کیا چہرے کا پردہ صرف امہات المؤمنين كے ليے تھا ؟

عائشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏نومبر 3, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ۔۔۔۔ِ" اب ہم البانى صاحب كے اس نظريہ كا جائزہ لينا چاہتے ہیں كہ " دور نبوى ميں چہرہ اور ہاتھوں کا پردہ صرف ازواج مطہرات كے ليے مختص تھا ۔"

    يہ نظريہ درج ذيل دلائل كى بنا پر درست نہیں .

    دليل نمبر ايك :

    اللہ تعالى فرماتا ہے: يَا أَيُّھا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْھِنَّ مِنْ جَلَابِيبِھِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّہ غَفُورًا رَحِيمًا

    (ترجمہ)اے نبى اپنی بيويوں، بيٹیوں اور مومن عورتوں سے كہہ دو كہ جب وہ باہر نكليں تو اپنی چادریں اوپر سے لٹکا لیا کریں ۔ ( سورة الأحزاب: 59/33)

    اب دیکھئیے، فريقين ميں يہ بات مسلم ہے كہ ازواج النبي (رضى اللہ عنھن) چہرے اور ہاتھوں كا پردہ كيا كرتى تھیں ۔اب یہ چہرے كے پردے كا حكم دو ہی آيات سے مستنبط ہو سکتا ہے ۔

    ايك تو مندرجہ بالا آيت ہے۔ اس آيت ميں جيسا كہ حكم ازواج النبى كے ليے ہے بالكل ويسا ہی حكم نساء المؤمنين كےليے بھی ہے ۔لہذا مسلمان عورتوں كو اس حكم سے خارج نہیں كيا جا سكتا ۔

    دوسرى آيت جس سے چہرے کے پردے كا استنباط کیا جاتا ہے وہ آیت حجاب ہے ، جیسا کہ حضرت عائشہ رضى اللہ عنھا نے خود يہی استنباط کر کے واقعہ افک کے دوران چہرے کا پردہ کیا تھا ۔ اس آيت ميں اگر چہ یہ حکم امہات المؤمنین سے تعلق ركھتا ہے ، تاہم آیت حجاب واستيذان كا حكم بعد ميں (سورة نور آيت نمبر27) تمام مسلمانوں كے ليے بھی لازمى قرار دیا گیا ۔ لہذا اس لحاظ سے بھی عام مسلمان عورتوں كو چہرے كے پردے کے حكم سے خارج نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔

    جارى ہے​

    احكام سترو حجاب : مولانا عبد الرحمن كيلانى ، باب 4 : چہرے اور ہاتھوں کا پردہ ، صفحہ 77، ناشر مكتبہ السلام ۔20 وسن پورہ لاہور، پاکستان۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2015
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    دليل نمبر 2 :

    احرام والى عورت نہ نقاب اوڑھے ، اور نہ دستانے پہنے

    ( حديث مبارك : ديکھئے _صحيح البخاري، حديث نمبر1741، سنن أبى داود: حديث نمبر1827، 1828،1829، جامع الترمذى: حديث نمبر833،سنن النسائى : حديث نمبر، 2673 ان سب احاديث کو امام البانى نے صحيح قرارديا ہے۔ )

    آيا آپ كا يہ حكم صرف ازواج مطھرات كے ليے ہے يا تمام مسلمان عورتوں كے ليے؟ اگر يہ خطاب عام ہے تو يہ اس بات كى واضح دليل ہے كہ عہد نبوى ميں عام مسلمان عورتوں ميں چہرہ اور ہاتھوں كا پردہ رائج تھا ۔


    جاری ہے​
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2015
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    دلیل نمبر 3:

    حضرت عائشہ فرماتى ہیں كہ ہم رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ حالت احرام ميں ہوتی تھیں ۔ قافلے ہمارے پاس سے گزرتے ، جب ہمارے سامنے آتے تو ہم ميں سے ہرایک اپنی چادر اپنے سر سے نیچے لٹکا لیتی ۔ پھر جب وہ گزر جاتے تو ہم پردہ پیچھے ہٹا لیتے۔ ( حديث: بحوالہ سنن أبى داود: كتاب المناسك ۔ باب في المحرمہ۔۔۔)

    اس حديث كو موصوف ( شيخ البانى) نے بھی اپنے رسالہ كے صفحہ 50 پر درج فرمايا ہے ۔ اس سے دو باتيں واضح ہوتی ہیں ۔

    1) ۔ حضرت عائشہ چہرے كے پردے کے معاملے ميں اتنى سخت تھیں کہ حالت احرام ميں (جب کہ چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے) بھی اجانب ( اجنبيوں) سے چہرہ کا پردہ کرنا ضروری سمجھتی تھیں ۔

    2) ۔ حديث ميں لفظ " نحن" ( يعنى ہم) آيا ہے ، اب اس نحن سے مراد صرف ازواج مطہرات لینے كى كيا دليل ہے ؟ كيوں نہ سمجھا جائے کہ حضرت عائشہ رضى اللہ عنھا کے ساتھ دوسرى مسلمان عورتيں بھی تھیں جو حالت احرام ميں بھی چہرے كا پردہ كيا كرتى تھیں ؟
    اور یہی بات زيادہ قرين قياس ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2015
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    دليل نمبر 4:

    اسماء بنت ابى بكر رضي اللہ عنھما فرماتى ہیں كہ ہم مردوں سے اپنا چہرہ چھپایا کرتی تھیں اور اس( احرام ) سے پیشتر كنگھی بھی کر لیا کرتى تھیں ۔

    يہ حديث موصوف (امام البانى رحمہ اللہ) نے اپنے رسالہ کے صفحہ 51 پر درج فرمائی ہے ، ليكن ايسا معلوم ہوتا ہے كہ یہ حدیث غلطى سے ددرج ہو گئی ہے ، کیوں کہ یہ آپ كے موقف كى پوری پوری تردید كر رہی ہے ۔

    اس ليے کہ

    1) ۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر دور نبوى ميں موجود بھی تھیں اور

    2) ازواج مطہرات میں سے بھی نہیں تھیں ۔

    ان دونوں باتوں کے با وجود وہ مردوں سے چہرے کا پردہ بھی کرتی تھیں !!!



    جارى ہے​
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2015
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    خلاصہ كلام:

    ان تمام دلائل سے واضح ہے كہ عہد نبوی ميں چہرے کا پردہ ازواج مطہرات کے علاوہ عام مسلمان عورتوں ميں بھی مروج تھا ۔

    اقتباس از: احكام سترو حجاب : مولانا عبد الرحمن كيلانى( رحمہ اللہ) ، باب 4 : چہرے اور ہاتھوں کا پردہ ، صفحہ 77_78 ، ناشر مكتبہ السلام ۔20 وسن پورہ لاہور، پاکستان۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20, 2015
  6. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,365
  7. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    جزاک اللہ خیرا عین بہن۔ بہت حساس معاملے پر آپ نے روشنی ڈالی۔
    اس میں ان لوگوں کے لیے بھی سبق ہے جو یہ کہتے ہیں کہ جی پردہ تو اصل میں صرف نظر کا ہے، منہ کھلا بھی رہے تو کوئی حرج نہیں، جبکہ قرآن اور احادیث میں تو چہرے کے پردے کے بارے میں‌ واضح ثبوت موجود ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 3, 2009
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    کچھ احباب اس حدیث کو بنیاد بنا کر عام حالات میں چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھنے کے قائل ہیں، حالانکہ یہاں احرام کی حالت میں اس نکیر کی دلالت یہ واضح کرتی ہے کہ عام حالات میں تو چہرے اور ہاتھوں کو ڈھکنا لازمی امر ہے۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485



    جزاكما اللہ خيرا.

    رفى بھائی آپ نے بڑی اچھی بات کہی کہ عام حالات میں تو چہرے اور ہاتھوں كو ڈھکنا لازمی امر ہے ۔ جزاكم اللہ خيرا ۔ اور جس حديث سے یہ فرضيت ثابت ہوتی ہے اسى كو چہرے کے پردے کے خلاف دلائل میں استعمال کيا جاتا ہے۔ يہ دراصل اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کا کام ہے ۔ورنہ مومن كے ليے تو اللہ اور رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کے حكم كے بعد چوں کہ ، چناں چہ کی كوئى گنجائش نہیں رہ جاتی ۔

    ميں اس سلسلے ميں ايك اور نقطہ پر بھی اہل مجلس سے بات کرنا چاہتی ہوں ، کہ اگر تھوڑی دير كے ليے مان ليا جائے كہ چہرے اور ہاتھوں کے پردے کی فرضیت پر علماء کا اختلاف ہے ( اگر چہ ہر اختلاف معتبر نہیں ہوتا) تو جن امور میں اختلاف نہیں کم از کم ان پر تو عمل کیا جائے ۔۔۔

    مثلا : پاؤں کا پردہ ، گردن کا پردہ ، بالوں کا پردہ ، کلائیوں کا پردہ ۔

    لوگ اتنى ديدہ دليرى سے بے پردہ بیویوں ، بیٹیوں کے ساتھ بازاروں ميں گھومتے پھرتے ہیں، اور کوئی پردے كى بات كرے تو يوں بھڑک اٹھتے ہیں گویا سارے غير اختلافى معاملات پر عمل کر چکے ۔

    آج تك كسى عالم نے پیر( پاؤں) کی بے پردگی کی اجازت نہیں دی، بال کھولنے کی اجازت نہیں دی، زیورات سے سجی كلائيوں اور گردن کی نمائش کو جائز نہیں کہا ، تنگ اور شفاف لباس کے حق میں دلائل نہیں دئیے ، مگر خواتین کی کتنی تعداد ان غیر اختلافی امور پر عمل کرتی ہے ؟؟؟ کتنے باپ ، بھائی ، بیٹے ،اپنی ماؤں ، بیٹیوں ، بہنوں کو اس متفق علیہ بے پردگی سے روکتے ہیں؟؟؟

    افسوس لوگ اللہ کے حکم کی ہیبت کو فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ما قدروا اللہ حق قدرہ ۔

    یہ سب اختلاف اختلاف کی رٹ بہانہ بازیاں ہیں، جن کے ذریعے اپنی بے عملی کا جواز پیش کیا جاتا ہے ۔

    اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے ۔اور اپنے حکم کی عظمت اور ہیبت کے احساس کی توفیق دے ۔
     
  10. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    میں اس ضمن میں ایک بات اور واضح کر دوں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں جتنے بھی دینی گروہ اور مکاتبِ فکر ہیں ، ان میں سے کوئی بھی پردے کے اس معاملے میں ایسے اختلاف اختلاف کا رٹا نہیں لگاتا ۔۔۔۔۔۔
    بلکہ جو بھی ایسا شور مچاتا ہے اس کا تعلق یا تو دین بیزار روشن خیال مسلم طبقہ سے ہوتا ہے یا پھر منکرینِ حدیث گروہ سے !!

    واللہ اعلم
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بالکل درست ۔

    پردے کے سلسلے میں ایک کوتاہی با پردہ خواتین میں بھی سامنے آتی ہے ، اور وہ ہے پردہ کر کے بے پردہ ہونا ۔ جیسے
    ۔1 تنگ یا شفاف عبا یا گاؤن اور نقاب کا استعمال ،
    2۔ چہرے کا پردہ کر کے ہاتھ ، کلائیاں ، بازو اور پیروں اور پنڈلیوں کے پردے سے لا پرواہی برتنا
    3۔ شوخ رنگوں یا کڑہائی، موتیوں اور دوسری تام جھام سے مزین چادروں ، سکارف، عبایوں یا گاؤنز سے پردہ کرنا

    اگر خوش قسمتی سے کچھ خواتین ان باتوں میں شیطان کے وار سے بچ جائیں تو ایک نئے جال کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ ہے پردے کے آداب سے لاپرواہی
    یعنی
    1 ۔پردہ کر کے خوشبو لگا کر نکلنا
    2۔ با پردہ ہونے کے باوجود مردوں کی بھِیڑ میں گھس کر چلنا ، جب کہ خواتین کو عام راستے اور مردوں کی بھیڑ سے بچ کر چلنا چاہئیے ۔
    3۔ با پردہ ہو کر اونچی آواز میں ہنسنا، قہقہے لگانا ، اونچی آواز میں باتیں کرنا ۔
    4 ۔ ایسے جوتے زیور یا دوسری چیزیں استعمال کرنا جن میں گھنٹی یا بجنے کی آواز ہو جو راہ گیر وں کو متوجہ کرے۔ آواز والی ایڑی والے جوتے بھی اسی میں شامل ہیں ۔

    یہ سب در اصل شیطان کے پھیلائے ہوئے تہ در تہہ رنگین اور پر کشش جال ہیں ، اگر ایک سے مومن عورت بچ نکلتی ہے تو وہ دوسرے کو آزماتا ہے پھر تیسرے کو ۔اوریوں شیطان اور ایمان کی جنگ آخری سانس تک جاری رہتی ہے ۔

    اللہ تعالی مجھے اور امت کی تمام بیٹیوں کو اس کمزور لمحے سے محفوظ رکھے جب شیطان غلبہ پا سکتا ہے ، ہمارے ایمان وعفت کے قلعوں کو محفوظ تر کرے، م جئیں تو اس کے احکام کا عملی نمونہ بن کر ، اور ہمارا خاتمہ اسی خیر پر ہو جس کا نام اسلام ہے ۔

    اللھم انا نسالک الھدی والتقی والعفاف والغنی ۔اللھم انا نسالك العفو والعافيہ في الدنيا والآخرة ۔ آمين يارب العالمين ۔
     
  12. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    جی بالکل عین سسٹر عورتوں میں کثرت سے پائی جانی والی بہت بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ پردے کی طرف دھیان نہیں دیتیں کہ ہمیں کون دیکھتا ہے ۔۔۔ سعودیہ عرب میں سجے دھجے عبائے ممنوع ہو گئے ہیں لیکن دوکاندار بھی بہت چالاک ہیں اندر سب دو نمبر مال چھپا کر رکھتے ہیں اور بیچتے ہیں ۔۔ اللہ سب کو ہدایت دے
     
  13. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم!
    جو عورت مکمل شرعی پردہ نہیں کرتی وہ شریف زادی نہیں ہوتی اور شریف زادی کے لقب سے نکل جاتی ہے۔
    آگے آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ پھر وہ کس کیٹیگری میں ہوتی ہے۔
    والسلام علیکم
     
  14. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    جزاک اللہ خیرا
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    معاف کیجئیے گا بھائی ۔پردہ نہ کرنا غلطی ضرور ہے ، مگر کسی کے کردار پر بات کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا ۔یہ بہت بڑی بات ہے ۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے ۔یہ اللہ ہی ہے جو ہمارے محاسبے کر سکتا ہے ، ہم کسی کو کردار کا سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکتے۔

    بہت سی سنجیدہ اور با وقار خواتین ہو سکتا ہے اس وجہ سے مکمل شرعی پردہ نہ کرتی ہوں کہ انہیں ان احکام کا علم ہی نہ ہو ، یا کوئی اور مجبوری ہو ۔
     
  16. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    عتیق بھائی ! میرا خیال ہے کہ آپ دل و دماغ کو کشادہ کر کے اپنے اس جملے سے رجوع فرما لیں گے۔
    اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ صرف مکمل شرعی طور سے پردہ کرنے والی خواتین ہی شریف کہلانے کی حقدار ہیں۔
    جبکہ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں کہتا کہ صرف مسلم خواتین ہی شریف ہوتی ہیں اور تمام غیر مسلم خواتین بالکل بھی شریف نہیں ہوتیں۔
    جبکہ ایسی سوچ یکدم غلط ہے۔
     
  17. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,638
    وعلیکم السلام
    میرے خیال میں ہمیں اتنی بڑی بات کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اس ضمن میں قرآن اور حدیث کیا کہتے ہیں۔ اگر یہ حق ہمیں مذہب نے دیا ہے تو ٹھیک ، ورنہ اتنی بڑی بات کہنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ ہم بہبت ہی جذباتی ہو کر ایسی بات کر جاتے ہیں کہ بجاے اس کے کہ کسی بات کی تصحیح ہو، الٹا ہماری وہ بات فتنے کا باعث بن جاتی ہے۔
    پردے کی افادیت اور اس کی فرضیت اپنی جگہ، لیکن عتیق الرحمٰن بھائی، ذرا ٹھنڈے دماغ سے اپنی باتوں پر غور کریں اور ان سے رجوع کریں۔
    اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 6, 2009
  18. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    اللہ عز وجل نے سورۃ احزاب میں فرمايا ہے کہ:

    " اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہدو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال دیا کریں، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہچانی جائيں گی اور ستایا نہ جائے گا۔ "

    یہ آیت اتری ہی عورت کے چہرے کے اوپر ہے۔ اس میں لفظ "جلابین" جلباب کے جمع ہیں جس کا مطلب ہے " چادر" اور " ادناء" کے معنی " ارخاء" یعنی لٹکانے کے ہیں۔
    اور اس کا مطلب چہرہ چھپانا ہے، چاہے وہ گھونگھٹ سے ہو یا نقاب سے ہو۔
    اب دیکھتے ہیں کہ مفسرین قرآن نے اس آیت کا کیا مطلب نکالا ہے؟
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہےکہ:

    "اللہ تعالی نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ اگر وہ کسی ضرورت کی خاطر باہر نکلیں تو سر کے اوپر سے اپنی چادروں کے دامن لٹکا کر اپنے چہروں کو ڈھانپ دیں"
    ( تفسیر ابن جریر جلد دوم)

    علامہ ابن جریر طبری اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

    " اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو کہدو کہ اگر گھروں سے کسی مجبوری کی حالت میں نکلیں تو لونڈیوں کے سے لباس نہ پہنیں کہ سر اور چہرے کھلے ہوں بلکہ اپنے اوپر چادر لٹکا دیا کریں کہ کسی کو پتہ کہ شریف عورتیں جارہی ہیں اور کوئی فاسق حرکت نہ کرسکے۔"
    (تفسیر ابن جریر جلد سوم)
    علامہ نیشاپوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

    " ابتدائے عہد اسلام میں عورتیں زمانہ جاہلیت کی طرح صرف" دوپٹہ اور قمیص" میں باہر نکلتی تھیں اور شریف عورتوں کا لباس بھی اس سے مختلف نہیں تھا پھر اللہ تعالی نے حکم دےدیا کہ شریف عورتیں اپنے سر اور چہروں کو چپائيں تاکہ پتہ چل جائے کہ یہ شریف عورتیں ہیں نہ کہ "فاحشہ-"[/COLOR]
    ( تفسیر غا‏ب القرآن بہ حاشیہ ابن جریر)

    زمانہ جاھلیت میں اشراف کی عورتیں اور لونڈياں بغیر پردہ کے گھومتی تھیں اور بدکار قسم کے لوگ ان کا پیچھا کرتے تھے تو حکم نازل ہوا کہ اپنے جسم بمع چہرہ کو چپاؤ کہ شریف عورت اور فاحشہ عورت میں تمیز ہو۔
    ان چيزوں سے پتہ چلا کہ صحابہ کرام کے دور سے لے کر آٹھویں صدی تک اس آیت کا مطلب ایک ہی لیا گیا جوکہ اس کے الفاظ سے ہم نے سمجھا ہے۔
    اگر آپ احادیث کی طرف بھی نگاہ دوڑائيں تو آپ کو یہی مطلب ملے گا۔
    ہاں یہ اور بات ہے کہ حالت احرام میں خصوصی طور پر چہرہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، اب مجھے اتنا پتہ نہیں کہ کیوں دی گئی، جب پتہ چلے گا تو بتادوں گا۔ انشااللہ
    حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ:

    " سوار ہمارے قریب سے گذرتے تھے اور ہم عورتیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتی تھیں۔ بس جب وہ لوگ ہمارے سامنے آجاتے تھے ہم اپنی چادریں اپنےسروں کی طرف سے اپنے چہروں پر ڈالدیتی اور جب وہ گذر جاتے تو منہ کھول لیتی تھیں"۔
    (سنن ابو داؤد)
    فاطمہ بنت منذر کا بیان ہے کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہروں پر کپڑا ڈال دیا کرتی تھیں۔ ہمارے ساتھ ابوبکر (رض) کی بیٹی اسماء (رض) ہوتی تھیں اور انہوں نے ہم کو اس سے منع نہیں کیا۔
    (موطا از امام مالک)

    ان احادیث کا مطلب ہی یہی ہے کہ عورت کو ہر حال میں مرد سے پردہ کرنا چاہیے اور اگر حالت احرام میں ( جب کہ عورت کو اجازت ہے منہ کھولنے کی) بھی مسلمان عورتیں مردوں کو سامنے پاکر منہ ڈھانپ لیتی تھیں۔
    اور پردہ؛ شریف عورت اور فاحشہ میں فرق کرتا ہے۔ قرآن کی اوپر دی گئی آیت کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو عورت بغیر پردہ (دوپٹہ اور قمیص) میں باہر نکلتی ہے وہ اسلام کی روء سے شریف عورت نہیں بلکہ فاحشہ کی کیٹیگری میں آتی ہے۔

    اگرکچھ لوگوں کے پاس میری ان ساری باتوں کا جواب ہے تو پلیز قرآن اور حدیث سے قائل کرنے کی کوشش کریں۔

    عورت کی آزادی اور اسلام
     
  19. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    عتیق بھائی !
    قرآن کی کسی ایسی آیت کا حوالہ دیں جس میں واضح طور پر لکھا ہو کہ شرافت کا معیار شرعی پردے سے لگایا جائے گا۔
    جن تفاسیر کا آپ حوالہ دے رہے ہیں ، ان سے صرف مسلمان عورتوں کے لئے حکم ظاہر ہوتا ہے ، کافر عورتوں کے لئے نہیں۔
    اور "شرافت" صرف مسلمان عورت کی خاصیت نہیں ہے ، ایک کافر عورت بھی یقیناً شریف ہو سکتی ہے۔

    جبکہ قرآن یا حدیث کی کسی بھی شرح سے ایسی بات ثابت نہیں ہوتی جس طرح آپ کہہ رہے ہیں ، یعنی :
    اگر ایسی تفسیر کسی صحابی سے منقول ہو تو براہ مہربانی حوالہ دیجئے گا۔

    عتیق بھائی ! ذرا تو اللہ کا خوف کریں۔
    کیا یہ بذات خود قرآن کہتا ہے یا یہ علامہ نیشاپوری کی اپنی تفسیر ہے؟؟ کیا علامہ کا قول ہمارے لئے حجت ہے؟؟
    کیا کسی صحابی نے ایسا مطلب نکالا ہے ؟؟؎ کیا کسی صحابی نے معیارِ شرافت کو پردے سے مشروط کیا ہے؟؟
    کوئی تو دلیل دیجئے بھائی۔
     
  20. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    عتیق بھائی ذرا یورپ کی روشنیوں سے نکل کر برصغیر کے اُس دشوار گذار پہاڑی علاقے کا تصور ذہن میں لائیے جہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوں، جہاں کے مرد روزگار کے سلسلے میں مہینوں بڑے شہروں میں گذارتے ہوں، بچے میلوں چل کر تعلیم حاصل کرنے جاتے ہوں، انہیں‌میں سے کوئی ڈاکٹر بنتا ہے تو کوئی عالم، اور وہاں کی عورتیں گھروں میں‌ رہ کر روزمرہ کے استعمال اور پینے کا پانی کنوؤں سے بھر کر لاتی ہوں، جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا چولہا گرم کرتی ہوں، ان میں کتنی قرآن پڑھانے اور پڑھنے والیاں، پنج وقتہ نمازی ہوں گی یہ معلوم کرنا مشکل ہے مگر گھر سے باہر نکلنا سب کی ضرورت ہے کیا وہ سب بھی آپ کے اس فتوے کی نذر نہیں ہو رہیں۔

    رہا پردے پر جبر کر کے لاگو کروانا تو اس کی مثال آپکو مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر میں بہتر دیکھنے کو ملے گی، جہاں‌کا مذہبی ماحول، اور اکثر خواتین کے نقش و نگار سے مزین، چُست "شرعی" عبایہ جات، جو کہ نہ صرف بزبانِ حال بلکہ اکثر اوقات بزبانِ خود بھی پاس سے گذرنے والے کو کہتی ہیں "کیا کروں ہائے کچھ کچھ ہوتا ہے"

    تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف پردہ ہی سب کچھ نہیں، جیسا کہ عین سسٹر اور بنت الاسلام سسٹر نے کہا ہے کہ پردے کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے، تو کیا اس میں بقول آپ کے ان فاحشہ بے پردہ خواتین کا قصور ہے یا بڑی بڑی علمی بحثیں کرنے والے ان مرد حضرات کا جو عورت کے معاشرے میں اس کردار سے واقف ہوتے ہوئے بھی ان کی فلاح پر توجہ نہیں دیتے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں