سورج گرہن: حقائق اور توہمات

طارق اقبال نے 'موسم' میں ‏جنوری 15, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طارق اقبال

    طارق اقبال محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2009
    پیغامات:
    316
    سورج گرہن: حقائق اور توہمات


    مختلف معاشروں میں گرہن کے بارے میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ اکثر معاشروں میں یہ خیال عام ہے کہ گرہن اس وقت لگتا ہے جب سورج کو بلائیں، ڈریگن یا خوفناک جانور نگل لیتے ہیں۔


    اکثر معاشروں میں گرہن کے وقت حاملہ خواتین کو کمرے کے اندر رہنے اور سبزی وغیرہ نہ کاٹنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ ان کے بچے کسی پیدائشی نقص کے بغیر پیدا ہوں۔


    گرہن کے وقت حاملہ خواتین کو سلائی کڑھائی سے بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سےبچے کی ہیت پر اثر پڑسکتا ہے۔


    بعض معاشروں میں گرہن کے وقت ضعیف العتقاد افراد خودکو کمروں میں بند کرلیتے ہیں تاکہ بقول ان کے وہ گرہن کے وقت خارج ہونے والی نقصان دہ لہروں سے بچ سکیں۔


    بعض معاشروں میں گرہن کے وقت مقدس دریا میں غسل کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔


    بعض معاشروں میں جس دن گرہن لگتا ہے، اکثر لوگ کھانا پکانے سے گریز کرتے ہیں ، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ گرہن کے وقت خطرناک جراثیم پیدا ہوتے ہیں۔


    بھارت چین اورکئی جنوب مشرقی ملکوں میں علم نجوم کے ماہرین سورج گرہن سے منسلک پیش گوہیاں کرتے ہیں جن میں کسی تباہی یا نقصان کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ اس بار علم نجوم کے ماہرین نے اہم سیاسی شخصیات کے قتل اور بڑے پیمانے پر معاشرتی پریشانیوں کی پیش گوئیاں کی تھیں۔


    ہمارے ممالک میں یہ توہمات مختلف النوع صورتوں میں ہزاروں سال سے چلے آرہے ہیں لیکن ان پر غور کرنے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں بھی ایسے توہمات مضبوطی سے کچھ لوگوں کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً دیکھئے کہ سورج گرہن سے چند روز پہلے انیتا سخت پریشان تھی۔ جولائی کے آخر میں اس کے ہاں پہلے بچے کی ولادت ہونے والی تھی ا ور اس سے محض چند روز پہلے سورج گرہن کے بچے پر ممکنہ اثرات کا خوف اسے تشویش میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔


    بزنس میں پوسٹ گریجویٹ اور ایک بڑے ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود انیتا کے ذہن پر گرہن کا خوف تھا۔ اس نے اپنی ڈاکٹر کو محض یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ آیا بچے کو گرہن کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے اس کی قبل از وقت ولادت ممکن ہے؟ ڈاکٹر نے اسے دلاسا دیتے ہوئے سمجھایا کہ اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور گرہن کے اثرات کی حقیقت توہمات سے زیادہ نہیں ہے۔


    یہ صرف ایک انیتا کی کہانی نہیں ہے بلکہ مشرق و مغرب،ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دنیا میں ہر جگہ سورج اور چاند گرہن کے انسان پر مضر اثرات کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ ان خدشات میں کتنی حقیقت ہے اور سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔آئیے دیکھتے ہیں۔


    گرہن اور سائنس


    سورج گرہن کی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کا سایہ زمین پرپڑتا ہے۔


    چاند کی طرح ہمارے نظام شمسی کے کئی دوسرے سیارے مثلاً مریخ اور زہرہ بھی اپنی گردش کے دوران زمین اور سورج کے درمیان آجاتے ہیں ۔ لیکن چونکہ وہ زمین سے کروڑوں میل کی مسافت پر ہیں ، اس لیے ان کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا۔ دوسری جانب چاند، سورج کی نسبت زمین سے 400 گنا زیادہ قریب ہے ، اس لیے سورج کے مقابلے میں بے پناہ چھوٹا ہونے کے باوجود وہ تقریباً سورج جتنا ہی دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے تو زمین کے کچھ حصوں پر اس کا سایہ پڑتا ہے۔


    گرہن اور توہمات


    روائتی طورپر سورج گرہن کو نحوست کی ایک علامت تصور کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے نظام شمسی کے اس قدرتی عمل سے بے شمار توہمات وابستہ کرلی گئی ہیں۔


    گرہن کے بارے میں شعوربیدار کرنے کی ضرورت


    ماہرین کاکہنا ہے کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں گرہن کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کی جائے اور انہیں توہمات کے دائرے سے نکالا جائے ۔ کیونکہ ان توہمات کے باعث زندگی کے معمولات متاثر ہوتے ہیں جس کا نتیجہ معاشی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔


    تاہم دوسری جانب ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو گرہن کو فطرت کا ایک مظہر سمجھتے ہیں اور جب گرہن لگتا ہے تو وہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے دور دارز کا سفر کرتے ہیں۔ اس سال جولائی کا گرہن اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس جیسا بڑا سورج گرہن اب تقریباً 123 سال کے بعد اگلی صدی میں 2132 میں ہوگا۔ یہ گرہن زیادہ تر چین ، بھارت ، پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک میں دیکھا گیا ۔ ہزاروں افراد نے اس منظر کو دیکھنے کے لیے طویل سفر کیے۔


    بھارت میں اس موقع پر کچھ اداروں نے سورج گرہن کے نظارے کے لیے دو بوئنگ جہاز کرائے پر حاصل کیے اور شائقین نے 41 ہزار فٹ کی بلندی پر سورج گرہن کو دیکھا۔اس مقصد کے لیے بعض افراد نے 1600 ڈالر تک میں ٹکٹ خریدا تھا۔


    سورج گرہن دیکھنے کی احتیاطیں


    سورج گرہن کو براہ راست دیکھنے سے گریز کریں ۔ اس سے بینائی جاسکتی ہے۔ اسے اس مقصد کے لیے مخصوص شیشوں کے ذریعے دیکھیں۔

    سورج گرہن کو دوربین کے ذریعے نہ دیکھیں۔

    سورج گرہن صرف کسی ماہر کی نگرانی میں دیکھیں۔

    http://www1.voanews.com/urdu/news/hu...-52081797.html
     
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,758
    بھائی اگر دیکھ بھی لیا جائے بِنا مخصوص شیشوں‌کا سہارا کے کر۔تو کتنی دیر میں‌آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے؟
     
  3. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,050
    ساحل سمندر پر بچوں کو گردن تک زمین میں دبادیاگیا


    جنگ

    انا للہ وانا الیہ راجعون
    جہالت کی بھی انتہا ہے۔
    اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں