سگی بہن بنی سوکن!

رفی نے 'گپ شپ' میں ‏دسمبر 13, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,088
    ہمارے سامنے والے کوارٹر میں جو نئی دلہن آئی تھیں سب انہیں "خالہ ووہٹی" کہہ کر بلانے لگے۔ ایک دن وہ اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آئیں، تو ہم نے پوچھا کہ آپ کے یہ بچے اب کس کے پاس رہتے ہیں تو وہ بہت اداس ہو گئیں اور کہنے لگیں آج میں آپ کو اپنی کہانی سناتی ہوں، وہ یوں گویا ہوئیں:

    "میں نے ایک بہت غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ میرے ماں باپ کے پاس ایک چیز تو بہت وافر مقدار میں تھی اور وہ تھی غربت۔ اس کے علاوہ ہم بہن بھائی بھی زیادہ تھے۔ والدین نے بہت ہی کم عمری میں میری شادی میرے ماموں کے بیٹے کے ساتھ کر دی۔ شادی کے بعد جب بچے ہوئے تو میں بہت مصروف رہنے لگی۔ میرے شوہر کا رویہ میرے ساتھ نہ بہت برا تھا اور نہ بہت اچھا۔ گھر قریب ہونے کی وجہ سے میری بہنیں بھی میرے گھر آتی رہتی تھیں۔ انہی دنوں مجھے احساس ہوا کہ میری چھوٹی بہن کا میرے شوہر کے ساتھ رویہ بدل گیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت گھل مل کر رہتے ہیں لیکن میں نے خود اپنے خیال کو یہ سوچ کر جھٹک دیا کہ مجھے اپنی بہن کے بارے میں سوچتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ اب آپ اسے میری سادگی کہہ لیں، بے وقوفی سمجھیں یا تقدیر کا ایک فیصلہ کہ میری بہن ہی میری "سوکن" بن گئی۔ میرے شوہر نے یہ کہہ کر مجھے طلاق دے دی کہ ایسا کئے بغیر وہ میری بہن سے شادی نہیں کر سکتے۔ یوں طلاق کا پروانہ لے کر میں اپنے ماں باپ کے گھر آ گئی۔

    میرے بھائیوں نے شروع شروع میں تو میرے شوہر اور بہن کو دھمکیاں دیں، بائیکاٹ کیا، خوب جھگڑا ہوا لیکن پھر آہستہ آہستہ سب نے اس نئے رشتے کو قبول کر لیا۔ اب میرے بھائیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہم تمھیں پالیں یا تمھارے بچوں کو۔ یہ کہہ کر انہوں نے میری شادی اس فوجی سے کر دی۔ میرے اس شوہر نے مجھے بہت عزت اور محبت دی اور اب میری بہن یعنی میرے پہلے شوہر کی بیوی یہاں آتی ہے تو رشک اور حسد سے میرے ٹھاٹ باٹ دیکھتی ہے۔"

    خالہ ووہٹی جب اپنی بپتا سنا چکیں تو ہم نے کہا کہ خالہ کمال ہے آپ اس بہن کو یہاں آنے دیتی ہیں جس نے آپ کا گھر اجاڑا اور آپ کے سر سے تاج چھین کر خود پہن لیا۔ خیال رکھئے گا کہ کہ وہ آپ کا دوسرا شوہر بھی نہ ہتھیا لے۔

    رات کو جب ہمارے شوہر گھر آئے تو ہم نے خالہ ووہٹی کا قصہ انہیں سنایا۔ وہ کہنے لگے کہ یاد ہے بیگم! جب میں نے تمھیں اپنے بڑے بھائی سے پردہ کروایا تھا تو تم کہتی تھیں کہ وہ تو آپ سے بہت بڑے ہیں، باپ کی جگہ ہیں، مہینوں بعد گھر آتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے تمھیں باقی سب نا محرموں کی طرح ان سے بھی پردہ کروا دیا۔ دیکھو ربِ کریم کے ہر حکم میں ہم انسانوں کی بھلائ اور حکمت ہوتی ہے۔ اسی لئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کا مفہوم ہے کہ "شوہر کا بھائی تو موت ہے" گویا اس سے مزید اہتمام کرنا چاہیئے اور بیوی کی بہن یعنی سالی کے لئے بھی کتنا سخت حکم ہے کہ بیوی کی موجودگی میں بیوی کی بہن سے نکاح حرام ہے اور ہم ہیں کہ دینِ فطرت کے باقی احکامات کی طرح نامحرموں سے پردے کو بھی، معاذ اللہ، بس پشت ڈال بیٹھے ہیں اور اپنی مرضی کے رسم و رواج نافذ کر دیئے ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں نا اتفاقی، جھگڑے، فساد اور اپنوں سے دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

    مراسلہ: نفیسہ طاہرہ سعیدی (مکہ مکرمہ)

    بشکریہ: دھَنک۔ دسمبر 11، 2009

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,049
    استغفر اللہ ۔۔۔فاعتبروا یا اولی الابصار ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,088

     
  4. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    جزاک اللہ خیر۔۔۔
    ایک چھوٹی سی تحیر(اقتباس) لیکن اس میں جس طرف اشارہ ہے۔۔۔وہ معاشرہ کا ناسور بنا ہوا ہے۔۔۔
    روشن خیالی اور لبرل ازم نے بھیانک دلدل میں ڈھکیل دیا۔۔جہاں کی بلندیاں۔۔۔اتاہ۔۔۔پستیوں سے شروع ہوتی ہیں۔۔
    معاشرت ایک چبھتا ہوا۔۔۔ ٹاپک ہے۔۔۔جس پر گاہے ماہے۔۔۔ہمیں۔۔۔اوپن ڈسکشنز کرتے رہکر۔۔ذہن سازی کرتے رہنا چاہیے
    جزاک اللہ اگین
     
  5. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    اللہ ہمیں دین اسلام پر صحیح‌معنوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے۔ آمین
     
  6. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,631
    جزاک اللہ خیرا رفی بھائی
    اللہ ہم سب کو پورے کا پورا دین اسلام میں‌داخل کر دے۔ آمین۔
     
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,734
    اللہ ہمیں دین اسلام پر صحیح‌معنوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے۔ آمین

    اسی طرح کی اور بہت سی ایسی باتیں‌ہیں‌ جو معاشرے میں‌فحاشی پھیلاتی ہیں‌لیکن آ جکل کا دور اتنی تیز رفتار سے چل رہا ہے کہ یہ چیزیں‌اب عام ہونے لگ گئی ہیں‌بس اللہ ہمیں‌ہر گناہ سے دور رکھے آمین
     
  8. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,088
    لیکن اس سب سے زیادہ حیرانگی مجھے اس وقت ہوتی ہے جب ہم غیر اسلامی باتوں کو اسلامی سمجھ کر ان کی تبلیغ میں جُت جاتے ہیں جیسے ایک جگہ میں نے پڑھا:

    واہ کیا تمثیل ہے اور کیا انداز ہے؟
     
  9. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,574
    اس سے بھی زیادہ عبرتناک قصہ ایک سندھی اداکار کا جس کی بیوی نے اس کے بھائی سے مل کر اس کے منہ پر تیزاب پھینکا تھا افسوس کہ وہ اخبار میں محفوظ نھ رکھ سکا
    اگر کہیں سے یہ داستان عبرت مل گئی تو ضرور شیئر کروں گا
     
  10. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,088
    وہ جو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی، اس کی بیٹیاں اور اس کی بہن بے پردہ بازاروں میں نکلتی ہیں، بدن پر لباس ہوتے ہوئے بھی وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں، سر دوپٹے سے خالی اور سینے اور بازو کھلے رہتے ہیں مگر وہ اس بدترین صورتحال کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں دراصل مردانگی کی کمی ہے۔

    اس نے اسلام کا طوق گلے سے نکال پھینکا ہے اور اس پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے، اس عمیق کھائی سے اسے سچی توبہ ہی نکال سکتی ہے جو اس کے ضمیر کو بیدار کر دے اور وہ اس سے ایک ایسے زبردست جھٹکے سے نجات پا سکتا ہے جو اس کی مردانگی کو متحرک کر دے اور اسے سیدھے راستے کی طرف پھیر دے۔

    ایک مطالعہ (مثالی مسلمان از ڈاکٹر محمد علی الھاشمی مترجم محمد رضی الاسلام ندوی)
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں