امام ابن تيميہ رحمہ اللہ پر ايک افترا والا قصہ

ابوعکاشہ نے 'امام ابنِ تیمیہ' میں ‏اکتوبر، 4, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    پیغامات:
    15,455
    بسم اللہ الرحمن الرحيم
    شيخ الاسلام امام ابن تيميہ رحمہ اللہ پر ايک افترا والا قصہ
    تبصرہ اولي الاحلام من قصص فيھا کلام
    الشيخ ابوعبدالرحمن الفوزي رحمہ اللہ
    مشہورسياح ابن بطوطہ نے کہا کہ : دمشق ميں حنابلہ کے کبار فقہاء ميں سے ''ايک تقي الدين ابن تيميہ '' تھے ـ آپ فنون ميں کلام ميں کيا کرتے تھے مگر يہ کے ان کي عقل ميں کچھ تھا ـ اہل دمشق ان کا بہت زيادہ احترام کيا کرتے تھے ـ ابن تيميہ منبر پر ان سے وعظ کرتے تھے (يہاں تک کے ابن بطوطہ نے کہا )ميں جمعے کے دن ان کے ہاں حاضر ہوا ـ وہ جامع کے منبر پر ان سے وعظ ونصيحت فرما رہے تھے ـ من جملہ ديگر باتوں کے انھوں نے کہا :اللہ تعالٰی آسمان سے ميرے اس نزول(اترنے ) کي طرح نزول فرماتا ہے ـ يہ کہ کر وہ منبر کي سيڑھيوں ميں سے ايک سيڑھي نيچے اترے ـ ايک مالکي فقيہ جو ابن زہراء کے نام سے معروف تھے ، انھوں نے ابن تيمہ سے اختلاف کيا اور اس بات کا انکار کيا ـ عوام اس فقيہ کے ساتھ ہو گئے اور ابن تيميہ کي ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ پٹائي کي، يہاں تک کہ ان کا عمامہ گر گيا ـ
    (رحلتہ ابن بطوطہ ص 112،113)

    جرح : اس افترا کا تين طريقوں سے جواب
    اول :: اس قسم کے قصے پختہ عزم والوں کو دعوت ديتے ہيں کہ وہ انہيں نقل کريں تو ابن بطوطہ کے علاوہ کسي اور نے اسے نقل کيوں نہيں کيا ؟ حالانکہ اس موقع پر ايک جماعت موجود تھي ، يعني لوگوں کا جم غفير موجود تھا ابن تيميہ کے بے شمار شاگرد اور اس کے نقل کرنے والے کہاں رہ گئے بلکہآپ کے دشمن کہاں رہ گئے ؟

    دوم :: ''نزول '' کے اس مسئلے پر شيخ الاسلام کا اپنا بيان بڑا ہي واضح ہے ، نيز آپ کا اس بات کا انکار بھي جو اس قصے ميں ان کي طرف منسوب کيا گيا ـ
    ابن تيميہ رحمہ اللہ فرماتے ہيں :::اسي طرح اللہ کي صفات کو مخلوق کي صفات کي طرح قرار دينا ـ جيسےيہ کہنا : اللہ کا استوا مخلوق کے استوا کي طرح ہے يا اس نزول مخلوق کے نزول کي طرح ہے ، اسي طرح ديگر صفات ميں تو يہ شخص بدعتي اور گمراہ ہے اس لئے کہ عقل کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت بھي اس پر دلالت کرتے ہيں کہ اللہ کو کسي بھي معاملے ميں مخلوقات کے مثل قرار نہيں ديا جا سکتا ـ انتہي

    (مجموعہ الفتاوي 262/5)

    سوئم :: اس قصے پر شيخ احمد بن ابراہيم بن عيسي احمد اللہ نے کلام فرمايا يے ــــــ کہ ــــــ ابن بطوطہ نے اپنے مشہور سفرنامہ ميں کہا :'' بعلبک شہر ميں ميرا دخول دن کو سہ پہر کے وقت تھا اور ميرا دمشق کي جانب بہت زيادہ اشتياق تھا جس کي بنا پر ميں بعلبک سے صبح ہي نکل پڑا ـ رمضان المبارک کي 9 تاريخ 726 ء بروز جمعرات شہر دمشق پہنچا اور وہاں مدرستہ المالکيہ ميں ٹہرا جو '' الشرابيشيہ '' کےنام سے مشہور تھا ــــــ '' اس کے بعد ابن بطوطہ نے مذکورہ بالا قصہ نقل کيا ـ

    ميں کہتا ہوں : اللہ ہي سے فرياد ہے اس جھوٹے کے مقابلے ميں کہ يہ نہ اللہ سے ڈرا اور نہ ہي اس نے اللہ سے حيا کي ـ حديث (اذا لم تستحي فاصنع ما شئت ) تم ميں حيا نہيں جو چاہے کرتے پھرو ـ

    ( صحيح البخاري 6120 )

    اس قصہ کا جھوٹ ہونا اس قدرواضح ہے کہ اس کے لئے کسي طول بياني کي ضرورت نہيں ـ اس بہتان دراز جھوٹے سے اللہ ہي حساب لينے والا ہے ـ اس کے بيان کے مطابق يہ 9 رمضان 726 ء کو دمشق ميں داخل ہوا ـ
    جبکہ شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اس وقت دمشق ميں کے قلعہ ميں قيد کر ديئے گئے تھے جيساکہ معتبر اہل علم نے بيان کيا ہے ـ مثلا ـ ـ
    آپ کے شاگرد حافظ محمد بن احمد بن عبد الہادي اور حافظ ابوالفراج عبد الرحمن بن احمد بن رجب نے '' طبقات حنابلہ '' (405/2) ميں ابن تيميہ رحمہ اللہ کے حوالے سے بيان کيا ہے '' شيخ رحمہ اللہ شعبان 726 ھجري سے ذوالقعدہ 728 ھجري تک قلعہ ميں رہے ـ اور ابن الہادي نے يہ بات زائد بيان کي کہ آپ شعبان کو قلعہ ميں داخل ہوئے ـ اب اس بہتان طراز کي طرف ديکھيں اس کے بقول يہ رمضان ميں حاضر ہوا جبکہ ابن تيميہ جامع کےمنبر پر لوگوں سے واعظ فرما رہے تھے ـ (سبحانک ھذا بہتان عظيم )

    اس طرح حافظ ابن کثير نے اپني تاريخ ميں بيان فرمايا : 6 شعبان 726 ھجري کوابن تيميہ دمشق کے قعلے ميں نظر بند کر ديے گئے ـ نائب سلطنت کي طرف سے ابن تيميہ کے ہاں اوقاف کا نمايندہ اور ايک دربان ابن الخطير حاضرہوئے ، وہ دونوں ان کے لئے اپنےساتھ ايک سواري بھي لائے تھے اور ان کے سامنے شاہي فرمان پيش کيا آپ نے اس پرخوشي کا اظہارکيا اور فرمايا :ميں اس کا منتظر تھا ، اس ميں بہت بہتري ہے تو وہ تينوں ہي ان کے گھر سے قلعے کے پھاٹک کي طرف سوار ہو کر نکلے ـ آپ کے لئے قلعہ کا ايک بڑا کمرہ خالي کراديا گيا ، وہاں پاني مہيا کرديا گيا اور انہيں اس ميں اقامت کا حکم ديا گيا ـ آپ کے ساتھ اپ کے بھائي زين الدين تھے جوسلطان کي اجازت سے آپ کي خدمت کيا کرتے تھے ــ انتھي

    جب آپ ديکھيں ان کے شاگردوں وغيرہم کي بات کو جو آپ کے حالات سے بخوبي واقف تھے اور متقي ، امين ، ديانتدار تھے تو آپ پر اس مغربي (ابن بطوطہ ) کي غلط بياني واضح ہو جائے گي ـ اللہ اس کے ساتھ وہي معاملہ فرمائے جس کا وہ مستحق ہے ـ واللہ اعلم

    اس معلوم ہوا کہ ابن بطوطہ سياح کذاب تھا ، مشہور مؤرخ ابن خلدون (متوفي 808 ہجري ) نے ابن بطوطہ سياح (متوفي 778 ہجري )کے قصوں کا ذکر کر کے لکھا ہے :'' فتناجي الناس بتکذبيہ '' پس لوگوں نے اسے جھوٹا قرار ديا (مقدمہ ابن خلدون ص 182 ، تاريخ ابن خلدون ص 94 ) پھر انھوں نے وزير فارس کو بتايا کہ لوگوں ميں يہ مشہور ہے کہ ابن بطوطہ جھوٹا ہے تو ثابت ہواکہ ابن بطوطہ ساقط العدالت کذاب تھا

    اور ابن تيمہ رحمہ اللہ پر کئي ايسے بہتان لگائےگئے اور غلط بيانياں کي گئيں جن سے وہ بري تھے اور معاملہ وہ ہے جو کہ آپ کے ايک شاگرد نے شعر ميں کہا ہے :
    فالبھت عندکم رخيص سعرہ
    حثوا بلا کيل ولاميزان
    بہتان کي قيمت تمہارے ہاں بڑي سستي ہے
    تم بغير ناپ طول کے يہ جمع کرتے رہو

    (قصيدہ نونيہ مع شرحہا 182/2)

    عرض مترجم
    ممکن ہے کسي کو يہ محسوس ہو ا ہو کہ اس مقام پر فاضل مؤلف نے شديد و سخت کلامي سے کام ليا ہے توعرض ہے کہ يہ معاملہ ہي کچھ ايسا ہے ـ
    اس کي شدت کا اندازہ لگانے کے لئے آپ ديوبندي مفتي محمد تقي عثماني صاحب کا يہ بيان ملاحطہ کيجئے ، فرماتے ہين :''اب يہاں علامہ ابن تيميہ رحمہ اللہ کے موقف کو سمجھ لينا ضروري ہے ـ يہ بات مشہور ہو گئي ہےکہ وہ (معاذ اللہ ) تشبيہ کے قائل يا کم ازکم اس کے قريب پہنچ گئے ہيں ـ اور قصيہ يہ بھي مشہور ہے کہ انھوں نے جامع دمشق کے منبر پر تقرير کرتے ہوئے حديث باب کي شرح کي اور اس کي تشريح کے دوران خود منبر سے دو سيڑھياں اتر کر کہا کہ '' ينزل کنزولي ھذا '' يعني باري تعال?ي کا نزول ميرے اس نزول کي طرح ہوتا ہے ـ
    اگر يہ واقعہ ثابت ہوتو بلاشبہ يہ نہايت خطرناک بات ہے ـ اور اس سے يہ لازم آتا ہے کہ علامہ ابن تيميہ رحمہ اللہ '' تشبيہ کے قائل ہيں ''

    (درس ترمذي جلد 2 صفحہ 202 )
    تو يہ ہے سخت کلامي کي وجہ اس کے وجہ سے ابن تيميہ رحمہ اللہ کے عقائد سے متعلق وہ بات لازمي آتي ہے جو '' بلاشبہ نہايت ہي خطرناک بات ہے ''

    پھر تقي صاحب بھي اس قصے کي ترديد فرماتے ہوئے کہتےہيں '' ليکن محقيقن نے سفرنامہ ابن بطوطہ کياس حکايت کو معتبر نہيں مانا ، جس کي وجہ يہ ہے کہ اسي سفرنامے کے (صفحہ 50 جلد 1)پر تصريح کي ہے کہ ابن بطوطہ (جمعرات 9/ رمضان 726 ھجري ) کو دمشق پہنچا ، حالانکہ علامہ ابن تيميہ رحمہ اللہ (شعبان 726 ھجري ) کے اوائل ميں دمشق کے قلعے ميںقيد ہو چکے تھے اور اسي قيد کي حالات ميں (20/ ذيقعدہ 728 ھجري ) کو ان کي وفات ہوگئي ـ لہذا يہ بات تاريخي اعتبار سے ممکن نظر نہيں آتي کہ وہ رمضان 726 ھجري ميں جامع دمشق ميں خطبہ دے رہے ہوں ''

    (درس ترمذي 2/202 )

    آگے چل کر مزيد فرماتے ہيں :
    ''جہاں تک اس سلسلے ميں علامہ ابن تيميہ رحمہ اللہ کے صحيح موقف کا تعلق ہے اس موضوع پر ان کي ايک مستقل کتاب ہے جو '' شرح حديث النزولي '' کے نام سے شائع ہو چکي ہے او اس ميں ابن تيميہ رحمہ اللہ نے '' تشبيہ '' کي سختي کي ترديد فرمائي ـ مثلا ــ ـ ـ
    (صفحہ 58 )پر لکھتےہيں کہ
    [ar]''وليس نزول کنزول اجسام بني آدم من السطح الي الارض بحيث يبقي السقف فوقھم ، بل اللہ منزہ عن ذالک ، ـ[/ar] ـ ''

    (درس ترمذي 2/203 )
    ''يعني اللہ کا نزول انسانوں کے اجسام کےاس نزول کي طرح نہيں کہ وہ جب زمين کي طرف نزول کرتے ہيں تو وہ چھت کے نيچے ہو جاتے ہيں بلکہ اللہ تعالی اس سے منزہ ہے ـ ''

    مشہور واقعات کي حقيقت ،مترجم :: محمد صديق رضا
    نظر ثاني:: حافظ زبيرعلي زئي
    کمپوزنگ ::عُکاشہ

     
  2. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    پیغامات:
    13,365
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    پیغامات:
    5,624
    السلام علیکم
    بہت بہت بہت شکریہ بھائی عُکاشہ۔ یقین کیجئے کہ آپ نے میری ایک بہت بڑی ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کر دیا ہے۔ جزاک اللہ خیرا
    میں نے یہیں مجلس کے ایک تھریڈ میں اور ایک دوسرے فورم پر بھی شیخ الاسلام پر لگائے گئے اس الزام کی حقیقت بتانے کا وعدہ کیا تھا جو شیخ الاسلام کی حیات پر مبنی ایک کتاب میں تفصیل سے درج ہے۔ مگر دیگر مصروفیات کے سبب کمپوزنگ کے لیے مناسب وقت نہ نکال سکا۔
    بہرحال آپ کا ایک بار پھر شکریہ کہ آپ نے ایک اہم کام کو سرانجام دیا ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں