی صرف دو سال کا عرصہ کزرا تھا جبکہ اس سے بہت پہلے وہ کتنے ہی ذی فہم و‌فراست لوگوں کی آنکھ کا تارا بن چکا تھا۔

    وہ ٢٨ مارچ ١٩٦١‌ء کو چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے چک ١١١/7-R میں پیدا ہوئے۔ راجپوت خاندان سے تعلق تھا، ٹوبہ چیچہ وطنی میں ابتدائی عصری و‌دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ١٩٨٤‌ء میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ سیّد یوسف بنوری (رحمہ اللہ) ٹاؤن (کراچی) سے دورۀ حدیث کر‌کے درس نظامی کی تعلیم سے سند فراغت حاصل کی اور ساتھ ہی ایم اے عربی و‌اسلامیات میں بھی امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد اگر وہ چاہتے تو دنیا کمانے کے نت نئے کامیاب تجربات کر‌سکتے تھے، اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ اک جہاں کو رام کر‌کے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے وافر سامان عیش و‌طرب باہم پہنچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے کمال فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے فانی عیش و‌عشرت کو ٹھکرا کر مستقبل کے لئے اُس پر خار راستے کا انتخاب کیا کہ جس کی مشقت و‌صعوبت سے لبریز تنگ و‌تاریک گلیوں سے ہو‌کر آدمی جب دوسرے کنارے پر قدم رکھتا ہے تو مسکراتے ہوئے حور و‌غلمان کو ابدی حیات اور لافانی تعمتوں کے ساتھ اپنے استقبال کے لئے بے تاب پاتا ہے۔ انہوں نے اپنے گردوپیش اور ملک بھر میں آئے روز پیش آنے والے جگر سوز واقعات، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نفوس قدسیہ پر ہونے والی تبرابازی و‌دشنام طرازی اور اسلام کی ان مقدس شخصیات کے خلاف ملکی و‌غیر ملکی پریس کے پھیلائے ہوئے گمراہ کن زہریلے لٹریچر پر مضبوط روک لگانے کا عزم مصمم کر‌لیا۔

    اس وقت کراچی میں بالخصوص اور پورے ملک میں بالعموم «سواد اعظم اہل سنت» نامی جماعت اس عظیم کام میں شب و‌روز مصروف تھی لہٰذا انہوں نے جامعہ محمودیہ کے صدر مدرس و‌ناظم اعلٰی اور جامع مسجد صدیق اکبر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) میں خطابت کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ «سواد اعظم اہل سنت» میں شامل ہو‌کر عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ لیکن بعض اندرونی و‌بیرونی سازشوں کی وجہ سے جب سواد اعظم اہلسنت اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب نہ ہو‌سکی اور یہ اتحاد کمزور پڑ‌گیا تو مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ نے اپنے ہم مشن نوجوانوں کو جمع کر‌کے علاقائی سطح پر «دفاع صحابہ فورس» تیار کی، پھر کچھ ہی عرصہ بعد جھنگ کے ایک نوعمر، پست قد اور نحیف البدن مرد قلندر مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ تعالٰی نے اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے۔ کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ اس لئے مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ تعالٰی کی کراچی آمد پر مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ نے دفاع صحابہ فورس کے کارکنوں سمیت «سپاہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)» میں شمولیت کا اعلان کیا اور اس کے بعد اپنا سب کچھ، حتٰی کہ جان تک کو اس مشن کے لئے وقف کر‌دیا، اور پھر اپنے اخلاص، مشن سے والہانہ وابستگی اور جزبۂ قربانی کی بدولت بہت کم عرصے میں اوج ثریا کو پہنچ گئے۔ مورخ اسلام علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی رحمہ اللہ کی نگاہ مردم شناس نے آپ کو جماعت کے مرکزی نائب سرپرست اعلٰی، مسجد جھنگوی شہید رحمہ اللہ کی خطابت اور جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست کے لئے منتخب کر‌لیا۔

    انہیں تحریر و‌تقریر کے میدان میں ید طولٰی حاصل تھا۔ وہ جب ہزاروں کے مجمع کے سامنے اپنے مشن کی حقانیت بیان کر‌رہے ہوتے تو یوں لگتا کہ سامعین کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف اپنے مشن کی حقانیت پر دلائل کے انبار لگاتے تو دوسری طرف صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنان پر بجلی کی طرح گرجتے اور خدائی عزاب کا کوڑا بن کر برستے تھے۔ وہ جہاں مشن کی اشاعت اور سنی قوم کی ذہن سازی میں کوئی وقیفہ فرو گزاشت نہ کرتے وہیں پر دشمن کو زک پہنچانے اور اسے اپنی اوقات یاد دلانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ انہوں نے گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنان ملعونین کا تعاقب بطریق احسن کیا۔

    مولانا ایثار القاسمی شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جماعت نے مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ کو قومی اسمبلی کی نشست کے لئے نامزد کیا تو انہوں نے جھنگ کے جاگیرداروں، گدی نشینوں، سیاسی چغادریوں اور مذہبی لٹیروں سے چومکھی لڑائی لڑ کر محض اپنے مقدس مشن کے نام پر جھنگ کی نشست جیت لی۔ یوں مولانا کو کراچی کے گلی کوچوں میں شروع کی ہوئی صدائے حق کو پاکستان کے اعلٰی ایوانوں تک پہنچانے کا موقع ملا۔ اس اعلٰی ایوان میں بھی مشن کی بات کرنے میں انہوں نے کسی قسم کی مصلحت کوشی اور مفاد پرستی کو قطعاً آڑے نہ آنے دیا اور مشن جھنگوی (رحمہ اللہ) کو اعلٰی ایوانوں میں بھی ایسے ٹهوس دلائل و‌براہین کے ساتھ پیش کیا کہ سیاسی مخالفین بھی اس کی حقانیت کے معترف ہونے لگے۔

    دشمنان صحابہ نے مولانا کی اہمیت کا درست اندازہ لگا لیا تھا، لہٰذا انہوں نے اپنے اندر دلائل کے میدان میں ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ پا کر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کئے۔ چونکہ دشمنان صحابہ کو ہر دور کے حکمرانوں اور جاگیردار طبقہ کی آشیرباد ہمیشہ حاصل رہی ہے لہٰذا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اکثر و‌بیشتر پابند سلاسل رکھا گیا اور انہوں نے اپنی زندگی کے سات قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے اور مشن کو ترک کر‌کے ملنے والی بے‌بہا دولت و‌ثروت و‌عیش و‌عشرت کی لالچ اور ہر طرح کے خوف و‌دباؤ کو یکسر ٹھکرا کر مشن کی حقانیت اور اس کے ساتھ والہانہ لگاؤ کا اظہار کیا اور جیل میں اپنی تحریری صلاحیتوں کو بروئے کار لا‌کر تین ضخیم کتب تحریر فرمائیں جن میں کارکنوں کی تربیت اور ان میں حق پر استقامت و‌جزبۂ قربانی پیدا کرنے کے لئے بہت زیادہ مواد موجود ہے۔

    وہ پاکستان کی تاریخ کے واحد قائد تھے جن پر ایک درجن سے زائد قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ ہر بار بچتے رہے اور صحتیابی کے بعد دشمنان صحابہ کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ لیکن دشمنان صحابہ کا تو جینا حرام ہو‌چکا تھا اس لئے وہ ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ‌چکے تھے اور بالآخر ٦ اکتوبر ٢٠٠٣‌ء کو پیر کے روز شام ساڑے چار بجے اسلام آباد کی حدود میں گولڑہ موڑ پر چالیس سے زائد گولیاں مار کر مولانا کو ان کے چاروں ساتھیوں سمیت شہید کر‌دیا گیا۔ یوں دشمن اپنے تہیں خوش ہو‌گیا کہ عزم و‌استقلال کے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کر‌دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہید کا لہو اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اس کے ہر قطرے سے ایک مجاہد اٹھا کرتا ہے۔ پاکستان کی پاک سرزمین پر گرنے والا یہ پاک خون قصۂ حق گوئی و‌بے باکی کو ختم کرنے کی بجائے ان جیسے لا تعداد اور نڈد اور با حوصلہ مجاہدوں کو جنم دے گا۔


    Link of Source
     
  8. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی


    مسلمانان ہند و پاک کے دورِ زوال کی اہم ترین شخصیت (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سنجیدگی کے ساتھ زوال کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا ان لوگوں میں عہد مغلیہ کے مشہور عالم اور مصنف شاہ ولی اللہ (1703ء تا 1763ء) کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مجدد الف ثانی اور ان کے ساتھیوں نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا شاہ ولی اللہ نے اس کام کی رفتار اور تیز کردی۔ ان دونوں میں بس یہ فرق تھا کہ مجدد الف ثانی چونکہ مسلمانوں کے عہد عروج میں ہوئے تھے اس لئے ان کی توجہ زیادہ تر ان خرابیوں کی طرف رہی جو مسلمانوں میں غیر مسلموں نے میل جول کی وجہ سے پھیل گئی تھیں لیکن شاہ ولی اللہ چونکہ ایک ایسے زمانے سے تعلق رکھتے تھے جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوگیا تھا اس لئے انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بھی غور کیا اور اس کے علاج کے بھی طریقے بتائے

    ابتدائی زندگی
    شاہ ولی اللہ مجدد الف ثانی کے انتقال کے تقریبا 80 سال بعد دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی چار سال کے تھے کہ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا انتقال ہوگیا اس کے چند سال بعد مغلوں کی عظیم الشان سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہوگئی۔ سارے ملک میں بدامنی پھیل گئی اور مرہٹےملک کے بہت بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد دہلی پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔

    مسلمانوں کی نہ صرف سیاسی حالت خرابی تھی بلکہ وہ اخلاقی حیثیت سے بھی زوال کی طرف جارہے تھے۔ آرام طلبی، عیش و عشرت، دولت سے محبت، خود غرضی، بے ایمانی اور اسی قسم کی دوسری خرابیاں ان میں عام ہوگئی تھیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف و تالیف اور اصلاح کا کام اسی نازک زمانے میں شروع کیا۔ ان کی کوشش تھی کہ ایک طرف مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو اور وہ پھر سے ایک مضبوط سلطنت قائم کریں اور دوسری طرف اپنی اخلاقی خرابیوں کو دور کرکے اور غیر اسلامی طریقوں و رسوم و رواج کو چھوڑ کو دورِ اول کے مسلمانوں جیسی زندگی اختیار کرلیں۔

    اصلاح کا کام
    انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی حیثیت سے مضبوط بنانے کے لئے بادشاہوں اور امراء سے خط و کتابت بھی کی۔ چنانچہ احمد شاہ ابدالی نے اپنا مشہور حملہ شاہ ولی اللہ کے خط پر ہی کیا جس میں اس نے پانی پت کی تیسری لڑائی میں مرہٹوں کو شکست دی تھی۔

    شاہ ولی اللہ نے سماجی اصلاح کا بھی کام کیا۔ مسلمانوں میں ہندوؤں کے اثر کی وجہ سے بیوہ عورتوں کی شادی بری سمجھی جانے لگی تھی۔ شاہ ولی اللہ نے اس رسم کی مخالفت کی اسی طرح انہوں نے بڑے بڑے مہر باندھنے اور خوشی و غم کے موقع پر فضول خرچی سے روکا۔

    انہوں نے مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے اختلافات کو تم کرنے کی کوشش کی اور اس پر زور دیا کہ اختلاف کی صورت میں انتہا پسندی کی جگہ اعتدال سے کام لیا جائے۔

    انہوں نے تصوف کی بھی اصلاح کی اور پیری مریدی کے طریقوں کو غلط راستے سے ہٹایا۔

    کارنامے
    شاہ ولی اللہ کا ایک بڑا کارنامہ قرآن مجید کا فارسی ترجمہ ہے۔ پاکستان و ہندوستان مین مسلمانوں کی علمی زبان فارسی تھی۔ قرآن چونکہ عربی میں ہے اس لئے بہت کم لوگ اس کو سمجھ سکتے تھے۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن مجید کا فارسی ترجمہ کرکے اس رکاوٹ کو دور کردیا۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی تعلیم سے واقف ہونے لگے۔

    شاہ ولی اللہ ترجمۂ قرآن کے علاوہ بکثرت کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ کتابیں علم تفسیر، حدیث،فقہ، تاریخ اور تصوف پر ہیں۔ ان عالمانہ کتابوں کی وجہ سے وہ امام غزالی، ابن حزم اور ابن تیمیہ کی طرح تاریخ اسلام کے سب سے بڑے عالموں اور مصنفوں میں شمار ہوتے ہیں۔

    ان کی سب سے مشہور کتاب "حجۃ اللہ البالغہ" ہے۔ امام غزالی کی "احیاء العلوم" کی طرح یہ کتاب یھی دنیا کی ان چند کتابوں میں سے ہے جو ہمیشہ قدر کی نگاہوں سے دیکھی جائیں گی۔ اس کتاب میں شاہ ولی اللہ نے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی ہے اور دلیلیں دے کر اسلامی احکام اور عقاغد کی صداقت ثابت کی ہے۔ اصل کتاب عربی میں ہے لیکن اس کا اردو میں بھی ترجمہ ہوگیا ہے۔

    شاہ ولی اللہ اپنی کوششوں کی وجہ سے غزالی، ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی کی طرح اپنی صدی کے مجدد سمجھے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے بعد جو بیداری پیدا ہوئی اور اس وقت خطے میں اسلامی احیائی تحاریک موجودہ ہیں ان کے بانی شاہ ولی اللہ ہی ہیں۔ شاہ ولی اللہ جہاں خود ایک بہت بڑے عالم، مصلح اور رہنما تھے۔ وہاں وہ اس لحاظ سے بھی بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کی اولاد میں ایسے ایسے عالم پیدا ہوئے جنہوں نے پاک و ہند کے مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا۔

    جانشیں
    شاہ ولی اللہ کے سب سے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز عربی اور فارسی کے انشا پرداز تھے اور 60 سال تک دینی علوم اور احادیث کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کی وجہ سے برصغیر میں علم حدیث پھیلا۔

    دوسرے صاحبزادے شاہ رفیع الدین کا سب سے بڑا کارنامہ اردو میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ ہے۔

    تیسرے صاحبزادے شاہ عبدالقادر کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی اردو تفسیر ہے جو "موضح القرآن" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر آج بھی بے انتہا مقبول ہے۔

    شاہ ولی اللہ کی اولاد میں شاہ اسماعیل شہید کا مقام بھی بہت بلند ہے آپ شاہ ولی اللہ کے چوتھے صاحبزادے شاہ عبدالغنی کے بیٹے تھے جن کا شمار بھی اپنے زمانے کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ شاہ صاحب کے کام کو سب سے زیادہ ترقی شاہ اسماعیل نے ہی دی۔ وہ کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے جن میں "تقویت الایمان" سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔

    برصغیر میں غلبہ اسلام اور اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرنے والی عظیم شخصیت سید احمد شہید شاہ عبدالعزیز کے شاگرد اور شاہ اسماعیل شہید کے ساتھی تھے۔


    Link of Source
     
  9. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مجدد الف ثانی

    شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبدالا حد فاروقی) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے ۔

    14 شوال 971ھ میں لاہور کے قریب ایک گاؤں سرہند میں پیدا ہوئے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔

    تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، قادریہ سلسلہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ محمد باقی سے حاصل کی ۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ ۔

    یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔

    ایک بار مغل بادشاہ جہانگیر نے آپ کو طلب کیا لیکن دربار کی تہذیب کے مطابق آپ زمیں بوس نہیں ہو ئے ۔ جب آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا ’’غیراللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے‘‘۔ جہانگیر نے انہیں گوالیار کے قلعہ میں قید کروادیا ۔ لیکن تین سال بعد اس شرط پر رہا کردیا کہ لشکر سلطانی کے ساتھ رہیں چنانچہ چند دن یہ پابندی رہی پھر آپ ’سر ہند ‘ آگئے اور یہیں 27 صفر 1034ھ میں انتقال کیا۔ اور شوال 971ھ میں سر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔


    Link of Source
     
  10. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    اورنگزیب عالمگیر

    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    اورنگزیب عالمگیر

    مغلیہ خاندان کا شہنشاہ ۔ نام محی الدین ۔ اورنگزیب لقت، اس کے والد شاہجہان نے اسے عالمگیر کا خطاب دیا۔ 3 نومبر ،1618ء کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوا۔ اس کی والدہ ارجمند بانو بیگم تھیں۔ جو ممتاز محل کے نام سے مشہور تھیں۔ اورنگ زیب کی عمر دو سال کی تھی کہ شاہجہان نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی ۔ اور بیوی بچوں کو لے کر چار سال تک بنگال اور تلنگا میں پھرتا رہا۔ آخر جہانگیر کے کہنے پر اپنے بیٹوں داراشکوہ اور اورنگ زیب کو دربار میں بھیج کر معافی مانگ لی۔ جہانگیر نےدونوں‌بچوں کو ملکہ نورجہاں کی نگرانی میں بھیج دیا۔

    اورنگزیب کو سید محمد، میر ہاشم اور ملا صالح جیسے علام کی شاگردی کا موقع ملا۔ مغل بادشاہوں میں اورنگزیب عالم گیر پہلا بادشاہ ہے جس نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری ، تیراندازی ، اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔ سترہ برس کی عمر میں 1636ء دکن کا صوبیدار مقرر ہوا۔ اس دوران میں اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا۔ اور چند نئے علاقے فتح کیے۔ بلخ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔

    شاہجہان کی بیماری کے دوران میں داراشکوہ نے تمام انتظام حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ دارا کی اس جلدبازی سے شاہجہان کی موت کی افواہیں پھیلنے لگیں اور ملک میں ابتری پھیل گئی ۔ شاہ شجاع نے بنگال میں اپنی بادشاہت قائم کرلی اور آگرے پر فوج کشی کے ارادے سے روانہ ہوا۔ بنارس کے قریب دارا اور شجاع کی فوجوں میں‌جنگ ہوئی جس میں دارا کو فتح اور شجاع کو شکست ہوئی۔ اورنگزیب نے مراد سے مل کر داراکے مقابلے کی ٹھانی۔ اجین کے قریب دنوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اورنگزیب عالمگیر کو فتح ہوئی۔ ساموگڑھ کے قریب پھر لڑائی ہوئی جس میں اورنگزیب کو دوبارہ کامیابی ہوئی۔

    اورنگزیب ابوالمظفر محی الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دیتے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کردی ۔ درشن جھروکا کی رسم ختم کی اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔ 1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے۔اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ 1666ء میں سرحد کے شاعر خوشحال خان خٹک کی شورش اور متھرا اور علیگڑھ کے نواح میں جاٹوں کی غارت گری ختم کی۔ نیز ست نامیوں کی بغاوت فرو کی ۔ سکھوں کے دسویں اور آخری گرو گوبندسنگھ نے انند پور کے آس پاس غارت گری شروع کی اور مغل فوج سے شکست کھا کر فیروز پور کے قریب غیر آباد مقام پر جا بیٹھے۔ جہاںبعد میں مکتسیر آباد ہوا۔ عالمگیر نے انھیں اپنے پاس دکن بلایا یہ ابھی راستے میں تھے کہ خود عالمگیر فوت ہوگیا۔

    عالمگیر نے 1666ء میں راجا جے سنگھ اور دلیر خان کو شیوا جی کے خلاف بھیجا۔ انھوں نے بہت سے قلعے فتح کر لے۔ شیواجی اور اس کا بیٹا آگرے میں نظربند ہوئے ۔ شیواجی فرار ہو کر پھر مہاراشٹر پہنچ گیا۔ اور دوبارہ قتل و غارت گری شروع کی۔ 1680ء میں شیواجی مرگیا تو اس کا بیٹا سنبھا جی جانشین ہوایہ بھی قتل و غارت گری میں مصروف ہوا۔ عالمگیر خود دکن پہنچا ۔ سنبھا جی گرفتار ہو کر مارا گیا ۔ اس کا بیٹا ساہو دہلی میں نظربند ہوا۔ دکن کا مطالعہ کرکے عالمگیر اس نتیجے پرپہنچا کہ بیجاپور اور گولکنڈا کی ریاستوں سے مرہٹوں کو مدد ملتی ہے اس نے 1686ء میں بیجاپور اور 1687ء میں گوالگنڈا کی ریاستیں ختم کر دیں۔ اس کے بعد مرہٹوں کے تعاقب میں‌ ہندوستان کے انتہائی جنوبی حصے بھی فتح کر لیے۔ مغلیہ سلطنت پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔

    عالمگیر احمد نگر میں بیمار ہوا اور 3 مارچ، 1707ء کو نوے برس کی عمر میں فوت ہوا۔ وصیت کے مطابق اسے خلد آباد میں فن کیاگیا۔ جس کا نام بعد میں اورنگ آباد رکھا گیا۔ بڑا متقی ، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔ سلجھا ہوا ادیب تھا۔ اُس کے خطوط رقعات عالمگیرکے نام سے مرتب ہوئے۔ اس کے حکم پر نظام سلطنت چلانے کیلیے ایک مجموعہ فتاوی تصنیف کیا گیا جسے تاریخ میں فتاوی عالمگیری کہا گیا۔ فتاویٰ عالمگیری فقہ اسلامی میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ بعض علما نے سلطان اورنگزیب کو اپنے دور کا مجدد بھی قرار دیا۔ پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں‌۔ مشہور شاعر زیب النساء مخفی ان کی دختر تھیں۔ بیٹا محمد معظم باپ کی سلطنت کا وارث ہوا۔


    Link of Source
     
  11. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    شاہ اسماعیل شہید

    پیدائش:29 اپریل 1784 ۔

    وفات: 6 مئی 1831ء

    شاہ ولی اللہ کے پوتے اور حضرت شاہ عبدالغنی کے صاحبزادے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے چچا حضرت شاہ عبدالعزیز کے سائے میں ہوئی۔ آپ نے سیف و قلم دونوں سے اسلام کی خدمت کی۔ سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے خلاف جو جہاد کیا تھا۔ شاہ اسماعیل اس میں اُن کے دست راست رہے اور بالاخر بالاکوٹ ضلع ہزارہ میں بڑی جرات و مردانگی کے ساتھ سکھوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ بالاکوٹ میں ہی آپ کا اور سید احمد شہید کا مزار ہے۔ جب تک دہلی میں رہے، ہر جمعے کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھرے ہو کر وعظ فرمایا کرتے جس سے مسلمانوں میں ذہنی ، دینی اور سیاسی شعور پیدا ہوا۔ آپ کی مشہور کتاب (تقویۃ الایمان) ہے اس کے علاوہ رسالہ اصول فقہ ، منصب ایمان ، صراط المستقیم طبقات ، مثنوی سلک نور وغیرہ کتابیں


    Link of Source
     
  12. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مولانا غلام مصطفی قاسمی

    تاریخ پیدائش: 1905
    جائےپیدائش: لاڑکانہ
    تاریخ وفات: 10 دسمبر 2003
    جا‎ئےوفات: حیدرآباد
    مولانا غلام مصطفی قاسمی ممتاز اسکالر اور عالم دین ۔ لاڑکانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور سندھ کے مختلف مدارس میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دیوبند کے مشہور مدرسے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ان کا تعلق چانڈیو قبیلے سے تھا لیکن انہوں نے اپنی شناخت دیوبند کے مدرسے کے بانی عالم علامہ محمد قاسم نانوتوی کے حوالے سے کروائی اور اپنے نام کے ساتھ چانڈیو کے بجائے قاسمی لگایا۔

    انہیں عربی، فارسی، اردو اور سندھی پر عبور حاصل تھا اور انہوں نےان زبانوں میں چالیس سےزائد کتابیں لکھیں۔انہوں نے سندھ کے دینی پس منظر پر بڑی تحقیق کی اور سندھ کے پرانے مذہبی علماء خاص طور پر مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی، مخدوم محمد ابراھیم ٹھٹوی،مخدوم محمد جعفر بوبکائی اور قاضی محمد اکرم کی تحریروں کو سندھی سے اردو میں ترجمہ کیا اور ان کی اشاعت کا بندوبست کیا۔

    فلسفے میں وہ مولانا عبیداللہ سندھی کے پیروکار تھے اور مولانا سندھی اور شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے کوشاں رہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے شاہ ولی اللہ اکیڈمی قائم کی جس کے زیر اہتمام کئی مذہبی کتابیں شایع کی گئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرآن شریف کی تفسیر سندھی میں لکھی۔

    علامہ قاسمی کی مذہبی خدمات کے علاوہ ادبی خدمات بھی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے شاھ عبدالطیف بھٹائی کے کلام کی شرح بھی کتابی شکل میں لکھی۔ وہ بارہ برس تک سندھی ادبی بورڈ کے چیئرمن اور ضیا دور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ رہے۔ ایک عرصے تک وہ سندھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے اسکالرز کے گائیڈ بھی رہے اور ان کی زیر نگرانی سندھ کی کئی نامور شخصیات نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔


    Link of Source
     
  13. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    شاہ عبداللطیف بھٹائی


    تاریخ پیدائش: 1101 ھہ، 1689ع
    جائےپیدائش: ھالا
    تاریخ وفات: 1165 ھہ ،1752ع
    جا‎ئےوفات: بھٹ
    مدفن: بھٹ شاھ

    شاہ عبالطیف بھٹائی برصغیر کے عظیم شاعر ہیں۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا۔

    شاھ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت 1689ع ، 1101 ھہ مین موجودہ ضلع مٹیاری کے تعلقہ ھالا مین ہوئی۔ آپ کے والد سید حبیب شاھ ھالا حولیلی میں رہتے تھے۔ اور موصوف کا شمار اس علاقے کی برگزیدہ ھستیوں میں تھا۔

    شاھ صاحب کی پیدائش کے متعلق مشہور ہے کہ سید حبیب نے یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے۔ آپ نے اپنی اس محرومی کا ذکر ایک درویش کامل سے کیا، جن کا اسم گرامی عبداللطیف بتایا جاتا ہے۔ موصوف نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ آپ کی مراد بر آئے گی۔ میری خواھش ہے کہ آپ اپنے بیٹے کا نام میرے نام پر عبداللطیف رکھین۔ خدا نے چاھا تو وہ اپنی خصوصیات کے لحاظ سے یکتائے روزگار ہو گا۔

    سید حبیب کی پہلی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ درویش کی خواھش کے مطابق اس کا نام عبداللطیف رکھا گیا۔ لیکن وہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ پھر اسی بیوی سے جب دوسرا لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام پھر عبداللطیف رکھا گیا۔ یہی لڑکا آگے چل کر درویش کی پیشن گوئی کے مطابق واقعی عگانہ روزگار ہوا۔

    آباؤ اجداد
    شاھ بھٹائی کے آباؤ اجداد سادات کے ایک اھم خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچتا ہے۔ امیر تیمور کے زمانے میں ھرات کے ایک بزرگ سید میر علی بہت سی خوبیون کے مالک تھے۔ اور آپ کا شمار اس علاقے کے معزز ترین افراد میں ھوتا تھا۔ 1398ء ، 2-801ھ میں جب امیر تیمور ھرات آیا، تو سید صاحب نے اس کی اس کے ساتھیوں کی بڑی خاطر و تواضع کی، ساتھ ھی بڑی رقم بطور نذرانہ پیش کی۔ تیمور اس حسن سلوک سے متاثر ہوا۔ سید صاحب اور ان کے دو بیٹوں میر ابوبکر اور حیدرشاھ کو مصاحبین خاص میں شامل کر کے ھندوستان لے آیا۔یہاں آنے کے بعد میر ابوبکر کو سندھ کے علاقے سیوہن کا حاکم مقرر کیا۔ اور سید میر علی اور حیدر شاہ کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعد کو سید حیدر شاہ بھی اپنے والد بزرگوار اور تیمور کی اجازت سے گھومتے پھرتے مستقل طور پر سندھ میں آ گئے۔ اور ھالا کے علاقے میں شاھ محمد زمیندار کے مھمان ہوئے۔ شاھ محمد نے آپ کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ و رسم پر خلوص محبت میں بدل گئی۔ کچھ دنون بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی آپ سے کردی۔ چونکہ آپ کی ماں کا نام بھی فاطمہ تھا ، اس لئے شادی کے بعد اس نام کو سلطانہ سے بدل دیا گیا۔سید حیدر شاھ قریب قریب تین سال تک ھالا میں رھے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ھرات ھئے جہاں تین چار سال تک رہنے کے بعد وہیں وفات پا گئے۔ کہتے ہیں جب سید صاحب ھرات روانہ ہوئے تو آپ کی اھلیہ حاملہ تھیں انھوں نے چلتے وقت یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری عدم موجودگی میں بچہ پیدا ہوا تو لڑکا ہونے کی صورت میں اس کا نام میر علی اور لڑکی ہو تہ فاطمہ رکھا جائے۔چناچہ لڑکا پیدا ہوا۔ اور وصیت کے مطابق اس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی کے خاندان میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، ان بزرگوں میں شاھ لطیف کے علاوہ، شاھ عبدالکریم بلڑی وارو، سید ھاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

    حالات زندگی
    شاھ لطیف کی ولادت کے کچھ دنوں بعد ان کے والد اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر کوٹڑی میں آکر رہنے لگے۔ پانج چھ سال کی عمر میں آخوند نور محمد کی مشہور درسگاہ میں تحصیل علم کے لئے بھیجے گئے۔عام روایت ہے کہ شاہ صاحب نے الف کی سوا کچھ اور پڑھنے سے صاف انکار کردیا۔ يه روايت بالکل غلط هے، شاه صاحب سارے دينى علوم کے ماهر تهے۔

    جن دنون شاہ حبیب کوٹڑی میں آ کر آباد ہوئے ان دنوں کوٹڑی میں مرزا مغل بیگ ارغون کا ایک معزز خاندان سکونت پذیر تھا۔ شاھ حبیب کی پاکبازی اور بزرگی نے مغل بیگ کو بہت متاثر کیا۔ کچھ دنوں بعد وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ مریدوں میں شامل ہو گئے۔

    آپ نے سندھی شاعری سے لوگوں کی اصلاح کی۔ شاہ جو رسالو آپ ہی کی ایک عظیم کوشش ہے۔ آپ 1752ع میں 63 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔


    Link of Source
     
  14. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    سچل سرمست


    پیدائش : 1739
    وفات : 1242 ھجری

    سندھی زبان کے مشہور شاعر جو عرف عام میں ہفت زبان شاعر کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ کا کلام سات زبانوں میں ملتا ہے۔ سچل سرمست کی پیدائش 1739ء میں سابق ریاست خیرپور کے چھوٹے گاؤں درازا میں ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔ان کا اصل نام تو عبدالوہاب تھا مگر ان کی صاف گوئی کو دیکھ کر لوگ انہیں سچل یعنی سچ بولنے والا کہنے لگے۔ بعد میں ان کی شاعری کے شعلے دیکھ کر انہیں سرمست بھی کہا گیا۔ سچل سرمست کی پیدائش سندھ کے روایتی مذہبی گھرانے میں ہوئی مگر انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی خاندانی اور اس وقت کی مذہبی روایات کو توڑ کر اپنی محفلوں میں ہندو مسلم کا فرق مٹا دیا۔ان کے عقیدت مندوں میں کئی ہندو بھی شامل ہیں۔

    شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی زندگیوں میں ستر برس کا فاصلہ ہے۔ سچل ستر برس بعد جب صوفیانہ شاعری میں آیا تو ان کی وجدانیت بھی منفرد تھی اور شاہ بھٹائی کے نسبتاً دھیمے لہجے والے فقیروں سے سچل کے فقیروں کا انداز بیان منفرد اور بیباک تھا۔

    سچل سرمست نے سندھ کے کلہوڑا اور تالپور حکمرانوں کے ایسے دور اقتدار میں زندگی بسر کی جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر تھی۔انہوں نے اپنے آس پاس مذہبی نفرتوں کو دیکھ کر سندھی میں کہا:

    مذہبن ملڪ ۾ ماٹھو منجھایا، شیخي پیري بیحد ڀُلایا​

    جس کا سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ مذہبوں نے ملک میں لوگوں کو مشکل ميں ڈالا هےا اور شیخی، پیری نے انہیں بھول بھلیوں میں ڈال دیا ہے۔

    سچل سرمست نوّے برس کی عمر میں 14 رمضان 1242ء ھجری میں وفات کر گئے۔وہ شادی شدہ تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔انہوں نے بنیادی عربی فارسی کی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگ اپنے چچا مرشد اور سسر خواجہ عبدالحق سے حاصل کی۔سچل سرمست کا کلام سندھی، اردو، عربی، فارسی اور سرائیکی میں موجود ہے۔ انہیں اور ان کا کلام سنانے والے فقیروں کو سندھ میں ایک منفرد مقام اس لیے بھی حاصل ہے کہ کسی بھی محفل میں جب بھی مذہبی انتہا پسندی کو للکارا جاتا ہے تو آج بھی سہارا سچل کا لیا جاتا ہے۔


    Link of Source
     
  15. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مفتی نظام الدین شامزئی


    تاریخ پیدائش: 10 مارچ 1949
    مقام پیدائش: شمالی مغربی سرحدی صوبہ
    تدریسی تعلق: جامعۃ العلوم السلامیہ، علامہ بنوری ٹاون
    وجہ شہرت: خداداد حافظہ، علمی لیاقت، انقلابی فکر، زہد و تقوا اور خداترس طبیعت

    مفتی نظام الدین شامزئی عالم اسلام کے ایک ممتاز عالم دین تھے۔ آپ جامعۃ العلوم السلامیہ، علامہ بنوریہ ٹاون سے طویل عرصے تک وابستہ رہے۔ آپ کو سن 2004 میں گھر سے جامعہ جاتے ہوئے پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے ہوئے کچھ نامعلوم دہشت گردوں نے فائرینگ کرکے قتل کردیا تھا۔ آپ کے قاتلوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

    پس منظر
    مفتی نظام الدین شامزئی کا تعلق صوبہ سرحد سے تھا۔ آپ نے درس نظامی اور تخصص کی تعلیم کے بعد باقاعدہ تدریس کا آغاز جامعۃ العلوم السلامیہ، علامہ بنوریہ ٹاون سے کیا۔ آپ نے اپنی خداداد حافظے، علمی لیاقت اور فکری دانش کی بدولت ایک مختصر عرصے میں ناصرف ملکی سطح پر بلکہ بین القوامی سطح ایک مفکر، دانش ور اور مجدد کے طور پر اپنی شخصیت کو منوا لیا۔

    انقلابی فکر
    جہاں مفتی نظام الدین شامزئی امن اور سلامتی کے داعی تھے وہاں اس بعد کو بھی اچھی طرح سمجھاتے تھے کہ دنیا میں امن کا قیام اور معاشرے سے ظلم کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک کوئی ظالم کا ہاتھ کھیچ کر اسے ظلم سے نا روکے۔ اسی لئے انکی ہمدردیاں ہمیشہ ان قوتوں کے ساتھ رہیں جو دنیا سے دہشت گردی، سامراجیت، ظلم، منافقت کے خلاف قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق مہزب طریقوں برسرپیکار ہیں۔ اسلامی مذاحمتی تحریکوں اور ان میں ہمیشہ محبت کا یہ رشتہ قائم رہا۔

    صحافت
    مولانا لدھیانوی کی شہادت کے بعد مفتی نظام الدین شامزئی روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے تھے، آپ نے لدھیانوی صاحب کی جگہ آپ کے مسائل اور انکا حل کو جاری رکھا، اور جنگ کے اسلامی ایڈیشن اقراء میں لاتعداد کالم لکھے۔

    افغانستان پر امریکی حملہ اور پاکستانی کرار پر ردعمل
    مفتی نظام الدین شامزئی افغانستان پر آمریکی حملہ کو سامراج کا ایک غریب قوم پر حملہ سمجھتے تھے، انہوں نے اس جنگ میں پرویز مشرف کے کردار کو اسلام اور تیسری دنیا کے غریب عوام سے غداری قرار دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ آمریک افغانستان میں افغانستان کو فتح کرنے یا طالبان اور القائدہ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس پورے خطہ میں عدم استحکام پھلانے کے لئے آیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سرمایا دارانہ سامراج کا ان سائڈ ڈرامہ تھا اور اس پورے کھیل کا مقصد افغانستان پر حملہ کرنے کا جواز حاصل کرنا، اور مشرق وسطہ کی طرح وسطی اشیا سے جنوبی اشیا تک عدم استحکام پھلانا ہے۔ وہ اپنے اکثر بیان میں کیا کرتے تھے کہ اس جنگ کے زریعے لوگوں کی توجہ دنیا کے اصل مسائل یعنی سرمایہ کی غیر منصفانہ تقسیم اور ان پر قبضہ، تیسری دنیا میں تیزی سے پهیلتی بھوک و افلاس، تیسری دنیا کے ممالک میں سامراجی سازشیں، غربت اور جہالت سے ہٹا کر ایک مصنوعی بحران کی طرف مبذول کرنا تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس جنگ میں پرویز مشرف کے آمریکہ کو تعاون کی وجہ سے پاکستان کا امن خاک میں مل جائے گا۔ بیرونی سازشین اپنا کام کریں گی، آمریکہ اسرائیل اور بھارت کی خفیہ ایجینسیاں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دوہری جنگ لڑیں گی، نہ کبھی طالبان ختم ہونگے اور نا کبھی القائدہ کی جڑ اکھڑے گی۔ غرض جنگ جتنی طویل ہوگی پاکستان اور افغانستان کو اتنا زیادہ نقصان ہوگا اور امریکہ دنیا کو بیوقوف بناتا چلا جائے گا، کیونکہ اس کے قبضے میں پوری دنیا کا میڈیا اور پوری دنیا کے وسائل ہیں۔ مفتی صاحب کی رائے میں پاکستان کو اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہئے، وہ برملا کہتے تھے کہ بہت جلد ایراق ، پاکستان، شام اور سعودیہ عربیہ آمریکیوں جہازوں کے نیچے ہونگے۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ سچی توبہ، اللہ پر توکل، سامراجی غلامی سے آزاد ہوکر تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ مل کر دیر پا خارجہ پالیسی کی تشکیل۔ عالم اسلام میں اتحاد، غربت اور جہالت میں کمی کرکے قرآن و سنت کے ساتھ اپنے رشتے کو مستحکم کرنا ہے۔

    شہادت کے محرکات
    مفتی صاحب کی شہادت کے پیچھے کس کا ہاتھ آج تک یہ واضع نہ ہوسکا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے ایک لسانی تنظیم متحدہ قومی موومنٹ کے ہاتھ کی بات کرتے اور کچھ اسے خفیہ اجینسیوں کر کارستانی خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات مسلمہ ہے انکے قاتل سامراج کے آلہ کار تھے کیونکہ انکے قتل کا لازمی فائدہ تیسری دنیا کے وسائل پر قابض سامراج کو ہی ہوا ہے۔ مفتی صاحب کی شہادت سے چند روز قبل انسے قبائلی علاقوں میں پاکستانی افواج کے آپریشن اور اس سے متعلق معاملات پر قبائلی عوام نے چند شرعی رائے فتوے طلب کئے تھے وہ آخری دنون میں اس ہی فتوے پر کام کررہے تھے کہ انکے جواب سے قبل ہی انہیں شہید کردیا گیا۔ انا لله و انا الیہ راجعون

    کتابیں
    مفتی نظام الدین شامزئی لاتعداد کتابوں کے مصنف ہیں آپ کی مشہور کتابیں، خروض دجال اور نزول مسیح وغیرہ عوام الناس میں بیحد مشہور ہے۔


    Link of Source
     
  16. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مولانا احتشام الحق تھانوی


    پیدائش؛ 1915ء وفات؛1980ء

    عالم دین قصبہ تھانہ بھون (یو۔ پی ، بھارت ) میں پیداہوئے۔ دارلعلوم دیوبند سے دینی علوم میں سند فضیلت لی۔ تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا۔١٩٤٧ء میں کراچی آگئے اور جیکب لائین میں مسجد تعمیر کرائی۔ حافظ قرآن اور خوش الحان قاری تھے۔ ١٩٤٨ء میں ٹنڈوالہ یار (سندھ) میں دیوبند کے نمونے پر ایک دارلعلوم قائم کیا۔ مدراس (ہندوستان) میں، جہاں سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کیا۔


    Link of Source
     
  17. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مولانا محمد علی جوہر

    پیدائش: 1878ء
    انتقال: 1931ء

    ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما۔ جوہر تخلص۔ ریاست رام پور میں پیدا ہوئے۔ دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ والدہ مذہبی خصوصیات کا مرقع تھیں، اس لیے بچپن ہی سے تعلیمات اسلامی سے گہرا شغف تھا۔ ابتدائی تعلیم رام پور اور بریلی میں پائی۔ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ بی اے کا امتحان اس شاندار کامیابی سے پاس کیا کہ آلہ آباد یونیورسٹی میں اول آئے۔ آئی سی ایس کی تکمیل آکسفورڈ میں کی۔ واپسی پر رام پور اور بڑودہ کی ریاستوں میں ملازمت کی مگر جلد ہی ملازمت سے دل بھر گیا۔ اور کلکتے جا کر انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا۔ مولانا کی لاجواب انشاء پردازی اور ذہانت طبع کی بدولت نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند بھی کامریڈ بڑے شوق سے پڑھا جاتا جاتا تھا۔

    انگریزی زبان پر عبور کے علاوہ مولانا کی اردو دانی بھی مسلم تھی۔ انھوں نے ایک اردو روزنامہ ہمدرد بھی جاری کیا جو بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا کامیاب نمونہ تھا۔ جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔ 1919ء کی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔ ترک موالات کی تحریک میں گاندھی جی کے برابر شریک تھے۔ جامعہ ملیہ دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا۔ آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے۔ یہاں آپ نے آزادیء وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم انگریز میرے ملک کو آزاد نہ کرو گے تو میں واپس نہیں جاؤں گا اور تمہیں میری قبر بھی یہیں بنانا ہوگی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لندن میں انتقال فرمایا۔ تدفین کی غرض سے نعش بیت المقدس لے جائی گئی۔ مولانا کو اردو شعر و ادب سے بھی دلی شغف تھا۔ بے شمار غزلیں اور نظمیں لکھیں جو مجاہدانہ رنگ سے بھرپور ہیں۔


    Link of Source
     
  18. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    مولانا منظور احمد چنیوٹی


    پیدائش: 1928ء
    انتقال: جون 2004ء

    عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما۔مولانا منظور احمد چنیوٹی کی تقریباً ساری زندگی قادیانیو کو غیر مسلم اور مرتد قرار دلوانے میں بسر ہوئی۔ سنء انیس سو باون میں جب پاکستان میں پہلی بار قادیانیو کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو وہ سرگرم قائدین میں شامل تھے۔ دوسری بار انیس سو چوہتر میں قادیانیوں کے خلاف تحریک کی قیادت انہوں نے کی جس کے نتیجہ میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا ۔ ان ہی کی چلائی گئی تحریک کے نتیجہ میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ کا نام تبدیل کر کے سرکاری طور پر چناب نگر رکھا گیا ۔مولانا منظور احمد چنیوٹی تین بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ۔


    Link of Source
     
  19. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    بسم الله الرحمن الرحيم
    و صل اللهم وبارك وسلم على عبدك ورسولك محمد وعلى اله وصحبه اجمعين



    ٹیپو سلطان

    ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریزی افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا

    شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔​

    آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کیلیے سنجیدہ و عملی اقدامات کئے ۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کیلیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔

    ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کا میاب نہ ہوسکے۔ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹنم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا غدار ساتھیوں نے دشمن کیلیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔بارُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسرنے ٹیپو کو Chitaldrug بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 1799ء میں دوران جنگ سر پر گولی لگنے سےشہید ہو گئے۔

    انداز حکمرانی
    ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی مذہبی تعصب سے پاک تھے یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا ۔حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے ۔باوضو رہنا اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے ۔ ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے ۔ ہر شاہی فرمان کا آ‏غاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔

    علم دوست حکمران
    ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں آپ کو عربی فارسی اردو فرانسیسی انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور زاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔

    عظیم سپہ سالار
    ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منعظم کیا ۔ اسلحہ سازی ، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔

    میسور کی چوتھی جنگ
    میسور کی چوتھی جنگ جو سرنگاپٹم میں لڑی گئی جس میں سلطان نے کئی روز قلعم بند ہوکر مقابلہ کیا مگر سلطان کی فوج کے دو غدّار میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیجھے لے گيا۔ شیر میسور کہلانے والے ٹیپو سلطان نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کیا اور سرنگا پٹم کے قلعے کے دروازے پر جام شہادت نوش فرمایا

    علامه اقبال کی نظر میں
    شا‏عر مشرق علام اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی 1929 میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جزبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ آپ نے فرمایا

    ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کے اس مقصد کی راہ میں شہید ہوگیا


    Link of Source
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں