کیا چہرے کا پردہ صرف امہات المؤمنين كے ليے تھا ؟

عائشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏نومبر 3, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    السلام علیکم بھائیو و بہنوں!
    اس وقت میرے سونے کا وقت ہے مگر میں صرف جواب دینے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں کہ آپ کو کچھ غلط فہمی ہوئی ہے میری سوچ کے متعلق۔ جو میں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ان شاءاللہ
    سب سے پہلی بات کہ میں نے جو غیر پردہ دار خواتین کے متعلق کہا وہ صرف اور صرف مولانہ مودودی رح کی کتاب پردہ میں سے اخذ کیا گیا مواد کی روشنی کے مطابق پیش کیا ہے۔
    باذوق بھائی اور عین سسٹر کی باتیں ٹھیک ہی لگتی ہیں مگر صبح سے شکریہ ادا کرتا رہا اور لکھ نہ سکا کیونکہ آفس میں بیٹھا تھا اور اسی وجہ سے اپنا تبصرہ دینے سے معذور تھا۔
    بات دراصل یہ ہے کہ جب 2 سال پہلے میں نے مجلس پر ایک تحریر پیش کی تھی "عورت کی آزادی اور اسلام" تو سب نے مجھے اپریشیئیٹ کیا اور اسی وجہ سے دو سالوں سے میں یہ ہی سمجھا کہ جو عورت پردہ نہیں کرتی وہ فحائشہ کی کیٹیگری میں آتی ہے۔
    اگر اسی وقت مولانہ مودودی کی تحریر پر رد کیا جاتا تو بات اس وقت یہاں تک نہیں پہنچتی اور میں اپنے دماغ میں 2 سالوں سے ایک ہی بات ڈالے نہیں بیٹھتا۔
    اور اگر میں نے کچھ پیش کیا ہے تو یہ میری سوچ ہرگز نہیں ہے یہ تو مولانہ کی سوچ ہے اور اس نے مختلف تفاسیر کے ذریعے اس بات کو نشاندہی کی ہے اور میں نے وہ سب کے سامنے پیش کی۔
    اب اگر میری پکڑ کرنی ہے تو سب سے پہلے اس پوسٹ پر کرتے جو 2 سال سے مجلس پر موجود رہی اور کسی نے بھی تنقید کرنا گوارا نہیں کیا اور اب سب کو تنقید یاد آگئی۔
    خیر تنقید کیجیے مگر براء اصلاح کیجیے۔۔۔
    اب اگر آپ نے ان تفاسیر کا رد کرنا ہے تو پھر ان کے برعکس اور مستند تفاسیر لائيں کہ آپ کی بات میں وزن ہو باقی عقلی دلائل دینا میں بھی جانتا ہوں اور دے بھی سکتا ہوں مگر یہاں بات قرآن کی ہورہی ہے۔
    تو میرے محترمان! میرے رد کرنے سے پہلے ان تفاسیر کا رد کریں مکمل دلائل کے ساتھ میں رجوع کرنے کو آج ہی تیار ہوں۔ ان شاءاللہ
    جب بات قرآن و حدیث کی صحیح سمت کی ہو تو ہر کسی کو رجوع کرنا چاہیے اور میں ہر وقت تیار ہوں اپنی بات سے رجوع کرنے کو، مگر آپ رد کریں تفاسیر کے دلائل کی روشنی میں نہ کہ عقلی دلائل کی روشنی میں۔ تب تک میں اپنے پہلے تاثرات سے رجوع کرتا ہوں جب تک متفقہ فیصلہ نہ ہو۔ ان شاءاللہ
    اللہ ہر کسی کو صحیح بات سمجھنے اور کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    میں بحث نہیں چاہتا بلکہ صرف اور صرف رد چاہتا ہوں کہ میری اصلاح ہوسکے اور میں صحیح نمونے حق بات کو سمجھ سکوں۔ ان شاءاللہ
    اور ہاں یہاں بات مسلمان عورت کی ہورہک ہے نہ کہ کافر کی اس لیے میری التجا ہے کہ بات کو گول مول کرکے پیش کرنے سے اجتناب برتا جائے۔ ان شاءاللہ
    باذوق بھائي! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اللہ کے خوف کی تلقین کی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
    نوٹ: میں کسی سے ناراض نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی سمجھے کہ میرے تاثرات کسی کی دل آزاری کے لیے ہیں بلکہ میں حق بات کی تہ تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ ان شاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  2. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,624
    و علیکم السلام
    شکریہ عتیق بھائی کہ آپ نے برا نہیں مانا اور سادگی سے اپنی بات کی وضاحت کی۔ اگر آپ پوسٹ نمبر:13 میں واضح لکھ دیتے کہ وہ دراصل مولانا مودودی علیہ الرحمة کی تحریر کا اقتباس ہے تو اتنی گرمی کی نوبت نہ آتی۔
    رہ گئی یہ بات کہ یہ مولانا کی یہ تحریر کافی عرصہ سے مجلس پر موجود ہے اور اس پر کوئی تنقید نہیں ہوئی۔ عتیق بھائی ، اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں ، اگر کسی تھریڈ پر دو تین سال تک کوئی تنقید نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تھریڈ کا مواد تنقید سے مبراء ہے۔

    جہاں تک آپ کے اس مراسلے کی بات ہے ، میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ نے سارا بھروسہ دو درج ذیل دو تفاسیر پر کیا ہے۔
    تفسیر طبری ، تفسیر غرائب القرآن
    اور وہ بھی راست تفسیر کے بجائے مولانا مودودی رحمة اللہ کی کتاب "پردہ" میں دئے گئے اردو ترجمہ پر آپ کا اعتماد ہے۔
    اور اسی اعتماد کی بنیاد پر جب آپ یوں کہتے ہیں :
    تو آپ کی یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے۔
    بھائی ! آپ تو دلیل دیں مفسرین کی اپنی ذاتی تشریحات سے اور فریق مخالف پر زور دیں کہ وہ آپ کے دلائل کا ردّ قرآن و احادیث سے کریں۔ یہ تو انصاف نہیں ہوا۔ مگر خیر اپنے اگلے مراسلے میں آپ نے یہ بھی لکھا ہے :
    سب سے پہلے تو آپ خود یہ چیک کیجئے کہ ۔۔۔۔ کیا تفسیر ابن جریر میں ایسے الفاظ ہیں جن کا ترجمہ کتاب "پردہ" میں یوں کیا گیا ہے:
    کم سے کم مجھے تو تفسیر طبری میں ایسے الفاظ نہیں ملے جن کا ترجمہ یوں کیا جا سکے :
    کہ شریف عورتیں جا رہی ہیں

    اسی طرح مجھے اس بات پر بھی شک ہے کہ علامہ نظام الدين الحسن بن محمد بن حسين القمي النيسابوري (وفات:728ھ) کی تفسیر "غرائب القرآن ورغائب الفرقان" میں شائد ہی ایسے الفاظ ہوں جن کا اردو ترجمہ یوں کیا جا سکے :
    "غرائب القرآن" ، یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی خود چیک کر کے بتا سکے تو مہربانی ہوگی۔

    تفسیر ابن کثیر میں ، اس آیت (سورہ الاحزاب:59) کے ذیل میں دیگر مفسرین کے اقوال اگر کوئی دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ، ان میں کہیں بھی ایسا بیان نہیں ہے کہ : "پردہ" شرافت اور فحاشی کے درمیان فرق ظاہر کرتا ہے۔

    حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ کا قول ہے کہ :
    [QH]لا بأس بالنظر إلى زينة نساء أهل الذمة، وإنما نهى عن ذلك لخوف الفتنة، لا لحرمتهن، واستدل[/QH]
    ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کو دیکھنا صرف خوفِ زنا کے سبب ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے۔
    حضرت سدی رحمة اللہ کہتے ہیں :
    فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لئے یہ نشان ہو گیا کہ گھر گرہست عورتوں اور لونڈیوں باندیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے۔
     
  3. جمیل

    جمیل ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2009
    پیغامات:
    750
    پردہ کرکے بھی بے پردہ ہونکی ایک وجہ عورتوں کے اسلامی لباس مارکیٹ میں دستیاب نہ ہونا۔ جو ملا لے لیا، اور عورتوں کی سلوائی تو بہت مہینگی ہوگئی ہے نا
    اس لیے بنے بنائے لباس اور برقعے خریدتی اور پہنتی ہیں۔اللہ مردوں اور عورتوں سب کو نیک ہدایت دے۔ آمین۔
     
  4. جمیل

    جمیل ركن مجلسِ شوریٰ

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2009
    پیغامات:
    750
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    محترم وسط كيا ہوتا ہے ؟ اسلام كے احكامات بالكل واضح ہیں ان ميں كوئى ابہام نہیں ، نہ ہی كوئى شدت ہے کہ وسط ڈھونڈنا پڑے ۔ آپ بھی اس فتوے كا مطالعہ فرمائيں

    Islam Question and Answer - چہرہ كے پردہ ميں راجح حكم

    اس سے پہلے بھی آپ نے فرمايا كہ :


    یہ بڑی عجیب رائے ہے ۔فتنہ کیا ہارن بجا كر آئے گا کہ بی بی پردہ كر لو ميں آرہا ہوں ؟
     
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    میں معذرت اور تاخیر کے ساتھ اہم ترین ڈسکشن میں‌شامل ہورہا ہوں۔
    پردہ کا معاملہ اسلامی معاشرہ کے بننے اور بگڑنے میں اہم رول پلے کرتا ہے۔
    صرف چہرے کا پردے کرنا یا نہ کرنا اگر معیار شرافت نہ بھی مانا جائے تب بھی۔۔عورت کی اس نسوانی حیا کو کیا کہیں‌، جو کہ حجاب میں‌مستور رہکر ہی تسکین پاتی ہے۔
    کیوں مغرب میں‌بھی لوگ صدفی صد نیچرل لباس میں‌نہیں‌پائے جاتے اور کیوں۔۔ہمارے خراب سے خراب تر ماحول کے باوجود بھی کسی نہ کسی حد تک عورتیں پردہ کرلیتی ہیں۔۔۔یہ اور ایسے کئی سوالات ہیں جو کہ پردہ کے موضوع کا احاطہ کرتی ہیں۔
    چہرے کے پردہ ، سارے بدن کے ساتھ کرکے۔۔بظاہر تو شریف نظر آجاتے ہیں۔۔لیکن حقیقت میں پردے کا مفہوم ، سمجھا کر پردہ کرایا جائے تب معاشرہ پر اسکے مثبت اثرات پڑسکتے ہیں، ورنہ لوگ یہ کہنے میں کیوں حق بجانب نہ ہوں کہ۔۔ایک کافر عورت بھی پردہ نہ کرکے شرافت کے لبادہ میں ہوسکتی ہے۔۔اور ایک مسلم عورت پردہ کے باوجود بھی شرافت کے معیار کو کھوسکتی ہے۔(یہ شرافت کے معیارات صرف عورت کے لئے نہیں ۔۔۔۔بلکہ بے لگام گھومنے والے مردوں‌کے لئے بھی برابر برابر کے ہونا چاہئے۔۔)
    اگر مثالیں لے لیں تب بات مزید واضح ہوجائیگی۔۔
    اگر میں حیدرآباد شہر اور لکھنئو اور ممبئی کی بات کروں تو وہاں ، کی جاہل ترین عورتیں بھی۔۔پردہ کرتی ہیں۔۔چہرہ کا پردہ۔۔۔اور یہ روایتی لباس اور تہذیب کا حصہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اسکے فوائد ہوتے ہونگے۔
    کراچی دہلی اور کلکتہ کی عورتوں کی بات کریں تب۔۔۔وہاں کی مذہبی رجحانات کی عورتیں‌بھی۔۔۔چہرے کے پردہ کو غیر ضروری سمجھ کر۔۔خود کو آزاد سمجھتی ہیں۔۔۔
    دونوں مثالوں‌میں روایت اور تہذیت کا زیادہ اثر ہے۔۔۔
    عرب ممالک کے پردے کی بات کریں تو وہاں کا چہرے کا اور سارے بدن کا پردہ۔۔۔کا اللہ ہی حافظ ہے ( کنڈیشنل)، کیونکہ باڈی فٹ حجاب سے بہتر تو مجھے کراچی اور دہلی کے بے پردہ عورتیں حجاب میں نظر آتی ہیں۔۔۔کیونکہ یہاں جنکا میں‌نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔۔۔وہ فیشن اور لباس کے حصہ کے طور پر کیا گیا پردہ ہے۔۔۔!
    ان تمام مثالوں سے ہٹکر ۔۔۔پردہ ایک بنیادی اصول کے طور پر سمجھنے کا سبجیکٹ ہے۔۔۔، ڈریس کوڈ کو سب سے پہلے اسلامائیز کرکے پھر بعد میں بلوغت کے ساتھ ہی اسلامی تعلیمات کے حصول کے ساتھ ہی پردہ کا، چہرے کا پردہ وغیرہ کا ہونا یا نہ ہونا اہم یا ناگذیر ہوسکتا ہے۔۔ورنہ جہاں‌آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہو، وہاں کے چہرے کے پردے یا باڈی فٹ چست پردے کے بارے میں ڈسکشن کا کیا حاصل ہے۔۔۔۔؟
    چہرے کا پردہ کریں‌یا نہ کریں۔۔اس سے قطع نظر اس گھر کے بارے میں ہم کیا کہینگے جہاں ، ہسبنڈ وائف کے ساتھ ساتھ۔۔جائینٹ سسٹم میں حیا اور شرم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے۔۔۔سارا خاندان ایک چھت کے نیچے۔۔۔رنگ رلیاں مناتا ہو، اور اسکو روشن خیالی سے تعبیر کردیا جاتا ہو، اور پھرباہر نکلتے ہوئے۔۔۔چہرے کا مکمل پردہ بھی ہو۔۔۔تب۔۔۔! یہ چہرے کے پردے کے خلاف یا کوئی کمپیریزن نہیں‌ہے۔۔بلکہ معاملہ کی سنگینی کو مزید اجاگر کرنا ہے۔۔۔! گھر کا ماحول مکمل ستھرا ہونے کے بعد اگر اسلامی بنیادیں سوچ کا حصہ بنیں تب ویسے چہرے اور باقی پردے کا بھی معاملہ اہم ہے۔۔(اور مردوں‌کے لئے سوچ و ذہن ، وخیال کی پاکیزگی بھی۔۔۔کسی چہرے اور بدن کے پردے سے کم بات نہیں، اگر سمجھا جائے تو)۔۔۔!!!
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ابوطلحہ بھائی دلی اور کلکتہ کا تو معلوم نہیں لیکن کراچی کی مذہبی خواتین کے متعلق آپ کے کمنٹس صحیح نہیں‌ ۔ میرے خیال میں‌ معلومات کی کمی ہے یا پھر آپ کو کراچی کے حوالے سے صحیح گائیڈ نہیں کیا گیا ۔ کراچی میں مذہبی عورتیں تو ایک طرف ، دوسرے گھرانوں کی عورتیں بھی پردہ کرتی ہیں ۔ کراچی کے ایم ائے جناح‌ روڈ پر نکنلے والے اسلامی جماعتوں کے جلسے اس بات کے گواہ ہیں ۔ اگرچے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو ۔یہ الگ بات ہے کہ روش خیال لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔
    عرب ممالک ہوں یا غیر عرب ممالک ۔۔ پورے عرب کا تو معلوم نہیں ۔ سعودی عرب کے حوالے سے کہ سکتا ہوں کہ یہاں وہی عورتیں حجاب سے بیگانہ ہیں جن کا مغرب یا امریکہ میں آنا جانتا ہے۔ باقی الحمد للہ سب باپردہ ہیں ۔ یہ ضرور کہوں گا کہ باقی عرب ممالک کے حوالے سے کہ : ان کی عورتوں کے اس ادھورے باڈی فٹ حجاب کی وجہ سے یہ فتنہ سعودی میں منتقل ہو رہا ہے ۔
     
  8. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    معلومات کی کمی ہوسکتی ہے۔۔اس سے انکار نہیں۔۔۔نہ میں کبھی کراچی گیا ہوں۔۔اسلئے میری بات۔۔مثال کی حد تک لیں۔۔چاول کے دانے چیک کئے جاتے ہیں۔۔سارے چاول نہیں۔۔اور میرے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہی گئی بات ہے۔۔۔سب پر اسکا اطلاق نہیں‌ہوگا۔۔۔! (اور اگر میرے الفاظ کچھ زیادہ ہی آوارگی اختیار کرگئے ہوں، تب سیدھے سیدھے معذرت کیونکہ میرا منشہ۔۔۔اپنی بات پوری کرنے کے لئے مثالیں دینا تھا۔۔نہ کہ۔۔کراچی اور دہلی کے پردے پر کوئی ڈسکشنز۔۔۔! جزاک اللہ خیر۔

    سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں جو لوگ واقعی شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔۔فبھا۔۔۔!لیکن یہاں کی بھی مثال میں نے یہاں‌کے پردے کے متعلق رائے زنی کی حد کی مثال نہیں دی بلکہ۔۔۔پردے کے حقیقی مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ۔۔۔صرف پردہ کو لباس کا حصہ سمجھ لیا جائے تب ایسے واقعات ممکن ہے۔۔۔!

    اگین میری بات کو میں پریسائیز کرونگا کہ۔۔۔پردہ۔۔۔جہاں‌عورتوں کے لئے ضروری ہے۔۔۔وہیں حیا اور شرم مردوں کے لئے بھی ناگذیر ہے۔۔۔اور معاشرہ کی تعمیر۔۔۔میں پردہ کا اہم حصہ ہے۔۔مثالیں ، غلط یا صحیح ہوسکتی ہیں۔۔۔شہروں‌کے نام ہٹالیں۔۔۔لیکن۔۔۔مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ۔۔۔جہاں فکر کی گہرائی کے ساتھ۔۔۔کسی چیز کو اختیار کیا جائے۔۔اور ساتھ ہی ساتھ۔۔۔مذہبی رجحانات بھی ہوں تب۔۔۔کی شکل اور ۔۔۔روایت اور تہذیب کے زیر اثر کوئی بات ہو اسکا نتیجہ بہت مختلف ہوتاہے۔

    جزاک اللہ خیر۔
     
  9. ابرار حسین

    ابرار حسین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2008
    پیغامات:
    13
    اس بات کی صیح سے سمجھ نہیں‌آئی !
    کیا پردہ کرنے کے بعد فاسق لوگ صرف لونڈیوں‌اور باندیوں‌پر آوازے کستے تھے(کیوں‌کہ ان کیلئے تو پردے کے احکام نہیں‌تھے اور وہ بے پردہ گھومتی تھیں ) اور باپردہ عورتوں‌کو چھوڑ دیتے تھے؟
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,482
    جى بالكل ، باپردہ خواتين كو فاسق تنگ نہیں کرتے تھے۔ آج كے مسلمان فاسق سے اخلاقيات ميں ذرا بہتر تھے۔اب تو مسلمان بھائى اپنی مسلمان بہنوں كى عزت كے ليے خطرہ ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں